چین نے 78 سالہ امریکی شہری کو جاسوسی کے الزام میں عمر قید کی سزا سنا دی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
چین کی ایک عدالت نے 78 سالہ امریکی شہری کو جاسوسی کے الزام میں عمر قید کی سزا سنائی ہے۔
ہانگ کانگ کے مستقل رہائشی جان شنگ وان لیونگ کو پیر کے روز جیل بھیج دیا گیا۔
جنوب مشرقی شہر سوژو کی عدالت نے ان کے خلاف لگائے گئے الزامات کی مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
عدالت کی جانب سے جاری ہونے والی ایک نیوز ریلیز میں کہا گیا ہے کہ لیونگ کو دو سال قبل چین کی کاؤنٹر انٹیلی جنس ایجنسی کے مقامی بیورو نے شہر سے گرفتار کیا تھا۔
وی چیٹ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر پوسٹ کیے گئے انٹرمیڈیٹ پیپلز کورٹ کے بیان کے مطابق، انھیں ’جاسوسی کا مرتکب پایا گیا اور انھیں عمر قید کی سزا سنائی گئی [اور] زندگی بھر کے لئے سیاسی حقوق سے محروم کر دیا گیا ہے۔‘
یہ واضح نہیں ہے کہ گرفتاری کے وقت لیونگ کہاں رہ رہا تھے۔
بیجنگ میں امریکی سفارت خانے کے ایک ترجمان نے کہا کہ وہ ان خبروں سے آگاہ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’محکمہ خارجہ کی بیرون ملک مقیم امریکی شہریوں کی حفاظت سے زیادہ کوئی ترجیح نہیں ہے۔‘
چین میں بند دروازوں میں مقدمات کی سماعت عام ہے، اور جاسوسی کے الزامات جیسے حساس معاملات کے لئے عام طور پر چند ہی تفصیلات عام کی جاتی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جولائی میں ایک نیا قانون نافذ العمل ہوگا جو چین کی جاسوسی سے متعلق قانون سازی کا دائرہ وسیع کرے گا۔ یہ کسی بھی ڈیٹا کے حوالے کرنے پر پابندی عائد کرے گا جسے حکام قومی سلامتی سے متعلق سمجھتے ہوں۔
لیونگ کو جیل بھیجنے سے چین اور امریکہ کے درمیان تعلقات مزید کشیدہ ہونے کا خدشہ ہے۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں 2018 میں چین کے خلاف تجارتی جنگ شروع کرنے کے بعد سے دونوں ملکوں کے تعلقات خراب ہیں۔
دونوں سپر پاورز کے درمیان تائیوان، بحیرۂ جنوبی چین پر چین کی عسکریت پسندی اور کووڈ کی ابتدا سمیت مختلف معاملات پر شدید اختلافات موجود ہیں۔
فروری میں بھی کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا جب امریکہ نے ایک مبینہ چینی جاسوس غبارے کو، جسے بیجنگ نے موسمی نگرانی کا آلہ قرار دیا تھا، مار گرایا تھا۔










