باکو میں ’ملتانی کاروان سرائے‘: ملتانی تاجروں نے کیسے دہائیوں تک ہندوستانی و بین الاقوامی تجارت اور قرض نظام پر راج کیا؟

    • مصنف, وقار مصطفیٰ
    • عہدہ, صحافی، محقق

وسط ایشیائی ملک آذربائیجان کے دارالحکومت باکو سے چھ کلومیٹر شمال مغرب میں واقع اِس عمارت میں ویسے تو اب ایک نمائش گاہ اور ایک ریستوران ہے لیکن اس عمارت کا نام آج بھی وہی ہے جو سات صدیوں پہلے اِس کے قیام کے وقت رکھا گیا تھا، یعنی ’ملتانی کاروان سرائے۔‘

باکو کے قدیم ترین آباد حصے ’ایچری‘ شہر میں موجود اس چوکور شکل سرائے کو پاکستانی سفارتکار قمر عباس کھوکھرنے حالیہ تجدید سے کوئی 12 سال پہلے دیکھا تھا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ’پتھر کی دیواروں سے بنی یہ سرائے 14ویں صدی میں تعمیر کی گئی تھی۔ اس میں چھ رہائشی کمرے تھے جن تک پہنچنے کے لیے الگ دروازہ تھا۔‘

’تین تہہ خانے جانوروں کو رکھنے کے لیے مخصوص تھے جنھیں بحیرۂ کیسپیئن کی جانب کُھلتے دروازے سے لایا جاتا تھا جبکہ تین بڑے ہالز تھے جن میں تجارتی اشیا کی نمائش کی جاتی۔‘

انھوں نے بتایا کہ یہ عمارت ’ملتان سے آنے والے تاجروں کے لیے بنائی گئی تھی۔‘

ملتان: بین الاقوامی تجارت کا اہم مرکز

ملتان صدیوں تک شمال مغربی ہندوستان کا ایک اہم بین الاقوامی تجارتی مرکز تھا۔

ملتان کی ابتدائی خوشحالی کا سہرا ’سورج دیوتا کے مندر‘ کو دیا جاتا ہے جہاں پورے ہندوستان سے آئے زائرین نذرانے دیتے تھے۔

تاہم محقق سکاٹ لیوی اپنی کتاب ’گلوبل انڈین ڈایاسپوراز‘ میں تاریخ دان عرفان حبیب کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ آٹھویں صدی میں عرب حملوں کے بعد کے برسوں میں ملتان کو ایک تجارتی اور ثقافتی مرکز کے طور پر فروغ ملا۔

علی گڑھ یونیورسٹی سے جُڑے محقق عمر نذیر کے ایک مقالے سے پتا چلتا ہے کہ یہ خطہ زمین کے راستے ہندوستان کو ہندوکُش سے آگے کے علاقوں سے جوڑتا تھا۔

صدیوں تک تین دریا، راوی، چناب اور سندھ، سامانِ تجارت ایک سے دوسری جگہ اور بحیرہ عرب کے بندرگاہی مراکز، لاہوری بندر اور ٹھٹھہ لے جانے میں ملتان کے تاجروں کے مددگار تھے۔ (یاد رہے کہ وقت کے ساتھ راوی اور چناب اپنا راستہ بدل چکے ہیں اور اب شہر سے تقریباً 40 کلومیٹر شمال میں بہتے ہیں)

عرب جغرافیہ دان ابوالحسن المسعودی سنہ 915 میں ملتان آئے تھے۔ اُن کی کتاب ’تاریخ المسعودی‘ کے مطابق ’ملتان اور مسلم دنیا کے دیگر حصوں کے درمیان فعال تجارتی روابط تھے۔‘

سنہ 951 میں ملتان کا سفر کرنے والے جغرافیہ دان استخری اور ابو القاسم محمد بن حوقل بیان کرتے ہیں کہ ’یہاں مختلف اشیا اور اجناس کے لیے الگ الگ بازار خریداروں سے بھرے رہتے تھے اور اشیا کی قیمتیں کم تھیں۔‘

سنہ 985 میں ملتان جانے والے عرب مصنف شمس الدين المقدِسی نے لکھا کہ ’ملتان کے تاجر دیانت دار تھے۔ خرید و فروخت میں جھوٹ نہیں بولتے تھے اور نہ ہی وزن میں کمی کرتے تھے۔ وہ مسافروں کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آتے تھے۔‘

