آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, ایران کے ساتھ جنگ بندی اس وقت ’لائف سپورٹ‘ پر ہے: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کی تجاویز پر تہران کے جواب کو کچرے سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی اس وقت ’لائف سپورٹ‘ پر ہے۔ انھوں نے ایرانی قیادت کو بے ایمان قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بار بار اپنا ذہن تبدیل کر لیتے ہیں۔

خلاصہ

  • ایران کے جائز حقوق مانگ رہے ہیں، ہمارے مطالبات معقول اور ذمہ دارانہ ہیں: جنگ بندی کی ایرانی تجاویز ٹرمپ کی جانب سے مسترد کیے جانے پر اسماعیل بقائی کا رد عمل
  • دشمن کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے: ایرانی صدر مسعود پزشکیان
  • کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے بڑی طاقتوں کی ضمانت ضروری ہے اور اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی پیش کیا جائے: چین میں تعینات ایرانی سفیر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 13 سے 15 مئی تک چین کا دورہ کریں گے، بیجنگ کی تصدیق
  • ’امریکہ اور اسرائیل کے لیے جاسوسی‘ پر عرفان شکور زادہ کو پھانسی دے دی گئی: ایرانی عدلیہ

لائیو کوریج

  1. جیونی میں فائرنگ سے دو مزدور ہلاک، چار زخمی

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ساحلی ضلع گوادر میں فائرنگ سے کم از کم دو مزدور ہلاک اور چار زخمی ہو گئے ہیں۔

    نیشنل پارٹی اور حق دو تحریک نے الزام عائد کیا ہے کہ مزدور کوسٹ گارڈز کی فائرنگ سے ہلاک اور زخمی ہوئے۔ ان جماعتوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کے بارے میں صاف اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔

    کوسٹ گارڈز نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے اہلکاروں اور مزدوروں پر فائرنگ ’دہشت گردوں‘ نے کی جس کے نتیجے میں مزدوروں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

    دوسری جانب گوادر کے علاقے کُنٹانی میں کاروبار کی بندش کے خلاف نیشنل پارٹی اور حق دو تحریک کے اراکین نے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس سے واک آؤٹ کیا۔

    مزدوروں پر فائرنگ کا واقعہ کہاں پیش آیا؟

    مزدوروں پر فائرنگ کا واقعہ ضلع گوادر کے ایران سے متصل جیونی کے علاقے کُنٹانی میں پیش آیا جہاں کاروبار کی بندش کے باوجود مزدوروں کی بہت بڑی تعداد جمع تھی۔

    ان مزدوروں پر فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم دو مزدور ہلاک اور چار زخمی ہو گئے۔

    ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر مزودوروں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ فائرنگ سے ہلاک ہونے والے مزدوروں کی شناخت شاہزیب اور سعود کے ناموں سے ہوئی جن کا تعلق ضلع خضدار سے تھا۔

    فائرنگ سے چار مزدور زخمی بھی ہوئے جن میں سے ایک کا تعلق قلات اور تین کا تعلق سندھ سے ہے۔

    اس واقعے کے حوالے سے نیشنل پارٹی اور حق دو تحریک کی جانب سے میڈیا کو جاری کیے گئے بیانات جاری میں فائرنگ کا الزام کوسٹ گارڈ پر عائد کیا گیا ہے۔

    نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان نے ایک بیان میں الزام لگایا ہے کہ گوادر کے علاقے کُنٹانی میں کوسٹ گارڈ کی فائرنگ سے مزدور ہلاک اور زخمی ہوئے۔

    انھوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس افسوسناک سانحے کی شفاف، غیر جانبدارانہ اور فوری تحقیقات کرائی جائے اور فائرنگ میں ملوث اہلکاروں سمیت تمام ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

    حق دو تحریک بلوچستان کے مرکزی دفتر سے جاری بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ فوری طور پر فائرنگ میں ملوث اہلکاروں اور ان کے ذمہ دار افسروں کے خلاف کاروائی کی جائے ۔

    تاہم کوسٹ گارڈ نے مزودوروں پر فائرنگ کے الزام کو مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آج کنٹانی ٹرانسپورٹ ایریا میں پاکستان کوسٹ گارڈز کے اہلکاروں اور عام شہریوں پر شدت پسندوں کی جانب سے فائرنگ کی گئی۔

