جینز یا قوتِ ارادی کا کھیل: وزن کم کرنے کے پیچھے سائنس کیا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, نک ٹرگل
- عہدہ, نامہ نگار برائے صحت
’موٹے لوگ بس خود پر قابو پائیں‘، ’یہ تو صرف ذاتی ذمہ داری کا معاملہ ہے‘، ’بس کم کھائیں، سادہ سی تو بات ہے۔‘
یہ ان 1946 تبصروں میں سے چند ہیں جو گذشتہ سال وزن کم کرنے والے انجیکشنز پر میرے مضمون پر قارئین نے کیے۔
بہت سے لوگ، یہاں تک کہ طبی ماہرین بھی یہ تصور رکھتے ہیں کہ موٹاپا صرف قوت ارادی کا معاملہ ہے۔
برطانیہ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور امریکہ کے لوگوں پر تحقیق کی گئی جو معروف طبی جریدے دی لانسٹ پر شائع ہوئی، اس کے مطابق 10 میں سے آٹھ لوگوں کا کہنا ہے کہ صرف طرز زندگی تبدیل کرنے سے موٹاپے کو روکا جا سکتا ہے۔
لیکن بینی سریش، جو کہ ایک ماہر غذائیت ہیں اور 20 سال سے موٹے اور زیادہ وزن والے مریضوں کے ساتھ کام کر رہی ہیں، وہ اس خیال سے متفق نہیں۔ ان کے خیال میں یہ تصویر کا ایک چھوٹا سا رخ ہے۔
وہ کہتی ہیں: ’میں اکثر ایسے مریضوں کو دیکھتی ہوں جو بہت پر عزم ہوتے ہیں، با علم ہوتے ہیں، اور مستقل کوشش کر رہے ہوتے ہیں، اس کے باوجود وزن کم کرنے میں انھیں مشکل کا سامنا رہتا ہے۔‘
وزن کم کرنے میں مدد کرنے والی کمپنی ویٹ واچرز کی میڈیکل ڈائیریکٹر ڈاکٹر کم بوئیڈ بھی یہی کہتی ہیں: ’قوت ارادی، خود پر قابو پانے جیسے الفاظ غلط ہیں۔ صدیوں تک لوگوں سے یہی کہا جاتا رہا کہ کم کھانے اور زیادہ حرکت کرنے سے وزن کم ہو گا لیکن موٹاپا اس سے کہیں پیچیدہ مسئلہ ہے۔‘
ان سے اور دیگر جن ماہرین سے میری بات ہوئی، ان کا یہی کہنا ہے کہ کسی فرد کے موٹا ہونے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، کچھ تو ابھی تک بھی مکمل طور پر سمجھ نہیں آ سکیں، لیکن ایک بات واضح ہے کہ سب لوگوں کے موٹا ہونے کی کوئی واحد وجہ نہیں ہوتی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
حکومت نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے قانون سازی کا سہارا لیا ہے۔
تازہ ترین قدم یہ اٹھایا گیا کہ رات نو بجے سے پہلے ٹیلی وژن پر جنک فوڈ کے اشتہارات پر پابندی لگا دی گئی اور آن لائن پروموشنز تو بالکل ہی بند کر دی گئیں۔
پھر بھی بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ اقدامات بھی موٹاپے سے نمٹنے کے لیے ناکافی ہیں۔ موٹاپا ایسا بحران بن چکا ہے جو برطانیہ میں ہر چار میں سے ایک بالغ فرد کو متاثر کر رہا ہے۔
علم الحیات (بائیولوجی) کے خلاف جنگ
ڈاکٹر صدف فاروق ہارمونز سے جڑے امراض کی ماہر ہیں اور شدید موٹاپے کا شکار مریضوں کا علاج کرتی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ’لوگوں کا وزن بڑھنے کا بہت زیادہ انحصار جینز پر بھی ہوتا ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ کچھ جینز دماغ کے ان راستوں کو متاثر کرتے ہیں جو معدے سے بھیجے گئے سگنلز کے ذریعے بھوک اور پیٹ بھرنے کا احساس کنٹرول کرتے ہیں۔
