ایشیا کپ کے لیے پاکستانی سکواڈ کا اعلان: ’بابر اور رضوان کو ہمیشہ کے لیے ڈراپ نہیں کیا گیا‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایشیا کپ کے لیے بنائی گئی پاکستانی ٹیم میں دو سابق کپتان بابر اعظم اور محمد رضوان جگہ نہ بنا سکے اور نہ ہی اس میں فاسٹ بولر نسیم شاہ کی شمولیت ممکن ہو پائی۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے متحدہ عرب امارات میں سہ فریقی سیریز اور آئندہ ماہ شیڈول ایشیا کپ کے لیے ٹیم کا اعلان سوشل میڈیا پر زیرِ بحث ہے۔
اتوار کو قذافی سٹیڈیم لاہورمیں ٹیم کا اعلان کرتے ہوئے سلیکٹرعاقب جاوید اور ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے کہا کہ کنڈیشنز کو دیکھتے ہوئے بہترین ٹیم سلیکٹ کی گئی ہے۔
سترہ رُکنی سکواڈ میں کپتان سلمان علی آغا، فخر زمان، ابرار احمد، فہیم اشرف، حارث روف، حسن علی، حسین طلعت، خوشدل شاہ، محمد حارث، حسن نواز، شاہین شاہ آفریدی، محمد نواز، محمد وسیم جونیئر، صائم ایوب، صاحبزادہ فرحان، سلمان مرزا اور سفیان مقیم شامل ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بابر اور رضوان کو پاکستانی ٹیم میں شامل کیوں نہ کیا گیا؟
بابر اعظم اور محمد رضوان کو سلیکٹ نہ کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے عاقب جاوید کا کہنا تھا کہ انھیں ہمیشہ کے لیے ٹی ٹوئنٹی سکواڈ سے باہر نہیں کیا گیا۔
عاقب جاوید کا کہنا تھا کہ دونوں کھلاڑی پچھلی تین ٹی ٹوئنٹی سیریز میں ٹیم کا حصہ نہیں تھے۔ ان کی جگہ صائم ایوب، حسن نواز اور صاحبزادہ فرحان اوپننگ کر رہے ہیں۔
عاقب جاوید کے بقول ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں ایسے بلے بازوں کو ترجیح دی گئی ہے جو زیادہ اچھے سٹرائیک ریٹ سے بیٹنگ کرتے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ صائم ایوب، فخر زمان اور صاحبزادہ فرحان کی صورت میں ’ہمارے پاس اچھے سٹرائیک ریٹ سے کھیلنے والے بیٹرز موجود ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہیڈ کوچ مائیک ہیسن کا کہنا تھا کہ بابر اعظم کو سپنرز کے خلاف اپنی ٹیکنیک بہتر کرنے کا کہا گیا ہے اور وہ اس پر کام کر رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سوشل میڈیا پر ردعمل
پاکستانی شائقین اس بارے میں اپنے تبصرے کر رہے ہیں کہ آیا یہ ٹیم ایشیا کپ جیت سکے گی۔
عدیل اقبال نامی صارف نے عاقب جاوید پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ’بابر اعظم سے حسد کرتے ہیں۔ ٹیم میں آدھے کھلاڑی لاہور قلندرز کے ہیں۔‘
ان کی رائے ہے کہ یہ ٹیم ’پہلے ہی راونڈ سے باہر ہو گی۔‘

،تصویر کا ذریعہX
راجہ عاصم نامی صارف نے خوشدل شاہ، فہم اشرف، حسین طلعت اور محمد نواز کو ٹیم میں شامل کرنے پر تنقید کی۔
صارف اویس نے لکھا کہ اس ٹیم کے ساتھ تو وہی نتائج آئیں گے جو ماضی میں آتے رہے ہیں۔
ٹویسٹو کے نام سے صارف نے نسیم شاہ کو ٹیم میں شامل نہ کرنے پر لکھا کہ اُنھوں نے سنہ 2022 میں ہونے والے ایشیا کپ اور پھر ون ڈے ایشیا کپ میں افغانستان کے خلاف میچ جتوائے اور اب اُنھیں ہی ٹیم سے باہر کر دیا گیا ہے۔
افی بھائی نامی صارف لکھتے ہیں کہ ’ہم نے تو وہ میچ دیکھنا ہی نہیں جس میں بابر اعظم ٹیم میں نہ ہوں۔‘

،تصویر کا ذریعہX
صارف سید محمد سعد شمس بابر اور رضوان کو ٹیم سے ڈراپ کرنے کے پی سی بی کے فیصلے پر خوش ہیں۔
اُن کے بقول ’شکر ہے کہ پی سی بی دونوں کو ٹیم میں شامل کرنے کے بیرونی دباؤ میں نہیں آئی۔‘

،تصویر کا ذریعہX
ڈاکٹر خرم نامی صارف نے لکھا کہ وہ ماضی کی پرفارمنسز کو دیکھتے ہوئے اس ٹیم سے زیادہ اُمیدیں نہیں رکھتے۔
پاکستان، متحدہ عرب امارات اور افغانستان کے مابین سہ فریقی سیریز کا آغاز 29 اگست سے ہو گا۔ جبکہ انڈیا کی میزبانی میں ہونے والا ایشیا کپ نو ستمبر سے 28 ستمبر تک متحدہ عرب امارات میں کھیلا جائے گا۔