سکاٹ لیوی لکھتے ہیں کہ 13ویں صدی تک، ملتان سے وابستہ تاجروں اور تجارتی برادریوں کو ’ملتانی‘ کے نام سے جانا جانے لگا تھا جب دلی میں سلطنت کے قیام کے ساتھ ہی ملتان کی تجارت اور کاروبار کی تاریخ میں ایک نیا باب شروع ہوا۔

ملتان کا صوبہ دلی سلطنت اور مغل ولی عہدوں کو باقاعدگی سے جاگیر کے طور پر عطا کیا جاتا رہا جو اس کی سیاسی، تزویراتی (سٹریٹجک) اور اقتصادی حیثیت کی نشان دہی کرتا ہے۔

ولیم بارٹن اپنی کتاب ’انڈیاز نارتھ ویسٹرن فرنٹیئر‘ میں لکھتے ہیں کہ دلی کے سلاطین نے تجارت کے فروغ کے لیے مؤثر اقدامات کیے۔ ’تجارتی راستوں کی حفاظت کے لیے ’گماشتے‘ (ایجنٹ ) مقرر کیے گئے۔ سرائیں ہمیشہ تاجروں کی مدد کے پیش نظر آباد رکھی جاتی تھیں تاکہ دور دراز کے علاقوں سے مال آسانی سے ان تک پہنچ سکے۔‘

ملتانیوں کی تجارتی سرگرمیاں دلی سلطنت کے دور (1206-1555) میں نمایاں طور پر بڑھ گئیں۔

مہدی حسن ’تغلق ڈائنسٹی‘ میں لکھتے ہیں کہ سلطان علاء الدین خلجی (1296-1316) ان ملتانی تاجروں کو ریاستی خزانے سے پیشگی رقم دیتے تاکہ وہ بیرون ملک سے سامان خرید کر دلی سلطنت میں مقررہ قیمتوں پر فروخت کریں۔ اس خدمت کے بدلے انھیں ایک وظیفہ دیا جاتا تھا۔ اس لحاظ سے ملتانی تاجر حکومت کے ایجنٹ کے طور پر کام کرتے تھے۔

’خلجی نے انھیں 20 لاکھ ٹنکوں کی پیشگی رقم دی تاکہ وہ دلی سلطنت میں عمدہ اشیا کی مستقل فراہمی کو یقینی بنا سکیں۔‘ خلجیوں کے ترک، افغان پس منظر کے باعث ملتانی تاجروں کی سرگرمیاں وسطی ایشیا اور فارس کی منڈیوں تک وسیع ہو چکی تھیں۔‘

لاہور، دلی، کابل اور قندھار جانے والے تجارتی قافلے یہاں رُک کر آگے کا سفر طے کرتے تھے۔ ملتان کی حکومت تجارتی اشیا پر محصول عائد کرتی تھی جو حکمرانوں کے لیے آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ تھا۔ بازاروں میں مسلسل رونق رہتی تھی اور خریدار ہر وقت دستیاب ہوتے تھے۔

لال سرن کِشور ’ٹوائی لائٹ آف دی سلطنیٹ‘ میں بتاتے ہیں کہ ملتان ایک خوشحال شہری معیشت کا منظر پیش کرتا تھا اور ایسی معیشت وسیع پیمانے پر تجارت کا تقاضا کرتی تھی۔

’ہندوستانی اشیا کی بیرون ملک اچھی خاصی مانگ تھی اور تاجر اس تجارت سے بھاری منافع کماتے تھے۔ اس دور میں سکے، خاص طور پر بین الاقوامی تجارت میں، ایک مقررہ قدر کے معیار کے طور پر نہیں بلکہ تجارت کا سامان سمجھے جاتے تھے، جس کے نتیجے میں ہندوستانی تاجروں کو بیرون ملک سے بڑی مقدار میں سونا اور چاندی حاصل ہوتی تھی۔‘

14ویں صدی کے سیاح اور مؤرخ ابن بطوطہ کے مطابق ملتان اشیا کے تبادلے کا ایک بڑا مرکز تھا۔ ’عربی گھوڑے، خام ریشم، پھل اور خشک میوے اس کے منافع بخش درآمدی سامان میں شامل تھے۔ ملتان اپنی ضروریات کے لیے ہندوستان کے دور دراز علاقوں سے اشیا منگواتا تھا۔ دلی اور لاہور سے چینی، اور سرسوتی سے گھی درآمد کیا جاتا تھا۔ خشک میوے خراسان جیسے علاقوں سے آتے تھے۔‘

