آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
مودی نے ’سونا خریدنے کے شوقین‘ انڈین شہریوں سے یہ قیمتی دھات نہ خریدنے کی اپیل کیوں کی؟
- مصنف, مہتاب عالم
- عہدہ, بی بی سی نیوز اردو ، دہلی
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
اتوار کے روز انڈیا کی جنوبی ریاست تلنگانہ کے شہر سکندر آباد میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے ایران جنگ کے تناظر میں اپنے عوام کی اپیل کی وہ بچت کی غرض سے اقدامات اٹھائیں۔
ورک فرام ہوم (یعنی گھر سے کام کرنا) اور پیٹرول کی بچت کی تلقین کرنے کے ساتھ ساتھ انھوں نے انڈین شہریوں سے یہ اپیل بھی کی کہ وہ آئندہ ایک برس کے دوران سونا نہ خریدیں۔
مودی کی اس تقریر کے بعد مرکزی وزیر اشونی ویشنو نے بھی وزیر اعظم مودی کی درآمدات پر کم ڈالر خرچ کرنے اور زرمبادلہ کے ذخائر کو بچانے کی اپیل کو دہرایا۔
وزیرِ اعظم مودی کی سونا نہ خریدنے سے متعلق اپیل پہلی نظر میں غیر معمولی لگتی ہیں- خاص طور پر ایک ایسے ملک میں جہاں سونا روایت، بچت اور تقریبات سے گہری وابستگی رکھتا ہے۔
تاہم اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بیان کے پیچھے ایک بڑی اقتصادی تشویش چھپی ہوئی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطٰی میں جاری جنگ کی وجہ سے مسلسل بڑھتا ہوا عالمی توانائی بحران۔ اس بحران کا بڑا اثر انڈیا پر بھی پڑ رہا ہے۔ جس کے نتیجہ میں ملک کے غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر پر مسلسل بوجھ بڑھ رہا ہے اور ڈالر کے مقابلے میں روپیہ کمزور ہو رہا ہے۔
خیال رہے کہ انڈیا میں سونے کی درآمدات پچھلے سال کسٹمز ڈیوٹی میں کمی کے بعد بہت زیادہ بڑھ گئی تھیں۔ سونے کا شمار اب خام تیل کے بعد انڈیا کی سب سے بڑی درآمدات میں ہوتا ہے۔
اور درآمدات پر چونکہ ڈالرز خرچ ہوتے ہیں اس لیے یہ زرمبادلہ کے ذخائر پر بوجھ کا باعث بنتی ہیں۔
اقتصادی امور کے ماہر اور چوائس ویلتھ پرائیویٹ لمیٹڈ کے ریسرچ اور پروڈکٹ ہیڈ اکشَت گرگ کے مطابق مالی سال 2025 میں انڈیا کی سونے کی درآمدات کا اندازہ تقریباً 58 سے 60 ارب ڈالر کے درمیان ہے، جو کہ اب تک ریکارڈ شدہ سب سے بڑی سونے کی درآمد ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ مالی سال 2024 میں یہ سطح 45.5 ارب ڈالر کے لگ بھگ تھی تاہم گذشتہ سال اس میں بڑا اضافہ ہوا۔
سونے کی درآمد میں یہ اضافہ جولائی 2024 کے وفاقی بجٹ کے بعد سامنے آیا جب سونے کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی کو 15 فیصد سے کم کر کے چھ فیصد کر دیا گیا، جس سے درآمدات میں تیزی سے اضافہ ہوا۔
اب سونے کی درآمد انڈیا کی مجموعی اشیا کی درآمد کا تقریباً آٹھ سے دس فیصد ہے اور یہ ملک کے مجموعی تجارتی خسارے میں تقریباً پانچواں حصہ ڈالتا ہے۔
انڈیا میں زیادہ سونا کیوں خریدا جاتا ہے؟
پاکستان کی طرح انڈیا میں بھی سونا گھریلو بچت کا اہم حصہ ہے اور اسی لیے سونے کی فروخت میں انڈیا دنیا کی سب سے بڑی مارکیٹس میں سے ایک ہے۔
انڈین انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ احمد آباد کے انڈیا گولڈ پالیسی سینٹر کی سربراہ پروفیسر سندر وَلّی نے بی بی سی کو بتایا کہ انڈیا میں ہر سال 600 سے 700 ٹن سونا درآمد ہوتا ہے، جبکہ اس کے برعکس اس کی برآمد انتہائی کم ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ انڈین گھروں میں بہت سا سونا موجود ہے۔ گھروں میں موجود سونے کے بارے میں مختلف اندازے ہیں، لیکن عمومی اندزہ ہے کہ یہ 25 ہزار سے 27 ہزار ٹن کے قریب ہے۔
سندر ولی کہتی ہیں کہ انڈیا ہر سال تقریباً 700 سے 800 ٹن سونے کا استعمال کرتا ہے، لیکن سونے کی مقامی پیدوار صرف ایک سے دو ٹن کے قریب ہے۔ یعنی انڈیا اپنی ضرورت کا 90 فیصد سے زیادہ سونا درآمد کرتا ہے۔
ورلڈ گولڈ کونسل کے مطابق فروری 2026 تک انڈیا کے پاس تقریباً 880 ٹن سونا سرکاری ذخائر میں موجود تھا۔ سونا کا بڑا ذخیرہ رکھنے والے ممالک کی فہرست میں انڈیا دنیا میں نویں نمبر پر ہے۔ اس فہرست میں امریکہ، جرمنی، آئی ایم ایف، اٹلی، فرانس، روس، چین اور سوئٹزرلینڈ انڈیا سے آگے ہیں۔
