’سُست رفتار‘ لانگ مارچ: کیا عمران خان عوامی طاقت کے ذریعے آرمی چیف کی تعیناتی پر اثرانداز ہو سکتے ہیں؟

    • مصنف, عمر دراز ننگیانہ
    • عہدہ, بی بی سی اردو
    • مقام, لاہور

حال ہی میں پاکستان کے سابق وزیرِاعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان پر پنجاب کے شہر وزیرِ آباد میں قاتلانہ حملہ ہوا۔ وہ اپنی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کے لانگ مارچ کی قیادت کرتے ہوئے اسلام آباد کی جانب سفر کر رہے تھے۔

عمران خان زخمی ہوئے، انھیں لاہور منتقل کیا گیا اور اسی وجہ سے پی ٹی آئی کا لانگ مارچ تعطل کا شکار ہوا اور اسے آگے بڑھانے کے لیے پلان میں تبدیلیاں بھی کی گئیں۔ عمران خان پر حملے سے قبل پی ٹی آئی یہ دعوٰی کرتی نظر آ رہی تھی کہ اُن کے لانگ مارچ میں لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد شامل ہے اور اسی وجہ سے مارچ کی رفتار سست ہے۔

تاہم بعض سیاسی تجزیہ کار اور مبصرین ان سے اختلاف کرتے ہوئے مصر ہیں کہ اس وقت بھی پی ٹی آئی کو اپنے لانگ مارچ میں لوگوں کی تعداد بڑھانے میں مشکل کا سامنا تھا۔

وزیرِ آباد کے واقعے کے بعد لانگ مارچ کے مستقبل کے حوالے سے کئی سوالات سامنے آئے جن میں مرکزی سوال یہ تھا کہ کیا اب لانگ مارچ دوبارہ ہو گا بھی یا نہیں؟ سابق وزیرِاعظم عمران خان نے جلد ہی اس سوال کو ختم کر دیا۔

انھوں نے اعلان کیا کہ لانگ مارچ دوبارہ وہیں سے شروع ہو گا جہاں سے اس کا سلسلہ ٹوٹا تھا۔ اگلا سوال یہ تھا کہ عمران خان پر قاتلانہ حملے کے بعد مارچ میں کتنی شدت آئے گی؟ یہ توقع کی جا رہی تھی کہ پی ٹی آئی کے سربراہ پر قاتلانہ حملے کے بعد کا ردِ عمل لانگ مارچ میں نظر آئے گا۔ 

عمران خان کے اعلان کے بعد لانگ مارچ کا دوبارہ آغاز گذشتہ ہفتے کے آخر میں ہوا۔

جماعت کے نائب چیئرمین شاہ محمود قریشی اور دیگر قیادت نے لانگ مارچ کو وزیرآباد ہی سے آگے بڑھایا۔ تاہم ساتھ ہی پی ٹی آئی کے سینیئر رہنما اسد عمر نے ایک ریلی کا آغاز پنجاب کے ضلع فیصل آباد سے بھی کر دیا۔ اب وہ دونوں سست روی سے راولپنڈی کی جانب گامزن ہیں۔

صوبہ خیبرپختونخوا سے بھی پی ٹی آئی کے چند قائدین مختلف ریلیوں کی قیادت کرتے راولپنڈی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ تاہم مرکزی لانگ مارچ سمیت ان تمام ریلیوں کی رفتار انتہائی سست ہے۔ مرکزی مارچ جہلم پہنچ پایا ہے جبکہ فیصل آباد سے آنے والی ریلی سرگودھا کے قریب ہے۔

بعض مبصرین کا خیال ہے عمران خان پر قاتلانہ حملے کے بعد توقع یہ کی جا رہی تھی کہ لانگ مارچ کا حجم انتہائی زیادہ ہو گا اور رفتار تیز ہو گی اور یہ کہ وہ جلد اسلام آباد پہنچ کر اپنے مطالبات پیش کریں گے مگر چھ روز گزر جانے کے بعد تاحال ایسا نہیں ہو پایا۔

پی ٹی آئی مسلسل یہ دعوٰی کرتی نظر آتی ہے کہ ’لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد ہر جگہ ان کے لانگ مارچ اور ریلیوں کا استقبال کر رہی ہے۔‘ اگر ایسا تو کیا ایک مرتبہ پھر مارچ کی رفتار کو سست رکھنا پی ٹی آئی کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے؟ اور وہ حکمتِ عملی کیا ہے؟