ڈاکٹر صدف کے مطابق ’موٹے لوگوں کے جینز مختلف پائے گئے جس کا مطلب ہے کہ انھیں بھوک زیادہ لگتی ہے اور کھانے کے بعد پیٹ بھی بھرا ہوا محسوس نہیں ہوتا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اب تک جن جینز کے بارے میں ہمیں معلوم ہے، ان میں سب سے اہم ایم سی فور آر ہے۔ اس جین میں تبدیلی زیادہ کھانے پر اکساتی ہے اور پیٹ بھی کم بھرا ہوا محسوس ہوتا ہے، دنیا کی آبادی کے اندازاً پانچویں حصے میں یہ جین پایا جاتا ہے۔
پروفیسر صدف فاروقی کا مزید کہنا ہے کہ ’دیگر جینز میٹابولزم (خوراک کو توانائی میں منتقل کرنا) پر اثر انداز ہوتے ہیں، یعنی کتنی تیزی سے ہم وہ توانائی استعمال کرتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے خوراک کی ایک ہی مقدار کا مختلف لوگوں پر مختلف اثر ہو گا۔ دوسروں کے مقابلے پر کچھ لوگ زیادہ وزن بڑھائیں گے اور زیادہ چربی جمع کریں گے یا ورزش کریں گے تو کم کیلوریز جلائیں گے۔‘
ڈاکٹر صدف کا اندازہ ہے کہ وزن پر اثر انداز ہونے والے جینز کی تعداد ہزاروں میں ہو سکتی ہے، اور ہم ان میں سے صرف 30 یا 40 کے بارے میں ہی تفصیل سے جانتے ہیں۔
یو یو ڈائٹنگ کی سائنس
لیکن یہ کہانی کا صرف ایک حصہ ہے۔
اینڈریو جیکسن بیریاٹرک سرجن ہیں، یعنی وزن کم کرنے کے خواہش مند افراد کے معدے کی جراحی کرتے ہیں۔ انھوں نے ’ہم بہت زیادہ کیوں کھاتے ہیں‘ نامی کتاب بھی لکھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر انسان کا دماغ کسی مخصوص وزن کو اس کے لیے درست سمجھتا ہے، قطع نظر اس کے کہ وہ وزن صحت مند ہے یا نہیں۔
اسے جسم کے طے شدہ وزن کا نظریہ (سیٹ ویٹ پوائنٹ تھیوری) کہا جاتا ہے۔
’جینیات کے ساتھ ساتھ خوراک، ذہنی دباؤ اور نیند جیسے عوامل بھی اس طے شدہ وزن پر اثر انداز ہوتے ہیں۔‘
اس نظریے کا مطلب ہے کہ جسم کا وزن ایک تھرموسٹیٹ کی طرح کام کرتا ہے: آپ کا جسم ایک مخصوص وزن برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر وزن اس سے کم ہو جائے تو بھوک بڑھ جاتی ہے اور میٹابولزم سست پڑ جاتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے سردی بڑھنے پر تھرموسٹیٹ گرمائش بڑھا دیتا ہے۔
ڈاکٹر جینکنسن کہتے ہیں کہ اگر وزن جسم کے متعین کردہ نقطے تک پہنچ جائے تو صرف قوت ارادی سے اسے کم کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
