آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, امریکی فوج کے چیف آف سٹاف ریٹائر جبکہ اٹارنی جنرل پام بونڈی کو عہدے سے ہٹا دیا گیا: کرج پُل پر امریکی حملے میں آٹھ ہلاکتیں

امریکی محکمہ دفاع نے فوج کے چیف آف سٹاف کی ریٹائرمنٹ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’جنرل رینڈی فوری طور پر امریکی فوج کے 41ویں چیف آف سٹاف کے عہدے سے ریٹائر ہو رہے ہیں۔‘ دوسری جانب کرج شہر کو تہران سے ملانے والے بڑے پُل پر امریکی حملے کے بعد ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ’سویلین مقامات بشمول زیر تعمیر پُلوں پر حملے ایرانیوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہیں کر سکتے۔‘

خلاصہ

  • امریکی محکمہ دفاع نے فوج کے چیف آف سٹاف جنرل رینڈی جارج کی ریٹائرمنٹ کی تصدیق کر دی ہے
  • سی بی ایس نیوز کے مطابق امریکی سیکریٹری دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے آرمی چیف جنرل رینڈی جارج کو عہدہ چھوڑنے کے احکامات جاری کیے تھے
  • صدر ٹرمپ نے امریکی اٹارنی جنرل پام بونڈی کو عہدے سے ہٹا دیا ہے
  • مشرقِ وسطیٰ کے بلند ترین پُل پر امریکی حملے میں آٹھ ہلاکتیں: 'زیر تعمیر پُلوں پر حملے ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہیں کر سکتے،' ایرانی وزیر خارجہ
  • اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا امریکہ اور اسرائیل سے جنگ روکنے کا مطالبہ

لائیو کوریج

  1. سعودی عرب کا جمعرات سے اب تک پانچ ڈرون حملے ناکام بنانے کا دعویٰ

    سعودی عرب کا کہنا ہے کہ جمعرات سے اب تک پانچ ڈرون حملوں کو ناکام بنایا جا چُکا ہے۔

    سعودی عرب کی وزارتِ دفاع کی جانب سے سامنے آنے والے ایک حالیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب ایک ڈورن حملے کو ناکام بنایا گیا۔ تاہم وزارت کی جانب سے ایکس پر سامنے آنے والے اس بیان میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

    اس سے قبل بھی یہ بتایا گیا تھا کہ جمعرات کے روز چار ڈرونز کو روکا گیا اور انھیں فضا میں حملے سے قبل ہی تباہ کر دیا گیا تھا۔

  2. ایران کا ایف 35 جنگی طیارہ مار گرانے کا دعویٰ

    ایران کے خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر کی جانب سے جاری ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کی فضائی حدود میں ایک ایف 35 جنگی طیارے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر کے ترجمان کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے اپنے ایک اعلان میں دعویٰ کیا ہے کہ ایک ایف 35 جنگی طیارہ ’وسطی ایران کی فضاؤں میں‘ نشانہ بنائے جانے کے بعد ’گر کر تباہ‘ ہو گیا ہے۔

    ایرانی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ اس جنگی طیارے کو ’پاسدارانِ انقلاب کے جدید فضائی دفاعی نظام‘ کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ہے۔

    ایران کے خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر نے دعویٰ کیا ہے کہ ’طیارے پر حملے کے وقت اور گرنے کے دوران شدید دھماکے کے باعث اس بات کا امکان کم ہے کہ پائلٹ باہر نکلنے میں کامیاب ہوا ہو۔‘

    امریکی اور اسرائیلی افواج کی قیادت کی جانب سے تاحال اس خبر پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا، تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ نے کل ایران کے اس دعوے کی تردید کی تھی جس میں قشم جزیرے کے قریب ایک جنگی طیارہ مار گرانے کا کہا گیا تھا۔

    اس سے تقریباً دو ہفتے قبل بھی ایران نے ایک ایف 35 جنگی طیارے کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا تھا، جس پر امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا تھا کہ ’ایک امریکی ایف 35 جنگی مشن مکمل کرنے کے بعد ایران کے اوپر پرواز کے دوران کسی مسئلے کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کے ایک اڈے پر ہنگامی لینڈنگ پر مجبور ہوا تھا۔‘

