پاکستان میں گاڑیوں کے پروڈکشن پلانٹس کی عارضی بندش: ’ٹماٹر پیاز کے پیسے نہیں، کار کی باری بہت بعد میں آئے گی‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عمیر سلیمی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
پاکستان میں گاڑیاں بنانے اور اسمبل کرنے والی بعض کمپنیوں نے درآمد شدہ آٹو پارٹس کی قلت اور مانگ میں کمی کی وجہ سے اپنے پروڈکشن پلانٹس سال کے آخر میں کچھ دنوں کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔
پاک سوزوکی نے پیر کو بتایا کہ ان کا پیداواری پلانٹ دو جنوری (پیر) سے چھ جنوری (جمعے) تک بند رہے گا۔ کمپنی کے اعلامیے کے مطابق یہ فیصلہ اسمبل کی جانے والی گاڑیوں کے پارٹس (سی کے ڈی کٹس) کی درآمد پر عائد رکاوٹوں کے باعث کیا گیا۔ درآمد شدہ مال کی کلیئرنس میں تاخیر سے پارٹس کی قلت پیدا ہوئی جس کے بعد کمپنی کی انتظامیہ نے پانچ روز کے لیے گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے پلانٹ کو بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس سے قبل ٹویوٹا انڈس پاکستان نے 20 سے 30 دسمبر تک پروڈکشن پلانٹ بند رکھنے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ کمپنی اور اس کے وینڈرز کو خام مال اور پارٹس کی درآمدی کلیئرنس میں تاخیر کا سامنا ہے۔
’اس سے سپلائی چین اور پیداواری سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔ لہذا کمپنی کے لیے پروڈکشن جاری رکھنا ممکن نہیں۔‘
خیال رہے کہ ملک میں زر مبادلہ کے گِرتے ذخائر کے پیش نظر سٹیٹ بینک نے آٹو سیکٹر کو بھی درآمدات کے لیے قبل از وقت منظوری کا پابند بنایا تھا۔
یعنی بندرگاہ پر کھڑے درآمدی کنٹنیروں کی کلیئرنس نہ ہونے اور بینکوں کی طرف سے ان کی ایل سی (لیٹر آف کریڈٹ) نہ کھلنے سے ان صنعتوں کو نقصان ہو رہا ہے جن کا انحصار درآمدات پر ہے۔
ان پابندیوں کے بعد سے گاڑیوں کی کئی کمپنیوں نے رواں سال کے دوران کئی بار ’نان پروڈکشن ڈیز‘ بڑھائے ہیں۔ دوسری طرف اگر انھی کمپنیوں کی سیلز پر نظر دوڑائی جائے تو گذشتہ سال کے مقابلے رواں سال اس میں قابل ذکر کمی واقع ہوئی ہے۔
مثلاً 2021 میں جولائی سے نومبر کے دوران ٹویوٹا کرولا اور یارس کے 23,975 خریدار تھے تو 2022 میں اسی عرصے میں یہ خریدار 10,186 ہو گئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسی طرح 2021 کے دوران اس عرصے میں 13,105 لوگوں نے سوزوکی کلٹس خریدی تھی مگر 2022 میں اعداد و شمار 4,086 ہو گئے۔

،تصویر کا ذریعہPak Suzuki
گاڑیوں کی کمپنیوں کے نان پروڈکشن ڈیز میں اضافہ: یہ مسئلہ کتنا اہم ہے؟
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
