آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کنٹینر لوڈ اور ان لوڈ کرنے میں تاخیر پاکستان میں کاروبار کو کیسے متاثر کر رہی ہے؟
- مصنف, تنویر ملک
- عہدہ, صحافی، کراچی
فرض کریں کہ آپ بیرون ملک کپڑے بھیج کر پیسے کماتے ہیں اور ایک بڑا آرڈر آپ کے ہاتھ لگ جاتا ہے، جو آپ کے کاروبار کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوگا۔
مگر ان کی طرف سے بس ایک شرط رکھی جاتی ہے کہ ایک ہفتے کے اندر اندر مال پہنچا دیا جائے۔ تو کیا آپ کے لیے یہ ممکن ہوگا؟
’یہ کپڑے سے لدا ہوا برآمدی کنٹینر تھا جسے بندرگاہ پر انسپیکشن کے لیے کسٹم اور انسداد منشیات کے محمکوں کی جانب کھولا گیا۔۔۔‘
پاکستان میں صعنت کاروں اور تاجروں کی وفاقی تنظیم فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری سے وابستہ خرم اعجاز نے اپنے ایک برآمد کنندہ کے ساتھ ہونے والے واقعے کا احوال کچھ یوں بتایا۔
’جائزے کے بعد اسے پورٹ ٹرمینل کے حوالے کر دیا گیا جہاں کنٹینر میں کپڑے کی ری پیکنگ میں کافی وقت لگ گیا۔ اس سے پہلے کنٹینر میں ایکسپورٹ کارگو کو لوڈ کرنے اور اس کے پورٹ تک پہنچنے میں کافی دن لگ گئے۔‘
ان کے مطابق اسی وجہ سے درآمدی مال والے کنٹینر کو ملک سے باہر بھیجنے میں دس سے چودہ دن لگ جاتے ہیں جو ’دوسرے ممالک کی نسبت بہت زیادہ ہے۔‘
خرم اعجاز کہتے ہیں کہ یہ صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ ایسی بہت ساری مثالیں ہیں جس کی وجہ سے برآمدی سامان کے کارگو کے کنٹنیرز ملک سے باہر نکلنے میں بہت زیادہ وقت لیتے ہیں۔
دوسری جانب امجد علی نامی درآمد کنندہ کے مطابق پاکستان میں کنٹنیرز کے زیادہ وقت لینے کی وجہ درآمدی کنٹینروں کی ایل سی (لیٹر آف کریڈٹ) کھولنے میں دیر ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے بتایا کہ ان کا درآمدی کارگو جو کنٹینرز میں آتا ہے، ان کی ایل سی تاخیر سے کھل رہی ہے جس کی وجہ بینکوں کی جانب سے ڈالر کی کمی کی وجوہات بتانا یا ایل سی کھولنے کے لیے ڈالر کا زیادہ ریٹ بتانا ہے۔
انھوں نے کہا جب درآمدی کنٹینرز کی ایل سی کھلنے میں کئی کئی دن لگ جائیں گے تو پھر ان کی پورٹ سے کلیئرنس اور ان میں برآمدی کارگو لاد کر انھیں پاکستان سے روانہ کرنے میں بہت زیادہ ٹائم لگتا ہے۔
ایک کنٹینر کے اتارنے اور دوبارہ اس میں برآمدی مال لوڈ کرنے اور اس کی بیرون ملک روانگی میں جو وقت صرف ہوتا ہے، اس کے بارے میں سوشل میڈیا پر ایک مہینہ لگنے پر کافی بحث ہوئی۔
تاہم تاجر اور صنعت کاروں کے مطابق ایک مہینہ لگنے کی بات مبالغہ آرائی ہے لیکن دس پندرہ دن ایک عام سی بات ہے جو بہت زیادہ وقت ہے جبکہ پاکستان کے مقابلے میں خطے کے دوسرے ممالک اس سلسلے میں بہت بہتر صورتحال میں ہیں اور وہاں اس پورے عمل میں اس میں خرچ ہونے والا وقت پاکستان کے مقابلے میں بہت کم ہے۔
پاکستان کے مقابلے میں چین میں یہ وقت 1.8 دن، انڈیا 2.12 دن، بنگلہ دیش 2.87 دن اور ویتنام میں 9 دن میں یہ کام ہوتا ہے۔
پاکستان میں جہاز رانی و بندرگاہوں اور بیرونی تجارت کے ماہرین ان اعداد و شمار پر متضاد رائے رکھتے ہیں۔
شپنگ شعبے کے ماہرین اس سے اتفاق نہیں کرتے جبکہ بیرونی تجارت کے ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا پر درج کردہ وقت شاید اس حوالے سے ہے کہ ایک کنٹینر کے پاکستان میں درآمدی مال کے ساتھ آمد سے لے کر اسے واپس برآمدی مال کے ساتھ روانگی کا وقت دیا گیا ہے جو ان کے مطابق کافی وقت لیتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس میں تو کافی عرصہ لگتا ہے تاہم اس کے وقت کا صحیح تعین نہیں کیا جا سکتا۔
