کچے کے بیزار ڈاکوؤں کو پکّے میں بسانے کی پالیسی

،تصویر کا ذریعہRA KHAN
- مصنف, وسعت اللہ خان
- عہدہ, صحافی و تجزیہ کار
گزرے منگل (اکیس اکتوبر) محکمہ داخلہ سندھ نے صوبے میں عموماًً اور لاڑکانہ اور سکھر ڈویژن میں خصوصاً لاقانونیت میں کمی کے لیے پہلی جامع سرینڈر پالیسی کا اعلان کیا۔ اس کے ذریعے دریاِئے سندھ کے دونوں طرف کچے کے جنگلات میں روپوش ڈاکوؤں کو ہتھیار ڈالنے کی شرط پر سماجی دھارے میں شامل ہونے کے لیے جان و مال و معاشی تحفظ کی ترغیبات دی گئی ہیں۔
سرینڈر پالیسی کے اجرا کے اگلے روز ہی شکارپور پولیس لائنز میں ریڈ کارپٹ بچھایا گیا۔ صوبائی وزیرِ داخلہ ضیا لنجار اور آئی جی غلام نبی میمن کے سامنے لگ بھگ 72 ڈاکوؤں نے دو سو سے زائد ہتھیار رکھے۔
ڈائس سے ایک ایک کا نام پکارا جاتا رہا۔ اب تشریف لاتے ہیں سکھئیو تیغانی جن کے خلاف 49 کیسز ہیں اور ان پر 60 لاکھ روپے انعام ہے اور اب باری ہے نثار سبزوئی کی جن کے خلاف بیاسی کیسز ہیں۔ ان پر 30 لاکھ روپے کا انعام ہے۔ اور اب آتے ہیں۔۔۔ یوں سمجھیں کہ ہتھیار ڈالنے والوں کی گرفتاری پر مجموعی انعام چھ کروڑ سے زائد تھا۔
سرکاری ذرائع کا دعویٰ ہے کہ دو سو سے زائد مزید ڈاکوؤں کو نئی سرینڈر پالیسی سے فائدہ اٹھانے پر آمادہ کر لیا گیا ہے اور آنے والے دنوں میں مزید مثبت خبریں سنننے کو ملیں گی۔
(کل کتنے ڈاکو کچے یا پکے میں آپریٹ کر رہے ہیں۔اس بابت کبھی ڈاکو شماری نہیں ہو پائی)۔
سن 2002 کی سردیوں میں مجھے کندھ کوٹ کے کچے میں سرگرم سبزوئی گینگ کے بھورل سبزوئی سے کسی کے توسط سے ملنے کا اتفاق ہوا۔ دریا کے بیچ جزیرہ نما جنگل میں بھورل نے اوطاق بنایا ہوا تھا۔ چار پانچ کچے مگر نفیس لپائی والے کمرے۔ پندرہ بیس موٹرسائیکلوں کے لیے باقاعدہ ایک سٹینڈ۔ ایک کمرہ شاید اسلحہ خانہ تھا۔ اس میں بہت سی کلاشنکوفیں دیوار کے ساتھ ترتیب وار لگی ہوئی تھیں۔

،تصویر کا ذریعہShams Bhutto
چمچماتی سیاہ کوہاٹی چپل پہنے بوسکی کے سوٹ میں ملبوس کسی نوجوان سیاستدان کے مینر ازم والے بھورل نے بتایا کہ وہ انٹرمیڈیٹ ہے۔ اس نے ’ڈاکو لین‘ قبائلی دشمنی، طاقتوروں کی ناانصافی، عزتِِ نفس کی مسلسل توہین وغیرہ وغیرہ کا بھی تفصیلی ذکر کیا۔
ایک بات آج تیئس برس بعد بھی مجھے پوری یاد ہے ’سائیں واپسی کا راستہ نہیں۔ میرے سر پر پانچ لاکھ ہے۔ کل کلاں خود تھانے میں پیش ہو بھی جاؤں تو انعام اور ترقی کے چکر میں وہ میرا انکاؤنٹر کر دیں گے۔ جب تک زندہ ہوں سب کے لیے سونے کی چڑیا ہوں۔ چڑیا کی عمر ویسے بھی کتنی ہوتی ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
میں نے پوچھا کہ کیا آپ یہ کہہ رہے ہو کہ یہ پوری انڈسٹری ہے جس میں سرکار، پولیس، لوکل معززین و سیاست کار و بچولیے وغیرہ شئیر ہولڈرز ہیں؟ بھورل نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا ’سب تو آپ نے کہہ دیا، میرے کہنے کو کیا بچا؟‘