آٹو سیکٹر ماہر سنیل منج نے کہا ہے کہ پاکستان میں درآمدات پر منحصر گاڑیوں اور موبائل مینوفیکچررز کے ساتھ ساتھ دیگر صنعتوں کے لیے بھی یہ ’الارمنگ‘ صورتحال ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ یہ صورتحال مئی سے جاری ہے۔ ’پہلے بھی سوزوکی، ٹویوٹا اور ہنڈا سب نے نان پروڈکشن ڈیز کا اعلان کیا تھا۔
’جب طلب زیادہ ہو اور درآمد کردہ آٹو پارٹس کی آمد رواں ہو تو پلانٹ چلایا جا سکتا ہے مگر جب پارٹس آئیں گے ہی نہیں تو وہ پورے دن بیٹھ کر کیا کریں گے۔‘
آٹو سیکٹر کی درآمدات اسی فہرست میں شامل ہے جس میں ٹماٹر، گندم اور دیگر ضروری اشیا جنھیں حاصل کرنے کے لیے درآمد کنندہ کو سٹیٹ بینک کی منظوری درکار ہوتی ہے اور اس کا دار و مدار اس بات پر ہے کہ ڈالر کا کیا ریٹ ملتا ہے اور آیا اتنے ڈالر ہیں بھی کہ درآمدی کنٹینر کو کلیئرنس مل سکے۔
تو ایسے میں یہ مشکل ہے کہ ایک کار اسمبل کرنے والے کی انجن کٹ کو طبی آلات جیسے کووڈ کی پی سی آر کٹ پر ترجیح دی جائے۔
پاکستان میں جاپانی کار کمپنیوں سوزوکی، ہنڈا اور ٹویوٹا سمیت دیگر کی ایوسی ایشن ماپا کے ترجمان عبدالوحید خان کہتے ہیں کہ اس بنیاد پر منظوری دی جاتی ہے کہ فی الوقت زیادہ اہم کیا ہے، گندم اور توانائی جیسی بنیادی ضروریات یا گاڑیوں کے پارٹس۔
’ظاہر ہے کہ توانائی اور خوراک کو ترجیح ملتی ہے جبکہ کم ترحیح والی اشیا جیسے آٹو سیکٹر کی درآمدات فہرست میں سب سے نیچے آتے ہیں اور اسے لیے منظوری میں تاخیر آتی ہے۔ ہمارے بارے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ ابھی مزید انتظار کرسکتے ہیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’جب تک پروڈکشن لائن پر سو پارٹس موجود نہیں ہوں گے، اس وقت تک کار کو بنایا نہیں جا سکتا۔ ایک پرزہ بھی کم پڑ جائے تو اس سے پروڈکشن لائن متاثر ہوتی ہے۔ لہذا (گاڑیوں کی کمپنیوں میں) نان پروڈکشن ڈیز چل رہے ہیں۔‘
عبدالوحید خان نے کہا کہ معاشی بحران کے باعث لوگوں کی ڈسپوزیبل آمدن کم ہوئی ہے اور اس سے گاڑیوں کی طلب میں کمی آئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
نان پروڈکشن ڈیز سے بے روزگاری کا خدشہ
اس سوال پر کہ کیا نان پروڈکشن ڈیز بڑھنے پر گاڑیوں کی کمپنیاں ملازمین کو برطرف کریں گی، عبدالوحید خان نے کہا کہ پاما کے ارکان (جس میں سوزوکی، ہنڈا اور ٹویوٹا شامل ہیں) میں تاحال ایسا کچھ نہیں ہوا۔
’ابھی تک لے آف کی نوبت نہیں آئی۔ کمپنیاں اس نقصان کو برداشت کر رہی ہیں۔‘
انھوں نے امید ظاہر کی کہ ہو سکتا ہے معاملات میں بہتری آئے اور ایسا نہ ہو تاہم ترجمان پاما نے خبردار کیا کہ مزید کچھ ماہ تک آٹو پارٹس کی درآمدات پر پابندیوں کے باعث بڑے پیمانے پر ورکرز نکالے جاسکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پروڈکشن پلانٹ بند رہنے سے کنٹریکٹ پر کام کرنے والے عارضی ملازمین کو برطرف کیا جاسکتا ہے۔
