فرانس کے صدر ایمانویل میکخواں کی شادی سے متعلق
امریکی صدر ٹرمپ کے تبصروں کو فرانس میں غیر معمولی طور پر سخت ردِعمل کا سامنا
کرنا پڑا، یہاں تک کہ میکخراں کے سخت ناقدین بھی ان کے دفاع میں سامنے آ گئے۔
سخت بائیں بازو کی جماعت فرانس اُنبوڈ کے رہنما
مینوئل بومپارڈ نے کہا کہ ’ڈونلڈ ٹرمپ کا ان کے بارے میں اس انداز میں بات کرنا
اور ان کی اہلیہ کے بارے میں اس طرح کے الفاظ استعمال کرنا بالکل ناقابلِ قبول
ہے۔‘
بدھ کے روز ایک نجی ظہرانے کے دوران ٹرمپ نے
فرانسیسی لہجے میں باتے کرنے کی کوشش کرتے ہوئے میکخواں کا مذاق اڑایا اور کہا کہ
ان کی اہلیہ بریجیت ’ان کے ساتھ نہایت برا سلوک کرتی ہیں‘ اور یہ کہ میکخواں ابھی
تک ’اپنے دائیں جانب کے جبڑے پر لگنے والے چوٹ سے سنبھلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘
غالباً ٹرمپ کا اشارہ سنہ 2025 کی اُس ایک ویڈیو کی
جانب تھا جس میں میکخواں کو اُن کی اہلیہ بریجیت کی جانب سے ویتنام کے دورے کے
دوران جہاز سے اُترنے سے قبل چہرے پر دونوں ہاتھوں سے دھکا دیتے ہوئے دیکھا گیا
تھا۔
میکخواں نے امریکی صدر کے اس بیان اور اُن کی اہلیہ سے متعلق ان تبصروں کو ’غیر مہذب اور اس قابل قرار نہیں دیا کہ ان پر کوئی تبصرہ کیا جائے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’امریکی صدر کا بیان اس قابل نہیں کہ اُن کا جواب نہیں دوں۔‘
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں نے کہا ہے کہ ایران کی جنگ کے لیے ایک ’سنجیدہ‘ رویے کی ضرورت ہے، ایسا رویہ جو روزانہ تبدیل نہ ہو۔ یہ بیان بظاہر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس تنازع پر متضاد بیانات کے حوالے سے دیا گیا ہے۔
جنوبی کوریا کے سرکاری دورے کے لیے پہنچنے پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے میکخواں نے کہا کہ ’یہ کوئی تماشہ نہیں ہے۔ ہم جنگ اور امن، مردوں اور خواتین کی جانوں کی بات کر رہے ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’جب آپ سنجیدہ ہونا چاہتے ہیں تو ہر روز اس کے برعکس بات نہیں کرتے جو آپ نے ایک دن پہلے کہی ہو۔‘
میکخواں نے مزید کہا کہ ’شاید یہ بھی ضروری نہیں کہ آپ ہر روز بولیں۔ بہتر ہے کہ معاملات کو کچھ دیر کے لیے ٹھنڈا ہونے دیا جائے۔‘
میکخواں یہ بات ایران میں امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ سے متعلق سوالات کے جواب میں کہہ رہے تھے، جو اب اپنے دوسرے ماہ میں داخل ہو چکی ہے۔ فرانس اور دیگر یورپی ممالک نے خطے میں امریکہ کی بعض کارروائیوں کی حمایت کی ہے، تاہم اب تک انھوں نے خود کو اس جنگ میں براہِ راست گھسیٹے جانے سے دور رکھا ہوا ہے۔
دوسری جانب ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کی جانب سے اس تنازع پر اب تک ملے جلے پیغامات سامنے آئے ہیں۔ مختلف مواقع پر یہ عندیہ دیا گیا کہ جنگ بندی قریب ہے، کہیں کہا گیا کہ جنگ پہلے ہی جیتی جا چکی ہے اور کہیں یہ تاثر دیا گیا کہ امریکہ لڑائی جاری رکھے گا۔