ریگنگ کا سچ اور نوکری کا پہلا ’خفیہ‘ آپریشن: خاتون کانسٹیبل جو انڈیا بھر اپنے کام کی وجہ سے وائرل ہو رہی ہیں

    • مصنف, سمیر خان
    • عہدہ, بی بی سی ہندی کے لیے اندور سے

انڈیا کی وسطی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر اندور میں گذشتہ دو دنوں سے خواتین کانسٹیبل شالنی چوہان کا ہر طرف ذکر ہو رہا ہے۔ انھوں نے کام بھی کچھ ایسا ہی کیا ہے۔

ریگنگ کے ایک کیس کو حل کرنے کے لیے وہ تین ماہ تک میڈیکل کالج میں ایک طالب علم کے طور پر گئیں اور شواہد اکٹھا کرتی رہیں۔

یہ سارا معاملہ حیرت انگیز لگ سکتا ہے لیکن اندور کے سنیوگیتا گنج تھانے کی 24 سالہ کانسٹیبل شالنی چوہان نے یہ کارنامہ انجام دیا ہے۔

درحقیقت، اندور کے مہاتما گاندھی میڈیکل کالج میں سینیئر طلبہ کے ذریعہ جونیئر طلبہ کی ریگنگ کی خبریں مسلسل آ رہی تھیں، لیکن اس معاملے میں کوئی متاثرہ طالب علم سامنے نہیں آ رہا تھا۔

ایسے میں جولائی کے مہینے میں ایک مشتعل طالب علم نے نئی دہلی کے اینٹی ریگنگ ہیلپ لائن میں کالج کیمپس میں ریگنگ کی شکایت درج کرائی۔ اس بنیاد پر سنیوگیتا گنج تھانے میں کیس درج کیا گیا، جس کے بعد سٹیشن انچارج تہذیب قاضی نے کیس کی جانچ شروع کی۔

وہ بتاتے ہیں: 'بہت کوشش کے بعد بھی کوئی ہمارے پاس شکایت کرنے نہیں آیا، کوئی ثبوت نہیں ملا۔ ہم نے معاملہ بند کرنے کا سوچا، لیکن ہم معاشرے میں ریگنگ جیسے برے چلن سے پریشان تھے۔'

کینٹین میں طلبا سے دوستی

قاضی نے اپنی ٹیم کی سب سے کم عمر رکن شالنی چوہان سے کہا کہ وہ کالج کے کیمپس میں جائیں اور شواہد اکٹھے کرنے کے لیے طلبہ کے ساتھ گھل مل جائیں۔ اس کے بعد، ستمبر سے دسمبر تک شالنی دیگر نوجوان لڑکیوں کی طرح کالج جاتی رہیں۔ تاہم، کالج میں وہ کلاسیں بنک کرتی تھیں اور اپنا وقت صرف کینٹین میں ہی گزارتی تھیں۔

شالنی چوہان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا: 'میری شناخت ظاہر ہونے کا خدشہ تھا۔ اور ایسی صورت میں نوکری کا پہلا آپریشن ناکام ہو سکتا تھا۔ لیکن سول ڈریس میں، میں طالب علم کے طور پر جاتی رہی۔

میں کالج کی کینٹین میں بیٹھا کرتی تھی اور وہاں جا کر طالب علموں سے باتیں کیا کرتی تھی۔ ان کے ساتھ گھل مل گئی۔ اور یہ جاننے کی کوشش کرتی رہی کہ کون ریگنگ کر رہے ہیں اور کون متاثرین ہیں۔'

شالنی کا کہنا ہے کہ جب کوئی طالب علم گفتگو کے دوران شکوک و شبہات کا اظہار کرتی، تو وہ موضوع بدل دیتی تھیں۔ تاہم، اس دوران وہ کبھی کسی کلاس میں نہیں گئیں اور پوچھنے پر کہتیں کہ وہ کلاسیں بنک کر رہی ہیں۔

شالنی کہتی ہیں کہ 'تھوڑے ہی عرصے میں بہت سے لڑکوں اور لڑکیوں سے بات چیت کا سلسلہ چل نکلا۔ کچھ دوست بن گئے اور انھوں نے ریگنگ سے متعلق معلومات شیئر کیں، جو میں اپنے تھانے میں قاضی صاحب کو بتاتی رہی۔'

شالنی چوہان نے تین ماہ تک ریگنگ کرنے والے طالب علموں کی شناخت کی اور ان سے متعلق شواہد اکٹھا کرتی رہیں۔ اس دوران انھوں نے متاثرہ طلباء سے بھی بات چیت کی۔

یہ بھی پڑھیے

سنیوگیتا گنج پولیس سٹیشن کے انچارج تہذیب قاضی نے کہا: ’جب ہمیں ریگنگ کا شکار ہونے والے طلبہ کے بارے میں معلوم ہوا تو ہمارے سامنے ایک بڑا چیلنج یہ تھا کہ ان طلبہ کو پولیس کے سامنے پیش ہونے کے لیے کس طرح راضی کیا جائے تاکہ ریگنگ کرانے والے طلبہ کو پکڑا جاسکے اور انھیں سزا دلائی جا سکے۔ ہم نے ان طلبہ کی کونسلنگ کی اور پھر دفعہ 161 کے تحت ان کا بیان ریکارڈ کرایا۔'

شالنی چوہان کو دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ انھوں نے یہ آپریشن خفیہ انداز میں مکمل کیا ہے۔ حالانکہ محکمہ پولیس میں ان کا تجربہ چند سال کا ہے۔ اپنے والد کی موت کے بعد ہمدردی کی بنیاد پر پولیس فورس میں شامل ہونے والی شالنی نے اپنی گریجویشن مکمل کر لی ہے۔

کانسٹیبل کو خوشی

اگرچہ پولیس کی نوکری کی وجہ سے وہ اس کیس پر زیادہ بات کرنے کی لیے تیار نہیں تھیں لیکن انھوں نے بتایا کہ اس مشن کے دوران انھیں بہت سے رنگ برنگے کپڑے پہننے پڑے اور کالج کے پرانے دن یاد آ گئے۔ شالنی نے یہ بھی کہا کہ وہ ریگنگ کے شکار طالب علموں کو انصاف ملنے پر بہت خوش ہیں۔

شواہد اور بیانات کی بنیاد پر سنیوگیتا گنج تھانے کی پولیس نے جونیئر طلباء کی ریگنگ کے معاملے میں 11 سینیئر طلباء کو گرفتار کیا ہے۔

دوسری جانب مہاتما گاندھی میڈیکل کالج کے ڈین سنجے دیکشت نے کہا کہ اس معاملے میں متعلقہ طلبہ کو تین ماہ کے لیے معطل کر دیا گیا ہے، ہم ہاسٹلوں میں رہنے والے طلبہ کی نگرانی کرتے ہیں، لیکن کیمپس کے باہر سے آنے والے طلبہ اور کرائے کے مکانوں میں رہنے والے طلبا کی نگرانی نہیں کی جاتی ہے، اسی وجہ سے یہ معاملہ سامنے آیا۔'

سنجے دیکشت کے مطابق کالج کے طلبہ کو وقتاً فوقتاً ریگنگ سے دور رہنے کے لیے کہا جاتا رہتا ہے۔ ویسے کانسٹیبل کی طالبہ کے طور پر کالج کیمپس میں آنے پر اس نے کہا کہ مجھے کیس کی تفتیش کا علم تھا، لیکن طالبہ کے طور پر کیمپس میں آنے والی خاتون کانسٹیبل کے بارے میں نہیں جانتا تھا۔