آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
عمران خان اور تحریک انصاف کے کارکن ’حقیقی آزادی مارچ‘ سے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟
- مصنف, ترہب اصغر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
- مقام, لاہور
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد سے اپوزیشن کی سیاست کر رہے ہیں۔ کبھی اتحادی حکومت سے پنجاب کی وزارتِ عظمیٰ چھین کر تو کبھی ضمنی انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے ’اپنی سیاست، جماعت اور کارکنوں کو متحرک رکھے ہوئے ہیں۔
عمران خان نے اقتدار سے اُترنے کے فوراً بعد ہی ملک میں ’رجیم چینج‘ اور امپورٹڈ حکومت کا نعرہ لگایا اور قبل از انتخابات کا مطالبہ کر دیا۔
اس تمام سیاسی ہلچل کے دوران پی ٹی آئی اور مقتدر حلقوں کے مابین کچھ پس پردہ مذاکرات کی گونج بھی سنائی دی اور اسی دوران اسٹیبلشمنٹ کے خلاف سخت تنقید بھی کی گئی۔
اب 28 اکتوبر سے عمران خان صوبائی دارالحکومت لاہور سے شروع ہونے ہونے والے لانگ مارچ کی قیادت کر رہے ہیں، اس لانگ مارچ کا نام انھوں نے ’حقیقی آزادی مارچ‘ دیا ہے۔
عمران خان کا ’حقیقی آزادی مارچ‘ گذشتہ چھ روز سے آہستہ آہستہ دارالحکومت اسلام آباد کی طرف بڑھ رہا ہے۔
جمعرات کو یہ مارچ اپنا سفر گھکڑ سے گجرات تک کرے گا اور پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ یہ 11 نومبر کو اسلام آباد پہنچے گا۔ مگر عمران خان اور ان کے حامی جس حقیقی آزادی کی بات کر رہے ہیں اور جسے حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے وہ آخر ہے کیا؟
لانگ مارچ کا مقصد کیا ہے اور کیا یہ مارچ کامیاب ہو سکے گا؟
’فوری الیکشن‘، ’قوم کی آزادی‘، ’کرپشن‘، ’احتساب‘، ’فوج‘ اور ’عدلیہ‘۔ یہ وہ الفاظ ہیں جو عمران خان اپنی تقریروں اور میڈیا کو دیے گئے انٹرویوز میں بار بار استعمال کر رہے ہیں۔
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران کی جانب سے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ آپ کے اس مارچ کا مقصد کیا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ میں اپنی قوم کو آزادی دلوانا چاہتا ہوں اور ہمارا مطالبہ ہے کہ فوری الیکشن کروائے جائیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ اگر آپ اپنے مطالبات منوانے میں کامیاب نہ ہوئے تو اگلا لائحہ عمل کیا ہو گا؟ اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ تحریک تو کبھی ختم نہیں ہوتی، یہ لوگوں کو باہر نکالنے کا ایک طریقہ ہے۔
پی ٹی آئی کے حامی و کارکنوں کے لیے حقیقی آزادی مارچ کیا ہے؟
لاہور کی رہائشی تنزیلہ عمران خان کے بیانیے اور تحریک انصاف کی حامی ہیں اور وہ آج کل روزانہ لاہور سے عمران خان کے لانگ مارچ میں شریک ہونے جاتی ہیں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ یہ سب کیوں کر رہی ہیں تو اُن کا کہنا تھا کہ یہ سب اس لیے ہے تاکہ ان کی آنے والی نسلیں اور پاکستان کا مستقبل سنور سکے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’امریکہ کی طرف سے سائفر اور پھر ایٹمی ہتھیاروں پر بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہمارا ملک غلامی کا شکار ہے اور ہم اس غلامی خلاف ہی نکلے ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’اگر ہماری خود مختاری اور آزادی کی بات عمران خان کے علاوہ کوئی بھی کرتا تو ہم اس کا ساتھ دیتے لیکن کسی نے ایسی بات نہیں گی۔اس لیے اگر عمران خان ایک سال تک بھی مارچ کا کہیں گے تو ہم ان کا ساتھ دیں گے کیونکہ وہ ہماری جنگ لڑ رہے ہیں۔‘
