آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سگریٹ نوشوں کو شرمندہ کرنے کے لیے انھیں گھوریں: ہانگ کانگ کے وزیر صحت کا مشورہ
ہانگ کانگ کے وزیر صحت نے مشورہ دیا ہے کہ ہانگ کانگ کے لوگوں کو تمباکو نوشی کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے اور جہاں اس پر پابندی ہے وہاں سگریٹ سلگھانے والوں کو گھورنا چاہیے۔
تمباکو سے پاک شہر بنانے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے لو چنگ ماؤ نے یہ بھی کہا کہ پولیس سے تو تمباکو نوشی کرنے والوں کو پکڑنے کی توقع نہیں کی جا سکتی۔
ہانگ کانگ اس وقت تمباکو نوشی کے خلاف اپنے اقدامات کو سخت کرنے پر بحث کر رہا ہے۔ موجودہ قوانین میں ریستورانوں، کام کی جگہوں، انڈور عوامی مقامات اور کچھ بیرونی عوامی مقامات کے اندر تمباکو نوشی پر پابندی ہے۔
ہانگ کانگ میں تمباکو نوشی کو کم کرنے کے لیے عوامی مشاورت شروع کرنے کے بعد پروفیسر لو نے صحت کے ایک اجلاس میں ساتھی قانون سازوں کو بتایا کہ تمباکو نوشی کو کم کرنے میں عوام کا اہم کردار ہے اور پولیس افسران کے لیے اس عمل میں تمباکو نوشی کرنے والوں کو بروقت پکڑنا ایک چیلنج ہوگا۔
پروفیسر لو، جو ایک ڈاکٹر بھی ہیں، انھوں نے کہا کہ تمباکو نوشی ہر ایک کی صحت کے لیے خراب ہے اور ہانگ کانگ کو ’معاشرے میں ایک ایسے کلچر کی ضرورت ہے کہ لوگ قانون پر عمل کرنے کے لیے تیار ہوں‘۔
انھوں نے مزید کہا ’جب عوام کسی کو ایسے مقامات پر تمباکو نوشی کرتے دیکھیں جہاں منع ہے اور وہاں قانون نافذ کرنے والا کوئی بھی افسر فوری طور پر سامنے نہ ہو تو ہم تمباکو نوشی کرنے والوں کو گھور سکتے ہیں۔‘
پروفیسر لو نے پینل کو بتایا کہ قانون کے نفاذ کو بہتر بنایا جائے گا۔
تمباکو نوشی کے موجودہ قوانین کی خلاف ورزی پر 1,500 ہانگ کانگ ڈالر تک کے جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ جب پولیس جائے وقوعہ پر پہنچتی ہے تو ہو سکتا ہے کہ جرم پہلے ہی رک چکا ہو اور اس لیے وہ کارروائی کرنے سے قاصر ہیں۔
انھوں نے مشورہ دیا کہ بس کا انتظار کرنے پر تمباکو نوشی کے قوانین کو آداب کی طرح نافذ کیا جانا چاہیے۔
’کوئی بھی یہ نہیں کہے گا کہ لوگوں کو قطار میں کھڑے ہونے پر مجبور کرنے کے لیے قانون کی ضرورت ہے۔ ہمارا معاشرہ ایک ایسا کلچر تخلیق کرنے کے قابل ہے جہاں لوگ بسوں کا انتظار کرتے وقت قطار میں کھڑے ہونے کے اس اصول کی تعمیل کریں گے۔ مجھے امید ہے کہ پورا معاشرہ تمباکو نوشی نہ کرنے کا کلچر بنا دے سکتا ہے۔‘
ہانگ کانگ کی حکومت کی جانب سے جن نئے اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے ان میں ایک مخصوص سال کے بعد پیدا ہونے والے افراد پر تمباکو کی مصنوعات خریدنے پر پابندی اور سگریٹ کے پیکٹ پر ٹیکس میں نمایاں اضافہ شامل ہے۔