پاکستان میں بیرونی تجارت کے شعبے سے متعلقہ حکومتی ادارے نے بھی ان اعداد و شمار کو مسترد کیا ہے۔
کنٹینر ٹرن آراؤنڈ ٹائم کیا ہوتا ہے؟
پاکستان میں جہاز رانی کے شعبے کے ماہرین کے مطابق کنٹینر کا ملک میں آنا اور اس کا ملک سے نکل جانا ’کنٹینر ٹرن آراؤنڈ ٹائم‘ کہلاتا ہے۔
حکومتی شپنگ کمپنی پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) میں آپریشنل امور کے جنرل مینیجر کیپٹن عاصم اقبال نے بی بی سی کو بتایا کہ شپنگ ٹرن آراؤنڈ ٹائم ایک جہاز کے بندرگاہ میں آنے اور پھر وہاں سے واپس جانے کا وقت ہوتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان میں کراچی اور پورٹ قاسم کی بندرگاہوں میں یہ وقت دو دن سے زیادہ نہیں ہوتا تاہم انھوں نے بتایا کہ ایک کنٹینر کا شپنگ ٹرن آراؤنڈ ٹائم مختلف چیز ہے۔
ایک کنٹینر جو درآمدی سامان لے کر آیا ہو اور اس میں برآمدی سامان ڈال کر بیرون ملک بھیجنا، مختلف چیز ہو سکتی ہے۔
بین الاقوامی تجارت کے امور کے ماہر اقبال تابش کنٹینر شپنگ ٹرن آراؤنڈ ٹائم وہ وقت ہے جو ایک کنٹینر کے درآمدی مال سے لے کر اس میں برآمدی مال لے کر بیرون ملک جانے کا وقت ہے۔
انھوں نے کہا ایک کنٹینر پاکستان میں درآمدی سامان لا کر واپس کتنے عرصے میں برآمدی سامان لے کر بندرگاہ سے نکلتا ہے، اس کے بارے میں دنوں کا صحیح اندازہ لگانا تو مشکل ہے تاہم یقینی طور پر اس میں وقت لگتا ہے۔
پاکستان میں کارگو کنٹینر کے زیادہ وقت لگنے کی وجہ کیا؟
پاکستان میں ایک شپنگ کنٹینر کے زیادہ وقت لگانے کے بارے میں بارے میں اقبال تابش نے بتایا کہ اس کی کچھ وجوہات ہیں۔
انھوں نے کہا پاکستان اور خطے کے جن دوسرے ممالک کا موازنہ کیا گیا ہے، اس میں سب سے بڑی وجہ تو بیرونی تجارت کا حجم ہے۔
انھوں نے بتایا کہ چین میں بہت ساری بندرگاہیں ہیں، اسی طرح انڈیا میں بھی کئی بندرگاہیں موجود ہیں اور بنگلہ دیش میں پاکستان سے زیادہ بندرگاہیں ہیں اور اس کا رقبہ کم ہے۔
انھوں نے کہا کہ جب ایک کنٹینر درآمدی سامان لے کر پاکستان آتا ہے تو اس کی کلیئنرس میں دو تین دن لگ جاتے ہیں اسی طرح اسے ملک کے جنوب میں واقع بندرگاہوں سے نکل کر وسطی اور شمالی علاقے میں پہنچانے کے لیے چھ سے سات دن کا وقت لگتا ہے۔
اس کنٹینر میں برآمدی مال بھر کر اسے کے دوباہ پورٹس پر پہنچنے میں پھر سات سے آٹھ دن تک وقت لگتا ہے۔ پھر کچھ دن کلیئرنس میں لگتے ہیں جبکہ کبھی کبھار جہاز کے انتظار میں بھی کچھ دن لگ جاتے ہیں۔
اقبال تابش نے کہا پاکستان کے مقابلے میں انڈیا میں زیادہ بندرگاہیں ہیں اور وہاں سے بیرون تجارت کا حجم بھی زیادہ ہے اور جہاز کے آنے سے پہلے ہی برآمدی مال تیار ہوتا ہے جسے فوری طور پر لوڈ کر کے اسے بیرون ملک روانہ کر دیا جاتا ہے۔
کیپٹن عاصم اقبال نے اس سلسلے میں کہا جہاں تک کنٹینر کی بات ہے تو یہ بات صحیح ہے کہ درآمدی سامان لا کر برآمدی سامان لے کر واپس جانے میں وقت خرچ ہوتا ہے اور یہ پاکستان میں زیادہ ہے۔
انھوں نے کہا اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان میں اب بڑے جہاز بہت کم آتے ہیں اور فیڈر جہاز پاکستان سے سامان لے کر دبئی تک پاکستان کے کنٹینر لے جاتے ہیں تاکہ انھیں بڑے جہاز پر لاد کر منزل مقصود تک پہنچایا جائے۔
