آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ٹرمپ پاکستان کے ثالثی کے کردار پر نظرثانی سے متعلق ’نہیں‘ سوچ رہے: ’پاکستانیوں نے عمدہ کردار ادا کیا، وہ شاندار کام کر رہے ہیں‘
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ایران جنگ میں بطور ثالث بہت ’عمدہ کردار‘ ادا کیا ہے اور وہ پاکستان کے ثالثی کے کردار پر نظرثانی کے بارے میں نہیں سوچ رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے یہ بیان امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز میں شائع ہونے والے اُس رپورٹ کے تناظر میں آیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان نے نے ایرانی طیاروں کو ممکنہ امریکی حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے اپنے ایئربیسز پر جگہ دی۔ پاکستان نے اس رپورٹ کو ’بے بنیاد' اور ’سنسنی پر مبنی‘ قرار دیا تھا۔
چین کے اہم دورے پر روانگی سے قبل صحافیوں نے صدر ٹرمپ سے کئی سوالات کیے۔ اس موقع پر پوچھا جانے والا دوسرا ہی سوال پاکستان کے ثالثی کے کردار سے متعلق تھا۔
صدر ڈونلڈ سے ایک صحافی کی جانب سے پوچھا گیا کہ آیا وہ بطور ثالث پاکستان کے کردار پر نظرثانی کے بارے میں سوچ رہے ہیں؟
اس پر جواب دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا ’نہیں، میرے خیال میں وہ بہت شاندار [کام کر رہے] ہیں۔ میرے خیال میں پاکستانیوں نے بہت عمدہ کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان کے فیلڈ مارشل اور وزیرِاعظم دونوں نے ہی بہت اچھا کام کیا ہے۔‘
اس موقع پر صدر ٹرمپ نے یہ عندیہ بھی دیا کہ دورہ چین کے دوران اُن کی چینی صدر شی جن پنگ سے ایران کے معاملے پر طویل بات چیت ہو گی، تاہم ساتھ ہی انھوں نے وضاحت کی کہ ایران کے معاملے میں امریکہ کو چین کی مدد کی ضرورت نہیں ہے۔
ٹرمپ کی جانب سے یہ اہم بیان منگل (12 مئی) کو امریکی کانگریس میں ہونے والی ایک اہم سماعت کے بعد سامنے آیا ہے۔
امریکی کانگریس میں ہونے والی سماعت کے دوران اپنے متنازع بیانات کے لیے مشہور امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے امریکی سیکریٹری دفاع پیٹ ہیگستھ اور امریکہ کے جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل ڈین کین سے سوال کیا کہ آیا وہ اِن رپورٹس سے باخبر ہیں کہ ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ جنگ بندی کے دوران پاکستان نے ایرانی طیاروں کو ممکنہ امریکی حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے جگہ دی ہے؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سینیٹر گراہم نے سوال کیا کہ اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو کیا یہ اقدامات کسی ثالث کے کردار سے مطابقت رکھتے ہیں؟
جنرل کین نے اس سوال پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا، جس کے بعد سینیٹر گراہم نے یہی سوال پیٹ ہیگستھ سے پوچھا۔
امریکی وزیرِ دفاع نے بھی اس کا جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا وہ ان مذاکرات میں مداخلت نہیں کرنا چاہیں گے۔
اس پر سینیٹر گراہم بظاہر جُھنجلا گئے اور ریمارکس دیے کہ وہ پاکستان پر بھروسہ نہیں کرتے اور اگر انھوں نے واقعی ایرانی جہاز کو محفوظ رکھنے میں مدد کی ہے تو ہمیں کوئی اور ثالث ڈھونڈنا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’کوئی تعجب نہیں کہ یہ معاملہ حل نہیں ہو رہا۔‘
اس سے قبل منگل کے روز پاکستان نے امریکہ ٹی وی چینل ’سی بی ایس نیوز‘ کے اس دعوے کو ’بے بنیاد، سنسنی خیز اور گمراہ کُن‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے جس کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ جنگ بندی کے بعد اس (پاکستان) نے ایرانی طیاروں کو ممکنہ امریکی حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے جگہ دی ہے۔
