وینوگوپال دھُوت: کس طرح انڈیا میں قرضوں کا فراڈ ’ویڈیوکون‘ کے مالک کے زوال کا سبب بنا؟

    • مصنف, نکھل انعامدار
    • عہدہ, بزنس نامہ نگار، بی بی سی ممبئی

انڈیا کے سب سے مشہور بزنس ٹائیکونز میں سے ایک، وینوگوپال دھُوت کو اس ہفتے کے شروع میں گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ گرفتاری انڈیا کی مرکزی تحقیقاتی ایجنسی کی جانب سے ان کے خلاف مجرمانہ سازش اور دھوکہ دہی کا مقدمہ درج کرنے کے تقریباً چار سال بعد عمل میں آئی۔

ان کی گرفتاری آئی سی آئی سی آئی بینک کی سابق سربراہ چندا کوچر اور ان کے شوہر دیپک کی مبینہ دھوکہ دہی کے الزام میں گرفتاری کے بعد ہوئی ہے، جہاں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ چندا کوچر نے اپنے شوہر کے ’رینیوایبل بزنس‘ (قابل تجدید کاروبار) میں سرمایہ کاری کے بدلے سنہ 2009 میں وینو دھوت کی کمپنی کو بہت ہی زیادہ رقم کے قرضے منظور کیے تھے۔

آئی سی آئی سی آئی انڈیا کا تیسرا سب سے بڑا نجی بینک اور قرض دینے کا ادارہ ہے اور چندا کوچر، بینکنگ انڈسٹری صنعت کی ایک مشہور سی ای او ہیں جنھیں اس انڈسٹری میں کامیابی کی اعلیٰ مثال کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔

چندا کوچر اور ان کے شوہر نے ادلے بدلے کے قرضوں کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وینو دھُوت کی کمپنی کی جانب سے سرمایہ کاری حقیقی تھی۔

یہ گرفتاریاں ایک ایسے کیس میں ایک اہم موڑ کی نشاندہی کرتی ہیں جس میں جنوری 2019 میں تفتیش کاروں کے ذریعے مبینہ جرائم کے ریکارڈ کیے جانے کے بعد سے پہلی گرفتاریاں ہوئی ہیں۔

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق وینوگوپال دھُوت، جو الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں، نے وعدہ معاف گواہ بننے کی پیش کش کی ہے (یعنی وہ عدالت میں اس سارے مقدمے کی تفصیلات بتانے کے لیے تیار ہیں۔)

آئی سی آئی سی آئی کے ایک شیئر ہولڈر، اروند گپتا، جنھوں نے سنہ 2016 میں مبینہ فراڈ کا انکشاف کیا تھا، بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ (عدالت میں کیے جانے والا انکشاف) ایک پنڈورا باکس کھول سکتا ہے۔‘

اروند گپتا نے کہا کہ ’تفتیش صحیح سمت میں ایک آغاز ہے، لیکن اس کا دائرہ وسیع کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ چندا کوچر آئی سی آئی سی آئی (ICICI) کریڈٹ کمیٹی میں واحد شخص نہیں تھیں، جس نے قرض کی منظوری دی تھی۔‘

وینوگوپال دھوت کا عروج

سنہ 1990 کی دہائی اور رواں صدی کے ابتدائی برسوں کے دوران، وینوگوپال دھوت صنعتی تقریبات، کارپوریشنوں کے عشائیوں اور بجٹ مشاورت میں ہر جگہ موجود ہوتے تھے۔

وہ اپنی رسائی اور چست فقرے بازی کی وجہ سے کاروباری صحافیوں کی پسندیدہ شخصیت تھے، اور ان کے خیالات کو بہت پسند کیا جاتا تھا۔

وہ ایک زرعی گھرانے میں پیدا ہوئے جس کے پاس اورنگ آباد شہر اور مغربی ریاست مہاراشٹر کے دیگر حصوں میں بجاج سکوٹر تقسیم کرنے کا لائسنس تھا۔ وینو دھُوت نے سنہ 1990 کی دہائی تک ’ویڈیوکون‘ کی کنزیومر گڈز فرم میں شاندار تبدیلی میں اہم کردار ادا کیا۔

یہ کمپنی انڈیا میں رنگین ٹیلی ویژن سیٹ متعارف کرانے والی پہلی کمپنیوں میں شامل تھی اور آہستہ آہستہ دیگر صارفین کے آلات جیسے واشنگ مشین، ایئر کنڈیشنر اور ریفریجریٹرز کی تیاری میں بھی قدم جمائے، جس سے وینو دھُوت کو انڈیا کی واشنگ مشین کی مارکیٹ کا ’بادشاہ‘ کہا جاتا تھا۔

وینو دھوت ایک چھوٹے سے شہر سے آئے تھے اور ابتدائی طور پر انگریزی بولنے میں مشکل محسوس کرتے تھے لیکن یہ سیاست دانوں اور دیگر تاجروں کے ساتھ ان کے اچھے تعلقات استوار کرنے میں رکاوٹ نہیں بنی۔

ریٹیل کنسلٹنسی، ’ٹیکنوپاک‘ (Technopak) ایڈوائزرز کے چیئرمین اروند سنگھل مطابق 1990 کی دہائی تک اس نے عالمی فرموں پر بہت زیادہ درآمدی ڈیوٹی کے فوائد حاصل کیے جس کی وجہ سے ان برانڈز کے لیے ویڈیوکان کے ساتھ مقابلہ کرنا مشکل ہو گیا۔

