آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
امریکہ کا عالمی زور کم کرنے کے لیے انڈیا، روس کے لیے اہم ملک کیوں ہے؟
- مصنف, دیپک منڈل
- عہدہ, نامہ نگار بی بی سی
روس کے وزیر خارجہ سرگئی لیوروف نے کہا ہے کہ انڈیا نہ صرف قدرتی طور پر کثیر القطبی دنیا (ملٹی پولر ورلڈ) کا ایک اہم ملک بننے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ یہ کثیر القطبی دنیا بنانے میں بھی مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔
اس سے قبل لیوروف نے حال ہی میں یوکرین کے خلاف جنگ پر انڈیا کے موقف کو متوازن قرار دیا تھا اور انڈین خارجہ پالیسی کی تعریف کی تھی۔
اب انھوں نے پریماکوف ریڈنگز انٹرنیشنل فورم میں انڈیا کی خارجہ پالیسی کی تعریف کی ہے اور اسے کثیر القطبی عالمی دنیا میں ایک دعویدار قرار دیا ہے۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لیوروف نے کہا کہ مغربی ممالک تسلط کے عالمی نظام کو ترک نہیں کرنا چاہتے۔ وہ کثیر القطبی نظام (ملٹی پولر ورلڈ آرڈر) کی حقیقت کو قبول نہیں کرنا چاہتے۔
یہ واضح ہے کہ نئی قوتیں امریکہ کی قیادت میں ورلڈ آرڈر کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ لیکن مغربی ممالک زبردستی اس نظام کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ وہ پانچ دہائیوں سے چلی آ رہی اس عادت کو چھوڑنے کو تیار نہیں۔
لیوروف نے جرمنی اور جاپان کے مقابلے انڈیا اور برازیل کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مستقل رکن بنانے پر اصرار کیا۔
سرگئی لیوروف نے کہا کہ دونوں ممالک کثیر القطبی عالمی نظام کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔
پریماکوف اور کثیر القطبی دنیا(ملٹی پولر ورلڈ) کا نظریہ
ایوگینی پریماکوف ایک روسی سیاست دان اور سفارت کار تھا۔ وہ 1998 سے 1999 تک روس کے وزیر اعظم رہے۔ اس سے پہلے وہ روس کے وزیر خارجہ رہ چکے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سنہ 1996 میں بطور وزیر خارجہ انھوں نے روسی حکومت کے سامنے روس، انڈیا اور چین کے اتحاد پر مبنی کثیر القطبی عالمی نظام کی وکالت کی تھی۔
اس نظام کو دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکہ کی طرف سے مسلط کردہ سنگل پولر ورلڈ آرڈر کا متبادل قرار دیا گیا۔
انھوں نے کہا کہ روس کو اپنی امریکہ پر مرکوز خارجہ پالیسی کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے روس کو مشورہ دیا کہ وہ انڈیا اور چین کے ساتھ اپنی دوستی اور تعلقات کو مضبوط کرے۔
انھوں نے کہا تھا کہ ملٹی پولر ورلڈ آرڈر میں، روس، چین اور انڈیا کا اتحاد ان ممالک کو کچھ حد تک تحفظ فراہم کر سکیں گا جو مغرب کی پیروی کرنے کے بجائے اپنا خود مختار راستہ اپنانا چاہتے ہیں۔
اپنی تقریر میں ملٹی پولر آرڈر کا ذکر کرتے ہوئے، لیوروف نے ایک بار پھر روس، انڈیا اور چین کے اس اتحاد پر زور دیا۔
انھوں نے کہا کہ ’پریماکوف کا روس، انڈیا اور چین کے اتحاد کا خیال بعد میں برکس میں تبدیل ہو گیا۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ آر آئی سی اب بھی چل رہا ہے۔ اس اتحاد کی بنیاد پر تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ باقاعدگی سے ملاقات کرتے ہیں۔
انڈیا کی اتنی تعریف کیوں؟
