سکرین ٹائم سے بچوں کے ذہنوں کو پہچنے والا نقصان اندازوں سے زیادہ پیچیدہ

بچے کی کلاک پر بنی تصویر
    • مصنف, زوئے کیلیمن
    • عہدہ, ٹیکنالوجی ایڈیٹر

ایک دن جب میں کچھ گھریلو کام کر رہی تھی میں نے اپنے سب سے چھوٹے بچے کو اس کے والد کا آئی پیڈ دیا تاکہ اسے تھوڑی دیر تفریح فراہم کی جا سکے۔ لیکن تھوڑی دیر کے بعد مجھے اچانک بے چینی سی محسوس ہوئی کیونکہ میں اس بات پر نظر نہیں رکھ پا رہی تھی کہ اس نے اسے استعمال کرتے ہوئے کتنا وقت گزارا ہے یا وہ کیا دیکھ رہا ہے۔ اس لیے میں نے اسے کہا اب بس کر دے۔

بس پھر کیا تھا غصے سےبھرپور ہنگامہ برپا ہو گیا۔ پانچ سال سے کم عمر اس بچے نے مجھے لات ماری، وہ چیخا، وہ ٹیب سے چپک گیا اور مجھے دور دھکیلنے کی کوشش کی۔

ایک ماں کی حیثیت سے یہ میرے لیے اچھا وقت نہیں تھا، ظاہر ہے اور اس کے انتہائی رد عمل نے مجھے پریشان کیا۔

میرے بڑے بچے سوشل میڈیا، ورچوئل رئیلٹی اور آن لائن گیمنگ کو نیویگیٹ کر رہے ہیں اور کبھی کبھی یہ مجھے بھی پریشان کرتا ہے۔

میں نے انھیں ایک دوسرے سے مزاح کرتے سنا کہ انھیں ٹیکنالوجی سے کنارہ کشی اختیار کرکے کبھی کبھی باہر جانا چاہیے۔

سٹیو جابز ایپل کے سی ای او تھے ان کی کمپنی نے جب آئی پیڈ لانچ کیا تھا، تو ان کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ اپنے بچوں کو آئی پیڈ رکھنے نہیں دیتے تھے۔

بل گیٹس کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنے بچوں کی ٹیکنالوجی تک رسائی کو بھی محدود کر دیا ہے۔

Steve Jobs with an iPad in hand

،تصویر کا ذریعہJustin Sullivan/Getty Images

،تصویر کا کیپشنسٹیو جابز اپنے بچوں کو آئی پیڈ رکھنے نہیں دیتے تھے

سکرین ٹائم بری خبروں کا مترادف بن گیا ہے، جو نوجوانوں میں ڈپریشن میں اضافے، رویوّں کے مسائل اور نیند کی کمی کا ذمہ دار ہے۔

معروف نیورو سائنٹسٹ بیرونس سوزن گرین فیلڈ نے یہاں تک کہا کہ انٹرنیٹ کا استعمال اور کمپیوٹر گیمز نوجوانوں کے دماغ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

سنہ 2013 میں انھوں نے طویل سکرین ٹائم کے منفی اثرات کا موازنہ آب و ہوا کی تبدیلی کے ابتدائی دنوں سے کیا، یہ ایک اہم تبدیلی تھی جسے لوگ سنجیدگی سے نہیں لے رہے تھے لیکن اب بہت سے لوگ اسے زیادہ سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔

لیکن تاریک پہلو کے بارے میں کیے گئے یہ انتباہ پوری کہانی نہیں بتاتے۔

برٹش میڈیکل جرنل کے ایک اداریہ میں دلیل دی گئی ہے کہ بیرونس گرین فیلڈ کے دماغ کے بارے میں دعوے ’شواہد کے منصفانہ سائنسی جائزے پر مبنی نہیں تھے اور بڑے پیمانے پر والدین اور عوام کو گمراہ کر رہے ہیں۔‘

اب برطانیہ کے سائنسدانوں کے ایک اور گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ سکرین کے منفی پہلوؤں پر ٹھوس سائنسی شواہد کی کمی ہے۔

تو کیا ہم نے اپنے بچوں کے بارے میں فکر مند ہونے اور ٹیبلٹس اور سمارٹ فونز تک ان کی رسائی کو محدود کرنے میں غلطی کی ہے؟

کیا یہ اتنا ہی برا ہے جتنا دکھائی دیتا ہے؟

باتھ سپا یونیورسٹی میں نفسیات کے پروفیسر پیٹ ایچیلز اس گروپ کے ماہرین تعلیم میں سے ایک ہیں اور دلیل دیتے ہیں کہ شواہد کی کمی ہے۔