    کوسٹ گارڈز کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان کی سینیئر سرکاری اہلکار نے تصدیق کی ہے۔ اس بیان میں کہا گیا ہے کہ فائرنگ سے کوسٹ گارڈز کے اہلکار محفوظ رہے تاہم کچھ شہریوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

    بیان میں کہا گیا کہ عام عوام کو گمراہ کرنے کے لیے شدت پسندوں اور ان کے سہولت کاروں کی طرف سے اس واقعے کو غلط رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    کوسٹ گارڈ کے ترجمان کی جانب سے عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ شرپسندوں اور ان کے سہولت کاروں کے پروپیگنڈا کا شکار نہ ہوں اور کنٹّانی اور اس سے ملحقہ علاقے کو خالی کر دیں تاکہ شدت پسند انھیں اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال نہ کر سکیں۔

    کُنٹانی میں کاروبار کی بندش کے خلاف بلوچستان اسمبلی میں احتجاج

    خیال رہے کہ آٹھ مئی کو جیونی میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے کوسٹ گارڈز کے دو اہلکار مارے گئے تھے۔

    اس واقعے کے بعد کنٹانی جہاں ایرانی تیل کا کاروبار ہوتا ہے کو کوسٹ گارڈز کی جانب سے خالی کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

    گوادر میں ایران سے تیل کُنٹانی کے راستے آتا ہے جس کی وجہ سے اس علاقے میں ہزاروں افراد محنت مزدوری کرتے ہیں جبکہ گوادر کی آبادی کے ایک بڑے حصے کے معاش اور روزگار کا انحصار بھی یہاں سے آنے والے تیل پر ہے۔

    سوموار کے روز بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں بھی کنٹانی کے علاقے کو کاروبار کے لیے بند کرنے کی بازگشت سنائی دی۔

    نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور گوادر سے تعلق رکھنے والے حق دو تحریک کے رکن اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان نے کنٹانی میں کاروبار کی بندش کے خلاف بلوچستان اسمبلی کے اجلاس سے واک آئوٹ کیا۔

    مولانا ہدایت الرحمان کا کہنا ہے کہ لوگوں کو روزگار فراہم کرنے کی بجائے گولیاں ماری جا رہی ہیں۔

  2. ایرانی قیادت بے ایمان ہے، بار بار اپنا ذہن بدلتی ہے: صدر ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی قیادت کو بے ایمان قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’وہ بار بار اپنا ذہن تبدیل کر لیتے ہیں۔ بے ایمان لوگ ہیں، ان کی قیادت۔‘

    وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایرانی کی مرکزی قیادت انتہائی غیر معقول تھی لیکن وہ اب جا چکی۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’ًلیکن دوسری سطح ان سے قدرے بہتر ہے جبکہ تیسری سطح کی قیادت میں سے کوئی بھی صدر بننا نہیں چاہتا۔

    ’وہ پوچھتے ہیں کہ کون صدر بننا چاہے گا، لیکن کوئی ہاتھ نہیں اٹھاتا۔‘

  3. ایران کے ساتھ جنگ بندی اس وقت ’لائف سپورٹ‘ پر ہے: امریکی صدر ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کی تجاویز پر تہران کے جواب کو کچرے سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ بندی اس وقت انتہائی کمزور ہے۔

    سوموار کے روز وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ سے ایران کے ساتھ جنگ بندی کے حوالے سے سوال کیا گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ جنگ بندی اس وقت غیر یقینی حد تک کمزور ہے۔

    ’انھوں نے جو کچرا بھیجا ہے، میں نے تو اس کو پورا پڑھا بھی نہیں کیونکہ میں اپنا وقت ضائع کرنا نہیں چاہتا تھا، اس وقت سب سے کمزور ہے۔‘

    ’یہ (جنگ بندی) اس وقت لائف سپورٹ پر ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ جیسے آپ کا کوئی اپنا لائف سپورٹ پر ہو، اور ڈاکٹر آ کر آپ کو بتائے کہ ان کے بچنے کا محض ایک فیصد امکان ہے۔

    امریکی صدر کا کہنا تھا کہ لوگ پوچھتے ہیں کہ کیا میرے پاس کوئی پلان ہے۔ ’بالکل ہے، میرے پاس سب بہترین پلان ہے۔ ایران کو عسکری اعتبار سے شکست ہو چکی ہے، بہت بری۔‘

    صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کچھ فوجی قوت باقی ہے جو شاید انھوں نے جنگ بندی کے دوران دوبارہ حاصل کی ہے۔ ’لیکن ہم اسے ایک دن میں ختم کر سکتے ہیں۔‘

    انھوں نے ایک بار پھر دہرایا کہ ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

    ’اگر ان کے پاس جوہری ہتھیار آگئے تو نہ اسرائیل رہے گا نہ مشرقِ وسطیٰ۔ اور اس کے بعد شاید ان کا اگلا نشانہ یورپ ہو۔‘

    ’وہ (ایرانی) سوچتے ہیں کہ میں اس سے تھک جاؤں گا یا میں بور ہو جاؤں گا، یا مجھ پر کچھ دباؤ پڑے گا، لیکن کوئی دباؤ نہیں ہے، کوئی دباؤ نہیں ہے۔ ہم مکمل فتح حاصل کرنے جا رہے ہیں۔‘

  4. وزیر اعلیٰ بلوچستان کا اسلام آباد میں خودکش حملہ ناکام بنانے کا دعویٰ: ’کالعدم تنظیمیں ہماری خواتین کو خودکُش جیکٹ پہنا رہی ہیں‘

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ میں ایک خاتون کو میڈیا کے سامنے پیش کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا گیا کہ انھیں کالعدم تنظیموں نے اسلام آباد میں خودکُش حملے کے لیے تیار کیا تھا۔

    اس موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے دیگر حکام کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ریاستی اداروں نے اس کو ناکام بنایا۔

    اس موقع پر نہ صرف خیرالنساء نامی یہ خاتون موجود تھی بلکہ ان کے والد بھی موجود تھے۔

    پریس کانفرنس کے دوران نہ صرف صحافیوں سے درخواست کی گئی کہ وہ خاتون سے کوئی سوال نہ کریں بلکہ وزیر اعلیٰ نے بھی کہا کہ خاتون کی حالت ایسی نہیں ہے کہ وہ کسی سوال کا جوب دیں بلکہ انھوں نے کہا کہ سوالات کا جواب وہ دیں گے۔

    وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’خیرالنساء کے بارے میں پہلے یہ معلوم ہوا کہ وہ لاپتہ ہوگئی ہیں جس پر خفیہ اداروں نے کارروائی کا آغاز کیا جس کے دوران یہ پتہ چلا کہ وہ لاپتہ نہیں بلکہ ایک کالعدم تنظیم کے کیمپ میں تربیت حاصل کررہی ہے۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’نہ صرف اس خاتون کا استحصال کیا گیا بلکہ ان کو یہ دھمکی دی گئی کہ اگر انھوں نے خود کُش حملہ نہیں کیا تو ان کے والد کو بھی ماردیا جائے گا۔‘

    انھوں نے بتایا کہ ان خاتون نے جب اسلام آباد جانے کے لیے تربت سے بس میں سفر کا آغاز کیا تو خفیہ اداروں کو اس بارے میں معلوم ہوا جس پر ان کو گرفتار کرلیا گیا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’اگر یہ خاتون اسلام آباد پہنچتی اور خودکُش حملہ کرنے میں کامیاب ہو جاتیں تو نہ صرف وہاں انسانی جانوں کا ضیاع ہوتا بلکہ اس سے دنیا بھر میں پاکستان کی ساکھ کو بھی شدید نقصان پہنچتا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہماری قیادت کی وجہ سے پاکستان نے بین الاقوامی سطح پر جس انداز سے اپنا امیج بنایا ہے، دُشمن کی یہ کوشش ہے کہ کس طرح اس کو متاثر کیا جائے لیکن ہمارے خفیہ اداروں نے اس سازش کو ناکام بنایا۔‘

    انھوں نے کالعدم تنظیموں پر الزام لگایا کہ ہم اپنے خواتین کے لیے ہارودڑ اور آکسفرڈ کے دروازے کھول رہے ہیں جبکہ کالعدم تنظیمیں ان کو خودکُش جیکٹ پہنا رہی ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ گرفتار ہونے والی خاتون کو ان کے والدین کے حوالے کر رہے ہیں اور ان سے یہ درخواست کرتے ہیں کہ وہ اپنی بچی پر نظر رکھیں۔‘

    وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’تاریخ میں بلوچ خواتین کبھی بھی کسی جنگ کا حصہ نہیں رہی ہیں بلکہ وہ امن کا حصہ رہی ہیں اور انھوں نے ہمیشہ امن کے لیے کردار ادا کیا مگر ان کے بقول کالعدم تنظیمیں ان کو جنگ میں دھکیل رہی ہیں۔‘

  5. امریکہ کے ساتھ معاہدہ کے وقت سپریم لیڈر کے تحفظات اور قومی مفادات کو مدنظر رکھنا ضروری ہوگا: ایرانی صدر

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے تہران کی آمادگی کا ایک بار پھر اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ایران ہونے والے کسی بھی معاہدے کی پاسداری کرے گا۔‘

    ایرانی صدارتی ویب سائٹ پر 11 مئی کو جاری بیان کے مطابق انھوں نے کہا کہ ’ایران کو چاہیے کہ میدانِ جنگ میں مسلح افواج کی حاصل کردہ کامیابی کو سفارت کاری کے ذریعے مکمل کرے۔‘

    پزشکیان نے سینئر پولیس کمانڈرز سے ملاقات کے دوران کہا کہ ’ملک کے سامنے تین راستے موجود ہیں جن میں پہلا وقار کے ساتھ مذاکرات میں داخل ہونا اور قومی مفادات کا تحفظ کرنا، دوسرا جنگ اور امن کے درمیان کی صورتحال برقرار رکھنا اور تیسرا جنگ اور مذاکرات دونوں کو بیک وقت جاری رکھنا۔‘

    انھوں نے واضح کیا کہ پہلا آپشن ایران کے لیے سب سے بہتر ہے۔

    ایرانی صدر نے مزید کہا کہ ’امریکہ کے ساتھ ممکنہ معاہدہ کرتے وقت سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے تحفظات اور ایران کے قومی مفادات کو مدنظر رکھنا ضروری ہوگا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’اگر ایسا کوئی معاہدہ طے پاتا ہے تو ایران اس کی مکمل پابندی کرے گا۔‘

  6. ایران کے وزیرِ خارجہ کا 24 گھنٹوں میں دوسری مرتبہ سعودی ہم منصب سے رابطہ

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے 24 گھنٹوں کے دوران دوسری مرتبہ اپنے سعودی ہم منصب فیصل بن فرحان سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا ہے۔

    ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ’ارنا‘ کے مطابق بات چیت میں علاقائی پیشرفت اور ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سفارتی عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ’ارنا‘ کے مطابق عباس عراقچی اور فیصل بن فرحان نے پاکستان کی ثالثی میں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سفارتی عمل میں تازہ ترین پیش رفت کے حوالے سے ٹیلی فون پر مشاورت کی۔

    10 مئی کو عراقچی نے سعودی وزیرِ خارجہ اور قطر اور نیدر لینڈز کے اپنے ہم منصبوں کے ساتھ اہم علاقائی پیش رفت کے بارے میں فون پر بات کی۔

  7. امریکہ اور ایران کے درمیان ثالث صرف پاکستان ہے جو اپنی کوششیں کر رہا ہے: ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ

    پیر کو نیوز کانفرنس کے دوران ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے خاتمے میں قطر کے کردار سے متعلق خبروں پر ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ مختلف ممالک نے ایران سے رابطہ کیا ہے اور کئی علاقائی ممالک کو کشیدگی میں اضافے پر شدید تحفظات ہیں۔

    بقائی نے کہا کہ ایران کشیدگی میں کمی کے لیے ان تمام ممالک کی کوششوں کی تعریف کرتا ہے۔ تاہم اُنھوں نے واضح کیا کہ پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان باضابطہ ثالث ہے، جو اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

    اُنھوں نے کہا کہ قطر سمیت دیگر ممالک جو ایران اور امریکہ دونوں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھتے ہیں، جب بھی وہ ضروری سمجھتے ہیں اپنے خیالات ایرانی وزیر خارجہ کو پیش کرتے ہیں۔

  8. امریکی ناکہ بندی کے باوجود ایران کی برآمدات کا عمل سازگار رہا ہے: وزیرِ تیل محسن پاکنزاد