پی ٹی آئی کی لانگ مارچ کی حکمت عملی کیا ہے؟

بعض تجزیہ کاروں کے مطابق پی ٹی آئی کی اس حکمتِ عملی کا تانا بانا رواں ماہ ہونے والی آرمی چیف کی تعیناتی سے ملتا ہے۔ پی ٹی آئی اس کی تردید کرتی رہی ہے اور عمران خان نے لانگ مارچ کے شرکا سے اپنے خطاب میں واضح کیا تھا کہ اس لانگ مارچ کے ذریعے وہ فقط ملک میں جلد صاف اور شفاف عام انتخابات چاہتے ہیں اور یہ کہ انھیں فرق نہیں پڑتا جس کو بھی آرمی چیف تعینات کر دیں۔ تاہم ساتھ ساتھ وہ اس بات پر تنقید بھی کرتے ہیں کہ پاکستان مسلم لیگ نواز کے قائد نواز شریف سے اس اہم تعیناتی میں مشاورت کیوں کی جا رہی ہے 

تو سوال یہ ہے کہ اگر مطالبہ جلد انتخابات ہیں تو اسلام آباد پہنچنے میں تاخیر کیوں؟ اور اگر مبصرین ایک طرف یہ سمجھتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کو عوام کی اتنی زیادہ حمایت حاصل نہیں کہ اس کے حجم کو بہت بڑا کہا جا سکے تو سوال یہ بھی ہے کہ کیا وہ آرمی چیف کی تعیناتی کے معاملے پر اثرانداز ہو پائیں گے؟ 

اور اگر نہیں ہو پائیں گے تو وہ اپنے مارچ کی رفتار کم کیوں رکھنا چاہیں گے؟

’راولپنڈی پہنچنے میں تاخیر کا تعلق تو اس اہم تعیناتی ہی سے ہے‘ 

صحافی اور تجزیہ کار سلیم بخاری کے خیال میں پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کی سست روی کے پیچھے وجہ یہی ہے کہ آرمی چیف کی تعیناتی کے قریب راولپنڈی پہنچا جائے۔

وہ سربراہ پی ٹی آئی عمران خان کی ان تقاریر کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو وہ حال ہی میں ویڈیو لنک کے ذریعے لانگ مارچ کے شرکا سے کرتے رہے ہیں۔ 

’ایک تو عمران اب یہ کہتے سنائی دے رہے ہیں کہ ان کا لانگ مارچ اسلام آباد نہیں راولپنڈی کی طرف جا رہا ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ سابق وزیرِاعظم نواز شریف اپنی مرضی کا آرمی چیف لگانا چاہتے ہیں۔‘ 

صحافی اور تجزیہ نگار سلمان غنی بھی یہی سمجھتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کی سست پیش قدمی جس حکمتِ عملی کا نتیجہ ہو سکتی ہے اس کا تعلق آرمی چیف کی تعیناتی کے معاملے سے ہے۔

وہ کہتے ہیں ’عمران خان اپنی حالیہ تقریر میں یہ کہہ چکے ہیں کہ عوام ان کے ساتھ ہیں وہ ایک سال تک بھی انتظار کر سکتے ہیں۔ میرے خیال میں اس سے ان کے عزائم تو بہت حد تک واضح ہیں۔‘

سلمان غنی بھی یہ سمجھتے ہیں کہ عمران خان ’حکمتِ عملی کے تحت اب اسلام آباد کے بجائے راولپنڈی کا نام لے رہے ہیں جبکہ ابتدا میں انھوں نے واضح طور پر لانگ مارچ اسلام آباد لے جانا کا اعلان کیا تھا۔‘ 

کیا عمران خان فوج کے سپہ سالار کی تعیناتی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں؟ 

جو مبصرین اور تجزیہ کار یہ مانتے ہیں کہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ رواں ماہ ہونے والی تعیناتی کی وجہ سے سست روی کا شکار ہے، وہ یہ کہتے ہیں کہ سابق وزیرِاعظم عمران خان کا خیال ہے کہ اگر لوگوں کی ایک بڑی تعداد ان کے ساتھ ہوئی اور وہ راولپنڈی اور اسلام آباد پہنچ گئے تو وہ حکومت پر دباؤ ڈال سکیں جس کو نظرانداز کرنا آسان نہیں ہو گا۔ 