لیوروف بطور روسی وزیر خارجہ پریماکوف کے ملٹی پولر ورلڈ آرڈر کے نظریہ کو اچھی طرح سمجھتے ہیں اور وہ اس وقت اس نظام میں انڈیا کا اہم کردار دیکھ رہے ہیں، مگر اس کی کیا وجہ ہے؟
وہ جرمنی اور جاپان کے بجائے انڈیا اور برازیل کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مستقل رکن بنانے پر کیوں اصرار کر رہے ہیں؟ وہ یہ کیوں کہہ رہے ہیں کہ انڈیا ایک بڑی معاشی طاقت بن رہا ہے اور مستقبل میں یہ دنیا کی سب سے بڑی معیشت بن سکتا ہے؟
کیوں وہ ہر قسم کے مسائل کے حل میں انڈیا کے وسیع سفارتی تجربے کا حوالہ دے رہے ہیں اور ایشیا میں اس کے قائدانہ کردار کی طرف توجہ مبذول کروا رہے ہیں؟
ان تمام سوالوں کے جواب جاننے کے لیے بی بی سی ہندی نے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں روس اور سینٹرل ایشین سٹڈیز کے پروفیسر سنجے کمار پانڈے سے بات کی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’لیوروف کے اس بیان کے سیاق و سباق کو سمجھنے کے لیے ہمیں تھوڑا پیچھے جانا ہوگا۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب روس نے انڈین خارجہ پالیسی کی تعریف کی ہو۔ 1955-56 اور 1971 کے معاہدوں کے بعد سے سوویت یونین انڈیا کو انتہائی اہم ممالک کی فہرست میں رکھتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’جب غیر وابستہ ممالک کی پالیسی تشکیل دی گئی تھی تب بھی سوویت یونین نے اسے تسلیم کیا تھا اور اس کا خیال تھا کہ ان غیروابستہ ممالک کی ایک آزاد خارجہ پالیسی ہے اور سوویت یونین کو ان کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے چاہیے۔‘
پروفیسر سنجے کمار کہتے ہیں کہ ’سوویت یونین (روس اس یونین کا حصہ تھا) غیر وابستہ ممالک میں بھی انڈیا کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے پر زور دیتا رہا۔ سوویت یونین نے لیونڈ الیچ کے دور میں انڈیا کے ساتھ اہم معاہدے کیے تھے۔ گو کہ نوے کی دہائی میں روس کا مغربی ممالک کی طرف جھکاؤ تھا لیکن 1996 میں پریماکوف نے روس، انڈیا اور چین کے تین ملکی اتحاد آر آئی سی کے بارے میں زور شور سے بات کی۔
پروفیسر سنجے کہتے ہیں کہ ’پریماکوف روس کی آزاد اور خود مختار خارجہ پالیسی کے حق میں تھے۔ ایسی خارجہ پالیسی جس کا محور یوریشیا ہے۔ لیکن انڈیا اور چین کے ساتھ بھی خصوصی تعلقات استوار کرنے پر زور دیا گیا تھا۔‘
اب ایک بار پھر روس انڈیا اور چین کے اتحاد اور ملٹی پولر ورلڈ آرڈر کی بات کیوں کی جا رہی ہے؟ لیوروف انڈیا کو اس نظام کا محور کیوں سمجھتے ہیں؟
سنجے کمار پانڈے کہتے ہیں کہ ’جب روس نے 2014 میں پہلی بار کریمیا پر حملہ کیا تو انڈیا نے نہ تو اس کی حمایت کی اور نہ ہی اس کی مذمت کی۔ انھوں نے کہا کہ کریمیا میں روس کے کچھ جائز سکیورٹی خدشات اور مفادات ہو سکتے ہیں۔ کریمیا اور اب یوکرین کے حملے تک روس نے دیکھا کہ انڈیا کی پالیسی ہمیشہ مغربی ممالک سے مختلف رہی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’ انڈیا نے روس کا ساتھ نہیں دیا لیکن مغربی ممالک کی زبان اور اس کی پابندیوں کو دیکھتے ہوئے یہ بھی کہا کہ یہ معاملہ اس طرح حل نہیں ہو گا‘۔
وزیر اعظم مودی نے روسی صدر کے ساتھ اپنی بات چیت میں واضح طور پر کہا کہ یہ جنگ کا وقت نہیں ہے۔ لیکن انڈیا نے اقوام متحدہ میں روس کے خلاف مغربی ممالک کی مذمتی تجاویز کی بھی حمایت نہیں کی۔
