سیم آلٹمین: مصنوعی ذہانت کی دُنیا کے ’سپر سٹار‘ کی غیر معمولی برطرفی کیوں ہوئی؟

،تصویر کا ذریعہREUTERS
- مصنف, زوئی کیلیمن
- عہدہ, ٹیکنالوجی ایڈیٹر، بی بی سی
ٹیکنالوجی کی دنیا اب بھی صدمے کی حالت میں ہے۔
سیم آلٹمین، تیزی سے بڑھتی ہوئی مصنوعی ذہانت کی صنعت کے روشن ترین ستاروں میں سے ایک ایسے شخص جو بہت سے لوگوں کے لیے مصنوعی ذہانت کا ترجمان بن گئے تھے کو غیر معمولی طور پر جمعہ 18 نومبر کو اس کمپنی سے نکال دیا گیا جس کے وہ شریک بانی تھے۔
ایک ایسی فرم جس نے بہت سے لوگوں کو پہلی بار براہ راست مصنوعی ذہانت کے تصور سے متعارف کرایا تھا۔
جی ہاں آپ اس بات کو تسلیم کریں یا نہیں مگر مصنوعی ذہانت ہماری زندگیوں میں صدیوں سے موجود ہے، ہماری سوشل میڈیا فیڈز کو ترتیب دینا ہو، ویڈیو سٹریمنگ پلیٹ فارمز پر فلموں کی سفارش کرنی ہو کہ کونسی فلم آج دیکھی جائے یا پھر ہمارے انشورنس پریمیم کا حساب لگانے جیسے گھمبیر معاملے میں طبع آزمائی کرنی ہو، آرٹیفیشل انٹیلیجنس بہت پہلے سے یہ سب کرتی چلی آ رہی ہے۔
لیکن اے آئی ’چیٹ جی پی ٹی‘ کی آمد تک، زیادہ تر لوگوں نے اس سے پہلے کبھی اس بارے میں بات نہیں کی تھی یا اس بارے میں کوئی بات نہیں سُنی تھی۔
مصنوعی ذہانت ایک ناقابل یقین حد تک طاقتور ٹیکنالوجی ہے۔ یہ ایک بُری فلم کی کہانی کی طرح لگتا ہے لیکن بہت سے ماہرین انتہائی سنجیدگی سے اس بات کا اظہار کر رہے ہیں کہ یا تو یہ دنیا کی بقا یا پھر اس کی تباہی اور خاتمے کی وجہ بن سکتی ہے۔
اب معاملات نازک صورتحال سے گُزر رہے ہیں کیونکہ سیم آلٹمین کا شمار اُن لوگوں میں ہوتا رہا ہے کہ جن کے ہاتھوں میں اس ٹیکنالوجی اور دُنیا کا مستقبل ہے۔
چیٹ جی پی ٹی بوٹ کے پیچھے کام کرنے والی کمپنی اوپن اے آئی سے سیم آلٹمین کی برطرفی نا قابلِ یقین حد تک اچانک سامنے آئی بلکہ یہ ڈرامائی بھی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ کہنا مناسب ہوگا کہ جب یہ خبر سامنے آئی تو میرا فون پھٹ گیا، کیونکہ ٹیک کمیونٹی اور صحافی اس سب کو سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے کہ یہ سب کیا اور کیوں ہوا ہے۔
ٹیکنالوجی کمپنی اوپن اے آئی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے سیم کی برطرفی کے بعد ایک بیان میں کہا کہ ’اُن کا ماننا ہے کہ وہ (سیم) ان کے ساتھ ’کُھل کر بات چیت نہیں کرتے تھے‘ اور اسی وجہ سے وہ اُن کی قیادت پر ’اعتماد کھو چکے‘ تھے۔
افواہیں تو بے شمار گردش کر رہی ہیں لیکن ابھی تک مزید حقائق سامنے نہیں آئے ہیں۔
ٹیکنالوجی کمپنیز میں ایسا نہیں کہ کسی کو اس بارے میں علم نہیں ہے کہ ایک دفاتر میں کام کا ماحول سازگار نہیں بلکہ زہریلا ہو چُکا ہے جو کسی بھی باس یا دفتر کے سربراہ کے زوال کا سبب بن سکتا ہے۔
کیا خود ٹیکنالوجی کمپنی کے ساتھ کوئی مسئلہ ہے؟ چند روز قبل سیم آلٹمین نے چیٹ جی پی ٹی کے بارے میں لکھا تھا کہ وہ ’طلب میں اضافے‘ کو پورا کرنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے اور اسے اپنی اعلیٰ سطح کی سبسکرپشن سروس کے لیے سائن اپ روکنا پڑ رہا ہے۔ کیا یہ برطرفی کا سامنا کرنے کے لیے کافی ہے؟

