کم نمبر ملنے پر استانی کو قتل کرنے والا امریکی طالب علم: ’شیطان کو سراہا نہیں جاتا‘

،تصویر کا ذریعہPolice Hand Out
- مصنف, برینڈن ڈرینن
- عہدہ, بی بی سی نیوز
امریکی ریاست آیووا میں کم گریڈ ملنے پر ٹیچر کو قتل کرنے والے ایک 17 سالہ طالب علم کو عدالت نے عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔
17 سالہ ولارڈ ملر نامی طالب علم نے اعتراف کیا تھا کہ انھوں نے 2 نومبر 2021 کو اپنی ٹیچر نوہیما گریبر کو قتل کیا تھا۔
واضح رہے کہ 66 سالہ ہسپانوی ٹیچر نوہیما گریبر نے ملر کی اسائنمنٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے انھیں کم نمبر دیے تھے جس پر ملر نے اپنے ساتھی جیریمی گوڈیل کے ساتھ مل کر اپنی استانی پر بیس بال کے بیٹ (بلے) سے قاتلانہ حملہ کیا تھا۔
ولارڈ ملر کے شریک جرم جیریمی گوڈیل کی عمر اب 18سال ہے۔
تقریبا ڈیڑھ سال قبل پیش آنے والے اس واقعے کے وقت ملزمان کی عمریں لگ بھگ 16 برس تھیں تاہم ان پر بالغ ملزم کے طور پر فرد جرم عائد کی گئی تھی۔
جمعرات کو عدالت نے ولاڈرملر کوعمر قید کی سزا سنائی۔ 35 سال بعد وہ پیرول لینے کے اہل ہوں گے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں متاثرہ خاندان کو کم از کم ڈیڑھ لاکھ ڈالر ادا کرنے کا حکم بھی دیا۔ ملر کے ساتھ شریک جرم جیریمی گوڈیل کو آئندہ ماہ اگست میں سزا سنائی جائے گی۔

،تصویر کا ذریعہPolice Handout
عدالت نے سزا سنانے سے قبل دفاع کی جانب سے پیش کیے گئے ان دلائل کو مسترد کر دیا جس میں استدعا کی گئی تھی کہ ملر اس واقعے کے وقت کم عمر تھا اور اپنے اس عمل کی سنگینی اور اس کے نتائج کو سمجھنے سے قاصر تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جج شان شوورز نے فیصلہ دیتے ہوئے ریمارکس میں کہا ’شیطان کو سراہا نہیں جاتا، اگر آپ نفرت کرنا سیکھ سکتے ہیں تو آپ محبت کرنا بھی جان سکتے ہیں۔‘
مقتولہ نوہیما گریبر کے اہل خانہ نے عدالت کو بتایا کہ ’انھیں اس بات پر یقین نہیں کہ ملر کو اپنےعمل پر پچھتاوا ہے۔‘
مقتولہ کے رشتہ داروں نے بتایا کہ گریبر کے شوہر پال کو اپنی بیوی کے قتل کا بے حد صدمہ تھا اور گزشتہ ماہ وہ اسی دکھ کو دل میں لیے فوت ہو گئے۔ انھیں فیصلے سے ایک روز قبل ہی سپرد حاک کیا گیا۔
’آپ کے خاندان کا جو ناقابل تلافی نقصان ہوا،اس پر دلی افسوس ہے‘
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
دوسری جانب ملر نے اپنے عمل پر کمیونٹی سے معافی مانگی ہے۔ ملر نے اپنے پیچھے بیٹھے نوہیما گریبر کے رشتہ داروں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا ’میں نے آپ کو جو تکلیف پہنچائی ہے اور میرے اس عمل سے آپ کے خاندان کا جو ناقابل تلافی نقصان ہوا، اس پر مجھے دلی افسوس ہے۔‘
ملر نے اپنی عمر قید کی سزا میں نرمی کے لیے عدالت سے استدعا کرتے ہوئے کہا کہ ’میں اتنی دیر تحویل میں نہیں رہنا چاہتا کہ میں اپنی شناخت تک بھول جاؤں کہ میں کون ہوں اور کہاں سے آیا ہوں۔‘
اس سے قبل استغاثہ نے دلائل میں کہا کہ ’ شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملر اور گوڈیل دونوں اپنی ٹیچر پر ریاست کے دارالحکومت ڈیس موئنز سے 100 میل دور جنوب مشرق میں واقع دور دراز قصبے میں حملہ آور ہوئے جہاں کی آبادی 10 ہزار نفوس سے کم افراد پر مشتمل ہے۔
حملے کے اگلے دن پولیس کو تین بچوں کی ماں نوہیما گریبر کی لاش مقامی پارک میں ترپال میں لپٹی ریلوے سلیپر کے نیچے چھپی ہوئی ملی۔
اس پارک میں وہ سکول کے بعد چہل قدمی کیا کرتی تھیں۔ پولیس کی پوچھ گچھ کے دوران ملر نے نوہیما گریبر کی جانب سے ہسپانوی پڑھانے کے طریقوں کو مشکل اور مایوس کن قرار دیا۔
ملر کے مطابق کلاس میں نوہیما گریبر نے انھیں جو نمبر دیے وہ ان کے گریڈ پوائنٹ کی اوسط کو کم کر رہے تھے، جو امریکی کالجوں اور سکالرشپس کے لیے اہمیت رکھتے ہیں۔
ملر نے وقوعہ کے روز فیئر فیلڈ ہائی سکول میں مقتولہ ٹیچر سے ملاقات بھی کی تاکہ وہ کلاس میں اپنے ناقص گریڈ پر بات کر سکیں اور اس دوران وہاں ان کا ساتھی جیریمی گوڈیل بھی موجود تھا۔
میکسیکو میں پیدا ہونے والی نوہیما گریبر 2012 سے اس سکول سے وابستہ تھیں اور اس قصبے کی چھوٹی لیکن بڑھتی ہوئی ہسپانوی کمیونٹی کا حصہ تھیں۔