تاہم ان کے خیال میں عمران خان کے لانگ مارچ کو وہ عوامی پذیرائی نہیں مل پائی جس کی وہ توقع کر رہے تھے۔

سلمان غنی کہتے ہیں کہ پاکستان میں سیاست اس وقت نظریات کے گرد نہیں شخصیات کے گرد گھوم رہی ہے اور اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ عمران خان اس وقت ایک انتہائی مقبول سیاسی شخصیت اور رہنما ہیں۔

’لیکن اس کے باوجود عمران خان اس مرتبہ لاہور شہر سے باہر لانگ مارچ میں کوئی زیادہ تحریک پیدا نہیں کر پائے۔ ان پر حملے کے بعد بھی ہم نے دیکھا ہے کہ اتنے زیادہ لوگ باہر نہیں نکلے جتنی تعداد کی توقع کی جا رہی تھی۔‘

سلیم بخاری سمجھتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے لیے عوامی حمایت میں بتدریج کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

’اس مرتبہ انھوں نے ریلیوں کو ایک سے زیادہ مقامات سے نکالا۔ وہ توقع کر رہے تھے کہ اس طرح انھیں زیادہ پذیرائی ملے گی لیکن ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا۔‘

تاہم سلیم بخاری سمجھتے ہیں کہ کسی بھی حجم کی ریلیوں کا آرمی چیف کی تعیناتی کے معاملے پر اثرانداز ہونا انتہائی مشکل ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’تعیناتی تو اصول کے مطابق ہی ہو گی‘ 

سلمان غنی کہتے ہیں سربراہ پی ٹی آئی عمران خان یہ کہتے ہیں کہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی میرٹ پر ہونی چاہیے۔

’وہ اس رائے کا بھی اظہار کرتے ہیں کہ سابق وزیراعظم نواز شریف اپنی مرضی کا آرمی چیف لگانا چاہتے ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ عمران خان نہ تو پارلیمان کا حصہ ہیں اور نہ ہی آئینی طور پر تعیناتی کے معاملے میں ان کا کوئی کردار ہے۔ اس لیے میرا نہیں خیال کہ ان کی بات سنی جائے گی یا اس پر توجہ دی جائے گی۔‘

سلیم بخاری کہتے ہیں کہ ’اگر فرض کریں کہ عمران خان پورا پاکستان بھی باہر لے آئیں تو بھی یہ اہم تعیناتی تو قواعد کے مطابق ہی ہونی ہے۔ اس میں ان کی رائے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ وہ اس پر اثرانداز ہو ہی نہیں سکتے۔‘ 

سلمان غنی کے مطابق اگر حکومت نئے آرمی چیف کے حوالے سے اعلان کر دے ’تو پی ٹی آئی کے لانگ مارچ میں تحریک بالکل ختم ہو جائے گی۔‘

اگر اثرانداز ہونا ہے تو پی ٹی آئی تاخیر کی بجائے جلد کیوں نہیں پہنچنا چاہتی؟ 

یہاں سوال یہ بھی ہے کہ اگر پی ٹی آئی کا ارادہ آرمی چیف کی تعیناتی کے معاملے پر نظر انداز ہونا ہو تو وہ کیوں نہیں چاہے گی کہ وہ جلد راولپنڈی یا اسلام آباد میں داخل ہو جائیں تا کہ حکومت پر دباؤ ڈالا جا سکے۔

سلمان غنی کے مطابق ’پی ٹی آئی کو معلوم ہے کہ ان کے پاس لوگوں کی وہ تعداد نہیں ہے جو وہ چاہ رہے تھے۔ اور اس کی ایک وجہ شاید حملے کے بعد لوگوں میں خوف و ہراس بھی ہے۔‘

’عمران خان پر حملے کے بعد خوف و ہراس کی فضا بھی بنی ہے جس کی وجہ سے کم لوگ باہر آ رہے ہیں۔‘

