’جب فائرنگ کی آوازیں سُنیں تو لگا شہر پر حملہ ہو گیا‘، بنوں میں اُس روز ہوا کیا تھا؟

    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، بنوں

’صوبے میں سکیورٹی کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے خوف تو ہر وقت رہتا تھا لیکن جب بنوں چھاؤنی سے دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں آنا شروع ہوئیں تو اس وقت سخت پریشانی ہوئی۔ دہشت گردوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران پانچ دن تو ایک عذاب کی طرح گزرے، شہر کی زیادہ تر آبادی گھروں میں رہنے پر مجبور ہو گئی تھی۔‘

بنوں کے شہری شہر یار بتاتے ہیں کہ ’جب شروع میں دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں سنیں تو ایسا لگا جیسے شہر پر حملہ ہو گیا ہے۔ پھر بعد میں معلوم ہوا کہ چھاؤنی میں سی ٹی ڈی کے دفتر میں طالبان موجود ہیں جنھوں نے سرکاری اہلکاروں کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔‘

یاد رہے کہ گذشتہ اتوار کو بنوں چھاونی میں انسداد دہشت گردی کے محکمے کی دفتر میں زیر حراست شدت پسندوں نے وہاں تعینات عملے کے ایک اہلکار سے اسلحہ چھین کر عمارت میں موجود تمام اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا تھا اور افغانستان فرار ہونے کے لیے محفوظ راستے کا مطالبہ کیا تھا۔

پاکستانی حکام کے مطابق اُن کا یہ مطالبہ تسلیم نہیں کیا گیا اور مذاکرات شروع کیے گئے تاہم مذاکرات میں ناکامی کے بعد آپریشن شروع کیا گیا جس میں 25 شدت پسند ہلاک ہوئے۔ اس کارروائی میں سکیورٹی فورسز کے چار اہلکار ہلاک اور چھ افسران سمیت 18 اہلکار زخمی ہوئے تھے۔

بنوں میں اس روز کیا ہوا تھا؟

اس واقعے کی ابتدا گذشتہ اتوار کو اس وقت ہوئی جب حکام کے مطابق زیر حراست شدت پسندوں نے سی ٹی ڈی کی عمارت میں موجود ایک اہلکار کو قابو کر کے اس کا اسلحہ چھین لیا اور بلڈنگ میں موجود عملے کو یرغمال بنا لیا۔

اتوار کے روز اس دفتر میں سی ٹی ڈی کے کُل سات سے آٹھ اہلکار موجود تھے جن میں سکیورٹی اداروں کے وہ اہلکار بھی شامل تھے جو شدت پسندوں سے تفتیش کے لیے یہاں آئے تھے۔

اس عمارت پر قبضے کے بعد سکیورٹی فورسز کے ایس ایس جی کمانڈوز نے عمارت کو گھیرے میں لے لیا اور چھاؤنی کے داخلی اور خارجی راستے بند کر دیے جبکہ انٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی۔

چھاؤنی میں رہائش پزیر تمام لوگوں کو اپنے اپنے گھروں میں محدود رہنے کی تاکید کی گئی تھی۔

حکام کے مطابق اس کے بعد دو روز تک شدت پسندوں کے ساتھ مذاکرات کیے گئے اور اس مقصد کے لیے مختلف وفود بھیجے گئے تاہم شدت پسندوں نے سرنڈر کرنے کے بجائے افغانستان جانے کے لیے محفوظ راستہ فراہم کرنے کا مطالبہ کر دیا۔

یرغمال بننے والے اہلکاروں میں سے ایک صوبیدار خورشید انور بھی تھے جن کی ویڈیو سب سے پہلے شدت پسندوں نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی۔ اس ویڈیو میں صوبیدار خورشید انور پلنگ پر زخمی حالت میں بیٹھے ہیں جبکہ شدت پسند افغانستان جانے کے لیے ہیلی کاپٹر فراہم کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

اس کے بعد اس عمارت کی حوالات میں بند دیگر گرفتار افراد کی ویڈیوز جاری کی گئیں جن میں وہ حکام سے یہ اپیل کرتے نظر آئے کہ شدت پسندوں کے ساتھ بات چیت کر کے اُن کے مطالبات تسلیم کیے جائیں تاکہ ان سب کی جان بچائی جا سکے۔

سی ٹی ڈی کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ وہ اہلکار جن کے پاس عمارت کے سب کمروں کی چابیاں تھیں انھیں شدت پسندوں نے شروع میں ہی مار دیا تھا۔

جبکہ عمارت پر قبضے کے دوران ایک اہلکار نے مزاحمت کی جس کے دوران وہ زخمی تو ہوا تاہم وہ عمارت سے باہر نکلنے میں کامیاب ہو گیا تھا، تاہم بعد ازاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔

منگل کے روز جب سکیورٹی اہلکاروں نے آپریشن شروع کیا تو شدت پسندوں نے صوبیدار خورشید سمیت تمام یرغمالیوں کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔

سکیورٹی اہلکار کے مطابق آپریشن کے دوران عمارت میں دستی بم پھینکے گئے اور اس کے بعد بیرونی دیوار پر حملہ کیا گیا اور گیٹ توڑ دیے گئے، چند شدت پسند مقابلہ کرتے رہے وہ کبھی ایک کمرے میں چھپ جاتے تو کبھی چھت اور برآمدے سے فائرنگ کرتے جس سے سکیورٹی اہلکار بھی زخمی ہوئے۔