سوجن رائے بھنڈاری کی کتاب ’خلاصۃ التواریخ‘ کے مطابق عراق سے عربی نسل کے گھوڑے قندھار کے راستے ملتان لا کر فروخت کیے جاتے تھے۔ ان گھوڑوں پر سات دینار کا محصول عائد کیا جاتا تھا اور تاجروں سے لائے گئے دیگر سامان کا چوتھائی حصہ ریاست کے لیے مخصوص کر دیا جاتا تھا۔

’ملتانی تجارت کی صلاحیت سے لیس اور اثر و رسوخ کے حامل تھے‘

ضیا الدین برنی بیان کرتے ہیں کہ طویل فاصلے کی تجارت زیادہ تر ’ملتانیوں‘ کے ہاتھ میں تھی۔

برنی ’تاریخِ فیروز شاہی‘ میں لکھتے ہیں کہ یہ تاجر ملک کے ایک حصے سے دوسرے حصے تک وسیع پیمانے پر زرعی اور دیگر اشیا لے جاتے تھے کیونکہ ان کے پاس بیل گاڑیوں کا وسیع ذخیرہ تھا اور انھیں ملک کے راستوں کا گہرا علم تھا۔

’اُن کا اثر و رسوخ اتنا زیادہ تھا کہ ملتان کے ایک تاجر، حمید الدین، علاء الدین خلجی کے دور میں قاضی القضاۃ (چیف جج) کے عہدے پر فائز کیے گئے۔‘

سود پر قرض دیتے ملتانی

برنی ملتانی تاجروں کو سوداگر (بڑے تاجر) کہتے ہیں۔ وہ ملتانیوں کے سود پر قرض دینے کا ذکر بھی کرتے ہیں اور انھیں ’ساہ‘ (بڑے ہندو ساہوکار) کے زمرے میں شامل کرتے ہیں۔

’کچھ ملتانی ایجنٹ دیہات میں کاشتکاروں کو قرض دیتے اور فصل کا ایک حصہ بطور ادائیگی وصول کرتے۔ دیگر ملتانی ایجنٹ کپاس کی خریداری کرتے اور بُنے ہوئے کپڑے کے عوض قرض فراہم کرتے۔ یہ تاجر دیہی منڈیوں سے زرعی اشیا کو شہری مراکز تک پہنچاتے۔‘

’اُن کی خوشحالی کا ایک راز یہ بھی تھا کہ وہ حکمران طبقے کو قرض دیتے تھے جو یا تو موسمی آمدنی کے اُتار چڑھاؤ یا اپنی فضول خرچی کی وجہ سے اُن سے بڑی مقدار میں قرض لیتے تھے۔‘

برنی بیان کرتے ہیں کہ 1266سے 1287 تک دلی سلطنت کے حکمران غیاث الدین بلبن کے زمانے میں دلی کے ملتانی اور ساہو تاجر بے پناہ دولت کے مالک تھے جو انھوں نے دلی کے پرانے امرا اور حکام کی مالی مدد کر کے حاصل کی تھی۔

’یہ لوگ ملتانیوں اور ساہوں سے بے حد و حساب قرضے لیتے اور ان رقوم کی ادائیگی اپنے اِقطاعات (محصولی جاگیروں) پر جاری کیے گئے ڈرافٹوں کے ذریعے کرتے۔ جیسے ہی کوئی خان یا ملک مجلس منعقد کرتا اور معززین کو مہمان کے طور پر مدعو کرتا، اس کے کارندے فوراً ملتانیوں اور ساہوں کے پاس پہنچتے اور اپنے نام پر ڈرافٹ جاری کر کے سود پر قرض لیتے۔‘

ملتان کی معیشت نے مغل دور میں بھی اپنی تجارتی حیثیت برقرار رکھی۔

17 ویں صدی کے سیاح فرے سباسٹیئن منریک اپنے سفر نامے میں لکھتے ہیں کہ ملتان ایک امیر اور خوشحال شہر تھا جہاں ہر قسم کی ضروری اشیا وافر دستیاب تھیں۔ ملتان کے راستے ہندوستان کی تجارت فارس اور قندھار سے جڑی ہوئی تھی۔

بنیے گجرات، سندھ، پنجاب، راجستھان اور دریائے سندھ کے طاس میں اپنے تجارتی نیٹ ورک چلاتے تھے لیکن ملتان اُن کی شمال مغربی تجارت کا سب سے اہم مرکز تھا۔

