انڈیا کے ریگستان میں پاکستانی جوڑے کی مسخ شدہ لاشیں: ’فصل پر پانی لگانے پر جھگڑا ہوا اور وہ بیوی لے کر روانہ ہو گیا‘

پاکستانی جوڑا

،تصویر کا ذریعہLatif Laghari

،تصویر کا کیپشنروی کمار اور ان کی بیوی شانتی بائی کا تعلق پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع گھوٹکی کے شہر میرپور ماتھیلو سے تھا
    • مصنف, شکیل اختر، ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو

انڈیا کی ریاست راجستھان میں گذشتہ ہفتے جیسلمیر خطے میں پاکستان کے ایک نوجوان شادی شدہ جوڑے کی مسخ شدہ لاشیں ملی ہیں۔

مقامی حکام کا کہنا ہے کہ یہ جوڑا غیر قانونی طور پر ریگستان کے راستے انڈیا میں داخل ہوا اور آبادی تک پہنچنے سے پہلے ہی ان کی موت ہو گئی۔

روی کمار اور ان کی بیوی شانتی بائی کا تعلق پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع گھوٹکی کے شہر میرپور ماتھیلو کے گاؤں غلام حسین لغاری سے تھا۔

ان کے والد دیوانو مینگھواڑ کا کہنا ہے کہ ان کا بیٹا ناراض ہو کر گھر سے چلا گیا تھا اور وہ لاعلم ہیں کہ وہ کب انڈیا چلا گیا۔

’لاشیں اوندھے منھ پڑی تھیں اور بظاہر موت 8 سے 10 دن پہلے ہوئی‘

جیسلمیر کے پولیس سپرانٹینڈنٹ سدھیر چودھری نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ ’جیسلمیر ضلع کے تنوٹ پولیس سٹیشن کو ایک مقامی شحص نے اطلاع دی کہ انڈیا پاکستان سرحد سے تقریباً پندرہ کلومیٹر انڈیا کے علاقے میں دو نامعلوم افراد کی لاشیں پڑی ہوئی دیکھی گئی ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’28 جون کو وہاں جب پولیس ٹیم پہنچی تو وہاں ایک پیڑ کے نیچے ایک مرد کی لاش ملی۔ اس نے آسمانی رنگ کی شلوار اور کرتا پہن رکھا تھا اور پیلے رنگ کا سکارف ان کے گلے میں تھا۔‘

’متوفی کے پاس سے ایک سیم سانگ فون بھی برآمد ہوا، جس میں پاکستان کا سم کارڈ تھا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’وہاں سے تقریبآ 50 فٹ کی دوری پر ایک عورت کی لاش ملی۔ وہ پیلے رنگ کا گھاگھرا اور کرتا پہنے ہوئی تھیں۔ ان کے ہاتھ میں لال اور سفید کنگن تھے۔‘

پولیس افسر نے بتایا کہ ’دونوں لاشیں اوندھے منھ پڑی ہوئی تھیں۔ بظاہر ان کی موت 8 سے 10 دن پہلے ہوئی تھی۔ لاشیں بہت مسخ ہو گئی تھیں جس سے ان کے چہرے کی شناخت مشکل ہو چکی تھی۔ ابتدائی تفتیش سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی موت ریگستان میں گرمی کی شدت اور پیاس سے ہوئی۔‘

پولیس نے بتایا کہ ’لاشوں کا پوسٹ مارٹم کیا جا چکا ہے لیکن ابھی رپورٹ نہیں آئی۔‘

ایس پی سدھیر چودھری نے بتایا کہ ’مرد کے پاس سے دو پاکستانی شناختی کارڈ برآمد ہوئے ہیں جس سے مرد کی شناخت 17 سال کے روی کمار ولد دیوان جی اور خاتون کی شناخت 15 سالہ شانتی بائی ولد گلو جی کے طور پر ہوئی۔ جیسلمیر میں ان کے رشتے داروں نے دونوں کی شناخت کی تصدیق کی۔‘

’چاول کی فصل پر پانی لگانے کا جھگڑا ہوا‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

