رون اینڈ کو کو: ’جو پہچان اداکاری سے نہیں ملی وہ انسٹا ریلز نے دِلائی‘

رون اینڈ کو کو
    • مصنف, براق شبیر
    • عہدہ, صحافی

انسٹاگرام پر ’رون اینڈ کو کو‘ کے نام سے کونٹینٹ بنانے والا پاکستانی جوڑا رابعہ کلثوم اور ریحان ناظم اس وقت اپنی مزاحیہ ویڈیوز کی وجہ سے عوام میں کافی مقبول ہیں۔

فہد مصطفیٰ، وسیم بادامی اور ایسی دیگر مقبول شخصیات کی آواز پر ڈبڈ ریلز کو اپنے نظریے سے پیش کرنے والا یہ جوڑا بہت سے پاکستانیوں کے لیے مثالی ہے۔

ایک شام ان کے ساتھ انھی کے گھر پر کچھ گھنٹے گزار کر اس بات کا اندازہ ہوا کہ ان کی کیمسٹری محض سکرین تک محدود نہیں۔ اصل زندگی میں بھی وہ ایک دوسرے کے ساتھ ایسے ہی رہتے ہیں۔

بی بی سی کے ساتھ خصوصی گفتگو کے دوران رابعہ نے اس کا راز بتایا۔ وہ کہتی ہیں کہ ’ہم جینڈر رولز میں نہیں پھنستے۔ جیسے ہم نظر آ رہے ہوتے ہیں، ہم لگ بھگ ویسے ہی ہیں۔‘

YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

YouTube پوسٹ کا اختتام

انھیں لگتا ہے کہ ان کی شادی کی بنیاد ہی یہ ہے کہ وہ معاشرے کے قائم کردہ جینڈر رولز میں نہیں پڑتے، یعنی وہ سماجی دباؤ میں نہیں آتے۔

’اگر بچے کی بات ہے تو وہ صرف میری ذمہ داری نہیں ہے۔ اگر کچن کی بات ہے تو یہ صرف میرا کام نہیں ہے۔‘

رابعہ کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے ریحان نے بتایا کہ وہ دونوں ابھی کچھ عرصہ قبل ہی فیملی سے الگ گھر میں منتقل ہوئے ہیں۔

رون اینڈ کو کو

،تصویر کا ذریعہINSTAGRA/RONANDKOKO

ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے بھی رات، رات کھڑے ہو کر برتن دھوئے ہیں۔ میں نے بھی بچے کو سنبھالا ہے اور اس نے بھی۔ اس نے کھانا بنایا، میں نے چائے بنائی۔ مجھے کھانا بنانا نہیں آتا۔‘

رابعہ اور ریحان کا کہنا تھا کہ اگرچہ لوگوں کو لگتا ہے کہ سلیبریٹی کپلز کو ہر وقت محبت میں مبتلا اور ہر وقت پیارا لگنا چاہیے تاہم ’حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ ایسا صرف فلموں اور ڈراموں میں ہوتا ہے۔‘

رابعہ نے بتایا کہ دونوں میں لڑائیاں بھی بہت ہوتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’زیادہ تر لڑائیاں میں ہی کرتی ہوں اور یہ سب جانتے ہیں۔ اصل میں کامیاب جوڑا وہی ہے جس میں لڑائی بھی ہوتی ہے اور نوک جھوک بھی۔‘

کام کے دوران آنے والے اختلافات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان کے زیادہ تر جھگڑے تب ہوتے ہیں جب وہ ’ڈانس وڈیوز‘ بنا رہے ہوتے ہیں۔

ان کے مطابق اس دوران اگر کبھی کوئی غلط موو ہو جائے تو بہت لڑائی ہوتی ہے۔

رابعہ تسلیم کرتی ہیں کہ انھیں بہت جلد غصہ آجاتا ہے۔ ’ہر ٹیک کے ساتھ انرجی کم ہو رہی ہوتی ہے۔‘

جبکہ ریحان کا کہنا تھا کہ ’پریکٹس کر کر کے ہی بہتر ہوتا ہے لیکن رابعہ یہ چاہتی ہے کہ دوسری بار میں ہی ٹھیک سے ہوجائے۔‘

