آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
اصل ہاتھی کی جگہ روبوٹ ہاتھی نے مندر میں رسومات ادا کرنے میں مدد کی
انڈیا کی جنوبی ریاست کیرالہ کے ایک مندر نے رسومات ادا کرنے کے لیے اصل ہاتھی کی جگہ ایک مشینی ہاتھی متعارف کرایا ہے۔
تھریسور ضلع کے ارنجادپلی سری کرشنا مندر میں یہ روبوٹ ہاتھی متعارف کرایا جا رہا ہے۔ حکام کی طرف سے یہ اقدام کسی بھی تہوار کے لیے جانوروں کے استعمال کو بند کرنے کے ان کے عہد کا حصہ ہے۔
ہاتھی کے اس ماڈل کو جانوروں کی فلاحی تنظیم پیپل فار ایتھیکل ٹریٹمنٹ آف اینیملز (پیٹا) انڈیا اور اداکارہ پاروتی تھرووتھو نے عطیہ کیا ہے۔
انھوں نے امید ظاہر کی کہ اس سے جانوروں پر ’مظالم سے پاک‘ رسومات منعقد کرنے میں مدد ملے گی۔
زنجیروں میں جکڑے، زینوں میں بندھے اور سجے ہوئے ہاتھی کیرالہ کے مندروں میں تہواروں کے دوران اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس ریاست میں ملک کے تقریباً 2500 قیدی یا پالتو ہاتھیوں میں سے تقریباً 500 ہاتھی ہیں۔
کئی سالوں سے جانوروں کی بہبود کے لیے کام کرنے والوں نے ان کے ساتھ روا سلوک کے بارے میں خدشات ظاہر کیے ہیں۔ سینٹر فار ریسرچ آن اینیمل رائٹس نامی ادارے نے پچھلے ہفتے ریاست کے وزیر اعلیٰ کو ہاتھیوں کی بڑھتی ہوئی اموات کے بارے میں لکھا تھا کہ کیرالہ میں 2018 سے 2023 کے درمیان 138 قیدی یا پالتو ہاتھی ہلاک ہو چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سوموار کو جاری کردہ ایک بیان میں پیٹا نے کہا کہ تہواروں کے دوران انتہائی اونچے شور میں زندہ ہاتھیوں سے کام لینا بھی ’ظالمانہ‘ ہے اور ریاست کے تمام مندروں پر زور دیا کہ وہ اس کے بجائے میکینیکل ہاتھیوں کا استعمال کریں۔
تنظیم نے مزید کہا ’اب وقت آگیا ہے کہ ہم اس طرح کے بدسلوکی کو روکنے کے لیے مضبوط اور زیادہ مؤثر پیش رفت کریں تاکہ جانور باعزت اور باوقار زندگی گزار سکیں۔‘
انڈین ایکسپریس اخبار کے مطابق پیٹا کی طرف سے عطیہ کردہ ہاتھی کا ماڈل 11 فٹ (3.3 میٹر) لمبا، 800 کلوگرام وزنی ہے اور اسے لوہے کے فریم سے بنایا گیا ہے۔
مندر کے پجاری راج کمار نمبوتھری نے انڈین ایکسپریس اخبار کو بتایا کہ مندر کے اہلکار مکینیکل ہاتھی سے خوش ہیں۔
نمبوتھری نے کہا ’ہمیں امید ہے کہ دوسرے مندر بھی ہاتھیوں کی جگہ روبوٹک ہاتھیوں کو اپنی رسومات کے لیے استعمال کرنے کے بارے میں سوچیں گے۔‘