چنانچہ 1660 کی دہائی میں فرانسیسی سیاح اور جغرافیہ دان ژاں دے تھیوینوٹ نے مشاہدہ کیا کہ اگرچہ ملتان کی سیاسی اشرافیہ اور زیادہ تر آبادی مسلمان تھی لیکن یہاں بڑی تعداد میں بنیے بھی رہتے تھے۔

انھوں نے لکھا کہ ’ملتان بنیوں کا ایک اہم تجارتی مرکز ہے جہاں سے وہ ایران میں کاروبار کرتے ہیں بالکل اسی طرح جیسے یہودی دوسرے علاقوں میں تجارت کرتے ہیں۔ لیکن بنیے ان سے کہیں زیادہ چالاک ہوتے ہیں کیونکہ اُن کی نظر سے کچھ بھی اوجھل نہیں ہوتا اور وہ کسی بھی موقعے کو ہاتھ سے جانے نہیں دیتے، چاہے وہ کتنا ہی معمولی کیوں نہ ہو۔‘

جب دریا کا راستہ خراب ہو گیا

17ویں صدی کے سیاح ژاں ڈا تھیونوٹ نے لکھا کہ ملتان کبھی بہت بڑا تجارتی مرکز تھا کیونکہ دریائے سندھ کے قریب تھا لیکن جب دریا کی گزرگاہیں خراب ہو گئیں تو تجارت میں کمی آ گئی کیونکہ زمینی نقل و حمل کے اخراجات بڑھ گئے۔

’تاہم یہ صوبہ بڑی مقدار میں کپاس پیدا کرتا ہے جس سے بے شمار کپڑے تیار کیے جاتے ہیں۔ یہاں چینی، افیون، گندھک، گال (جس سے رنگ نکالا جاتا ہے اور جو بازاروں میں اکٹھا کر کے فروخت کی جاتی ہے) بھی پیدا ہوتی ہیں۔‘

خلاصۃ التواریخ کے مطابق ’ملتان میں مختلف اقسام کے کپڑے تیار کیے جاتے تھے، اور یہاں کے رنگین چھَپے ہوئے کپڑے اعلیٰ طبقے کی خواتین میں بہت مقبول تھے۔ تحفے کے طور پر دیے جاتے تھے اور دوسرے ممالک کو برآمد کیے جاتے تھے۔‘

تھیونوٹ لکھتے ہیں کہ ’اس کے علاوہ یہاں بڑی تعداد میں اونٹ بھی پائے جاتے ہیں جنھیں غزنی اور قندھار کے راستے فارس یا خود ہندوستان میں پہنچایا جاتا ہے۔ تاہم جہاں پہلے یہ تجارتی سامان کم خرچ میں دریائے سندھ کے راستے ٹھٹھہ لے جایا جاتا تھا، جہاں مختلف ممالک کے تاجر آ کر انھیں خریدتے تھے، اب انھیں خشکی کے راستے سورت تک لے جانا پڑتا ہے، اگر بہتر قیمت حاصل کرنی ہو۔‘

ملتانی تجارت میں کمی

لیوی بتاتے ہیں کہ ملتان کی بطور سرحدی تجارتی مرکز حیثیت اس وقت کسی حد تک متاثر ہوئی جب مغلوں نے قندھار پر قبضہ کیا۔ قندھار نہ صرف ایک اہم فوجی چوکی تھا بلکہ ہندوستان، ایران قافلہ تجارتی راستوں پر سب سے بڑا تجارتی مرکز بھی تھا، جس نے ملتان کی تجارتی سرگرمیوں کو کسی حد تک پسِ پشت ڈال دیا۔

سنہ 1749سے سنہ 1849 کے درمیان ملتان کو مسلسل افغان، مراٹھا، سکھ اور آخرکار برطانوی حملوں اور قبضوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ان مسلسل حملوں نے اسے ابتدائی جدید دور کے بین الاقوامی مالیاتی مرکز سےایک علاقائی تجارتی قصبے میں تبدیل کر دیا۔

’جب اِن حملوں میں ملتان کا تجارتی ماحول خراب ہوا تو کئی ملتانی مالیاتی گھرانوں نے اپنے کاروبار کو سندھ کے ایک چھوٹے شہر شکارپور منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے کے پیچھے سب سے اہم عنصر یہ تھا کہ شکارپور درانی افغان سلطنت کے زیر اثر تھا اور ملتان کے مالیاتی ادارے درانی حکمران اشرافیہ اور افغان پووندا خانہ بدوش تاجروں سے قریبی تعلقات برقرار رکھنا چاہتے تھے۔‘