انھوں نے سکرین ٹائم اور ذہنی صحت کے بارے میں سینکڑوں مطالعات کا تجزیہ کیا ہے، ساتھ ہی نوجوانوں اور ان کی سکرین کی عادات کے بارے میں بڑی مقدار میں اعداد و شمار کا تجزیہ کیا ہے۔

اپنی کتاب ’ان لاکڈ: دی ریئل سائنس آف سکرین ٹائم‘ میں انھوں نے دلیل دی ہے کہ شہہ سرخیوں میں آنے والے نتائج کے پیچھے دراصل مختلف چیزوں کا مرکب ہے اور بہت سے معاملات میں اس میں نقائص پائے جاتے ہیں۔

وہ لکھتے ہیں کہ ’سکرین ٹائم کے خوفناک نتائج کے بارے میں کہانیوں کی حمایت کرنے کے لیے ٹھوس سائنسی ثبوت موجود نہیں ہیں۔‘

آئی پیڈ دیکھتے ہوئے بچے

،تصویر کا ذریعہArthur Debat/ Getty Images

امریکن سائیکولوجی ایسوسی ایشن کی جانب سے 2021 میں شائع ہونے والی تحقیق میں بھی ایسی ہی کہانی بیان کی گئی تھی۔

دنیا بھر کی مختلف یونیورسٹیوں سے تعلق رکھنے والے 14 مصنفین نے 2015 سے 2019 کے درمیان شائع ہونے والے 33 مطالعات کا تجزیہ کیا۔

انھوں نے پایا کہ سمارٹ فونز، سوشل میڈیا اور ویڈیو گیمز سمیت سکرین کے استعمال نے ’ذہنی صحت کے خدشات میں بہت کم کردار ادا کیا‘۔

اگرچہ کچھ مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ نیلی روشنی جس طرح سکرینوں سے خارج ہونے والی روشنی ہوتی ہیں یہ ہارمون میلاٹونن کا بہاؤ مشکل بنادیتی ہے، لیکن 2024 میں دنیا بھر سے 11 مطالعات کے جائزے میں مجموعی طور پر اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ سونے سے ایک گھنٹہ پہلے سکرین کی روشنی سونے کو زیادہ مشکل بنادیتی ہے۔

سائنس کے ساتھ مسئلہ

پروفیسر ایچیلز بتاتے ہیں کہ ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ سکرین ٹائم کے موضوع پر زیادہ تر اعداد و شمار 'سیلف رپورٹنگ' پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔

دوسرے لفظوں میں، محققین صرف نوجوانوں سے پوچھتے ہیں کہ وہ سوچتے ہیں کہ انھوں نے اپنی سکرینوں پر کتنا وقت گزارا ہے اور انھیں کیا یاد ہے کہ اس سے انھیں کیسا محسوس ہوا۔

وہ یہ بھی دلیل دیتے ہیں کہ اتنی بڑی مقدار میں اعداد و شمار کی تشریح کرنے کے لاکھوں ممکنہ طریقے موجود ہیں۔

وہ کہتے ہیں'ہمیں باہمی تعلق کو دیکھنے کے بارے میں محتاط رہنا ہوگا۔'

انھوں نے موسم گرما کے دوران آئس کریم کی فروخت اور جلد کے سرطان کی علامات دونوں میں اعداد و شمار کے لحاظ سے نمایاں اضافے کی مثال دی۔

دونوں گرم موسم سے متعلق ہیں لیکن ایک دوسرے سے نہیں، آئس کریم جلد کے کینسر کا سبب نہیں بنتی۔

سمارٹ فون جسمانی سرگرمی کو عموما محدود کر دیتا ہے

،تصویر کا ذریعہUniversal Archive/Universal Images Group via Getty Images

،تصویر کا کیپشنسمارٹ فون جسمانی سرگرمی کو عموما محدود کر دیتا ہے

وہ بتاتے ہیں کہ ایک ڈاکٹر نے اپنے ریسرچ پروجیکٹ میں ان دو چیزوں کی نشاندہی کی تھی: پہلی کہ وہ ڈپریشن اور پریشانی کے بارے میں نوجوانوں کے ساتھ زیادہ بات چیت کر رہے تھے اور دوسری یہ کہ بہت سے نوجوان ویٹنگ رومز میں فون استعمال کر رہے تھے۔