انھوں نے کہا اگر انڈیا کی مثال لے لیں تو وہاں پر بہت زیادہ شپنگ کمپنیاں کام کر رہی ہیں اور وہاں زیادہ جہاز آتے ہیں اور وہاں جہاز کی آمد سے پہلے ہی برآمدی سامان تیار ہوتا ہے۔
عاصم اقبال نے کہا کہ بیرونی تجارت کا حجم اس سارے معاملے میں بہت اہم ہے اور اس کے ساتھ انڈیا میں بہت ساری بندرگاہیں ہیں اور وہاں پر برآمدی مال جلدی پہنچ کر بیرون ملک پہنچ جاتا ہے جبکہ پاکستان میں کراچی اور پورٹ قاسم کا فاصلہ ملک کے شمالی اور وسطی علاقوں سے زیادہ ہے۔ اس لیے زیادہ وقت لگتا ہے اور یہ ٹرن آراؤنڈ شپ ٹرن آراؤنڈ سے مختلف ہے۔
کارگو کنٹینر کے زیادہ وقت لگنے سے کاروبار کیسے متاثر ہوتا ہے؟
مل میں کارگو کنٹینر کے درآمدی مال لانے اور برآمدی مال کے لے جانے میں زیادہ وقت لگنے اور اس کے اثرات کے بارے میں خرم اعجاز نے بتایا کہ اس کا یقینی طور پر منفی اثر کاروبار پر ہوتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ پورٹس پر بہت زیادہ وقت خرچ ہونے کی وجہ سے انفرادی طور پر بات کی جائے تو ہر کاروباری فرد جو برآمد ہے یا درآمد کرتا ہے، اس کے لیے منفی اثر ہوتا ہے تاہم اگر ملک کی معیشت پر اس کے مجموعی اثر کے لحاظ سے بات کی جائے تو اس پر پاکستان کی جی ڈی پی پر بھی اثر پڑتا ہے۔
خرم نے بتایا کہ پورٹ سرگرمیوں کے سست ہونے کی وجہ سے کارگو کنٹینرز کی کلیئرنس بھی بہت زیادہ ٹائم لیتی ہے جو ملک کی اقتصادی سرگرمی کو متاثر کرتی ہے۔
خرم نے کہا کہ اس سے برآمدات کا شعبہ بھی متاثر ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایکسپورٹ کو وقت پر پہنچنا ہوتا ہے لیکن پاکستان میں کنٹینر کے زیادہ وقت لگنے کی وجہ سے تاخیر بھی ہوتی ہے۔
امپورٹر امجد علی نے بتایا کہ درآمدی کنٹنیروں کی کلیئرنس نہ ہونے اور ان کی ایل سی نہ کھلنے کی وجہ سے درآمد کندگان کو نقصان ہو رہا ہوتا ہے کیونکہ انھیں اس پر ڈیمرج چارجز ادا کرنے پڑتے ہیں۔
پاکستان میں پورٹس کی کارکردگی کا کنٹنیر کے زیادہ وقت لینے میں کتنا دخل ہے؟
کنٹینروں کے ملک سے بیرون ملک روانہ ہونے میں زیادہ وقت کے خرچ ہونے کے بارے میں اقبال تابش نے کہا کہ پاکستان میں پورٹس کی کارکردگی بھی ایک ایشو ہے۔
ان کے مطابق انڈیا اور چین میں سمارٹ پورٹس کا تصور ہے جس کی وجہ سے ان کی کارکردگی بہت بہتر ہے اور وہاں سے مال کی کلیئرنس جلد ہو جاتی ہے۔ پاکستان میں بھی اس کی ضرورت ہے تاکہ مال کو جلد روانہ کیا جا سکے۔
خرم نے اس سلسلے میں بتایا کہ پاکستان میں پورٹس پر موجود کارگو ٹرمینل کے پاس زیادہ جدید آلات نہیں کہ وہ وہاں سے جلد از جلد کنٹینر کی کلیئرنس ہو تاکہ درآمدی اور برآمدی سامان جلدی سے اندرون و بیرون ملک روانہ ہو سکے۔
انھوں نے کہا اسی طرح کسٹم اور انسداد منشیات کے محمکوں کی جانب سے لیا جانے والا وقت بھی بھی دوسرے ممالک کی نسبت زیادہ ہوتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان میں فی الحال درآمدی اور برآمدی کنٹنروں کا کام کراچی اور پورٹ قاسم سے ہوتا ہے۔
گوادر کے پورٹ کے بارے میں بات کرتے ہوئے خرم نے کہا یہ پورٹ صرف چینی ہی استعمال کرتے ہیں جو ایسے سامان کے لیے استعمال ہو رہا ہے جو چینی گوادر میں کاموں کے لیے لاتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ملک کے دوسرے حصوں سے کنٹینروں کی گوادر سے ترسیل کے لیے بہترین روڈ اور ریل نیٹ ورک درکار ہے، جو بدقسمتی سے فی الحال میسر نہیں۔