’یہ پووندا تاجر ہی ہندوستان سے وسطیٰ ایشیا اور مشرقی ایران تک بڑی مقدار میں تجارتی اجناس لے جانے کے بنیادی ذمہ دار تھے۔ چنانچہ درانی حکمرانی میں شکارپور کی سٹریٹجک حیثیت نے اسے ملتانی مالیاتی برادری کے لیے ایک متبادل تجارتی مرکز بنا دیا۔‘

ساز اگروال کی تحقیق ہے کہ یہ 1700 کی دہائی کی بات ہے جب ملتان کے تاجر منتشر ہونا شروع ہوئے، اور شکارپور، جو پہلے ہی وسطی ایشیا کی تجارت کا ایک بڑا مرکز تھا، اس تجارتی نیٹ ورک کا محور بن گیا۔ شکار پوری تاجر صرف ملتان سے نہیں بلکہ ایران، افغانستان، راجستھان، گجرات اور سندھ کے دیگر علاقوں سے بھی آئے تھے۔

’آج جو خود کو ’شکار پوری‘ کہتے ہیں، انھی کے براہ راست آباواجداد اس تجارتی نیٹ ورک کا انتظام سنبھال رہے تھے، جب تک کہ روسی انقلاب اور سوویت قبضے نے انھیں بخارا سے بے دخل نہ کر دیا۔

تاہم شکارپوری تاجر خود کو ’ملتانی‘ کہلوانے سے نہ بچا سکے یہاں تک کہ وہ کوئمبٹور جیسے دور دراز علاقوں میں بھی اسی نام سے پکارے جاتے رہے۔ تقسیم ہند کے بعد بمبئی (ممبئی) میں بسنے والے کئی سندھی بھی ’ملتانی‘ کہلانے کو قبول کرتے رہے۔‘

لیوی اپنی کتاب ’گلوبل انڈین ڈایاسپوراز‘ میں لکھتے ہیں کہ چاہے انھیں ’ملتانی‘ کہا جائے یا ’شکارپوری‘، یہ تاجر ایک منفرد مگر متحد تجارتی برادری کا حصہ تھے۔

’سنہ 1870کی دہائی میں روسی نوآبادیاتی وسطی ایشیا کے گورنر جنرل کانسٹنٹن وون کاف مین نے سلسلہ وار انقلابی پالیسیاں نافذ کیں۔ ان پالیسیوں نے ہندوستانی تاجروں کے تجارتی مفادات کو شدید نقصان پہنچایا اور انیسویں صدی کے اختتام تک وسطی ایشیا میں ہندوستانی برادریوں کا خاتمہ کر دیا گیا۔‘

’افغانستان میں ہندوستانی تاجروں کی کاروباری سرگرمیاں سنہ 1947 تک برقرار رہیں جبکہ ایران میں 18ویں صدی کی دوسری چوتھائی کے دوران پیدا ہونے والے بحرانوں کے باوجود ہندوستانی تجارتی سرگرمیاں21ویں صدی تک جاری رہیں۔ آخرکار تقسیمِ ہند کے وقت شکارپوری، ملتانی تجارتی ادارے پاکستان سے بڑے پیمانے پر انڈیا منتقل ہو گئے جہاں انھوں نے اپنی توجہ دنیا بھر میں ابھرتے نئے کاروباری مواقع پر مرکوز کر لی۔‘

لیوی کے مطابق 21ویں صدی کے آغاز تک شکارپوری، ملتانی تاجروں نے ایک وسیع عالمی تجارتی نیٹ ورک قائم کر لیا تھا جو ہانگ کانگ، منیلا، اور سنگاپور سے لے کر افریقہ، یورپ، کیریبیئن جزائر، وسطی امریکا، کینیڈا اور امریکا تک پھیلا ہوا تھا۔

سکاٹ کیمرون لیوی کی کتاب ’کیراوانز: انڈین مرچنٹس آن دی سلک روڈ‘ ملتان سے شروع ہونے والے اس تجارتی نیٹ ورک کا سراغ لگاتی ہے جو ہندوستان اور وسطی ایشیا کے درمیان متحرک رہا، یہاں تک کہ یہ روس اور چین تک پھیل گیا۔