'ہم نے ڈاکٹر کے ساتھ کام کیا اور ہم نے کہا ٹھیک ہے، آئیے اس کی جانچ کرتے ہیں۔ ہم اس تعلق کو آزمانے اور سمجھنے کے لیے ڈیٹا کا استعمال کر سکتے ہیں۔'

دونوں آپس میں جڑے ہوئے تھے مگر وہاں ایک اہم اضافی عنصر تھا: ان لوگوں نے کتنا وقت تنہا گزارا جو افسردہ یا پریشان تھے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ ذہنی صحت کے مسائل کی وجہ تنہائی ہی تھی، نہ کہ صرف سکرین ٹائم۔

سکرین ٹائم کی اقسام: ڈوم سکرونگ بمقابلہ اپ لفٹنگ

سکرین ٹائم کی نوعیت کے بارے میں لاعلمی پائی جاتی ہے۔ پروفیسر ایچیلز کے مطابق یہ اصطلاح بہت زیادہ ناگوار ہے۔

کیا سکرین ٹائم اپ لفٹنگ یعنی خوشی کا باعث بنا، کیا یہ کارآمد تھا، معلوماتی تھا؟ یا منفی یعنی ڈوم سکرولنگ تھا؟ کیا نوجوان شخص تنہا تھا یا وہ آن لائن دوستوں سے رابطے میں تھا؟

ہر چیز کا اثر الگ ہوتا ہے۔

بل گیٹس

،تصویر کا ذریعہJohn Nacion/Getty Images

،تصویر کا کیپشنبل گیٹس کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنے بچوں کی ٹیکنالوجی تک رسائی کو بھی محدود کر دیا ہے

امریکہ اور برطانیہ کے محققین نے 9 سے 12 سال کی عمر کے بچوں کے 11,500 دماغی سکینز کا جائزہ لیا جن کی صحت اور سکرین ٹائم سے متعلق معلومات دی گئی تھی۔

مگر اس تحقیق میں اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ سکرین ٹائم خراب دماغی تندرستی یا علمی مسائل سے منسلک تھا، یہاں تک کہ ان لوگوں میں بھی جو دن کے کئی گھنٹوں تک سکرین استعمال کرتے ہیں۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر اینڈریو پرزیبلسکی نے 2016 سے 2018 تک ایک تحقیق کی جس میں انھوں نے ویڈیو گیمز اور سوشل میڈیا کے ذہنی صحت پر اثرات کا مطالعہ کیا۔ اس سے پتا چلا کہ ان کے ذہنی صحت پر مثبت اثرات ہوتے ہیں۔

پروفیسر ایچیلز کہتے ہیں کہ 'اگر آپ کو لگتا ہے کہ سکرینز دماغ کو بدتر کرتی ہیں تو آپ کو بڑے ڈیٹا سیٹ میں وہ مثال مل جائے گی۔۔۔ تو یہ خیال کہ سکرینز دماغ کو مسلسل یا مستقل طور پر برے طریقے سے تبدیل کر رہی ہیں، ایسا نہیں ہے۔'

سکول کا بچہ فون دیکھتے ہوئے

،تصویر کا ذریعہMatt Cardy/Getty Images

،تصویر کا کیپشنماہرین کے مطابق 'سکرین ٹائم کے خوفناک نتائج کے بارے میں کہانیوں کی حمایت کرنے کے لیے ٹھوس سائنسی ثبوت موجود نہیں

کارڈف یونیورسٹی میں برین سٹیمولیشن کے سربراہ پروفیسر کرس چیمبرز کا کہنا ہے کہ 'اگر کوئی تنزلی آئی ہوتی تو یہ واضح ہوتا۔'

'15 سال کی تحقیق میں اس کو دیکھنا آسان ہوگا۔۔۔ اگر ہمارا دماغی نظام اتنا نازک ہوتا تو ہم یہاں نہ ہوتے۔'

'(یعنی) ہم بہت پہلے معدوم ہو گئے ہوتے۔'

’ذہنی صحت کا خوفناک فارمولا‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

پروفیسر پرزیبلسکی اور پروفیسر ایچیلز دونوں بعض آن لائن مواد کے نقصانات کی تردید نہیں کرتے۔ تاہم سٹرین ٹائم کی بحث اس معاملے کو مزید پیچیدہ کر دیتی ہے۔

پروفیسر پرزیبلسکی ڈیوائسز کو محدود کرنے یا ان پر پابندی لگانے کے مطالبات پر فکر مند ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ سکرین ٹائم کی جتنی سختی کی جائے گی، اس کی اتنی خواہش پیدا ہوگی۔