  3. سنجیدہ ہونا ضروری ہے اور یہ بھی کہ روزانہ نہ بولا جائے: میکخواں کا ایران جنگ پر ٹرمپ کے مؤقف پر تنقید

    فرانس کے صدر ایمانویل میکخواں کی شادی سے متعلق امریکی صدر ٹرمپ کے تبصروں کو فرانس میں غیر معمولی طور پر سخت ردِعمل کا سامنا کرنا پڑا، یہاں تک کہ میکخراں کے سخت ناقدین بھی ان کے دفاع میں سامنے آ گئے۔

    سخت بائیں بازو کی جماعت فرانس اُنبوڈ کے رہنما مینوئل بومپارڈ نے کہا کہ ’ڈونلڈ ٹرمپ کا ان کے بارے میں اس انداز میں بات کرنا اور ان کی اہلیہ کے بارے میں اس طرح کے الفاظ استعمال کرنا بالکل ناقابلِ قبول ہے۔‘

    بدھ کے روز ایک نجی ظہرانے کے دوران ٹرمپ نے فرانسیسی لہجے میں باتے کرنے کی کوشش کرتے ہوئے میکخواں کا مذاق اڑایا اور کہا کہ ان کی اہلیہ بریجیت ’ان کے ساتھ نہایت برا سلوک کرتی ہیں‘ اور یہ کہ میکخواں ابھی تک ’اپنے دائیں جانب کے جبڑے پر لگنے والے چوٹ سے سنبھلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

    غالباً ٹرمپ کا اشارہ سنہ 2025 کی اُس ایک ویڈیو کی جانب تھا جس میں میکخواں کو اُن کی اہلیہ بریجیت کی جانب سے ویتنام کے دورے کے دوران جہاز سے اُترنے سے قبل چہرے پر دونوں ہاتھوں سے دھکا دیتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔

    میکخواں نے امریکی صدر کے اس بیان اور اُن کی اہلیہ سے متعلق ان تبصروں کو ’غیر مہذب اور اس قابل قرار نہیں دیا کہ ان پر کوئی تبصرہ کیا جائے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’امریکی صدر کا بیان اس قابل نہیں کہ اُن کا جواب نہیں دوں۔‘

    فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں نے کہا ہے کہ ایران کی جنگ کے لیے ایک ’سنجیدہ‘ رویے کی ضرورت ہے، ایسا رویہ جو روزانہ تبدیل نہ ہو۔ یہ بیان بظاہر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس تنازع پر متضاد بیانات کے حوالے سے دیا گیا ہے۔

    جنوبی کوریا کے سرکاری دورے کے لیے پہنچنے پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے میکخواں نے کہا کہ ’یہ کوئی تماشہ نہیں ہے۔ ہم جنگ اور امن، مردوں اور خواتین کی جانوں کی بات کر رہے ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’جب آپ سنجیدہ ہونا چاہتے ہیں تو ہر روز اس کے برعکس بات نہیں کرتے جو آپ نے ایک دن پہلے کہی ہو۔‘

    میکخواں نے مزید کہا کہ ’شاید یہ بھی ضروری نہیں کہ آپ ہر روز بولیں۔ بہتر ہے کہ معاملات کو کچھ دیر کے لیے ٹھنڈا ہونے دیا جائے۔‘

    میکخواں یہ بات ایران میں امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ سے متعلق سوالات کے جواب میں کہہ رہے تھے، جو اب اپنے دوسرے ماہ میں داخل ہو چکی ہے۔ فرانس اور دیگر یورپی ممالک نے خطے میں امریکہ کی بعض کارروائیوں کی حمایت کی ہے، تاہم اب تک انھوں نے خود کو اس جنگ میں براہِ راست گھسیٹے جانے سے دور رکھا ہوا ہے۔

