کولکتہ ہائی کورٹ کا لڑکیوں کو جنسی خواہشات پر قابو رکھنے کا مشورہ قطعی غلط ہے: انڈین سپریم کورٹ

،تصویر کا ذریعہHINDUSTAN TIMES
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نیو دہلی
انڈیا کی سپریم کورٹ نے کولکتہ ہائی کورٹ کے ایک بینچ کے اس فیصلے پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ لڑکیوں کو اپنی جنسی خواہشات پر قابو رکھنا چاہیے۔
انڈین سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ ججوں کو اس طرح کے حساس معاملات میں اپنے ذاتی خیالات اور رائے کے اظہار سے بچنا چاہیے۔ اس طرح کا مشاہدہ دینا قطعی طور پر غلط ہے۔
سپریم کورٹ نے ایک نوعمر لڑکی کے اغوا اور جنسی زیادتی کے ایک معاملے میں کولکتہ ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کا از خود نوٹس لیتے ہوئے دسمبر کے اوائل میں مغربی بنگال کی حکومت کو ایک نوٹس بھیج کر پوچھا تھا کہ آیا اس نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کی ہے یا نہیں۔
جمعرات کو اس معاملے کی مزید سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ ہائی کورٹ کا یہ کہنا کہ ’بلوغت کو پہنچنے والی لڑکیوں کو دو منٹ کے جنسی لطف لینے کے بجائے اپنی جنسی خواہشوں پر قابو رکھنا چاہیے۔ نہ صرف غلط ہے بلکہ یہ نئے مسئلے پیدا کر سکتا ہے۔‘
عدالت نے اس سے پہلے کی سماعت میں کہا تھا کہ ججوں کو کسی مقدمے کا فیصلہ قانون اور حقائق کی روشنی میں کرنا چاہیے اور انصاف کے عمل میں تبلیغ کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
عدالت عظمیٰ نے کہا کہ ہائی کورٹ کے بینچ نے اس کیس میں جو مشاہدات دیے ہیں وہ قطعی غیر ضروری تھے۔ اس نے عدالت کے فیصلے کے جواز کے بارے میں بھی سوال کیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس معاملے میں ملزم کے خلاف تعزیرات ہند اور نابالغ بچیوں کے ساتھ ریپ کے قوانین کے تحت مقدمہ دائر کیا گیا تھا۔ اور کولکتہ ہائی کورٹ نے ملزم کو بری کر دیا تھا۔
واضح رہے کہ یہ معاملہ ہائی کورٹ میں آنے سے پہلے بنگال کی ایک ذیلی عدالت نے ملزم کو نابالغ لڑکی کے اغوا اور ریپ کا مجرم قرار دیا تھا۔ ملزم نے اس فیصلے کے خلاف کولکتہ ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے اپنے فیصلے میں ملزم کو بری کرتے ہوئے مشاہدات میں کہا تھا کہ ’یہ ہر نو بالغ اور نوعمر لڑکی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے جسم کی پاکیزگی برقرار رکھنے کا تحفظ کرے۔‘
انڈین سپریم کورٹ نے کہا کہ اس فیصلے میں صرف یہی جملہ ہی نہیں بلکہ ہر پیراگراف میں نقائص ہیں۔
عدالت عظمیٰ نے کہا کہ معزز ججوں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ مقدمات میں اپنے ذاتی خیالات کے اظہار اور تبلیغ کرنے سے گریز کریں گے۔ اس مقدمے پر اب آئندہ سماعت 12 جنوری کو ہو گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سوشل میڈیا پر بھی بعض صارفین نے کولکتہ ہائی کورٹ کے اس فیصلے پر تنقید کی ہے۔
جوش کمار نامی صارف نے مائیکرو بلاگنگ سائٹ ایکس پر طنزیہ انداز میں پوچھا ہے کہ ججوں نے لڑکیوں سے اپنی جنسی خواہشات پر قابو رکھنے کی بات جج کے طور پر یا ماہر جنسیات کے طور پر کہی ہے؟
ایک اور صارف ارجن کمار نے درخواست کی ہے کہ ’ججوں کی اس دلیل کو مستر کر دیا جائے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
سشیل نامی صارف نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ ايسے لوگوں کو کسی بھی سرکاری ادارے، بالخصوص عدلیہ میں ہرگز نہیں ہونا چاہیے جو اخلاقی پولیس بننے کی کوشش کرتے ہیں۔
مغربی بنگال کی حکومت نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی ہے۔
عدالت عظمیٰ نے اپیل اور از خود نوٹس کے معاملے کو یکجا کر کے اس معاملے کی سماعت کے لیے 12 جنوری کی تاریخ مقرر کی ہے۔