پاکستانی صحافی لطیف لغاری کا تعلق بھی روی کمار اور شانتی بائی کے گاؤں سے ہے۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ چاول کی فصل کو پانی دینے کے معاملے پر بیٹے اور والد کی تلخ کلامی ہوئی تھی۔

’والد دیوانو نے بیٹے کو کہا کہ وہ چاول کی فصل کو پانی دینے جائے لیکن اس نے انکار کیا تو والد نے اس کو تھپڑ مارا جس پر وہ اپنی بیوی کو لے کر موٹر سائیکل پر بیٹھ کر روانہ ہو گیا۔‘

دیوانو کے دس بچے ہیں جن میں سے روی کمار تیسرے نمبر پر تھا۔

لطیف لغاری کے مطابق دیوانو کو معلوم تھا کہ ان کا بیٹا بارڈر کے علاقے کھینجو میں نور پیر کی درگاہ کے آس پاس موجود ہے وہ ان کے پچھے گئے لیکن انھیں ان کا کوئی پتہ نہیں چلا جس کے بعد وہ مایوس لوٹ آئے۔

روی اور ان کی بیوی شانتی کی ہلاکت کی خبر انڈین چینلز پر آنے اور ان کے پاکستانی شناختی کارڈ برآمد ہونے کی خبریں میڈیا اور بالخصوص سوشل میڈیا پر سامنے آنے کے بعد دیوانو مینگھواڑ کو معلوم ہوا کہ ان کے بیٹے اور بہو کی موت ہو گئی ہے۔

لطیف لغاری کے مطابق دیوانو کے کچھ رشتے دار انڈیا میں بھی رہتے ہیں اور انھوں نے وہاں آخری رسومات ادا کیں۔

ریگستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنجیسلمیر میں ریگستان کا منظر (فائل فوٹو)

’روی نے ڈیڑھ برس قبل انڈین ویزا کے لیے درخواست دی‘

راجستھان میں پاکستان سے آنے والے ہندوؤں کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’سیمانت لوک سنگھٹن‘ کے سربراہ ہندو سنگھ سوڈھا نے بی بی سی کو بتایا کہ روی کمار کے کئی رشتہ دار جیسلمیر میں رہتے ہیں۔

سوڈھا نے بتایا کہ انھوں نے روی کے نانا کے بھائی سے بات کی تھی جنھوں نے بتایا کہ روی کا اپنے والد سے جھگڑا ہو گیا تھا اور ناراض ہو کر اس نے اپنی بیوی کے ساتھ گھر چھوڑ دیا تھا۔

اس کا گھر پاکستان کے صوبہ سندھ میں انڈین سرحد سے تقریباً 60 کلومیٹر کی دوری پر ہے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ ’روی نے ڈیڑھ برس قبل انڈین ویزا کے لیے درخواست دی تھی لیکن اس کی درخواست نامنظور ہو گئی تھی۔ اپنے باپ سے جھگڑے کے بعد روی اور شانتی نے انڈیا کا رخ کیا کیونکہ یہ ان کی حتمی منزل تھی جس کی وہ تمنا کر رہے تھے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’جیسلمیر کا پورا خطہ ریگستان پر مشتمل ہے اور یہ بہت بڑا علاقہ ہے۔ یہاں آبادی بہت کم ہے اور سرحدوں کے نزدیک بیس پچیس کلومیٹر تک کوئی آبادی نہیں۔ جون کے مہینے میں اس خطے میں درجۂ حرارت 50 ڈگری تک پہنچ جاتا ہے اور دور دور تک پانی کا کوئی ذریعہ نہیں۔‘

’روی اور شانتی سندھ سے پیدل ہی چل کر انڈیا میں داخل ہوئے اور کسی آبادی تک پہنچنے سے پہلے ہی شدید گرمی میں بھوک اور پیاس سے راستے میں ہی دم توڑ دیا۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ مقامی رشتے داروں کی مدد سے روی اور شانتی کی آخری رسومات پیر کی شام جیسلمیر میں ادا کی گئیں۔