تنزیلہ واحد خاتون نہیں جو اپنا گھر بار، بچے اور معمول کے دیگر کام چھوڑ کر لانگ مارچ میں شرکت کے لیے جاتی ہیں۔
عالیہ بھی اس لانگ مارچ کی حامی ہیں اور ان کے مطابق دو ہفتوں بعد ان کی شادی ہے لیکن وہ اپنے تمام گھر والوں کے ساتھ اسلام آباد تک اس مارچ کا حصہ بننا چاہتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
ان سے جب یہ سوال کیا گیا کہ اس مارچ کا مقصد کیا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ عوام کا منتخب نمائندہ وزیر اعظم بنے اور وہی نئے آرمی چیف کا انتخاب کرے۔
’عمران خان اسٹیبلشمنٹ کو وقت دے رہے ہیں‘
تحریک انصاف کی سیاست اور عمران خان کے حالیہ بیانات پر تبصرہ کرتے ہوئے تجزیہ نگار ندا نکی کا کہنا تھا کہ عمران خان کا لوگوں کے لیے ظاہری مطالبہ یہ ہے کہ فوری الیکشن کروائے جائیں لیکن اس ظاہری مطالبے کے پیچھے ان کا پوشیدہ مطالبہ آرمی چیف کی تعیناتی ہے۔
فوری الیکشن کی بات وہ اس دن سے کر رہے ہیں جس دن سے انھیں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ہٹایا گیا تھا۔ تاہم آرمی چیف کی تعیناتی کو انھوں نے باقاعدہ مطالبے کے طور پر پہلے پیش نہیں کیا۔
وہ کہتی ہیں کہ انھوں نے اس بارے میں پہلے ایک انٹرویو میں بات کی اور یہ تجویز دی کہ نیا وزیر اعظم ہی نئے فوجی سربراہ کی تعیناتی کرے۔ ساتھ ہی وہ یہ بھی سمجھتے ہیں موجودہ حکومت نئے آرمی چیف کی تعیناتی میرٹ پر نہیں کر سکتی ہے۔
ندا نکی کا کہنا تھا کہ ’ایک جانب تحریک انصاف کے متعدد رہنما عوام کو یہ تاثر دے رہے ہیں کہ آرمی چیف کی تعیناتی سے کوئی اثر نہیں پڑتا ہے تو دوسری طرف وہ بار بار اسلام آباد پہنچنے کی تاریخ تبدیل کر رہے ہیں۔ جس سے سمجھ یہ آتا ہے کہ وہ حکومت کو وقت دے رہے ہیں۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ اصل میں وہ اسٹیبلیشمنٹ کو وقت دے رہے ہیں۔‘
’وہ آہستہ آہستہ اسلام آباد کی طرف بڑھ رہے ہیں اور وہ بار بار یہ بتا رہے ہیں کہ اگر آپ نے میرے مطالبات نہ ماننے تو میں اسلام آباد داخل ہو جاؤں گا۔‘
ندا نکی کے مطابق انھوں لانگ مارچ کا اعلان کرنے سے قبل وہ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ جب ایک بار لوگ سٹرکوں پر نکل آتے ہیں تو ان کو کوئی نہیں روک سکتا۔
وہ کہتی ہیں کہ اس کے بعد ان کی ایک مبینہ آڈیو لیک بھی آئی اور پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں نے یہ بھی کہا کہ ہم اپنے بچاؤ کے لیے لائسنس یافتہ اسلحہ لے کر آئے ہیں۔
’وہ بار بار اسٹیبلشمنٹ کو وقت دے رہے ہیں کہ آپ ہم سے بات کریں اور ہمارے مطالبات مانیں۔ تاہم اس پہلے جب خبریں آئی تھیں کہ مذاکرات ہو رہے ہیں لیکن وہ کامیاب نہیں ہوئے جس کے بعد ہی انھوں نے لانگ مارچ کا آغاز کیا۔‘