سی ٹی ڈی اہلکار کے مطابق ان شدت پسندوں کی قیادت کرنے والے کمانڈر عمارت میں موجود سی ٹی ڈی کی بلٹ پروف گاڑی میں چھپ گئے تھے جہاں سے وہ وقفے وقفے سے فائرنگ کرتے رہے جس کی وجہ سے عمارت کی مکمل کلیئرنس میں وقت لگ گیا۔

اس دوران بنوں کے شہریوں کی زندگی کیسے اجیرن بنی رہی؟

بنوں کے شہری محمد الیاس نے بتایا کہ وہ اپنے گھر میں تھے جب اچانک انھیں اطلاع ملی کہ یہ واقعہ ہوا ہے۔ ’ہمیں کہا گیا کہ آپ لوگ گھروں کے اندر رہیں، دروازہ نہ کھولیں۔ پانچ دن بڑی مشکل سے گزارے کیونکہ گھر میں راشن کم تھا جبکہ بچے الگ ڈرے سہمے تھے۔ میرا بھائی بیمار ہے اور اس کے لیے ادویات ضروری ہوتی ہیں، وہ بھی لانی تھیں اس لیے ہمارے لیے مشکل بڑھ گئی تھی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ مشکل اس وجہ سے زیادہ بڑھ گئی تھی کیونکہ جو بھائی اور بچے کینٹ سے باہر شہر میں تھے ان سے کوئی رابطہ نہیں ہو پا رہا تھا۔

بنوں چیمبر آف کامرس کے سینیئر نائب صدر ناصر خان بنگش نے بی بی سی کو بتایا کہ جب سے علاقے میں امن و امان کی صورتحال خراب ہوئی ہے اس شہر کے 80 فیصد لوگ گھروں میں بیٹھ گئے ہیں کیونکہ کاروبار بری طرح متاثر ہوا ہے۔

’ہمیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ شہر میں کیا ہو رہا ہے کہ اچانک ٹیلیفون موبائل سروس اور انٹرنیٹ بند ہو جاتے ہیں۔ یہاں تو اب زیادہ تر کاروبار آن لائن ہو رہے ہیں، ہمارا تو کاروبار ٹھپ ہو جاتا ہے۔‘

بنوں میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں گذشتہ ایک سال کے دوران تیزی دیکھی گئی ہے۔ پہلے بنوں سے تعلق رکھنے والی این جی اوز میں کام کرنے والی خواتین کو شمالی وزیرستان میں قتل کر دیا گیا اور جب ان کی میتیں شہر پہنچیں تو لوگوں میں خوف بڑھ گیا، اس کے بعد میڈیکل ریپس کو مارا گیا۔

ناصر خان بنگش نے بتایا کہ اس کے بعد تین تاجروں کو شمالی وزیرستان میں مارا گیا اور جب لاشیں آئیں تو پھر تاجروں نے احتجاج شروع کر دیا تھا اور دھرنے دیے۔ انھوں نے بتایا کہ اس دھرنے میں پھر تمام اقوام بھی شامل ہوئیں اور انتطامیہ سے امن کا مطالبہ کیا تھا۔

حملوں میں اضافہ

گذشتہ سال افغانستان میں امریکی اور اتحادی افواج کے انخلا اور افغان طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغان طالبان کی ثالثی میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ حکومت پاکستان کے مذاکرات شروع ہوئے تھے۔

ابتدا میں ان مذاکرات کو خفیہ رکھا گیا لیکن اس کے بعد جب مختلف وفود بھیجے گئے تو سب کچھ عیاں ہوگیا جس میں قیدیوں کی رہائی ، اور دیگر مطالبات سامنے آئے۔ رواں سال مئی کے مہینے میں طالبان کی جانب سے جنگ بندی کا اعلان کیا گیا اور اس دوران بڑی حد تک حملے رک گئے تھے، تاہم اس دوران شدت پسندوں کو سنبھلنے کا موقع ملا اور یہ بات اس وقت سامنے آئی جب سوات کے علاقے مٹہ میں ایک ڈی ایس پی اور سکیورٹی افسر کو شدت پسندوں نے یرغمال بنا لیا تھا جس میں ڈی ایس پی زخمی ہوئے تھے اور یہ ویڈیو وائرل ہو گئی تھی۔

اس کے بعد سوات سمیت صوبےکے مختلف علاقوں میں عوامی سطح پر جلوس نکالے گئے احتجاجی مظاہرے کیے گئے اور ان میں صرف ایک مطالبہ کیا گیا اور وہ تھا امن کا قیام اور اس کے بعد ایسی اطلاعات بھی سامنے آئیں کہ مٹہ کے اس علاقے سے طالبان واپس چلے گئے ہیں۔

ادھر صوبے کے جنوبی اضلاع میں لکی مروت، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان، کلاچی ٹانک کے علاوہ قبائلی علاقوں میں جنوبی وزیرستان اور شمالی وزیرستان سے بھی اطلاعات موصول ہوئیں کہ شدت پسند بڑی تعداد میں یہاں پہنچے ہیں۔ لکی مروت میں پولیس اور پولیس تھانوں پر مسلسل حملے کیے گئے جس میں پولیس کا جانی نقصان بھی ہوا۔

گذشتہ ماہ یعنی 28 نومبر کو طالبان نے جنگ بندی ختم کرنے کا اعلان کیا اور اس کے بعد ان حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ان 25 دنوں میں کالعدم تنظیم نے 30 سے زیادہ شدت پسندی کے واقعات کی ذمہ داری قبول کی جس میں جمعہ کے روز اسلام آباد میں پیش آنے والا ایک واقعہ بھی شامل ہے جس میں ایک پولیس اہلکار کی ہلاکت ہوئی ہے۔