اسی سے ہمیں یو یو ڈائٹنگ بھی سمجھ آتی ہے۔ ڈاکٹر جینکنسن کہتے ہیں کہ ’مثال کے طور پر اگر آپ کا وزن 20 سٹون ہے (تقریباً 127 کلو گرام) اور آپ کا دماغ چاہتا ہے کہ وہ 20 سٹون ہی رہے، لیکن آپ کم کیلوری والی خوراک لے کر دو سٹون وزن کم کر لیتے ہیں تو آپ کے جسم کا رد عمل ایسے ہو گا جیسے آپ خوراک کی شدید کمی کا شکار ہو گئے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ڈاکٹر جینکنسن کے مطابق: ’آپ کو بہت شدید بھوک لگے گی اور میٹابولزم سست ہو جائے گا۔ بھوک کے سگنل اتنے ہی طاقت ور ہوں گے جیسے کہ پیاس کے سگنل۔ بہت شدید بھوک لگی ہو تو اسے نظر انداز کرنا بھی بہت ہی مشکل ہو جاتا ہے۔‘
اس عمل کے پیچھے سائنس سمجھاتے ہوئے ڈاکٹر جینکنسن ’لیپٹن‘ نامی ہارمون کی طرف اشارہ کرتے ہیں، یہ ہارمون چربی کے خلیوں کی طرف سے پیدا ہوتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ’لپٹن ہارمون کے پیدا ہونے سے ہائپوتھیلیمس کو سگنل جاتا ہے۔ ہائپوتھیلیمس دماغ کا وہ حصہ ہے جو بنیادی طور پر آپ کے وزن کا تعین کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ جسم میں کتنی توانائی ذخیرہ کرنی ہے۔‘
’ہائپوتھیلیمس لیپٹن کی مقدار کو دیکھے گا اور اگر لگا کہ توانائی یا چربی ضرورت سے زیادہ جمع ہو رہی ہے تو وہ خود کار طریقے سے ہماری بھوک کم کر دے گا اور میٹابولزم بڑھا دے گا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ڈاکٹر جینکنسن نے یہ وضاحت بھی کی کہ لیپٹن کو کام تو ایسے ہی کرنا چاہیے تاہم کبھی کبھار وہ ایسا کرنے میں ناکام بھی ہو جاتا ہے۔ خاص طور پر مغرب کے غذائی ماحول میں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لپٹن کے سگنل بھی اسی راستے سے جاتے ہیں جس راستے سے انسولین کے سگنل جاتے ہیں۔
’اگر انسولین کی سطح بہت زیادہ بڑھ جائے تو وہ لپٹن کا سگنل کم زور کر دیتی ہے پھر دماغ کو سمجھ ہی نہیں آتی کہ جسم میں کتنی چربی ذخیرہ ہے۔‘
اچھی خبر یہ ہے کہ جسم کا طے شدہ وزن مستقل نہیں ہے۔ طرز زندگی میں تبدیلی، اچھی نیند، ذہنی دباؤ میں کمی، اور صحت مند عادات سے اسے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے آپ تھرموسٹیٹ کو اپنی مرضی کے مطابق تبدیل کر سکتے ہیں۔ وقت کے ساتھ، آہستہ لیکن مستقل تبدیلیاں آپ کے وزن کو ایک نئی اور صحت مند حد میں لے آتی ہیں۔
یو کے میں موٹاپا: ایک بڑھتا ہوا بحران
اوپر بیان کی گئی باتوں سے اس بات کی وضاحت نہیں ہوتی کہ موٹاپا بڑھ کیوں رہا ہے۔ کیوں کہ ہماری جینز میں یا جسمانی ساخت میں تو کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی ہے۔
گذشتہ دہائی میں زیادہ وزن یا موٹاپے کے شکار بالغ افراد کی تعداد مسلسل بڑھی ہے۔ ہیلتھ فاؤنڈیشن کے 2025 کے تجزیے کے مطابق برطانیہ کے 60 فیصد بالغ افراد اس زمرے میں آتے ہیں (ان میں سے 28 فیصد موٹاپے کا شکار ہیں)۔
اس کی ایک بڑی وجہ کم معیار اور زیادہ کیلوریز والی خوراک ہے، خاص طور پر صنعتی سطح پر تیار کی گئی الٹرا پراسیسڈ خوراک، جو بہت زیادہ مقدار اور کم قیمت پر دستیاب ہے۔