    ایرانی وزیر تیل محسن پاکنزاد نے کہا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی کے آغاز کے بعد سے ملک کے تیل کے شعبے کو کچھ مسائل کا سامنا ہے لیکن وزارت تیل نے ان اقدامات کی نوعیت کی وضاحت کیے بغیر جوابی اقدامات کیے ہیں۔

    پاکنزاد نے پیر کے روز ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن پر تبصرے میں مزید کہا کہ ’جنگ کے 40 دنوں کے دوران ہماری پیداوار میں کمی نہیں آئی اور برآمدات کا عمل سازگار رہا۔‘

    اُنھوں نے مزید کہا کہ ’یقیناً ہمیں محاصرے کے بعد کے دنوں میں چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، لیکن اقدامات کیے گئے اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے اور دشمن وہم میں ڈوبا ہوا ہے۔‘

  9. ایک امریکی اور فرانسیسی شہری بھی ہنتا وائرس سے متاثر

    حکام کا کہنا ہے کہ ایک امریکی اور ایک فرانسیسی شہری جو ہنتا وائرس کی مہلک وبا کی زد میں آنے والے کروز جہاز کو چھوڑ کر اپنے آبائی ممالک کو واپس آئے ہیں، ان کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔

    امریکی محکمہ صحت نے کہا کہ وطن واپسی کی پرواز پر ایک دوسرے امریکی شہری نے بھی ہلکی علامات ظاہر کیں، اُنھوں نے مزید کہا کہ دونوں مسافروں نے ’بائیو کنٹینمنٹ یونٹس میں بہت زیادہ احتیاط کے ساتھ‘ سفر کیا تھا۔

    فرانسیسی وزیر صحت نے بھی ایک خاتون میں وائرس کی تصدیق کی ہے۔

    یم وی ہونڈیئس نامی کروز شپ اس وقت سپین کے خوبصورت کینری جزائر میں لنگر انداز ہے اور اس میں 90 سے زائد مسافروں کو اُن کے آبائی ملک بھیجا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اب بھی 54 کے قریب مسافر اور عملے کے ارکان کروز شپ میں موجود ہیں۔

    اس نایاب وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کیے گئے اس پیچیدہ آپریشن کو سپین کی وزیر صحت مونیکا گارسیا نے 'بے مثال' قرار دیا ہے۔

    23 مُمالک کی جانب سے کی گئی س کارروائی کی انتہائی باریک بینی سے منصوبہ بندی کی گئی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ حفاظتی اقدامات کو یقینی بناتے ہوئے مقامی آبادی کو اس وائرس سے بچایا جا سکے۔

    ہنتا وائرس کیا ہے؟

    ہنتا وائرس، جس کا نام جنوبی کوریا کے ایک دریا سے لیا گیا ہے، دراصل وائرسز کے ایک خاندان کو کہا جاتا ہے، نہ کہ ایک واحد بیماری۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق اس کے 20 سے زائد اقسام پائی جاتی ہیں۔ یہ وائرس عموماً چوہوں اور دیگر جوندروں کے سوکھے پیشاب اور فضلے سے پھیلتا ہے۔

    یہ وائرس دو سنگین بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔

    پہلی بیماری ہنتا وائرس پلمونری سنڈروم (ایچ پی ایس) ہے۔ اکثر یہ تھکن، بخار اور پٹھوں کے درد سے شروع ہوتی ہے جس کے بعد سر درد، چکر آنا، کپکپی اور پیٹ کے مسائل ہو سکتے ہیں۔ سی ڈی سی کے مطابق اگر سانس لینے میں دشواری کی علامات پیدا ہو جائیں تو اموات کی شرح تقریباً 38 فیصد ہو جاتی ہے۔

    دوسری بیماری ہیموریجک فیور ود رینل سنڈروم (ایچ ایف آر ایس) ہے۔ یہ زیادہ شدید ہوتی ہے اور بنیادی طور پر گردوں کو متاثر کرتی ہے۔ بعد کی علامات میں کم بلڈ پریشر، اندرونی خون بہنا اور شدید گردوں کی ناکامی شامل ہو سکتی ہیں۔

  10. اسرائیل کی لبنان سرحد پر جھڑپ کے دوران ایک فوجی کی ہلاکت کی تصدیق

    اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ پیر کو لبنان کی سرحد کے قریب ایک جھڑپ میں اس کا ایک فوجی مارا گیا ہے، جس کے بعد لبنان جنگ میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی تعداد 18 ہو گئی ہے۔

