جیونی میں فائرنگ سے دو مزدور ہلاک، چار زخمی
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ساحلی ضلع گوادر میں فائرنگ سے کم از کم دو مزدور ہلاک اور چار زخمی ہو گئے ہیں۔
نیشنل پارٹی اور حق دو تحریک نے الزام عائد کیا ہے کہ مزدور کوسٹ گارڈز کی فائرنگ سے ہلاک اور زخمی ہوئے۔ ان جماعتوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کے بارے میں صاف اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔
کوسٹ گارڈز نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے اہلکاروں اور مزدوروں پر فائرنگ ’دہشت گردوں‘ نے کی جس کے نتیجے میں مزدوروں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
دوسری جانب گوادر کے علاقے کُنٹانی میں کاروبار کی بندش کے خلاف نیشنل پارٹی اور حق دو تحریک کے اراکین نے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس سے واک آؤٹ کیا۔
مزدوروں پر فائرنگ کا واقعہ کہاں پیش آیا؟
مزدوروں پر فائرنگ کا واقعہ ضلع گوادر کے ایران سے متصل جیونی کے علاقے کُنٹانی میں پیش آیا جہاں کاروبار کی بندش کے باوجود مزدوروں کی بہت بڑی تعداد جمع تھی۔
ان مزدوروں پر فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم دو مزدور ہلاک اور چار زخمی ہو گئے۔
ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر مزودوروں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ فائرنگ سے ہلاک ہونے والے مزدوروں کی شناخت شاہزیب اور سعود کے ناموں سے ہوئی جن کا تعلق ضلع خضدار سے تھا۔
فائرنگ سے چار مزدور زخمی بھی ہوئے جن میں سے ایک کا تعلق قلات اور تین کا تعلق سندھ سے ہے۔
اس واقعے کے حوالے سے نیشنل پارٹی اور حق دو تحریک کی جانب سے میڈیا کو جاری کیے گئے بیانات جاری میں فائرنگ کا الزام کوسٹ گارڈ پر عائد کیا گیا ہے۔
نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان نے ایک بیان میں الزام لگایا ہے کہ گوادر کے علاقے کُنٹانی میں کوسٹ گارڈ کی فائرنگ سے مزدور ہلاک اور زخمی ہوئے۔
انھوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس افسوسناک سانحے کی شفاف، غیر جانبدارانہ اور فوری تحقیقات کرائی جائے اور فائرنگ میں ملوث اہلکاروں سمیت تمام ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
حق دو تحریک بلوچستان کے مرکزی دفتر سے جاری بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ فوری طور پر فائرنگ میں ملوث اہلکاروں اور ان کے ذمہ دار افسروں کے خلاف کاروائی کی جائے ۔
تاہم کوسٹ گارڈ نے مزودوروں پر فائرنگ کے الزام کو مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آج کنٹانی ٹرانسپورٹ ایریا میں پاکستان کوسٹ گارڈز کے اہلکاروں اور عام شہریوں پر شدت پسندوں کی جانب سے فائرنگ کی گئی۔
کوسٹ گارڈز کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان کی سینیئر سرکاری اہلکار نے تصدیق کی ہے۔ اس بیان میں کہا گیا ہے کہ فائرنگ سے کوسٹ گارڈز کے اہلکار محفوظ رہے تاہم کچھ شہریوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ عام عوام کو گمراہ کرنے کے لیے شدت پسندوں اور ان کے سہولت کاروں کی طرف سے اس واقعے کو غلط رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
کوسٹ گارڈ کے ترجمان کی جانب سے عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ شرپسندوں اور ان کے سہولت کاروں کے پروپیگنڈا کا شکار نہ ہوں اور کنٹّانی اور اس سے ملحقہ علاقے کو خالی کر دیں تاکہ شدت پسند انھیں اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال نہ کر سکیں۔
کُنٹانی میں کاروبار کی بندش کے خلاف بلوچستان اسمبلی میں احتجاج
خیال رہے کہ آٹھ مئی کو جیونی میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے کوسٹ گارڈز کے دو اہلکار مارے گئے تھے۔
اس واقعے کے بعد کنٹانی جہاں ایرانی تیل کا کاروبار ہوتا ہے کو کوسٹ گارڈز کی جانب سے خالی کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔
گوادر میں ایران سے تیل کُنٹانی کے راستے آتا ہے جس کی وجہ سے اس علاقے میں ہزاروں افراد محنت مزدوری کرتے ہیں جبکہ گوادر کی آبادی کے ایک بڑے حصے کے معاش اور روزگار کا انحصار بھی یہاں سے آنے والے تیل پر ہے۔
سوموار کے روز بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں بھی کنٹانی کے علاقے کو کاروبار کے لیے بند کرنے کی بازگشت سنائی دی۔
نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور گوادر سے تعلق رکھنے والے حق دو تحریک کے رکن اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان نے کنٹانی میں کاروبار کی بندش کے خلاف بلوچستان اسمبلی کے اجلاس سے واک آئوٹ کیا۔
مولانا ہدایت الرحمان کا کہنا ہے کہ لوگوں کو روزگار فراہم کرنے کی بجائے گولیاں ماری جا رہی ہیں۔