عبدالوحید خان نے کہا کہ وزارت صنعت و پیداوار نے اس معاملے پر تشویش ظاہر کی تھی تاہم ’جب تک سٹیٹ بینک اور درآمدات کے حوالے سے حالات معمول پر نہیں آتے، اس وقت تک پریشانی رہے گی۔‘
ٹویوٹا کے اعلامیے کی مثال دیتے ہوئے (جس میں اس نے نان پروڈکشن ڈیز کے باوجود ملازمین لے آف نہ کرنے کا وعدہ کیا) سنیل منج نے کہا کہ بڑی پبلک لمyٹڈ کمپنیاں شاید اتنی جلدی لے آف نہ کریں مگر جب پروڈکشن مسلسل بند رہے گی تو مزدوروں کو نوکریوں سے نکالا جاسکتا ہے۔
سنیل منج کہتے ہیں کہ آٹو سیکٹر سے منسلک وینڈر انڈسٹری میں ابھی سے لے آف شروع ہو گئے ہیں اور یہ صورتحال اس وقت تک نہیں بدل سکتی جب تک سیاستدان ’ایک دوسرے سے لڑنا نہیں چھوڑیں گے۔‘
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہTOYOTA PAKISTAN
’ٹماٹر، پیاز کے پیسے نہیں تو آٹو پارٹس کی باری تو بہت بعد میں آئے گی‘
جب بی بی سی نے سنیل منج سے پوچھا کہ درآمدات کی تاخیر کا معاملہ کب تک حل ہوگا، تو انھوں نے بتایا کہ ماضی میں بھی کار کمپنیوں کے نان پروڈکشن ڈیز میں اضافہ دیکھا گیا ہے مگر اس بار صورتحال اس لیے مختلف ہے کیونکہ گذشتہ ’سات ماہ سے ہمارے پاس بندرگاہ پر پھنسے پیاز، ٹماٹر کلیئر کرانے کے پیسے نہیں اس لحاظ سے آٹو سیکٹر کی سی کے ڈی کٹس کی باری تو بہت بعد میں آئے گی۔‘
ان کا کہنا ہے کہ یہ ضرور ہے کہ مارکیٹ میں گاڑیوں کی مانگ میں بھی کمی آئی ہے اور ایل کھلنے پر بھی پیداوار سست روی کا شکار رہ سکتی ہے۔
اس سوال پر کہ آیا ان پالیسیوں کے پیش نظر کمپنیوں کو لوکلائزیشن بڑھانے پر توجہ دینی چاہیے، انھوں نے بتایا کہ آٹو پالیسی کے تحت کمپنیاں پہلے ہی ایسا کرنے کی پابند ہیں مگر حکومت کی طرف سے انھیں ایک ٹائم لائن دی گئی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ یہ تاثر غلط ہے کہ حکومت نے ایسا لوکلائزیشن بڑھانے کے لیے کیا ہے بلکہ یہ واضح ہے کہ سٹیٹ بینک کے پاس ڈالرز کی قلت ہے اور اسے لیے آٹو پارٹس کی درآمدات کو منظوری تاخیر سے ملتی ہے۔
’اگر پانچ سال تک لوکلائزیشن نہیں بڑھائی جاتی تو پارٹس پر ڈیوٹی بڑھا دی جاتی ہے۔ مثلاً کِیا سپورٹیج پہلے 100 فیصد درآمد کی جا رہی تھی مگر آہستہ آہستہ ہر سال گزرنے کے ساتھ اس کے پارٹس پر ڈیوٹی بڑھتی ہے لہذا انھیں مارکیٹ میں رہنے کے لیے لوکلائزیشن بڑھانی پڑتی ہے۔‘
سنیل منج نے کہا کہ ’فی الحال حکومت کو نہیں پتا کہ اس معاملے کو کیسے حل کرنا ہے۔‘
خیال رہے کہ رواں سال مئی میں وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت نے معاشی استحکام کے لیے آٹو سیکٹر اور موبائل فونز سمیت تمام ’لگژری اور غیر ضروری اشیا‘ کی درآمد پر پابندیاں عائد کی تھی۔ بڑھتے کرنٹ اکاؤنٹس خسارے، غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر میں کمی اور روپے کی قدر میں گراوٹ کا حوالے دیتے ہوئے حکومت نے یہ ’ایمرجنسی اقدامات‘ کیے تھے۔













