کرپٹو ایکسچینج کی ایک غلطی جس نے صارفین کو اربوں ڈالر کے بٹ کوائن کا مالک بنا دیا

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, ریچل میولر-ہینڈیک
- مطالعے کا وقت: 4 منٹ
جنوبی کوریا کے ایک کرپٹو کرنسی ایکسچینج نے غلطی سے اپنے صارفین کو 40 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے بٹ کوائن دے دیے جس سے وہ قلیل مدت کے لیے کروڑ پتی بن گئے۔
دراصل کمپنی نے اپنے صارفین کو دو ہزار وون یا (1.37 امریکی ڈالر) کا ایک چھوٹا سا نقد انعام دینے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن جمعہ کے روز انھوں نے دو ہزار وون کے بجائے صارفین کو دو، دو ہزار بٹ کوائنز ٹرانسفر کر دیے۔
بٹ ہمب نامی کرپٹو کرنسی پلیٹ فارم نے اپنی غلطی کے لیے صارفین سے معذرت کی ہے۔ بٹ ہمب کا کہنا ہے کہ انھیں جلد ہی اپنی غلطی کا احساس ہو گیا تھا اور وہ تقریباً تمام کرپٹو ٹوکن واپس حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اس نے غلطی سے بٹ کوائنز ٹرانسفر ہونے کے 35 منٹ کے اندر ہی تمام 695 متاثرہ صارفین کے اکاؤنٹ سے ٹریڈنگ اور پیسے نکالنے کی صلاحیت محدود کر دی تھی۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ صارفین کو غلطی سے بھیجے گئے 620,000 بٹ کوائنز میں سے 99.7 فیصد واپس حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔
جمعے کے روز بٹ ہمب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اس معاملے کا بیرونی ہیکنگ یا سکیورٹی کے کسی مسئلے سے کوئی تعلق نہیں ہے، اور سسٹم کی سکیورٹی یا کسٹمرز کے اثاثہ جات کے انتظام کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں ہوا ہے۔‘
اس واقعے کے بعد سنیچر کے روز جنوبی کوریا کے مالیاتی ریگولیٹر کا ایک ہنگامی اجلاس ہوا جس میں اس واقعے کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ فنانشل سپروائزری سروس کا کہنا ہے کہ اگر کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کا ثبوت ملا تو اس بارے میں باضابطہ تحقیقات کا آغاز کیا جائے گا۔
بٹ ہمب کا کہنا ہے کہ وہ ریگولیٹرز کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
کمپنی کے سی ای او لی جے وون کا کہنا ہے، ’ہم اس حادثے کو ایک سبق کے طور پر لیں گے اور بیرونی ترقی کی بجائے ’صارفین کے اعتماد اور ذہنی سکون‘ کو ترجیح دیں گے۔‘
اس کے علاوہ کمپنی نے ان تمام صارفین کو 20 ہزار وون (13.66) ادا کرنے کا اعلان کیا ہے جو اس وقت پلیٹ فارم استعمال کر رہے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ کمپنی ٹریڈنگ فیس معاف کرنے اور دیگر اقدامات کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔
بٹ ہمب کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ویریفکیشن کے نظام میں بہتری لائیں گے اور غیر معمولی لین دین کا پتا لگانے کے لیے مصنوعی ذہانت کو بھی متعارف کروائیں گے۔
اس واقعے کے بعد مالیاتی نظام میں سخت ریگولیٹری کنٹرول کی ضرورت پر ایک بار پھر بحث شروع ہونے کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ اپریل 2024 میں امریکی بینک سٹی گروپ نے غلطی سے 280 ڈالر کی بجائے 810 کھرب ڈالر ایک صارف کے اکاؤنٹ میں کریڈٹ کر دیے تھے۔ فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، دو ملازمین ٹرانزیکشن ہونے سے قبل اس غلطی کو پکڑنے میں ناکام رہے تھے۔ تاہم بینک کے ایک اور ملازم کی جانب سے غلطی کی نشاندہی کے بعد بینک نے چند گھنٹوں کے اندر ٹرانزیکشن ریورس کر دی تھی۔