جب انھوں نے ایک یا دو ڈانس ویڈیوز کے بی ٹی ایس سوشل میڈیا پر ڈالے تو لوگوں نے کہا ’یہ بھی ڈالا کریں۔‘

ڈانس کی بات کریں تو پاکستانی معاشرے میں عام طور پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ اس کی اتنی گنجائش نہیں اور نہ ہی اسے کوئی اچھا کام سمجھا جاتا ہے۔

ریحان رابعہ
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ریحان نے بی بی سی کو بتایا کہ جب وہ اور رابعہ اپنی ڈانس ویڈیوز لگاتے ہیں تو لوگ زیادہ تر اچھے کمنٹس ہی کرتے ہیں۔

وہ یہی کہتے ہیں کہ اس میں ’ایسی کوئی واہیات بات نہیں۔ میاں بیوی ہیں جو ایک ساتھ ڈانس کر رہے ہیں۔ اچھا مزے کا لگ رہا ہے دونوں کو دیکھ کر۔‘

بظاہر مزاحیہ نظر آنے والی یہ 30 یا 60 سیکنڈ کی ویڈیوز میں دراصل کئی گھنٹوں کی محنت لگتی ہے اور کبھی کبھار محنت کے ساتھ دشواری کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔

رابعہ نے حال ہی میں شوٹ کی گئی اپنی ایک ریل کے دوران ہونے والے واقعے کا ذکرکیا۔

انھوں نے بتایا کہ ان کی ’عورت موبائل سنیچر‘ والی ریل زمین پر بیٹھ کر شوٹ کی گئی تھی۔ ’اس کے ری ٹیکس کرتے کرتے ریحان کی کمر میں درد شروع ہو گئی۔ وہ چیخ رہے تھے اور سیدھے کھڑے بھی نہیں ہو پا رہے تھے۔ یہ درد ابھی تک ہے۔‘

’یہ بھی کوئی بتائے لوگوں کو کہ کیا کیا چیلنجز ہوتے ہیں اور کبھی کبھی بات صحت پر بھی آجاتی ہے۔‘

رابعہ اور ریحان نے پاکستانی ڈراموں میں اداکاری بھی کی ہے۔ رابعہ کی والدہ پروین اکبر گذشتہ کئی برسوں سے انڈسٹری کا حصہ رہی ہیں جبکہ رابعہ پچھلے دس سال سے اداکاری کر رہی ہیں۔

حال ہی میں ہم نے انھیں ’بڑے بھیا‘ میں مرکزی کردار نبھاتے دیکھا۔ ریحان نے بھی کچھ ڈراموں میں کام کیا ہے۔

رابعہ اور ریحان کا کہنا تھا کہ وہ پاکستانی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں رون اور کو کو کے نام سے مشہور ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ان کے کونٹینٹ پیج کا نام ’رون اینڈ کو کو‘ ہے۔

جو پذیرائی انھیں کووڈ کے بعد اپنے کونٹینٹ سے ملی وہ اب تک ان کی اداکاری کو نہیں ملی ہے۔

ریحان نے بتایا کہ وہ تو اداکاری کے شعبے میں یہی سوچ کر آئے تھے کہ بہت سنجیدہ کردار کریں گے۔ انھوں نے تین سال ناپا سے تھیٹر بھی پڑھا۔ ’میں نے یہ کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں مزاحیہ کونٹینٹ بنا کر لوگوں کو ہنسا رہا ہوں گا۔‘

رابعہ کا کہنا تھا کہ بہت دفعہ ایسا ہوا ہے کہ لوگوں نے ان سے مل کر کہا کہ کیا وہ ڈراموں میں بھی آتی ہیں۔

’میں 10 سال سے ایکٹنگ کر رہی ہوں۔ لوگوں کی اس بات سے مجھے اندازہ ہوا کہ 'رون اینڈ کو کو' کی کیا حیثیت ہے اور میرے ڈراموں کی کیا جگہ ہے۔‘

ریحان کا کہنا تھا کہ جو پہچان ان دونوں کو انفرادی طور پر ایکٹنگ کے شعبے میں نہیں ملی وہ انھیں ان کے کونٹینٹ سے ملی ہے۔