بھورل نے بتایا کہ ’باغی ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ میں چھپ کے بیٹھا ہوں۔ شادی غمی میں بھی جاتا ہوں، درباروں پر چادر بھی چڑھاتا ہوں، کسی غریب کا کام پھنس جائے تو سفارش بھی کرنا پڑتی ہے، افسروں کو بھی خوش رکھنا پڑتا ہے۔ بس واپسی نہیں ہو سکتی۔۔۔
چلتے چلتے بھورل نے آہستہ سے کہا اگر آپ دو دن پہلے آ جاتے تو یہاں ’فس کلاس‘ مجرا دیکھتے۔ گھوٹکی اور کندھ کوٹ سے ’آپ کے ہمارے‘ کئی دوست آئے تھے۔ بہت رونق لگی رہی۔
جانے بھورل آج زندہ ہے کہ نہیں، ہے تو کہاں ہے، کس حال میں ہے نمی دانم۔۔۔
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
دو برس پہلے شاہ لطیف یونیورسٹی خیرپور کے ایک استاد امداد علی سہتو کی کتاب ’اے ڈکیڈ آف ڈکیٹس ( ڈاکوؤں کا عشرہ ) کا ایک اخباری ریویو پڑھا۔ سہتو صاحب نے چار سو بارہ ڈاکوؤں کے پروفائلز اور درجنوں انٹرویوز سے ڈیٹا مرتب کیا گیا۔
اس تحقیق سے اندازہ ہوا کہ سنہ 1984 سے 1994 کے دس برس میں سندھ میں ضیا مخالف سیاسی قوتوں کو کمزور رکھنے اور پھر بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت سے لوگوں کو بدظن کرنے کے لیے ڈاکو راج کو کیسے کھلی چھوٹ ملی۔
سب ڈاکو ناخواندہ نہیں تھے۔ ان میں ڈگری ہولڈرز کی بھی اچھی خاصی تعداد تھی۔ مغرب کے بعد حیدرآباد تا کشمور سناٹا چھا جاتا تھا۔ وہ اتنے نڈر ہو گئے تھے کہ گڈو بیراج سے تین جاپانی طلبا اور کشمور سے تین چینی انجینئرز کو اغوا کر کے بھاری تاوان کے عوض چھوڑا۔ ان دس برسوں میں کراچی تا میرپور ماتھیلو لگ بھگ ساڑھے گیارہ ہزار لوگ اغوا برائے تاوان کا شکار ہوئے۔ قتل اور لوٹ مار اس کے علاوہ ہے۔
ایک واردات میں حیدرآباد ضلع کے اللہ ڈینو ساند ریلوے سٹیشن کے قریب چلتی مسافر ٹرین کو جیپوں اور گھوڑوں پر سوار ایک گروہ نے گبر سنگھ اسٹائل میں رکوا کے اطمینان سے لوٹا۔
بالاخر مئی 1992 تا نومبر 1994 فوج کی مدد سے ’آپریشن بلیو فاکس‘ میں جنوبی اور وسطی سندھ کو بہت حد تک ڈاکہ لہر سے پاک کر دیا گیا۔ محب شیدی، نانگ مارفانی، حاجی عباس خاصخیلی، بقدر شاہ، لائق چانڈیو، کمانڈو غلام رسول اور صادق گڈانی جیسے خطرناک گروہ ختم ہو گئے۔

،تصویر کا ذریعہABDUL HAQ SOMROO
مگر چند برس بعد نئے گروہوں نے ان کی جگہ لے لی۔ پتے جھاڑنے سے درخت نئے پتے پیدا کرنا تو بند نہیں کرتا۔ درخت تب تک ہرا بھرا رہتا ہے جب تک اس کی جڑیں زندہ ہیں۔
’آپریشن بلیو فاکس‘ میں 875 پولیس والوں کو ڈاکوؤں سے ساز باز کے الزام میں نوکری سے نکالا گیا۔ البتہ لاڑکانہ و سکھر ڈویژن کبھی پوری طرح کلیئر نہ ہو سکے۔ جبکہ جنوبی پنجاب میں رحیم یار خان اور راجن پور کی دو رویہ دریائی جنگل پٹی کے ڈاکو بھی اسی اتحاد کا حصہ ہیں۔