پروفیسر سنجے کے مطابق ’اس سے روس پر واضح ہو گیا کہ مغربی ممالک کے برعکس انڈیا ان معاملات میں اپنی آزاد خارجہ پالیسی پر عمل پیرا ہے۔‘ یہی وجہ ہے کہ روس انڈیا کو ملٹی پولر ورلڈ آرڈر میں محور کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
کہا جا رہا ہے کہ 2014 میں مودی سرکار کے آنے کے بعد انڈیا کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی آ رہی ہے اور وہ زیادہ آزاد نظر آ رہی ہے؟
خارجہ اور سلامتی کے امور پر رپورٹنگ کرنے والی معروف انڈیا صحافی نیانیما باسو اس سوال کے جواب میں کہتی ہیں کہ ’انڈیا نے شروع سے ہی ایک آزاد خارجہ پالیسی پر عمل کرنے کی کوشش کی ہے۔ پہلے اس پالیسی کو نان الائنمنٹ کہا جاتا تھا اور اب یہ سٹریٹجک خود مختاری کی پالیسی میں تبدیل ہو گئی ہے۔‘
حالانکہ نیانیما کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں اس میں معمولی تبدیلی آئی ہے۔ مودی حکومت کے دور میں انڈیا کا امریکہ کی جانب واضح جھکاؤ دیکھا گیا ہے۔ تاہم، قوانین پر مبنی عالمی نظام کی وکالت کا اس کا موقف برقرار ہے۔
یہ بھی پڑھیے
انڈیا اور چین کے درمیان تنازعہ
سوال یہ ہے کہ کیا ہندوستان 2014 سے ایک آزاد بیرونی ملک کو پروان چڑھانے میں کامیاب رہا ہے یا اسے بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔
سنجے کمار پانڈے کہتے ہیں کہ ’پہلی حکومتوں نے بھی خارجہ پالیسی کو کافی حد تک آزاد رکھنے کی کوشش کی تھی۔ لیکن کریمیا اور پھر یوکرین کے بحران کو دیکھتے ہوئے مودی حکومت نے اپنے ملک کی خارجہ پالیسی کو مزید واضح کیا ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’ایسا نہیں ہے کہ انڈیا کی آزاد خارجہ پالیسی کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ اس کی مثالیں نظر آتی ہیں۔ ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کے باوجود انڈیا نے اس کے ساتھ چابہار منصوبے پر تعاون جاری رکھا۔ انڈیا نے سنہ 2016-17 کے دوران شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن یعنی ایس سی او کی رکنیت حاصل کی، جب کہ اسے چین سے متاثر ایک تنظیم سمجھا جاتا ہے۔ دوسری طرف کواڈ میں انڈیا کی شرکت کو مغربی ممالک کے ساتھ تعاون کی مثال کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔
لیوروف روس، انڈیا اور چین کا دنیا کے نئے ورلڈ آرڈر میں ایک بڑا کردار دیکھتے ہیں۔ لیکن کیا اس میں چین اور انڈیا کے کشیدہ تعلقات اثر انداز نہیں ہوں گے؟
پروفیسر سنجے کمار کہتے ہیں کہ ’یہ درست ہے کہ انڈیا اور چین کے درمیان سرحدی تنازعے اور تجارت کے معاملے پر تناؤ ہے، لیکن دونوں ممالک کے درمیان ماحولیات اور بین الاقوامی سطح پر تجارتی سودوں جیسے کئی مسائل پر تعاون رہا ہے۔‘
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت
پریماکوف ریڈنگز انٹرنیشنل فورم میں روسی وزیر خارجہ لیوروف کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کے لیے انڈیا اور برازیل کو جرمنی اور جاپان پر ترجیح دی جانی چاہیے۔ انڈیا اور برازیل اپنے بین الاقوامی اور علاقائی تناظر کی وجہ سے سلامتی کونسل میں مزید اہمیت حاصل کر سکتے ہیں۔
لیکن نیانیما باسو کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ صرف روس کے فیصلے پر منحصر نہیں ہو گا۔ چین انڈیا کے دعوے کو روک سکتا ہے۔