’دوسرا عمران خان خود بھی مسلسل متضاد بیانات دے رہے ہیں۔ ان تمام معاملات پر جن پر وہ گذشتہ کچھ عرصے سے کھڑے تھے اس پر اب ان کے بیانات میں تضاد سامنے آ رہا ہے۔ اس کی وجہ سے بھی عوامی حمایت میں کمی ہوتی ہے۔‘ 

سلمان غنی یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ’عمران خان کی طرف سے فوج کی قیادت یا اسٹیبلشمنٹ کو مسلسل نشانہ بنانے کی وجہ سے ان کی اپنی جماعت کے اندر بھی لوگوں کی رائے تبدیل ہوئی ہے۔‘

مبصرین کے خیال میں ’لوگوں کی کم تعداد کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اس مرتبہ عمران خان خود مارچ کی قیادت نہیں کر رہے۔‘ 

سلمان غنی کے خیال میں پی ٹی آئی کی حکمتِ عملی یہ بھی ہو سکتی ہے کہ مارچ جب راولپنڈی پہنچے تو عمران خان جسمانی طور پر صحت مند ہو کر خود اس کی قیادت کریں جس میں وقت لگے گا۔‘ 

یوں جتنا وہ فوج کے سربراہ کی تعیناتی کی تاریخ کے قریب پہنچیں گے، وہ سمجھتے ہیں کہ وہ زیادہ بہتر طریقے سے معاملے پر اثرانداز ہو پائیں گے۔ 

’اہم تعیناتی کا لانگ مارچ سے کوئی تعلق ہی نہیں‘ 

پاکستان تحریکِ انصاف کی قیادت یہ کہہ چکی ہے کہ ان کے لانگ مارچ کا آرمی چیف کی تعیناتی کے معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ لانگ مارچ کے دوبارہ آغاز سے قبل لاہور میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کے دوران پی ٹی آئی کے نائب صدر شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ان کے لانگ مارچ کا اس تعیناتی کے معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’عمران خان کا مطالبہ انتہائی واضح رہا ہے اور اب بھی ہے کہ ملک میں اب جلد عام انتخابات ہونے چاہئیں اور حکومت اس سے بھاگ رہی ہے۔ ہماری لانگ مارچ حکومت پر اس بات پر دباؤ ڈالنے کے لیے ہے کہ وہ جلد عام انتخابات کی تاریخ دے۔‘ 

شاہ محمود قریشی نے اس تاثر کی بھی تردید کی کہ لانگ مارچ کو عوام میں اس قدر پذیرائی نہیں مل پائی جس کی پی ٹی آئی کو توقع تھی۔

انھوں نہ کہا کہ ’دنیا نے خود دیکھا کہ کتنی بڑی تعداد میں لوگوں نے عمران خان کی کال پر لبیک کہا اور لانگ مارچ کا خیر مقدم کیا۔ اور اب بھی عمران خان کی کال پر لوگ تیار بیٹھے ہیں۔‘

حال ہی میں شاہ محمود قریشی نے وزیرآباد سے لانگ مارچ کا دوبارہ آغاز کرنے کے موقع پر ’وزیر آباد کے عوام کا شکریہ ادا کیا کہ وہ اتنی بڑی تعداد میں باہر نکلے ہیں۔‘ 

پی ٹی آئی کی قیادت کا اصرار ہے کہ ’لانگ مارچ کا تصور ہی یہی ہے کہ لوگ آہستہ آہستہ چلتے اپنی منزل کی طرف سفر جاری رکھتے ہیں۔ ہم لوگوں کو تھکانا بھی نہیں چاہتے۔ اس لیے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم رات میں سفر نہیں کریں گے اور صرف دن میں سفر کیا جائے گا۔‘

یاد رہے کہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ ابتدا ہی سے اسی حکمتِ عملی پر چل رہا ہے جس میں مارچ کے شرکا رات کو سفر نہیں کرتے۔ پی ٹی آئی کی قیادت کے مطابق لانگ مارچ جس شہر میں ہوتا ہے وہاں کے مقامی لوگ اس میں شرکت کرتے ہیں۔

نائب صدر شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ جب لانگ مارچ راولپنڈی پہنچے گا تو ملک کے تمام شہروں کے لوگ ایک مرتبہ پھر اس کے ساتھ شامل ہو جائیں گے۔