اوپر سے جارحانہ مارکیٹنگ، فاسٹ فوڈ اور میٹھے مشروبات کی تشہیر، خوراک کی بڑھتی مقدار، جسمانی سرگرمیوں کی کمی (جس کی وجہ شہروں میں ایسی سہولیات کا نہ ہونا اور وقت کی کمی بھی ہے) بڑھتے وزن کے مسئلے کو مزید بڑھا رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پروفیسر صدف فاروقی کہتی ہیں: ’نتیجتاً، ہماری آبادی میں موٹاپا بڑھ گیا ہے اور جن لوگوں میں وزن بڑھنے کا رجحان جینیاتی طور پر زیادہ تھا، ان کا وزن بھی زیادہ بڑھ گیا۔‘
ماہرین صحت اسے موٹاپے کو فروغ دینے والا ماحول (آبیسوجینگ انوائرمنٹ) کہتے ہیں۔ یہ اصطلاح پہلی بار 1990 میں استعمال کی گئی جب محققین نے موٹاپے کی بڑھتی شرح کو بیرونی عوامل جیسے کہ خوراک کی دستیابی، مارکیٹنگ اور شہری منصوبہ بندی سے جوڑنا شروع کیا۔
ماہرین کے مطابق یہ عوامل انسان کو زیادہ کھانے اور کم حرکت کرنے پر مجبور کرتے ہیں، یہاں تک کہ بہت زیادہ پرجوش افراد بھی ایک صحت مند وزن برقرار رکھنے میں مشکل محسوس کرتے ہیں۔
اس سب سے ہمیں سمجھ آتا ہے کہ قوت ارادی ایک بوجھل اصطلاح کیوں بن گئی ہے۔
ذاتی ذمہ داری کی بحث
نیوکاسل سٹی کونسل کی پبلک ہیلتھ ڈائیریکٹر ایلس وائزمین کہتی ہیں کہ ہمارے ہر طرف خوراک ہی خوراک ہے۔
’یہاں کافی شاپس ہیں، بیکریاں ہیں، گھر لے جانے کے لیے کھانا (ٹیک اوے) دستیاب ہے۔ آپ سکول جا رہے ہوں یا کام پر جا رہے ہوں تو ایسی جگہوں سے آپ کا سامنا ضرور ہو گا۔ اگر کام پر جاتے ہوئے آپ ایسی بہت سی جگہوں سے گزریں گے تو آپ کے کچھ خریدنے کا امکان بڑھ جائے گا۔ ارد گرد موجود خوراک پر آپ کا جسم رد عمل دے رہا ہوتا ہے۔‘
ایلس وائز مین گیٹس ہیڈ کی بھی پبلک ہیلتھ ڈائیریکٹر ہیں۔ 2015 سے وہاں کسی بھی نئے ہاٹ فوڈ ٹیک اوے کو اجازت نہیں دی گئی۔ لیکن ملک کے دیگر حصوں میں فاسٹ فوڈ اور ٹیک اوے کی صنعت مسلسل پھیل رہی ہے اور اس کا سالانہ حجم 23 ارب پاؤنڈ ہو چکا ہے۔
آف کام کمیونیکیشنز کی مارکیٹ رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں کھانے کی جن اشیا کی تشہیر ہوتی ہے ان میں زیادہ تر چکنائی، نمک اور چینی سے بھرپور ہیں؛ جیسے مٹھائیاں، مشروبات، فاسٹ فوڈ اور سنیکس۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایلس وائز مین کا کہنا ہے کہ جنک فوڈ کے ٹی وی اور آن لائن اشتہارات پر پابندی جیسے حالیہ اقدامات ایک حد تک ہی مدد گار ثابت ہو سکتے ہیں۔
گذشتہ سال فوڈ فاؤنڈیشن کی رپورٹ سے معلوم ہوا تھا کہ کیلوریز کے حساب سے صحت مند خوراک غیر صحت مند خوراک سے دگنی مہنگی ہے۔
ایلس وائز مین کے مطابق ’جس گھر کے مالی حالات کمزور ہوں وہاں صحت مند غذا لینا مشکل ہو جاتا ہے۔ میں یہ نہیں کہتی کہ ذاتی ذمہ داری کا کوئی کردار نہیں ہے۔ لیکن اس بارے میں سوچتے ہوئے خود سے پوچھنا ہو گا کہ بدلا کیا ہے؟ ہماری قوت ارادی اچانک تو کم نہیں ہو گئی۔‘