بہت سے لوگ متفق نہیں ہیں۔ 'یو کے سمارٹ فون فری چائلڈ ہڈ' نامی تنظیم کا کہنا ہے کہ اب تک 150,000 افراد نے 14 سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے سمارٹ فونز پر پابندی اور 16 سال کی عمر تک سوشل میڈیا تک رسائی نہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

جب سان ڈیاگو سٹیٹ یونیورسٹی کی سائیکالوجی کی پروفیسر جین ٹوینج نے امریکی نوجوانوں میں ڈپریشن کی بڑھتی ہوئی شرح پر تحقیق شروع کی تو وہ یہ ثابت کرنے کے لیے تیار نہیں تھی کہ سوشل میڈیا اور سمارٹ فونز 'خوفناک' ہیں۔

انھوں نے والدین سے مطالبہ کیا کہ بچوں اور سمارٹ فونز کو جتنا ممکن ہو سکے، الگ رکھیں۔

'دماغ 16 سال کی عمر میں زیادہ بالغ ہوتے ہیں۔ سکول اور دوستوں میں سماجی ماحول 12 کی نسبت 16 سال کی عمر میں زیادہ مستحکم ہوتا ہے۔'

بچے موبائل اور گھڑی

،تصویر کا ذریعہJodi Lai

وہ اس بات سے اتفاق کرتی ہیں کہ نوجوانوں کے سکرین کے استعمال پر ڈیٹا بڑی حد تک خود رپورٹ کیا جاتا ہے۔ لیکن وہ دلیل دیتی ہیں کہ اس سے شواہد کمزور نہیں ہوتے۔

2024 کی ڈنمارک کی تحقیق میں 89 خاندانوں کے 181 بچے شامل تھے۔ دو ہفتوں کے لیے ان میں سے نصف کو ہفتے میں تین گھنٹے سکرین ٹائم تک محدود رکھا گیا اور ان سے کہا گیا کہ وہ اپنے ٹیبلٹس اور سمارٹ فونز حوالے کریں۔

یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ سکرین ٹائم کو کم کرنے سے 'بچوں اور نوعمروں کی نفسیاتی علامات پر مثبت اثر پڑتا ہے' اور 'معاشی روابط' میں اضافہ ہوتا ہے، حالانکہ مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

اور برطانیہ کی ایک تحقیق جس میں شرکا سے کہا گیا کہ وہ اپنے سکرین ٹائم کی ڈائری ریکارڈ کریں۔ اس سے پتا چلا کہ سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال لڑکیوں میں ڈپریشن کے ساتھ منسلک ہے۔

پروفیسر ٹوینگے کہتے ہیں کہ 'آپ اس فارمولے کو اپناتے ہیں: آن لائن زیادہ وقت، عام طور پر سکرین کے ساتھ اکیلے، کم وقت سونا، ذاتی طور پر دوستوں کے ساتھ کم وقت، یہ دماغی صحت کے لیے ایک خوفناک فارمولا ہے۔'

'مجھے نہیں معلوم کہ یہ متنازع کیوں ہے۔'

’والدین کی رائے‘

پروفیسر ایچیلز سے میری بات ویڈیو چیٹ کے ذریعے ہوتی ہے۔ اس بات چیت کے دوران ان کا ایک بچہ اور ان کا کتا کبھی اندر آتے ہیں اور کبھی باہر چلے جاتے ہیں۔

میں ان سے پوچھتی ہوں کہ کیا واقعی سکرینز بچوں کے دماغ کو دوبارہ سے ترتیب دے رہی ہیں تو اس کے جواب میں

وہ ہنستے ہیں اور وضاحت کرتے ہیں کہ ہر چیز دماغ کو بدلتی ہے اور انسان ایسے ہی سیکھتے ہیں۔

لیکن وہ والدین کے اندر پائے جانے والے اس کے ممکنہ نقصانات کے خدشات سے بھی نہ صرف آگاہ ہیں بلکہ انھیں ہمدردی بھی ہے۔

اس صورتحال میں والدین کے لیے مشکل یہ بھی ہے کہ اس موضوع پر کوئی واضح رہنمائی موجود نہیں ہے بلکہ یہ موضوع تعصب اور تنقید سے بھرا ہوا ہے۔

یونیورسٹی آف مشی گن کی ماہرِ اطفال جینی ریڈیسکی نے فلانتھراپک ادارے ڈانا فاؤنڈیشن میں خطاب کرتے ہوئے اس صورتحال کو کچھ یوں بیان کیا کہ اس موضوع پر والدین کے درمیان مکالمہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