پاکستان کی وزارت خارجہ سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ’ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس نوعیت کی قیاس آرائیوں کا مقصد علاقائی استحکام اور امن کے لیے جاری کوششوں کو کمزور کرنا ہے۔‘
امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر ادارے ’سی بی ایس نیوز‘ نے 11 مئی کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ اپریل کے اوائل میں راولپنڈی کے نور خان ایئربیس پر متعدد ایرانی طیارے بھیجے گئے جن میں ایک آر سی 130 طیارہ بھی شامل ہے۔
اس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ’پاکستان نے خود کو تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک سفارتی رابطہ کار کے طور پر پیش کرتے ہوئے خاموشی سے ایرانی فوجی طیاروں کو اپنے ہوائی اڈوں پر کھڑا ہونے کی اجازت دی، جس سے ممکنہ طور پر وہ امریکی فضائی حملوں سے محفوظ رہ پائیں۔‘
سی بی ایس نے امریکی حکام، جن کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی، کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ ’صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اپریل کے اوائل میں ایران کے ساتھ جنگ بندی کے اعلان کے چند دن بعد تہران نے متعدد طیارے پاکستان ایئر فورس کے نور خان ایئر بیس پر بھیجے۔‘
رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ اس ایرانی فوجی ساز و سامان میں ایرانی فضائیہ کا ایک آر سی-130 طیارہ بھی شامل تھا، جو لاک ہیڈ سی-130 ہرکیولیس ٹیکٹیکل ٹرانسپورٹ طیارے کا ایک جاسوسی اور انٹیلیجنس معلومات اکٹھی کرنے والا خصوصی ماڈل ہے۔
پاکستانی وزرات خارجہ نے اپنے بیان میں ایک طیارے کی پاکستان میں موجودگی کی تصدیق کی تاہم پاکستان کا کہنا تھا کہ، رپورٹ میں کیے گئے دعوے کے برعکس، یہ طیارہ جنگ بندی کے دوران یہاں پہنچا تھا اور ’اس کا کسی بھی عسکری یا تحفظ کے لیے کیے جانے والے انتظامات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘
پاکستان کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ، ایران جنگ بندی کے بعد اسلام آباد میں مذاکرات کے پہلے دور کا انعقاد ہوا تو ایران اور امریکہ سے متعدد طیارے پاکستان پہنچے تھے تاکہ سفارتی اور انتظامی عملے کے ساتھ ساتھ سکیورٹی اہلکاروں کی نقل و حرکت میں سہولت فراہم کی جا سکے۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے دیگر ادوار کی توقع پر یہ طیارے اور اُن کے عملے کے کچھ افراد عارضی طور پر پاکستان میں ہی مقیم رہے۔
’اگرچہ باضابطہ مذاکرات ابھی دوبارہ شروع نہیں ہوئے، تاہم اعلیٰ سطح کے سفارتی تبادلوں کا سلسلہ جاری رہا ہے۔ اور اِسی تناظر میں، ایرانی وزیر خارجہ کے اسلام آباد کے دوروں کے دوران پہلے سے موجود انتظامی اور لاجسٹک انتظامات کے تحت سہولت فراہم کی گئی۔‘
پاکستانی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ اِس وقت پاکستان میں جو ایرانی طیارہ کھڑا ہے، وہ جنگ بندی کے دوران یہاں پہنچے تھا اور ان کا کسی بھی عسکری یا تحفظ کے لیے کیے جانے والے انتظامات سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اگر اس کے برعکس کوئی بھی دعویٰ کیا جاتا ہے تو وہ ’قیاس آرائی پر مبنی اور گمراہ کُن‘ ہے۔
پاکستان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان نے ایک غیر جانبدار اور ذمہ دار ثالث کے طور پر مکالمے اور کشیدگی میں کمی کے فروغ میں مسلسل اپنا کردار ادا کیا ہے اور اسی کردار کے تحت، جہاں ضرورت پڑی وہاں پاکستان نے لاجسٹک اور انتظامی تعاون فراہم کیا، اور اس کے ساتھ تمام متعلقہ فریقوں سے مکمل شفافیت کے ساتھ باقاعدہ رابطہ برقرار رکھا ہے۔
وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان مکالمے کے فروغ، کشیدگی میں کمی، اور علاقائی و عالمی امن، استحکام اور سلامتی کو آگے بڑھانے کے لیے تمام مخلصانہ کوششوں کی حمایت کے عزم پر قائم ہے۔
سی بی ایس کی اِسی رپورٹ میں ایک سیینئر پاکستانی عہدیدار نے نور خان ایئر بیس پر ایرانی طیاروں سے متعلق دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ’نور خان بیس (راولپنڈی) شہر کے عین وسط میں واقع ہے، اور وہاں بڑی تعداد میں طیاروں کی موجودگی عوام کی نظروں سے پوشیدہ نہیں رہ سکتی۔‘
اس رپورٹ میں افغانستان کے حوالے سے بھی اسی نوعیت کا دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران نے پڑوسی ملک افغانستان میں بھی اپنے مسافر طیارے پارک کرنے کے لیے بھیجے۔
افغان طالبان کے ترجمانِ ذبیح اللہ مجاہد نے افغانستان میں کسی بھی ایرانی طیارے کی موجودگی کی تردید کرتے ہوئے سی بی ایس نیوز کو بتایا تھا کہ ’نہیں، یہ درست نہیں ہے اور ایران کو ایسا کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔‘
سی بی ایس نیوز سے گفتگو کرنے والے افغان سول ایوی ایشن کے ایک عہدیدار کے مطابق ماہان ایئر سے تعلق رکھنے والا ایک ایرانی مسافر طیارہ جنگ کے آغاز سے کچھ دیر قبل کابل میں لینڈ کیا تھا اور اس کے بعد ایرانی فضائی حدود بند ہونے کے بعد یہ طیارہ کابل ایئرپورٹ پر ہی کھڑا رہا۔
سی بی ایس کی رپورٹ کے مطابق جب مارچ میں پاکستان نے افغان طالبان حکومت پر یہ الزام عائد کرتے ہوئے کہ وہ شدت پسند گروہ تحریک طالبان پاکستان کو محفوظ پناہ گاہ فراہم کر رہی ہے، کابل پر فضائی حملے شروع کیے تو طالبان کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر اس طیارے کو ایران کی سرحد کے قریب واقع ہرات ایئرپورٹ منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
رپورٹ کے مطابق یہ اقدام کابل ایئرپورٹ پر پاکستانی طیاروں کی ممکنہ بمباری سے اس جہاز کو محفوظ رکھنے کے لیے اٹھایا گیا تھا۔
یاد رہے کہ 11 اپریل کو جب ایران، امریکہ مذاکرات کا پہلا دور ہوا تو اس سے چند روز پہلے، امریکی وفد کی آمد سے قبل اُن کی سکیورٹی اور پروٹوکول کے اہلکاروں کو لے کر کئی جہاز اسلام آباد پہنچے تھے۔ اسی طرح ایرانی وفد بھی طیاروں میں ہی اسلام آباد پہنچا تھا۔
اس وقت ایک حکومتی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ امریکی سی 17 مال بردار طیارہ جمعرات (نو اپریل) کو قطر کے امریکی العدید ایئر بیس سے اسلام آباد کے نور خان ایئر بیس پہنچا تھا۔
اہلکار کے مطابق ’یہ بہت بڑا طیارہ ہوتا ہے جس میں بکتر بند گاڑیاں اور ٹینک وغیرہ بھی آ سکتے ہیں۔ اس جہاز میں امریکی وفد کے لیے مخصوص گاڑیاں اسلام آباد پہنچی ہیں۔‘
اہلکار کے مطابق جمعہ (10 اپریل) کو بھی قطر کے العدید اور پھر جرمنی میں قائم امریکی فوجی ہوائی اڈے سے اسی نوعیت کے بڑے مال بردار جہاز مخصوص گاڑیاں اور سکیورٹی اور پروٹوکول کے عملے کو لے کر پہنچے تھے۔
انھوں نے بتایا تھا کہ ’امریکی وفد کے ممبران بنیادی طور پر پاکستان میں قیام کے دوران یہ گاڑیاں استعمال کریں گے۔ یہ بنیادی طور پر نائب صدر کا ایڈوانس دستہ ہے اور ان کے پروٹوکول کی تیاری ہوتی ہے جو ان کے پہنچنے سے پہلے مکمل کر لی جاتی ہے۔‘
اسلام آباد میں سرکاری حکام نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ اسی طرح ایران کے وفد کی آمد سے پہلے ان کا ایڈوانس دستہ بھی اسلام آباد پہنچ گیا تھا جس نے ان کی سکیورٹی اور پروٹوکول کے انتظامات مکمل کیے تھے۔