لیوی کے مطابق 16ویں صدی کے ذرائع میں ہندوستانی برادریوں کے بخارا، سمرقند اور تاشقند کے شہری مراکز کے ساتھ ساتھ ایران کے بعض شہروں میں بڑی تعداد میں رہنے کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ پوری تجارتی برادری میں تجارت اور قرض کے کاروبار میں مصروف ہندوستانی تاجروں کی مجموعی تعداد 35,000 سے زائد تھی۔

لیوی لکھتے ہیں کہ یہ تاجر طویل عرصے تک وطن سے دور رہتے تھے لیکن اپنے گھر سے قریبی روابط برقرار رکھتے تھے۔

چند مواقع کے علاوہ ہندوستانی تاجر ہمیشہ اپنے مسلم میزبانوں کی بھرپور حفاظت سے لطف اندوز ہوتے رہے۔

’وہ نہ صرف میزبان معاشروں کو ضروری اشیا فراہم کرتے بلکہ اُن کی مقامی مصنوعات کے لیے تجارتی منڈی بھی مہیا کرتے اور سرکاری خزانے کے لیے ایک اہم ذریعہ آمدن بنتے۔ اُن کی سود پر مبنی مالیاتی سرگرمیاں میزبان ریاستوں کے زرعی محصولات میں اضافے کا باعث بنتیں اور معیشت کو نقدی کی بنیاد پر استوار کرنے میں مدد دیتیں، جس سے ٹیکس وصولی کا نظام زیادہ مؤثر ہو جاتا۔‘

’انھوں نے میزبان ریاستوں کی معیشت کو ہندوستان کی زرخیز زرعی معیشت سے جوڑ دیا اور اسے غیر ملکی منڈیوں میں سرمایہ کاری کے ایک مؤثر ذریعہ کے طور پر استعمال کیا۔‘

لیوی لکھتے ہیں کہ عارضی طور پر بیرون ملک رہنے والے یہ تاجر ملتانی کاروان سرائے جیسے رہائشی مقامات کے بنیادی مکین ہوتے۔ لیکن ان سراؤں میں صرف تاجر ہی نہیں بلکہ ہندوستانی باورچی، نائی، سنار، درزی، خدام، اور دکاندار بھی موجود ہوتے تھے جو روزمرہ کی ضروریات کا سامان بیچتے تھے بشمول مذہبی اشیا کے جو وہ دیگر ہندوستانیوں سے خریدتے تھے۔

’ان کاروان سراؤں کے اندر، انھیں کئی ایسی قانونی پابندیوں سے استثنا حاصل تھا جو عام مسلمان آبادی پر لاگو ہوتی تھیں۔ جیسے شراب نوشی اور تمباکو نوشی پر پابندی۔ ہندوؤں کو عموماً اپنےمذہبی تہوار منانے کی اجازت ہوتی تھی، مثال کے طور پر، دیوالی اور ہولی۔‘

’بعض ہندو مذہبی رسومات کے آغاز سے قبل مقامی مسلمان کسان اپنی گائیں ہندوستانی کاروان سرائے میں لاتے تھے تاکہ ہندو ان پر سرخ خشک رنگ چھڑک کر ان کے قریب دعائیں کر سکیں۔ بدلے میں ہندوان گائیوں کو بنولہ کھلاتے، جو جانوروں کے لیے ایک غیر معمولی لذت سمجھی جاتی تھی۔‘

آج، جب باکو کے ملتانی کاروان سرائے کی پرانی دیواروں میں ایک جدید ریستوران آباد ہے، تو یہ نہ صرف ایک قدیم تہذیب کی یاد دلاتا ہے بلکہ اس تعلق کا بھی گواہ ہے جو ملتان اور باکو کے بیچ صدیوں پروان چڑھتا رہا۔ کہیں اونٹوں کی گردنوں پر بجتے گھنٹوں کی مدھم آواز تجارت کے سود و زیاں کی گواہی دیتی اور کہیں چراغوں کے گرد بیٹھے تاجر مستقبل کے معاہدے طے کرتے۔

تاریخی اور ثقافتی و رثے کے طور پر یہ ملتانی کاروان سرائے آج بھی اپنی قدیم شناخت کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔

یہیں ایک چھوٹی سی راہداری میں پاکستان سے آئے ملتانی تحائف رکھے گئے ہیں، سرامک سے بنا لیمپ، گل دان، چائے کے سیٹ، کپ اور پیالے، پلیٹیں، پانی کے بوائلر، کھلے برتن اور آئینے وغیرہ۔