ٹرمپ کے ’گولڈن ڈوم‘ دفاعی نظام کی لاگت 12 کھرب ڈالرز تک پہنچ سکتی ہے اور شاید وہ بھرپور میزائل حملہ روک بھی نہ پائے, سارین حبیشیئن، بی بی سی
امریکی کانگریس کے غیر جانبدار بجٹ آفس (سی بی او) کے اندازے کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ جدید ’گولڈن ڈوم‘ میزائل دفاعی نظام پر تقریباً 12 کھرب ڈالر (882 ارب پاؤنڈ) لاگت آ سکتی ہے اور ممکن ہے کہ یہ کسی بھرپور میزائل حملے کو روک بھی نہ سکے۔
یہ تخمینہ اس ابتدائی رقم 175 ارب ڈالر (129 ارب پاؤنڈ) سے کہیں زیادہ ہے جو پہلے مختص کی گئی تھی۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ بیلسٹک اور کروز میزائلوں سے امریکہ کے دفاع کے لیے تیار کیا جانے والا یہ نظام شاید کام بھی نہ کرے۔ سی بی او کی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ گولڈن ڈوم روس یا چین کی جانب سے بھرپور حملے کے سامنے کمزور پڑ سکتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوری میں وائٹ ہاؤس واپسی کے چند دن بعد اس منصوبے کا اعلان کیا تھا، جس کا مقصد جدید دور کے فضائی خطرات کا مقابلہ کرنا ہے۔
انھوں نے گذشتہ سال کہا تھا کہ اس پروگرام کے لیے ابتدائی طور پر 25 ارب ڈالرز درکار ہوں گے، جبکہ وقت کے ساتھ مجموعی لاگت 175 ارب ڈالرز تک پہنچ سکتی ہے۔
اس تخمینے کا مطالبہ ڈیموکریٹ سینیٹر جیف مرکلی نے کیا تھا۔ منگل کے روز انھوں نے کہا: ’صدر کا نام نہاد گولڈن ڈوم در اصل دفاعی ٹھیکیداروں کے لیے ایک بڑا مالی فائدہ ہے، جس کی ادائیگی عام امریکی شہری کریں گے۔‘
بی بی سی نے اس حوالے سے تبصرے کے لیے وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون سے رابطہ کیا۔
یہ خدشات بھی ظاہر کیے گئے ہیں کہ امریکہ اتنے وسیع رقبے کے لیے مکمل دفاعی نظام فراہم کر سکے گا یا نہیں۔
حکام نے خبردار کیا ہے کہ حریف تیزی سے اپنے ہتھیاروں کو جدید بنا رہے ہیں اور ان کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکہ میں موجود نظام پیچھے رہ گئے ہیں۔
سی بی او کے مطابق متوقع اخراجات کے باوجود ’کوئی حریف جو امریکہ کے ہم پلہ ہے، یا اس سے کچھ کم ہے، اگر وہ بھرپور حملہ کرے تو امریکہ کا یہ نظام اس کے سامنے بے بس ہو سکتا ہے۔‘
اس منصوبے کو شروع کرنے کے لیے ایک انتظامی حکم جاری کیا گیا تھا اور اسے ’آئرن ڈوم فار امریکہ‘ کا نام دیا گیا تھا۔
حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ گزرتے وقت کے ساتھ جدید ہتھیاروں سے لاحق خطرہ ’زیادہ شدید اور پیچیدہ‘ ہو گیا ہے، جو امریکہ کے لیے ممکنہ طور پر ’تباہ کن‘ ہو سکتا ہے۔
اپنی دوسری مدت کے پہلے ہفتے میں ٹرمپ نے محکمۂ دفاع کو ہدایت دی تھی کہ وہ ایسے نظام کا منصوبہ پیش کرے جو فضائی حملوں کو روکنے اور ان سے دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
ٹرمپ کے مطابق یہ نظام خشکی، سمندر اور خلا میں ’نیکسٹ جنریشن‘ ٹیکنالوجی پر مشتمل ہو گا، اس میں خلائی سینسرز اور میزائل روکنے والے نظام شامل ہوں گے۔
انھوں نے کہا تھا کہ یہ نظام ’ان میزائلوں کو بھی روکنے کی صلاحیت رکھے گا جو دنیا کے دوسرے حصے سے، یا خلا سے داغے گئے ہوں۔‘
گذشتہ ماہ سپیس ایکس اور لاک ہیڈ مارٹن کے ساتھ 3.2 ارب ڈالرز کے معاہدے کیے گئے تھے تاکہ وہ میزائل روکنے والا ایسا نظام تیار کریں جو خلا میں نصب کیا جا سکے۔