بینی سریش بھی اس سے اتفاق کرتی ہیں۔ ’ہم ایسے ماحول میں جی رہے ہیں جو زیادہ کھانے کے لیے بنایا گیا ہے۔ موٹاپا کردار کی ناکامی نہیں، بلکہ پیچیدہ، دائمی بیماری ہے جو ہمارے جسم کی ساخت اور موٹاپے کو فروغ دینے والے ماحول سے تشکیل پاتی ہے۔ قوت ارادی ہی کافی نہیں، وزن کم کرنے کو صرف نظم و ضبط کا مسئلہ سمجھا گیا تو نقصان ہے۔‘
برطانیہ کے محروم ترین علاقوں میں ایک تہائی سے زیادہ بالغ افراد موٹاپے کا شکار
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
2023-24 کے اعداد و شمار کے مطابق برطانیہ کے محروم ترین علاقوں میں 18 سال اور اس سے اوپر 37.4 فیصد افراد موٹاپے کا شکار پائے گئے۔ کم محروم علاقوں میں یہ تعداد 19.8 فیصد تھی۔
لیکن ’قوت ارادی‘ پر کچھ لوگوں کی رائے مختلف بھی ہے۔
پروفیسر کیتھ فرین ’آ کیلوری از آ کیلوری‘ نامی کتاب کے مصنف ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’جن افراد کا وزن آج زیادہ ہے، شاید 40 سال پہلے نہ ہوتا۔ ان کی قوت ارادی نہیں بدلی، ماحول بدل گیا ہے۔ لیکن مجھے فکر اس بات کی ہے کہ اگر ہم نے قوت ارادی کو بالکل ہی مسترد کر دیا تو لوگ اپنے موجودہ وزن سے ہی مطمئن ہو جائیں گے، چاہے وہ ان کے لیے ٹھیک نہ بھی ہو۔‘
وہ امریکہ کے نیشنل ویٹ کنٹرول رجسٹری جیسے بڑے ڈیٹا بیسز کی مثال دیتے ہیں جس میں 10 ہزار سے زیادہ ایسے افراد شامل ہیں جنھوں نے کامیابی سے وزن کم کیا اور اسے برقرار رکھا۔
پروفیسر کیتھ کے مطابق: ’یہ لوگ بتاتے ہیں کہ وزن کم کرنا اور اسے برقرار رکھنا دونوں ہی مشکل ہیں۔ بلکہ کم وزن کو برقرار رکھنا زیادہ مشکل ہے۔ اگر ان لوگوں سے کہا جائے کہ قوت ارادی کا اس میں کوئی دخل نہیں تو وہ برا منا جائیں گے۔‘
آپ وزن کم کرنے کے لیے قانون نہیں بنا سکتے
ایک بحث یہ بھی ہے کہ موٹاپے کے مسئلے پر قابو پانا کس حد تک ریاست کی ذمہ داری ہے۔
ایلس وائز مین کا ماننا ہے کہ موٹاپے پر قابو پانے میں قوانین اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک چیز خریدنے پر دوسری چیز مفت ملنے جیسی پروموشنز لوگوں کو زیادہ خریدنے پر اکساتی ہیں۔
لیکن گیریتھ لیون اس سے اختلاف کرتے ہیں، جو دائیں بازو کے تھنک ٹینک پالیسی ایکسچینج میں ہیلتھ اینڈ سوشل کیئر کے سربراہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’آپ قانون سازی کر کے لوگوں کو فٹ رہنے پر مجبور نہیں کر سکتے۔‘
’لوگوں کو جو خوراک پسند ہے اس پر پابندی یا ٹیکس لگانے سے زندگی مشکل، کم خوش گوار اور زیادہ مہنگی ہو جائے گی۔ خاص طور پر اس وقت جب مہنگائی کی وجہ سے برطانیہ میں زندگی گزارنا پہلے ہی مشکل ہو چکا ہے۔‘