ماہرین کے مطابق کئی دوسری چیزوں کے برعکس، سونے کی درآمد بڑے پیمانے پر صنعتی پیداوار میں براہ راست حصہ نہیں ڈالتی اور اس کی درآمد کے لیے بڑی مقدار میں ڈالر خرچ کرنا پڑتے ہیں، جس سے ملک کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اور غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھتا ہے۔
کچھ ماہرین اسے انڈیا کے زرِمبادلہ کے غیر رسمی نظام سے جوڑ کر دیکھتے ہیں اور اس کو سمجھانے کے لیے انڈونیشیا کے ایک صوبہ آچے کی مثال دیتے ہیں۔
ماہر اقتصادیات اور مصنف ویویک کول کا کہنا ہے کہ انڈیا میں بھی آچے جیسا ایک بہت مضبوط غیر رسمی تبادلے کا نظام موجود ہے، جس کی وجہ سے سونا فوری طور پر نقد میں بدلا جا سکتا ہے، خاص طور پر ہنگامی حالات میں۔
ریچرڈ ڈیوِس کی کتاب اکیسٹریم ایکونومی کا حوالہ دیتے ہوئے، وہ مزید کہتے ہیں کہ جیسا کہ ڈیوِس نے آچے کے تناطر میں لکھا ہے کہ ’ایک معیشت جو زراعت اور ماہی گیری کی اتار چڑھاؤ سے متاثر ہوتی ہے، لوگ اچھی فصلوں یا ماہی گیری کے موسم کے بعد سونا خریدنے اور کمزور موسم کے بعد اسے بیچنے کے عادی ہوتے ہیں۔‘
ان کے مطابق یہ مثال انڈیا پر بھی اتنی ہی لاگو ہوتی ہے جتنی کہ آچے پر، چونکہ انڈیا کی اکثریت کا روزگار اب بھی زراعت پر منحصر ہے۔
وزیرِ اعظم مودی کی اپیل پر جیولرز اور اپوزیشن کا ردعمل
عوام سے سونا نہ خریدنے کی اپیل کے بعد جیولرز انجمنوں کے عہدیداروں میں تشویش اور غیر یقینی کی سی کیفی پائی جاتی ہے۔
ملک بھر کی جیولرز ایسوسی ایشنز وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) سے رجوع کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہیں تاکہ وزیر اعظم نریندر مودی کے ان بیانات پر تشویش کا اظہار کر سکیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق آل انڈیا جیم اینڈ جیولری ڈومیسٹِک کونسل کے چیئرمین راجیش روکڑے نے کہا ہے کہ کونسل اس مسئلے پر تفصیل سے بات کرنے کے لیے وزیر اعظم آفس سے ملاقات کی درخواست کر رہی ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’ہمارا مقصد طویل مدتی حل پیش کرنا ہے جو انڈیا کو حقیقی معنوں میں خود کفیل بنا سکے، جس میں گھروں میں استعمال ہونے والے سونے کو باضابطہ طور پر معیشت میں شامل کیا جائے، بجائے اس کے کہ اس کی درآمد پر زیادہ انحصار کیا جائے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ مکالمہ صنعت کی عملی اقدامات کو قومی ترجیحات کے ساتھ ہم آہنگ کرنے میں اہم ہو گا، جبکہ روزگار اور صارفین کے اعتماد کا تحفظ بھی کیا جائے گا۔‘
دریں اثنا وزیراعظم مودی کی اس اپیل پر سیاسی جماعتوں نے بھی سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
کانگریس کے جنرل سیکریٹری کے سی وینو گوپال نے کہا ہے کہ ’ایران، امریکہ جنگ کو تین ماہ گزر چکے ہیں، لیکن وزیراعظم مودی کو اب بھی یہ سمجھ نہیں آ رہا ہے کہ انڈیا کی توانائی کی ضروریات کی حفاظت کیسے یقینی بنائی جائے۔‘
وینو گوپال نے ایکس پر لکھا کہ ’یہ انتہائی شرمناک، غیر ذمہ دارانہ اور بالکل غیر اخلاقی ہے کہ وزیراعظم اس عالمی بحران سے ہماری معیشت کو بچانے کے لیے کوئی ہنگامی منصوبہ بنانے کے بجائے عام شہریوں کو پریشان کر رہے ہیں۔‘
انھوں نے مزید لکھا کہ ’جب انتخابات اور حقارت آمیز سیاست ہی وزیراعظم کی واحد ترجیح بن جاتی ہے، تو اس کا آخری نتیجہ ایک ناگزیر اقتصادی تباہی ہی ہوتا ہے۔‘
سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھیلیش یادو نے بھی ایکس پر لکھا کہ ’جیسے ہی انتخابات ختم ہوئے، ’بحران‘ ذہن میں آیا! درحقیقت، ملک کے لیے صرف ایک ہی ’بحران‘ ہے، اور اس کا نام ہے ’بی جے پی۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’لگتا ہے کہ بی جے پی حکومت کے ہاتھ سے مکمل طور پر کنٹرول نکل گیا ہے۔ ڈالر آسمان کو چھو رہا ہے، اور روپیہ گراوٹ کی طرف جا رہا ہے۔‘