سماجی، سیاسی و معاشی گھٹن کا اندازہ یوں لگائیں کہ جب سنہ 1983 میں دادو کے پریل عرف پرو چانڈیو کو دھوکے سے مارا گیا تو اس کے جنازے میں ہزارہا کا مجمع تھا۔ قبر اجرکوں سے اٹ گئی۔ وجہ یہ تھی کہ وہ اپنے دور کا رابن ہڈ اور سلطانہ ڈاکو مشہور تھا۔ یعنی طاقتور کو لوٹو اور کمزور میں تقسیم کرو۔ کسی بچے، بوڑھے اور خاتون پر ہاتھ نہ اٹھاؤ۔ پرو چانڈیو ایک فلمی کردار کی طرح پسے ہوئے محروم سماج کی دیومالا میں شامل ہو گیا۔
مگر آج کے ڈاکو کا کلچر، نظریہ اور ضابطہِ اخلاق بالکل مختلف ہے۔ یہ ٹک ٹاک، یو ٹیوب، انسٹا اور فیس بک کا پروفیشنل استعمال کرتے ہیں۔ صرف موٹی مرغیوں پر ہاتھ نہیں ڈالتے ۔بلکہ کوئی بھی بوڑھا، بچہ، جوان، عورت ہاتھ آ جائے، سب تر نوالہ ہیں۔ تاوان دو ورنہ لاش لے جاؤ اور پھر یہ مغویوں کی ٹارچر زدہ وڈیوز بھی اپ لوڈ کرتے رہتے ہیں۔ اب تو یہ گینگ زنانہ آواز میں لبھانے والی باتوں سے شکار گھیرنے میں بھی طاق ہیں۔
ان گروہوں کو منہ دینے والی پولیس عموماً اسلحے کی کمتری سے مار کھاتی آئی ہے۔ اسی اور نوے کے عشرے میں گھنے دریائی جنگلات کے اندر قلعہ بند چوکیاں بنانے پر کروڑوں روپے ضائع ہو گئے۔ اب ان کے ڈھانچے باقی ہیں۔

متعدد گروہوں کے پاس ملٹری گریڈ کا اسلحہ ہے۔ اس میں بارہ اعشاریہ سات کیلیبر کی طیارہ شکن گنیں، اینٹی ٹینک مارٹرز، آر پی جی راکٹ لانچرز بھی ہیں۔ گویا پولیس کی بکتر بند گاڑیوں کو بھی آرام سے چھیدا جا سکتا ہے۔ یہ سامان کیسے، کہاں سے کن راستوں سے کس کے ذریعے یہاں تک آتا ہے۔ بس یہ مت پوچھیے گا۔
لہٰذا جنوبی پنجاب کے دریائی جنگلوں میں بالخصوص کوئی آپریشن رینجرز اور فوج کی مدد کے بغیر کامیاب نہیں ہوتا۔ زیادہ جانی نقصان پولیس کا ہی ہوتا ہے۔ مگر ایسا بھی نہیں کہ پولیس مجرموں سے سختی نہیں برتتی۔
چودہ نومبر 2014 کو گھوٹکی شہر میں کلاشنکوف، جی تھری اور آر پی جی لانچرز سے لدے پھندے سلتو گینگ کے درجنوں ’مظلوم ڈاکوؤں‘ نے پولیس کی بھتہ خوری، جعلی پولیس مقابلوں اور جھوٹے مقدمات کے خلاف احتجاجی جلوس نکالا۔
تب گھوٹکی کے ایس ایس پی ابرار حسین نے کہا کہ پولیس نے ان مجرموں کے گرد دائرہ اتنا تنگ کر دیا ہے کہ اب یہ بے بس ہو کر احتجاج پر اتر آئے ہیں۔ اس سے بڑی کامیابی اور کیا ہو گی؟ جب ان سے پوچھا گیا کہ اتنا جدید اسلحہ لے کر ڈاکو کھلے عام کیسے گھوم رہے ہیں تو ایس پی صاحب نے کہا کہ یہ اسلحہ مارکیٹ میں دستیاب ہے۔
پولیس، ڈاکو، پتھارے دار، سرکار گٹھ جوڑ اگرچہ حقیقت ہے لیکن جو افسر اس دائرے کو توڑنا بھی چاہیں تو انھیں خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔
مثلاً روزنامہ ڈان کی جنوری سنہ 2020 کی ایک رپورٹ کے مطابق ایس ایس پی شکارپور ڈاکٹر رضوان احمد نے ڈی آئی جی کو ایک کانفیڈنشل رپورٹ میں لکھا کہ صوبائی وزیرِ توانائی امتیاز شیخ، ان کے بھائی اور دو بیٹوں نے جو مسلح گارڈز رکھے ہوئے ہیں ان میں سے کچھ اشتہاری ہیں۔

،تصویر کا ذریعہBorder Military Police,DGKhan.