    اسرائیلی فوج کے مطابق 47 سالہ سارجنٹ فرسٹ کلاس الیگزینڈر گلووانیف اتوار کو ایک جھڑپ کے دوران ہلاک ہوئے۔

    مشرقِ وسطیٰ میں تنازع 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد شروع ہوا تھا، اس دوران ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل پر راکٹ حملے کے بعد یہ تنازع لبنان تک پھیل گیا تھا۔

    اسرائیل نے اس کے بعد لبنان میں فضائی حملے شروع کر دیے تھے اور جنوبی لبنان میں زمین کارروائی کا بھی آغاز کر دیا تھا۔

  11. غزہ اور ایران جنگ کے دوران آئرن ڈوم نظام 99 فیصد تک کامیاب رہا: اسرائیلی کمپنی کا دعویٰ

    اسرائیل کے فضائی دفاعی نظام آئرن ڈوم تیار کرنے والی کمپنی کے سربراہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران جنگ کے دوران میزائل دفاعی نظام کی کارکردگی 99 فیصد تک کامیاب رہی۔

    آئرن ڈوم تیار کرنے والی اسرائیلی کمپنی رفال ڈیفنس سسٹم کے صدر یوول سٹینز نے دعویٰ کیا کہ سات اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد حماس اور حزب اللہ کی جانب سے مجموعی طور پر 40 ہزار راکٹ برسائے گئے، جن میں سے تقریباً 99 فیصد کو راستے میں روک لیا گیا۔

    اُن کا کہنا تھا کہ اسی طرح ایران نے سنہ 2024 کے بعد اسرائیل پر 1500 بیلسٹک میزائل داغے جن میں سے زیادہ تر کو روکا گیا۔

    یوول سٹینز کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے پاس آئرن ڈوم میزائلوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔

  12. آبنائے ہرمز میں بحری جہاز کو نشانہ بنانے والوں کا سراغ لگا کر اس کا جواب دیں گے: جنوبی کوریا

    جنوبی کوریا نے آبنائے ہرمز میں اپنے مال بردار بحری جہاز پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حملہ کرنے والوں کا سراغ لگا کر جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق جنوبی کوریا کے ماہرین نے بحری جہاز کو پہنچنے والے نقصان کا ابتدائی تخمینہ لگا لیا ہے۔

    ایران نے جنوبی کوریا کے جہاز پر حملے سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا۔

    جنوبی کوریا کی وزارت خارجہ نے پیر کو جہاز کو پہنچنے والے نقصان کی تصاویر بھی جاری کی ہیں۔

    مال بردار بحری جہاز جنوبی کوریا کی ایح ایم ایم شپنگ کمپنی کی ملکیت تھا جسے دو نامعلوم پروجیکتائلز کے ذریعے چار مئی کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ یہ جہاز اُس وقت آبنائے ہرمز سے گزر رہا تھا۔

    اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا، تاہم بحری جہاز کو نقصان پہنچا تھا۔

    اس بحری جہاز کا نام ایچ ایچ ایم نامو ہے اور اس کی لمبائی 180 میٹر ہے۔ میری ٹائم ٹریفک ڈیٹا بیس کے مطابق یہ بحری جہاز پاناما کے پرچم کے ساتھ سفر کر رہا تھا۔

  13. خیبر پختونخوا میں آندھی اور بارش کے باعث حادثات میں چار افراد ہلاک، 16 زخمی

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے کے مطابق صوبہ بھر میں تیز آندھی اور بارش کے باعث گھروں کی دیواریں گرنے ااور دیگر حادثات میں اب تک چار افراد ہلاک جبکہ 16 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق موسمی صورتحال کی وجہ سے ہلاک ہونے والوں میں دو مرد, ایک خاتون اور ایک بچہ جبکہ زخمیوں میں ایک خاتون، آٹھ مرد اور سات بچے شامل ہیں۔

    ترجمان پی ڈی ایم اے کی جانب سے گزشتہ روز ہونے والی تیز ہواواں اور بارش کے باعث گھروں کی دیواریں اور چھتیں گرنے سے ہونے والے نقصانات کی رپورٹ جاری میں بتایا گیا ہے کہ حادثات صوبہ کے مختلف اضلاع میں پیش آئے جن میں مردان، صوابی، ملاکنڈ اور شانگلہ شامل ہیں۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق تمام متعلقہ اضلاع کی انتظامیہ کو متاثرین کو جلد از جلد ریلیف فراہم کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔

    ادارے کے مطابق بارش اور تیز ہواؤں کا موجودہ سلسلہ 12 مئی تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔

  14. چینی اور امریکی صدورعالمی امن و ترقی سے متعلق اہم اُمور پر بات کریں گے: چینی وزارتِ خارجہ

    چین نے امریکی صدر ڈونلڈ ترمپ کے چین کے دورے اور اس ایجنڈے سے متعلق مزید تفصیلات جاری کی ہیں۔

    پیر کو چینی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر شی صدر ٹرمپ کے ساتھ دو طرفہ تعلقات اور عالمی امن و ترقی سے متعلق اہم امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ چین اور امریکہ کو برابری، احترام اور باہمی فائدے کے جذبے کے تحت تعاون کو وسعت دینے اور اختلافات کم کرنے کی ضرورت ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک کو بدلتی ہوئی اور غیر مستحکم دنیا میں مزید استحکام اور یقین فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

    اس سے قبل چین نے تصدیق کی تھی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 13 سے 15 مئی تک چین کا دورہ کریں گے، جہاں ان کی اپنے چینی ہم منصب سے ایران جنگ اور تجارتی امور پر بات چیت متوقع ہے۔

  15. جنوبی کوریا نے آبنائے ہرمز میں نشانہ بننے والے بحری جہاز کی تصاویر جاری کر دیں

    جنوبی کوریا کی وزارتِ خارجہ نے خلیج فارس میں نشانہ بننے والے اپنے بحری جہاز کی تصاویر جاری کر دی ہیں۔

    مال بردار بحری جہاز جنوبی کوریا کی ایح ایم ایم شپنگ کمپنی کی ملکیت تھا جسے دو نامعلوم پروجیکتائلز کے ذریعے چار مئی کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ یہ جہاز اُس وقت آبنائے ہرمز سے گزر رہا تھا۔

    اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا، تاہم بحری جہاز کو نقصان پہنچا تھا۔

    اس بحری جہاز کا نام ایچ ایچ ایم نامو ہے اور اس کی لمبائی 180 میٹر ہے۔ میری ٹائم ٹریفک ڈیٹا بیس کے مطابق یہ بحری جہاز پاناما کے پرچم کے ساتھ سفر کر رہا تھا۔

  16. ہم ایران کے جائز حقوق مانگ رہے ہیں، ہمارے مطالبات معقول اور ذمہ دارانہ ہیں: اسماعیل بقائی

    ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران کے مطالبات ’معقول اور ذمہ دارانہ‘ ہیں، جبکہ انھوں نے امریکہ پر ’یک طرفہ اور غیر معقول‘ مؤقف پر اصرار کرنے کا الزام عائد کیا۔

    ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کی تجاویز پر تہران کے جواب کو ’بالکل ناقابلِ قبول‘ قرار دیتے ہوئے ایران پر دھوکہ دہی کا الزام لگایا تھا۔

    اسماعیل بقائی نے ایران کے بعض مطالبات گنواتے ہوئے کہا کہ جن امور پر زور دیا گیا ہے وہ سب ’ایران کے جائز حقوق‘ میں شامل ہیں۔

    انھوں نے کہا: ’کیا خطے میں جنگ کے خاتمے کا ایران کا مطالبہ، ایرانی جہازوں کے خلاف بحری قزاقی کے خاتمے کا مطالبہ، جسے وہ سمندری ناکہ بندی کہتے ہیں، ایرانی عوام کے غیر ملکی بینکوں میں منجمد اثاثوں کی بحالی کا مطالبہ، آبنائے ہرمز میں محفوظ آمد و رفت کی تجویز، اور لبنان سمیت پورے خطے میں امن کے قیام کا مطالبہ، کیا یہ مطالبات ناجائز ہیں؟‘

  17. مجتبیٰ خامنہ ای کے پیغامات میں خلیج اور آبنائے ہرمز سے متعلق 10 سٹریٹجک نکات

    ایران کی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق اپنے پیغامات میں رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای نے خلیجِ فارس اور آبنائے ہرمز سے متعلق 10 سٹریٹجک نکات بیان کیے ہیں۔

    مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کے بعد اس منصب پر فائز ہوئے اور اب تک عوامی طور پر منظرِ عام پر نہیں آئے۔ انھوں نے خلیجِ فارس اور آبنائے ہرمز کے مستقبل کے حوالے سے یہ نکات پیش کیے ہیں۔

    • خلیجِ فارس کے ممالک کی سر زمین پر امریکی فوجیوں کی موجودگی خطے میں عدم تحفظ کی سب سے بڑی وجہ ہے۔
    • امریکی حکام ان کی سلامتی کی ضمانت دینے سے قاصر ہیں۔
    • خطے کا روشن مستقبل امریکہ سے دوری اور عوام کی ترقی، فلاح اور خوشحالی میں ہے۔
    • خلیجِ فارس اور بحیرۂ عمان کے پانیوں پر ہمارا اور ہمارے پڑوسیوں کا مشترکہ حق ہے۔
    • خلیجِ فارس میں ’ولن غیر ملکیوں‘ کی کوئی جگہ نہیں۔
    • خلیجِ فارس میں ایران کی فتوحات کا سلسلہ خطے اور دنیا میں ایک نئے نظام کی راہ ہموار کر رہا ہے۔
    • خلیج فارس کے علاقے کو محفوظ بنانے کے لیے ہرمز کے راستے کے انتظام میں ایران کی کامیابی کا ’عملی طور پر شکریہ‘ ادا کرنے کی ضرورت ہے۔
    • آبنائے ہرمز کے بے جا استعمال کے لیے ’دشمن‘ کو میسر بنیادوں کا خاتمہ ضروری ہے۔
    • قانونی بنیادوں پر آبنائے ہرمز کا نیا نظام نافذ کر کے خطے کے عوام کے سکون اور ترقی کی ضمانت دی جا سکتی ہے۔
    • آبنائے ہرمز کے نئے انتظام کے نتیجے میں حاصل ہونے والے معاشی فوائد پر ایرانی عوام خوشی کا اظہار کریں گے۔
  18. حزب اللہ کا جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج پر حملے کا دعویٰ

    لبنانی تنظیم حزب اللہ نے طیبہ شہر میں ایک مکان کے اندر قائم اسرائیلی فوجی پوسٹ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    حزب اللہ کے مطابق اس مقام پر تین مرتبہ حملہ کیا گیا، جس کے بعد زخمیوں کو نکالنے کے لیے ایک اسرائیلی ہیلی کاپٹر موقع پر پہنچا۔

    حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اس حملے کے بعد اسرائیلی فورسز کو پسپائی اختیار کرنا پڑی۔

    اسرائیلی فوج نے اس دعوے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

  19. مودی کی سونا نہ خریدنے کی اپیل کے بعد انڈیا میں جیولری کمپنیوں کے حصص میں گراوٹ

    انڈین وزیرِ اعظم نریندر مودی نے زر مبادلہ بچانے کے لیے عوام سے سونا نہ خریدنے کی اپیل کی ہے، جس کے بعد پیر کے روز جیولری کمپنیوں کے حصص میں نمایاں گراوٹ دیکھنے میں آئی۔

    اہم جیولری کمپنیوں کے حصص میں 10 فیصد سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی۔

    سکائی گولڈ کے حصص سب سے زیادہ، تقریباً 12 فیصد تک گرے۔

    سینکو کے 365.40 روپے میں ملنے والے حصص کی قیمت 325.05 روپے ہو گئی۔ یہ 11 فیصد کے قریب کمی ہے۔

    کلیان جیولرز کے حصص بھی 424.55 روپے سے تقریباً 10 فیصد کم ہو کر 382.10 روپے رہ گئے۔

    ٹائٹن کے حصص میں تقریباً آٹھ فیصد کمی ہوئی۔

  20. بیجنگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورۂ چین کی تصدیق کر دی

    بیجنگ نے تصدیق کی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 13 سے 15 مئی تک چین کا دورہ کریں گے، جہاں ان کی اپنے چینی ہم منصب سے ایران جنگ اور تجارتی امور پر بات چیت متوقع ہے۔

    چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بتایا: ’صدر شی جن پنگ کی دعوت پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 13 سے 15 مئی کے دوران چین کا سرکاری دورہ کریں گے۔‘