کرسٹوفر سنوڈن دائیں بازو کی طرف رجحان رکھنے والے تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ آف اکنامک افیئرز میں لائف سٹائل اکنامکس کے سربراہ ہیں۔ ان کا بھی یہی ماننا ہے کہ موٹاپا اجتماعی نہیں بلکہ انفرادی مسئلہ ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’موٹاپا اس فرد کے کیے گئے انتخاب کی وجہ سے ہے۔ اس کا ذمہ دار بھی وہی ہے۔ میرے لیے تو یہ تصور ہی عجیب ہے کہ لوگوں کو پتلا کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ میں چاہوں گا کہ ان پالیسیوں کا سنجیدہ اور آزادانہ تجزیہ کیا جائے۔ اگر یہ موثر نہ ہوں تو ختم کر دی جائیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جہاں تک قوت ارادی کا تعلق ہے، اس کا کچھ نہ کچھ کردار تو ضرور ہے لیکن کتنا ہے، اس پر ماہرین کی رائے مختلف ہے۔
بینی سریش یہ سمجھتی ہیں کہ قوت ارادی ایک بہت بڑے معاملے کا بس ایک حصہ ہے۔ اور پہلا قدم لوگوں کو یہ آگاہ کرنا ہے کہ وزن بڑھنے کے پیچھے اور کون کون سے عوامل ہوتے ہیں۔ ’یہ نکتہ نظر قوت ارادی کی کمی کو ایک اخلاقی ناکامی سمجھنے کے بجائے، ہم دردی اور سائنسی بنیادوں پر استوار نظام کی طرف لے جاتا ہے جس میں طویل المدتی کامیابی کے امکانات زیادہ ہیں۔‘
بریڈفورڈ یونیورسٹی کے ماہر نفسیات ڈاکٹر ایلینار برائنٹ کے مطابق قوت ارادی کو مضبوط کرنے کے دو طریقے ہیں، ’یہ ہر وقت مستقل نہیں رہتی، آپ کا موڈ کیسا ہے، آپ کتنے تھکے ہوئے ہیں، کتنے بھوکے ہیں ۔۔۔ یہ سب عوامل قوت ارادی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔‘
اہم بات یہ بھی ہے کہ آپ قوت ارادی کو کس زاویے سے دیکھتے ہیں۔ اس کی دو اقسام ہیں۔ لچک دار اور سخت گیر۔ سخت گیر فرد اسے سیاہ اور سفید کی طرح دیکھے گا۔ ’اگر آپ ایک بار لالچ سے ہار گئے تو سب ختم ہو گیا۔ آپ نے ایک بسکٹ کھا لیا تو پھر کھاتے ہی چلے جائیں گے۔‘
نفسیات کی اصطلاح میں اسے ڈس انہیبیٹڈ ایٹنگ (یعنی بغیر کسی کنٹرول کے کھانا) کہا جاتا ہے۔
ڈاکٹر برائنٹ کہتی ہیں کہ ’لچک دار رویہ رکھنے والا فرد کہے گا، اچھا میں نے ایک بسکٹ کھا لیا، اب میں مزید نہیں کھاؤں گا۔ یقیناً لچک دار رویہ ہی کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔ لیکن کھانے کے معاملے پر قوت ارادی کا مظاہرہ کرنا زیادہ مشکل ہے۔‘
بینی سریش بھی اس سے اتفاق کرتی ہیں، لیکن وہ کہتی ہیں کہ جب لوگوں کو سمجھ آ جائے کہ قوت ارادی کی بھی حدود ہوتی ہیں تو وہ اس کا بہتر استعمال کرنے لگتے ہیں۔
’جب مریض یہ جان لیتے ہیں کہ کم زوری ان کے نظم و ضبط میں نہیں بلکہ بائیولوجی (جسمانی ساخت) میں ہے، اس کے ساتھ ساتھ انھیں متوازن غذا، کھانے کے باقاعدہ اوقات، نفسیاتی حکمت علمی، حقیقت پسند اہداف کا ساتھ ملے تو کھانے سے ان کا تعلق مزید بہتر ہو جاتا ہے۔‘