رپورٹ میں اشتہاری گینگسٹر اتو شیخ سے وزیرِ موصوف کی کالز کا ریکارڈ بھی منسلک تھا۔ اس پر سندھ حکومت کے ترجمان مرتضی وہاب نے الٹا سوال کر دیا کہ اگر یہ رپورٹ سیکرٹ ہے تو منظرِ عام پر کیسے آئی؟
( مشہور نقیب اللہ محسود قتل کیس کے انویسٹی گیشن افسر کی حیثیت میں ایس ایس پی رضوان جے آئی ٹی کا بھی حصہ تھے ۔اس کیس میں راؤ انوار کا نام بطور مرکزی کردار اچھلا تھا۔ بعد ازاں ڈاکٹر رضوان کی خدمات جانے کس محکمے کے سپرد کر دی گئیں)۔
حکومتِ سندھ نے ہتھیار ڈالنے کے لیے ڈاکوؤں کی حوصلہ افزائی کی جو نئی پالیسی اپنائی ہے وہ اتنی نئی بھی نہیں۔انیس سو اسی کے عشرے میں بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے دشوار گزار علاقے چنبل میں عشروں سے سرگرداں ڈاکوؤں کے لیے بھی ایسی ہی حکمتِ عملی اپنائی گئی۔
چنبل کے بادشاہ ملکھن سنگھ کے گینگ میں سو ڈاکو تھے۔ ان پر اغوا، ڈ کیتی، بھتے اور قتل کے چورانوے کیسز تھے۔ ملکھن سنگھ نے انیس سو بیاسی میں اس شرط پر تیس ہزار افراد کے مجمع کے سامنے وزیرِ اعلی ارجن سنگھ کو اپنی بندوق حوالے کی کہ سات برس بعد اُنھیں رہا کر دیا جائے گا۔
ملکھن سنگھ سنہ 1979 میں رہائی کے بعد سیاست میں آئے۔ بی جے پی سمیت کئی سیاسی جماعتوں میں شامل رہے۔دو بار الیکشن لڑا مگر ہار گئے۔ ان دنوں چھیاسی سالہ دادا ملکھن سنگھ کانگریس میں ہیں اور ان کی اہلیہ آبائی گاؤں کی سرپنچ ہیں۔
چنبل کی ملکہ پھولن دیوی کے ساتھ جو کچھ ہوا اسے آپ فلم بینڈٹ کوئین میں دیکھ ہی چکے ہوں گے۔ اُنھوں نے اپنے کم عمری کے ریپ میں ملوث بائیس ملزموں کا قتلِ عام بھی کیا تھا۔ پھولن نے بھی سنہ 1983 میں آٹھ برس قید کی شرط پر ہتھیار حوالے کیے مگر رہائی گیارہ برس بعد ملی۔
پھولن سماج وادی پارٹی کے ٹکٹ پر دو بار رکن اسمبلی منتخب ہوئیں۔ جولائی 2001 میں انھیں گولی مار دی گئی۔ ان کی عمر تب اڑتیس برس تھی۔ قاتل کا پتہ نہیں چلا۔ شبہہ ہے کہ یہ سیاسی قتل تھا۔ ان کی وفات پر صدرِ جمہوریہ کے آر نارائنن نے خراج تحسین پیش کیا کہ پھولن پسماندہ طبقات اور مظلوم خواتین کے حقوق کی جدوجہد کا سمبل تھیں۔
گھوٹکی کے ثنا اللہ شر نے گذشتہ برس گرفتاری دی۔ ان پر ایک ڈی ایس پی سمیت پانچ پولیس اہلکاروں کو قتل کرنے سمیت سترہ پرچے تھے۔ اب وہ ان ’جھوٹے الزامات‘ سے مکتی پا چکے ہیں اور سوشل میڈیا پر وڈیو پیغام میں عہد کیا ہے کہ آج کے بعد وہ حق اور سچ کی آواز بلند کرنے والے صحافی بنیں گے۔
لگتا ہے ڈاکوؤں کی نئی پود کو رفتہ رفتہ یہ راز سمجھ میں آ رہا ہے کہ جتنا پیسہ جنگلوں میں رہ کر قانون سے بھاگتے رہنے میں بن سکتا ہے اور بدنامی بھی الگ ہوتی ہے۔ اس سے کہیں زیادہ رسوخ اور دھن تھوڑی ذہانت استعمال کر کے قانون کو سمجھ کر جنگل سے باہر رہ کر بھی ’شرافت‘ سے کمایا جا سکتا ہے ۔اور عزت بھی چوکھی۔۔۔۔۔