    دوسری جانب ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کی جانب سے اس تنازع پر اب تک ملے جلے پیغامات سامنے آئے ہیں۔ مختلف مواقع پر یہ عندیہ دیا گیا کہ جنگ بندی قریب ہے، کہیں کہا گیا کہ جنگ پہلے ہی جیتی جا چکی ہے اور کہیں یہ تاثر دیا گیا کہ امریکہ لڑائی جاری رکھے گا۔

  4. ایران کو ہنگامی طبی آلات کی ممکنہ قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے: ریڈ کراس

    ایران میں بین الاقوامی امدادی تنظیم ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ فیڈریشن کے نمائندہ وفد کے سربراہ نے جمعرات کے روز کہا ہے کہ ایران میں ہنگامی طبی ضروریات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور اگر جنگ جاری رہی تو ٹراما کِٹس اور دیگر طبی سازوسامان کے ذخائر ختم ہو سکتے ہیں جس کی وجہ سے مُشکلات کے شکار ایرانی عوام کو مزید مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    ادارے کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں کے آغاز کے بعد سے اب تک 1900 سے زائد افراد ہلاک اور 21 ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔

  5. ٹرمپ نے امریکی اٹارنی جنرل پام بانڈی کو عہدے سے ہٹا دیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اٹارنی جنرل پام بونڈی کو امریکہ کی اعلیٰ ترین قانون نافذ کرنے والی عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ اٹارنی جنرل پام بونڈی صدر ٹرمپ کی دیرینہ اتحادی اور ان کی انتظامیہ کی مضبوط حمایتی رہی ہیں۔

    ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں ان کی تعریف کی اور کہا کہ وہ نجی شعبے میں ایک کردار کی طرف ’منتقل‘ ہو رہی ہیں۔

    بونڈی کا محکمہ انصاف کی سربراہی کا دور اکثر جیفری ایپسٹین سے متعلق فائلوں کے اجرا اور اس مجرم جنسی مجرم کی تحقیقات کے معاملے کی وجہ سے زیرِ سایہ رہا۔

    وہ حالیہ ہفتوں میں ٹرمپ انتظامیہ کی دوسری عہدیدار ہیں جنھیں عہدے سے ہٹایا گیا، اس سے پہلے مارچ میں کرسٹی نوم کو ہوم لینڈ سکیورٹی کے سربراہ کے طور پر ہٹا دیا گیا تھا۔ بونڈی کی جگہ ان کے سابق نائب ٹوڈ بلانش لیں گے۔

    بونڈی نے کہا کہ وہ بلانش کو اپنا کام منتقل کرنے کے لیے تیار ہیں اور مزید کہا کہ یہ عہدہ ان کی زندگی کا ’اعزاز‘ رہا ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ اپنے نئے نجی شعبے کے عہدے میں جس کی انھوں نے نشاندہی نہیں کی وہ ’صدر ٹرمپ اور اس انتظامیہ کے لیے لڑائی جاری رکھیں گی۔‘

    یہ اعلان اس جارحانہ کانگریسی سماعت کے دو ماہ سے بھی کم عرصے بعد سامنے آیا ہے جس میں بونڈی سے قانون سازوں نے سخت سوالات کیے اور اس دوران معاملہ چیخ و پکار تک جا پہنچا جہاں انھوں نے ایک ڈیموکریٹ کو ’ناکام اور بیکار شخص‘ تک کہہ دیا تھا۔

    جمعرات کی صبح تک بھی ٹرمپ بونڈی کا دفاع کر رہے تھے اور انھوں نے کہا کہ ’وہ ایک شاندار شخصیت کی مالک ہیں اور وہ اچھا کام کر رہی ہیں۔‘

  6. امریکہ اور اسرائیلی فوج کے تہران، کرج، قم، بندرعباس اور ایران کے دیگر علاقوں پر حملے

    اطلاعات کے مطابق اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران کے مختلف علاقوں میں رات بھر شدید حملے جاری رہے۔

    سوشل میڈیا صارفین اور ذرائع ابلاغ نے گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران مغربی تہران، ملارد، پارچین، کرج، مہرشہر، شہریار، بندرعباس، بہبہان، برازجان اور بوشہر میں دھماکوں کی اطلاعات دی ہیں۔

