سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد بڑھا کر 25 کرنے کی تجویز کیا ہے جس کی تحریک انصاف مخالفت کر رہی ہے؟

سپریم کورٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنمجوزہ بِل کے تحت سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد 17 سے بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد

وفاقی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ آف پاکستان میں ججوں کی تعداد بڑھانے سے متعلق بِل قومی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا ہے۔ جبکہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد 17 سے بڑھا کر 25 کرنے کی منظوری دی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اس حکومتی اقدام کو ’اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو دباؤ میں لانے اور من پسند افراد کو سپریم کورٹ میں تعینات کرنے کی سوچی سمجھی سازش‘ قرار دیتے ہوئے اس پر تنقید کی ہے۔

اس مجوزہ بِل کے تحت سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد 17 سے بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے۔ یاد رہے کہ اِس وقت سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد 19 ہے جس میں سے 17 مستقل جبکہ 2 ایڈہاک جج ہیں۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ اس اقدام کی بنیادی وجہ عدالتِ عظمیٰ میں ہزاروں کی تعداد میں زیرِ التوا مقدمات کو نمٹانا ہے۔ سپریم کورٹ کے ریکارڈ کے مطابق اِس وقت عدالتِ عظمیٰ میں زیر التوا مقدمات کی تعداد 60 ہزار سے زیادہ ہے۔

حکومت کے اس مجوزہ ترمیمی بل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایسے ججز کو سپریم کورٹ میں تعینات کیا جائے جنھیں سائبر کرائم کے علاوہ ماحولیات، بین الاقوامی تجارت اور بین الاقوامی معاہدوں سے متعلقہ معاملات پر عبور حاصل ہو۔

سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد 25 کرنے کی سفارش

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد 17 سے بڑھا کر 25 کرنے کی منظوری دی ہے۔ قانون اور انصاف سے متعلق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس کمیٹی کے چیئرمین فاروق ایچ نائیک کی سربراہی میں ہوا جس میں سینیٹر عبداالقادر کی جانب سے ججز کی تعداد بڑھانے سے متعلق پیش کیے گئے بل کو زیر بحث لایا گیا۔

آزاد حثیت سے منتخب ہونے والے سینیٹر عبدالقادر نے یہ بل اس سال ستمبر میں پیش کیا تھا۔

اس بل میں مختصر سوچ بچار کے بعد اس بل کی منظوری دے دی گئی جس میں سپریم کورٹ میں ججز کی موجودہ تعداد 17 سے بڑھا کر 25 کرنے کی منظوری دی گئی۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر حامد خان اور جمعت علمائے اسلام کے سینیٹر کامران مرتضی نے اس بل کی مخالفت کی ہے۔

سینیٹر حامد خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ قائمہ کمیٹی میں سات ارکان موجود تھے جن میں سے پانچ نے اس بل کے حق میں جبکہ دو نے اس بل کی مخالفت کی تھی۔

انھوں نے کہا کہ ہم دونوں سینیٹرز نے کمیٹی کے ارکان کو بتایا کہ ججز کی تعداد بڑھانے سے متعلق پہلے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو تو اعتماد میں لیں۔

حامد خان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام اختیارات کی تکون کے منافی ہے۔

انھوں نے کہا کہ قائمہ کمیٹی کے چیئرمین نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے سینیٹ سے خطاب کے دوران سپریم کورٹ میں زیر التوا مقدمات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اس مقدمات کو نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد کو 26 تک ہونا چاہیے۔

قائمہ کمیٹی سے اس بل کی منطوری کے بعد اس بل کو 4 نومبر کو سینیٹ کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔

دوسری جانب وزیر قانون پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ میں ترمیم کا بل بھی قانون اور انصاف سے متعلق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا ہے۔

یاد رہے کہ حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے رُکن قومی اسمبلی دانیال چوہدری نے سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد بڑھانے سے متعلق یہ بل رواں سال 3 ستمبر کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیش کیا تھا۔ تاہم پاکستان پی ٹی آئی کے رہنما اور رکنِ قومی اسمبلی بیرسٹر گوہر نے اس پر اعتراض اٹھایا تھا کہ ایسا بل ایوان میں پیش کرنے کا اختیار صرف حکومت کے پاس ہے جس پر سپیکر قومی اسمبلی نے دانیال چوہدری کو یہ بل پیش کرنے سے روک دیا تھا۔

سپریم کورٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنقاضی فائزعیسیٰ کی ریٹائرمنٹ کے بعد جسٹس یحییٰ آفریدی نے چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالنے کے بعد تین سینیئر ججوں پر مشتمل اس کمیٹی کو بحال کر دیا ہے

سینیٹ میں بھی پی ٹی آئی نے اس بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس بل کو لانے کا مقصد سپریم کورٹ میں آئینی عدالت بنا کر اس وقت کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی مدمت ملازمت میں توسیع دینا ہے۔