لیکن ایک جارحانہ برانڈنگ اور مصنوعات کے تقسیم کار کی حکمت عملی بھی ایک اہم وجہ تھی کہ اس نے تقریباً دو دہائیوں تک مارکیٹ میں دیگر گھریلو برانڈز کو پیچھے چھوڑ دیا۔

اروند سنگھل کا کہنا ہے کہ ’انھوں نے کرکٹرز اور فلمی ستاروں کو شامل کیا اور ڈسٹری بیوشن اور سروس سٹورز کے پین انڈیا نیٹ ورک میں سرمایہ کاری کی۔ وہ مارکیٹ میں پہلے نمبر پر تھے، اور پھر سنہ 2008 اور سنہ 2009 تک قابل احترام نمبر دو اور تیسرے نمبر پر تھے۔‘

نینو دھوت کا زوال

ان کے زوال کے کئی اسباب تھے۔ اروند سنگھل کہتے ہیں کہ یہ جنوبی کوریائی برانڈز جیسے سام سنگ اور ایل جی کی جانب سے شدید مسابقت کا مجموعہ تھا، اور اس کے علاوہ ویڈیوکون کا تیل اور گیس اور ٹیلی کام جیسی ’صنعتوں‘ اپنے کاروبار کو تنوع دینے کے لیے ایک ایسے وقت میں غیر ضروری سرمایہ کاری تھی جب انھیں اپنے بنیادی کاروبار کی حفاظت کرنی چاہیے تھی، جس نے وینو دھوت کے زوال کو مزید تیز کیا۔

کمرشل آپریشنز شروع کرنے کے لیے سرمائے کی سہولت ’سپیکٹرم‘ حاصل کرنے کے بعد ویڈیوکان ٹیلی کمیونیکیشن ان کمپنیوں میں شامل تھی جن کے ٹو-جی (2G) سپیکٹرم کے فراڈ ظاہر ہونے کے بعد لائسنس منسوخ کیے گئے۔ یہ فراڈ ٹیلی کام سپیکٹرم لائسنسوں کی فروخت میں مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق تھا۔

اس نے کچھ ریاستوں میں دوبارہ لائسنس حاصل کر لیا، لیکن آخر کار بھارتی ایئرٹیل کو سپیکٹرم فروخت کرنے کے بعد آپریشن ختم کر دیا۔

وینو دھوت کی تیل اور گیس کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرنے کی خواہش بھی پوری نہیں ہوئی۔ اس کا انشورنس کا کاروبار بھی ایسی ہی ناکامی کا شکار ہوا۔

سنہ 2012 تک ویڈیوکون اور ان کمپنیوں میں شمار ہونا شروع ہو گئے تھے جو بہت زیادہ مقروض تھیں۔ ان میں جی ایم آر، جی وی کے، ایسار گروپ اور ریلائینس گروپ بھی شامل تھیں۔ یہاں تک کہ کریڈٹ سوئس کے ہاؤس آف ڈیبٹ کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ یہ قرضہ انڈین بینکوں کے قرضوں کے لیے ’ارتکاز کا خطرہ‘ بن گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کریڈٹ سوئس کی طرف سے تین سال بعد صورت حال کا جائزہ لینے سے پتا چلا کہ ویڈیوکون اور جی ایم آر جیسے گروپوں کی جانب سے اثاثوں کی فروخت کے ذریعے قرض کو کم کرنے کی کوششوں کے باوجود، ان کا مالی دباؤ ’مزید شدت اختیار کر گیا‘، جس کے ساتھ وینو دھوت کی کمپنی قرض کی سطح میں سب سے زیادہ اضافہ دیکھ رہی تھی۔

سنہ 2018 تک انڈیا کی دیوالیہ قرار دینے والی عدالت نے ویڈیوکون کے خلاف دیوالیہ قرار دینے کی کارروائی شروع کی تھی۔ ایک سال سے کم عرصے میں وینو دھوت آئی سی آئی سی آئی بینک کے قرض کی مرکزی ادارے کی تحقیقات سے بھی نمٹ رہے تھے، جس کی وجہ سے وہ حراست میں ہیں۔

کھیل کا انجام

 جب سے ان مبینہ جرائم کی تحقیقات شروع ہوتی ہے، آئی سی آئی سی آئی بینک ایک لچکدار مگر طاقتور قوت بنی رہتی ہے، اور چندا کوچر کے علاوہ ایسا لگتا ہے کہ اب وہ بحران سے باہر نکل آیا ہے اور آگے بڑھ گیا ہے۔

لیکن وینو دھوت کے لیے اس معاملے پر پھر سے واپسی جس کی انھوں نے ایک بار کمانڈ کی تھی، ایک طویل آزمائش ہو گی۔

ایک ادارہ جاتی مشاورتی کمپنی ’آئی آئی اے ایس‘ کے بانی اور مینیجنگ ڈائریکٹر امیت ٹنڈن کا کہنا ہے کہ ان کی تیزی سے بلند سطح تک پہنچنے کی کامیابی، اور پھر ڈرامائی تنزلی، بہت سے طریقوں سے دوسرے انڈین صنعت کاروں سے مختلف نہیں ہے جنھوں نے سنہ 2000 کی دہائی میں قرضوں کے ذریعے کاروبار کو متنوع بنایا۔

’منتشر توجہ اور بڑے اقتصادی معاملات کی بادِ مخالف (میکرو اکنامک ہیڈ وائنڈز) نے بہت سے لوگوں کو متاثر کیا جو یا تو اپنا کاروبار کھو بیٹھے ہیں یا پھر بچے کُھچے کاروبار کے مالک رہ گئے ہیں۔‘