    اسی طرح تبریز، شیراز اور قم میں بھی دھماکوں اور حملوں کی خبریں سامنے آئی ہیں۔

    جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب ہونے والے ان حملوں کے دائرہ کار اور اہداف سے متعلق مزید معلومات موصول نہیں ہوئیں۔

  7. پاسدارانِ انقلاب کا دبئی میں امریکی ٹیکنالوجی کمپنی اوریکل کے ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے دبئی میں امریکی ٹیکنالوجی کمپنی اوریکل کے ایک ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنایا ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب کے مطابق یہ حملہ گزشتہ روز کمال خرازی اور ان کی اہلیہ کے قتل کی کوشش کے جواب میں کیا گیا۔

    تاہم دبئی انتظامیہ نے ایران کی جانب سے اوراکل کمپنی پر حملے کے دعوے کی تردید کی ہے۔

    ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ اس حملے میں کمال خرازی زخمی ہوئے جبکہ ان کی اہلیہ ہلاک ہو گئیں۔

    یہ کارروائیاں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں سامنے آئی ہیں، اس کے بعد کہ پاسدارانے انقلاب نے اس سے قبل امریکہ کی 18 بڑی ٹیکنالوجی اور صنعتی کمپنیوں کی ایک فہرست جاری کی تھی جن میں مائیکروسافٹ، گوگل، ایپل، میٹا، انٹیل، آئی بی ایم، ٹیسلا اور بوئنگ شامل ہیں اور انھیں مشرقِ وسطیٰ میں اپنی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کی دھمکی دی گئی تھی۔

    پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے ایک بیان میں کہا کہ ’جیسا کہ ہم پہلے خبردار کر چکے تھے، ایرانی شخصیات کے قتل کے بدلے میں ہم اُن جاسوس ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں کو نشانہ بنائیں گے جو دشمن کی دہشت گردانہ کارروائیوں کی بنیاد ہیں۔۔۔ آج بھی ڈاکٹر خرازی اور ان کی اہلیہ کے قتل کے جواب میں متحدہ عرب امارات میں قائم امریکی کمپنی اوریکل کے ڈیٹا سینٹر اور کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔‘

    اس سے قبل بھی پاسدارانِ انقلاب یہ دعویٰ کر چکی ہے کہ اس نے بحرین میں ایمیزون کے ایک کلاؤڈ کمپیوٹنگ سینٹر کو نشانہ بنایا تھا۔

  8. امریکی محکمہ دفاع نے فوج کے چیف آف سٹاف کی ریٹائرمنٹ کی تصدیق کر دی

    امریکی محکمہ دفاع نے فوج کے چیف آف سٹاف جنرل رینڈی جارج کی ریٹائرمنٹ کی تصدیق کر دی ہے۔

    پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا کہ: ’جنرل رینڈی اے جارج فوری طور پر امریکی فوج کے 41ویں چیف آف سٹاف کے عہدے سے ریٹائر ہو رہے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ محکمہ دفاع جنرل جارج کی دہائیوں پر محیط خدمات پر ان کا شکر گزار ہے۔

    خیال رہے اس سے قبل امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر ادارے سی بی ایس نیوز کو ذرائع نے بتایا ہے کہ سیکریٹری دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے فوج کے چیف آف سٹاف جنرل رینڈی جارج کو عہدہ چھوڑنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔

    ایک ذریعے نے سی بی ایس کو بتایا کہ ہیگسیتھ چاہتے ہیں کہ جنرل رینڈی جارج کی جگہ ایسا افسر اس عہدے پر لایا جائے جو امریکی فوج کے لیے صدر ٹرمپ اور ان کے وژن پر عملدرآمد کرے۔

    سی بی ایس نیوز کے مطابق اب تک سیکریٹری دفاع ایک درجن سے زیادہ سینیئر فوجی افسران کو ان کے عہدوں سے ہٹا چکے ہیں۔

  9. آبنائے ہرمز دوبارہ کھلوانے کے لیے محض طاقت کا استعمال مؤثر ثابت نہیں ہوگا, فرینک گارڈنر، نامہ نگار برائے سکیورٹی امور