وزارت قانون کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ سپریم کورٹ ایکٹ میں ترمیم کرنے کے ساتھ ساتھ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ میں مزید ترمیم کرنے سے متعلق تجاویز بھی طلب کر لی گئی ہیں۔

ان تجاویز کے مطابق پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ میں صدارتی آرڈیننس کے تحت جو ترمیم کی گئی تھی اس کو تحفظ دینے کے ساتھ یہ ترمیم بھی کیے جانے کی توقع ہے کہ بینچز کی تشکیل سے متعلق سپریم کورٹ کے دو سینیئر ججوں کے علاوہ آئینی بینچ کے سربراہ یا کسی دوسرے سینیئر رُکن کو اس کمیٹی کا رُکن بنایا جائے گا۔

سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے دور میں حکومت نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ میں صدارتی آرڈیننس کے تحت ترمیم کی تھی جس کے مطابق سپریم کورٹ کے دو سینیئر ججوں کے علاوہ تیسرا رُکن چیف جسٹس کی مرضی سے شامل کیا جاسکتا تھا۔

اس پیشرفت کے بعد اس وقت کے چیف جسٹس نے کمیٹی میں جسٹس منیب اختر کی جگہ جسٹس امین الدین کو شامل کیا تھا۔

قاضی فائز عیسیٰ کی ریٹائرمنٹ کے بعد جسٹس یحییٰ آفریدی نے چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالنے کے بعد تین سینیئر ججوں پر مشتمل اس کمیٹی کو بحال کر دیا ہے جس میں چیف جسٹس کے علاوہ جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر شامل ہیں۔

پاکستان میں وکلا کی سب سے بڑی تنظیم پاکستان بار کونسل کے سابق وائس چیئرمین امجد شاہ کا کہنا ہے کہ اُن کی تنظیم کے علاوہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے بھی ماضی میں متعدد بار سپریم کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان سے ججوں کی تعداد بڑھانے کا مطالبہ کیا تھا لیکن اس پر کوئی عمل درآمد نہیں ہوا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد بڑھانے کو سیاست کی بھینٹ نہ چڑھایا جائے بلکہ اس معاملے کو اس تناظر میں دیکھا جائے کہ ججوں کی تعداد بڑھانے سے عام لوگوں کو ریلیف ملے گا۔

پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے سینیئر وکیل رہنما حامد خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد میں اضافہ ایک ’سوچی سمجھی سازش‘ کے تحت ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا کہ اس کا پس پردہ مقصد ناصرف عدالت عظمیٰ میں اپنے من پسند ججز کو شامل کروانا ہے بلکہ عدلیہ کو دباؤ میں بھی لانا ہے۔

سپریم کورٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنحکومت کا مؤقف ہے کہ اس اقدام کی بنیادی وجہ عدالتِ عظمیٰ میں ہزاروں کی تعداد میں زیرِ التوا مقدمات کو نمٹانا ہے

انھوں نے کہا اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کی تعداد بڑھانے کا کوئی جواز موجود نہیں ہے۔ ایک سوال کے جواب میں وکیل رہنما کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد بڑھانے کے لیے کسی آئینی ترمیم کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ایکٹ آف پارلیمنٹ سے بھی سپریم کورٹ ایکٹ میں ترمیم کی جا سکتی ہے۔

حامد خان کا کہنا تھا کہ انڈیا آبادی اور رقبےکے لحاظ سے پاکستان سے بہت بڑا ملک ہے اور وہاں پر سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد 34 ہیں۔ انھوں نے سوال کیا تو کیا پاکستان کی سپریم کورٹ میں 17 جج لوگوں کو انصاف فراہم نہیں کر سکتے؟

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما کا کہنا تھا کہ پاکستان کی عدلیہ کے ساتھ جب بھی چھیڑ چھاڑ کی گئی تو پاکستان کو اس کا ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔

انھوں نے کہا کہ سنہ 1954 میں اُس وقت کی فیڈرل کورٹ کے سب سے سینیئر جج ابو صالح اکرم کو نظر انداز کرکے جسٹس منیر کو چیف جسٹس بنایا گیا اور یہ وہی چیف جسٹس تھے جن کے دور میں نظریہ ضرورت ایجاد ہوا تھا۔

انھوں نے کہا کہ اس کے بعد جسٹس سعود جان کی جگہ جسٹس سجاد علی شاہ کو چیف جسٹس بنایا گیا۔

حامد خان کا کہنا تھا کہ ان کے ہم خیال وکلا چیف جسٹس کی تعیناتی میں سنیارٹی رول کو نظر انداز کرنے اور ججز کی تعداد بڑھانے کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کریں گے جس کا لائحہ عمل آئندہ ایک، دو روز میں طے کر لیا جائے گا۔