،تصویر کا ذریعہEPA-EFE/REX/SHUTTERSTOCK
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ان کے شریک بانی گریگ بروکمین، جنھیں سیم آلٹمین کے چند منٹ بعد ہی بورڈ سے برخاست کر دیا گیا تھا نے کہا کہ دونوں افراد حیران ہیں کہ یہ اچانک کیسے ہوا۔
اس کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں صرف چھ افراد ہیں جن میں سیم آلٹمین اور مسٹر آلٹ مین شامل تھے۔ تو اس کا مطاب یہ ہوا کہ ان دونوں کے خلاف فیصلہ صرف چار لوگوں نے کیا تھا۔ لیکن ایسا ہوا کیا کہ اس چھوٹے سے گروپ کو اتنی جلدی یہ فیصلہ لینا پڑا یا یہ سب یہ فیصلہ لینے پر مجبور ہوئے؟
سیم آلٹمین، جو اب اوپن اے آئی کے سابق سی ای او ہیں، نے عالمی رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے طاقتور ٹیکنالوجی سے پیدا ہونے والے خطرات اور فوائد کے بارے میں تبادلہ خیال کیا تھا۔
انھوں نے یاد دلایا کہ ’مصنوعی ذہانت ’ایک آلہ ہے نہ کہ مخلوق‘ اور یہ ایک دن قابو سے باہر ہوسکتا ہے۔‘
صرف دو ہفتے قبل وہ دنیا کے پہلے مصنوعی ذہانت کے تحفظ کے سربراہ اجلاس میں تقریباً 100 عالمی مندوبین میں سے ایک کی حیثیت سے برطانیہ میں تھے۔ انھوں نے گذشتہ ہفتے اپنی کمپنی اور اس کی ٹیکنالوجی کے مستقبل کے بارے میں ایک تقریر کی تھی۔
مجھے لگتا ہے کہ یہ کہنے میں کوئی ہرج نہیں کہ سیم آلٹمین کو واقعی اندازہ نہیں تھا کہ کیا ہونے والا ہے۔
سلیکون ویلی کے بڑے نام اب تک سیم آلٹمین کی حمایت کرتے رہے ہیں، جن میں گوگل کے سابق سی ای او ایرک شمٹ بھی شامل ہیں، جنھوں نے انھیں ’ہیرو‘ قرار دیا تھا۔
مائیکروسافٹ کے سربراہ ستیہ نڈیلا نے کہا کہ ’انھیں کمپنی پر ’اعتماد‘ ہے۔ ٹھیک ہے، انھیں اس کی ضرورت ہے، مائیکروسافٹ نے اس میں اربوں کی سرمایہ کاری کی ہے، اور چیٹ جی پی ٹی کی بنیاد رکھنے والی ٹیکنالوجی اب مائیکروسافٹ کے آفس ایپس میں شامل ہے۔‘
ایک کردار جو اب تک غیر معمولی طور پر خاموش رہا ہے وہ ایلون مسک ہے۔ انھوں نے اور سیم آلٹمین نے دیگر لوگوں کے ساتھ مل کر اوپن اے آئی کی بنیاد رکھی تھی، لیکن کہا جاتا ہے کہ وہ اسے غیر منافع بخش ہونے سے دور رکھنے کے فیصلے پر ناراض ہو گئے تھے۔
افواہیں تو یہ بھی گردش کر رہی ہیں کہ یہ وہی مسئلہ ہے جس نے اب ایک بار پھر فرم کے اندر رائے کو تقسیم کردیا ہے۔
ایلون مسک کی کمپنی ایکس، جو پہلے ٹوئٹر تھی، نے گروک کے نام سے ایک نیا چیٹ بوٹ جاری کیا ہے۔ شاید وہ اس بات سے ناخوش نہیں ہیں کہ اوپن اے آئی کچھ عرصے کے لیے اپنے ہی بنائے جانے والے ڈرامے سے تھوڑا سا بھٹکا ہوا ہے۔
اس دوران عبوری سی ای او کا عہدہ سنبھالنے کی ذمہ داری چیف ٹیکنالوجی آفیسر میرا مورتی پر عائد ہوتی ہے۔ ٹیکنالوجی کی دنیا ایک چھوٹی سی ہے، وہ پہلے مسک کی کار فرم ٹیسلا میں کام کرتی تھیں۔
کیا اب وہ اس ڈولتی کشتی کو سنبھال پائیں گی؟