    اس جنگ نے آبنائے ہرمز کو جس ابتر صورتحال کی طرف دھکیل دیا ہے، اس کی بحالی یقیناً ایک نازک اور پیچیدہ کام ہوگا۔

    ایران آبنائے کے بالمقابل ساحلی پٹی کے بڑے حصے پر قابض ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ چاہے تو کم ٹیکنالوجی والے بے شمار ہتھیار چھپا سکتا ہے، جن کی مدد سے جہازوں پر اچانک حملے کیے جا سکتے ہیں۔

    بحری افواج اپنے جنگی جہاز اس ساحلی پٹی کے بہت قریب بھیجنا نہیں چاہتیں کیونکہ انھیں وہاں حملے کا خدشہ ہے۔

    لہٰذا زیادہ تر عسکری تجزیہ کار اس بات پر متفق ہیں کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے کے لیے محض طاقت کا استعمال مؤثر ثابت نہیں ہوگا۔ یہ کام مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہوگا، غالباً کسی تیسرے فریق مثلاً پاکستان کی وساطت سے اور اس کے لیے تہران کی رضا مندی درکار ہوگی۔

    یہ ایران کے دشمنوں کے لیے ایک کڑوی حقیقت ہوگی۔

    امریکہ اور اسرائیل کی 34 دنوں سے جاری تباہ کن فضائی بمباری ایرانی حکومت کا تختہ الٹنے میں ناکام رہی ہے اور وہ جتنے دن برقرار رہے گی اتنا ہی اس کا عزم مزید مضبوط ہوتا جائے گا۔

    ایران کسی بھی قسم کی رعایت دینے کے موڈ میں نہیں ہے، اس لیے ممکن ہے کہ وہ تمام جہازوں کو دوبارہ بحفاظت گزرنے کی اجازت دینے سے پہلے زیادہ قیمت وصول کرنے کا فیصلہ کرے، چاہے وہ مالی لحاظ سے ہو یا سٹریٹجک لحاظ سے۔

  10. زیر تعمیر پُلوں پر حملے ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہیں کر سکتے: ایرانی وزیر خارجہ

    ایران کے شہر کرج میں ایک پُل پر حملے کے بعد اپنے بیان میں وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ’سویلین مقامات بشمول زیر تعمیر پُلوں پر حملے ایرانیوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہیں کر سکتے۔‘

    خیال رہے اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پُل پر حملے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی تھی اور کہا تھا کہ: ایران کا ’سب سے بڑا پُل زمین بوس ہو گیا ہے، اب کبھی استعمال کے قابل نہیں رہے گا، آگے اور بھی بہت کچھ ہونے والا ہے۔‘

    کرج میں پُل پر حملے کا حوالہ دیتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ: ’یہ (حملے) صرف انتشار کا شکار دشمن کی شکست اور اخلاقی زوال کو ظاہر کرتے ہیں۔ ہر پُل اور ہر عمارت پہلے سے زیادہ مضبوط بنا لی جائے گی، مگر جو چیز کبھی بحال نہیں ہو سکے گی وہ امریکہ کی ساکھ کو پہنچنے والا نقصان ہے۔‘

  11. کرج میں پُل پر حملے کے بعد ہلاکتوں کی تعداد آٹھ ہوگئی: ایرانی عہدیدار, غنچے حبیبی آزاد، بی بی سی فارسی

    ایران کے شہر کرج میں ایک پُل پر حملے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد آٹھ ہو گئی ہے۔

    البرز کے گورنر کے دفتر کے ایک عہدیدار قدرت اللہ سیف نے ان ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے ان حملوں کو ’خوفناک جرم‘ قرار دیا ہے۔

    کچھ گھنٹوں قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے شہر کرج میں واقع ایک پُل پر حملے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی تھی۔

    ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ ایک فضائی حملے کے بعد پُل پر شعلے اور دھوئیں کے بادل اُٹھ رہے ہیں۔ اس سے قبل اسرائیلی فوج نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ انھیں اس حملے کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔

    ٹرمپ بظاہر اس حملے کی ذمہ داری لیتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

  12. امریکی سیکریٹری دفاع نے فوج کے چیف آف سٹاف کو عہدہ چھوڑنے کے احکامات دے دیے: ذرائع

    امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر ادارے سی بی ایس نیوز کو ذرائع نے بتایا ہے کہ سیکریٹری دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے فوج کے چیف آف سٹاف جنرل رینڈی جارج کو عہدہ چھوڑنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔

    جنرل رینڈی جارج کو سنہ 2027 تک اس عہدے پر رہنا تھا۔

    ایک ذریعے نے سی بی ایس کو بتایا کہ ہیگسیتھ چاہتے ہیں کہ جنرل رینڈی جارج کی جگہ ایسا افسر اس عہدے پر لایا جائے جو امریکی فوج کے لیے صدر ٹرمپ اور ان کے وژن پر عملدرآمد کرے۔

    سی بی ایس نیوز کے مطابق اب تک سیکریٹری دفاع ایک درجن سے زیادہ سینیئر فوجی افسران کو ان کے عہدوں سے ہٹا چکے ہیں۔

  13. امریکی صدر کی کرج میں پُل پر حملے کی تصدیق، ایران کو ’مزید تاخیر ہونے سے قبل معاہدہ کرنے‘ کا مشورہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے شہر کرج میں واقع ایک پُل پر حملے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی ہے۔

    ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ آج ہونے والے ایک فضائی حملے کے بعد پُل پر شعلے اور دھوئیں کے بادل اُٹھ رہے ہیں۔ اس سے قبل اسرائیلی فوج نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ انھیں اس حملے کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔

    ٹرمپ بظاہر اس حملے کی ذمہ داری لیتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

    امریکی صدر نے اپنے پلیٹ فارم ٹریوتھ سوشل پر لکھا: ’ایران کا سب سے بڑا پُل زمین بوس ہو گیا ہے، اب کبھی استعمال کے قابل نہیں رہے گا، آگے اور بھی بہت کچھ ہونے والا ہے۔‘

    ’وقت آ گیا ہے کہ اب ایران مزید تاخیر ہونے سے قبل کوئی معاہدہ کر لے ورنہ اس عظیم ملک کے ممکنہ مستقبل میں کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔‘

    ایرانی میڈیا کے مطابق اس حملے میں دو افراد ہلاک ہوئے تھے۔ امریکی کے محکمہ دفاع نے تاحال اس حملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

  14. گزشتہ روز کی چند اہم خبریں

    آج کے دن میں آگے بڑھنے سے قبل آئیے گذشتہ روز کی چند اہم خبروں پر ایک نظر ڈالتے ہیں:

    • ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ جنگ کے آغاز کے بعد سے 70 لاکھ ایرانیوں نے فوجی خدمات کے لیے رضاکارانہ طور پر خود کو پیش کیا ہے۔
    • اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نیویارک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے فوری طور پر جنگ کے خاتمے اور تمام فریقوں کی جانب سے لڑائی روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
    • برطانیہ کی وزارت دفاع نے تصدیق کی ہے کہ آئندہ ہفتے فوجی منصوبہ سازوں کا اجلاس برطانوی فوج کے مرکز میں ہو گا، جس میں آبنائے ہرمز سے متعلق صورتحال پر غور کیا جائے گا۔
    • برطانیہ کی سیکریٹری خارجہ ایویٹ کوپر نے کہا ہے کہ دنیا بھر کے ممالک آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے کے لیے ’ہر ممکن سفارتی، معاشی اور مشترکہ اقدام‘ لینے کے لیے پُرعزم ہیں۔
    • پاکستان کی حکومت نے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 137 روپے 23 پیسے اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 184 روپے 49 پیسے کے اضافے کا اعلان کر دیا ہے۔ جمعرات کو وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس کے دوران وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اعلان کیا کہ جمعے سے پیٹرول کی نئی قیمت 458 روپے 40 پیسے، جبکہ ڈیزل کی نئی قیمت 520 روپے 35 پیسے ہوگی۔
  15. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