’بجائے اس کے کہ تحقیق سے جو کچھ سامنے آیا ہے اسے واضح کیا جائے لوگ ایسی باتوں کو موضوع بنا رہے ہیں جو زیادہ تر والدین میں شرمندگی اور احساسِ جرم پیدا کرتی ہیں اور یہی حقیقی مسئلہ ہے۔‘

جب میں ماضی میں دیکھتی ہوں تو مجھے یاد آتا ہے کہ میرے سب سے چھوٹے بیٹے نے ایک بار آئی پیڈ کے حوالے سے شدید غصے کا مظاہرہ کیا تھا اور اُس وقت یہ مجھے بہت پریشان کن لگا تھا۔

لیکن اب جب میں غور کرتی ہوں تو مجھے یاد آتا ہے کہ اسی قسم کی صورتِ حال میں ایسا ردعمل پہلے بھی ظاہر کر چکا ہے حالانکہ اس میں سکرین کا مسئلہ نہیں تھا۔ مثلا جب وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ چھپن چھپائی کھیل رہا ہوتا تھا اور بستر پر جانے کے لیے تیار نہیں ہوتا تھا۔

دیگر والدین سے میری بات چیت میں بھی سکرین ٹائم اکثر موضوعِ گفتگو بنی ہے۔ ہم میں سے کچھ والدین اس حوالے سے سخت رویہ رکھتے ہیں جبکہ کچھ نسبتاً نرمی اختیار کرتے ہیں۔

سرکاری سطح پر اس وقت جو مشورے دیے جا رہے ہیں وہ بھی متضاد اور غیر واضح ہیں۔

نہ تو امریکہ کی امریکن اکیڈمی آف پیڈیاٹرکس اور نہ ہی برطانیہ کے رائل کالج آف پیڈیاٹرکس اینڈ چائلڈ ہیلتھ بچوں کے لیے سکرین ٹائم کی کوئی مخصوص حد تجویز کرتے ہیں۔

دوسری طرف عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ ایک سال سے کم عمر بچوں کے لیے سکرین ٹائم بالکل نہیں ہونا چاہیے اور چار سال سے کم عمر بچوں کے لیے روزانہ ایک گھنٹے سے زیادہ نہیں۔

تاہم جب آپ ان کی ہدایات کو بغور پڑھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا اصل مقصد جسمانی سرگرمی کو ترجیح دینا ہے۔

یہاں ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس معاملے پر سائنسی تحقیق ناکافی ہے تاکہ کوئی حتمی سفارش دی جا سکے اور یہی کمی سائنسی کمیونٹی کو تقسیم کر رہی ہے حالانکہ معاشرہ بچوں کی سکرین تک رسائی کو محدود کرنے کے لیے زور ڈال رہا ہے۔

اور جب کوئی طے شدہ رہنما اصول موجود نہیں ہوں گے تو کیا ہم بچوں کے لیے ایک غیر مساوی میدان تیار کر رہے ہیں؟

کچھ بچے بچپن سے ہی ٹیکنالوجی میں ماہر ہو کر جوان ہوں گے جبکہ دوسرے جو کم ٹیکنالوجی استعمال کر پاتے ہیں وہ زیادہ غیر محفوظ اور کمزور ہوں گے۔

اس صورتحال میں معاملہ پیچیدہ ہے۔

اگر سکرینز واقعی بچوں کو نقصان پہنچا رہی ہیں تو سائنسی شواہد کو اسے ثابت کرنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔

اور اگر آخر کار یہ نتیجہ سامنے آئے کہ ایسا کوئی نقصان نہیں ہو رہا تھا تو ہم اپنی توانائی اور وسائل ضائع کر چکے ہوں گے اور اس دوران بچوں کو ایک ایسے آلے سے دور رکھا ہو گا جو ان کے لیے نہایت مفید بھی ہو سکتا تھا۔

اور ایسے میں سکرینز ہر وقت ہماری انکھوں کے سامنے موجود ہیں، سوشل میڈیا مسلسل ہماری زندگی میں اہم ہوتا جا رہا ہے۔ بچے ہوم ورک یا یہاں تک کہ تھیراپی کے لیے اے آئی چیٹ بوٹس استعمال کر رہے ہیں۔ یعنی چاہے ہم اپنے بچوں کو اس تک رسائی دیں یا نہ دیں ٹیکنالوجی برق رفتاری سے ترقی کر رہی ہے۔