مودی-شی ملاقات: کیا انڈیا کی چین سے بڑھتی قربت پر پاکستان کو پریشان ہونے کی ضرورت ہے؟

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, اعظم خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
انڈیا اور پاکستان کے سربراہان مملکت شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس میں شرکت کے لیے چین کے شہر تیانجن میں موجود ہیں۔ انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی کی چینی صدر سے ملاقات ہوئی ہے وہیں پاکستانی وزیراعظم نے تیاجن کی یونیورسٹی میں پاک چین دوستی پر تفصیل سے خطاب کیا ہے۔
اتوار کے روز مودی سے ملاقات کے دوران ابتدائی ریمارکس دیتے ہوئے چینی صدر شی جن پنگ کا کہنا تھا کہ عالمی منظر نامہ تبدیل ہو رہا ہے اور بین الاقوامی صورتحال افراتفری کا شکار ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ چین اور انڈیا نہ صرف ’مشرق کی دو قدیم تہذیبیں‘ ہیں بلکہ دنیا کے ’دو سب سے زیادہ آبادی والے ملک اور گلوبل ساؤتھ کا حصہ ہیں۔‘
چینی صدر کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایسے دوست بن کر رہیں جن کے اچھے تعلقات ہوں۔ ’ایسے شراکت دار جو ایک دوسرے کی کامیابی کا باعث بنیں، اور ڈریگن اور ہاتھی ایک ساتھ رقص کریں۔‘
انڈین وزیرِ اعظم نریندر مودی کا کہنا تھا کہ 2.8 ارب لوگوں کے مفادات دونوں ممالک کے درمیان تعاون سے جڑے ہوئے ہیں۔
نریندر مودی کا کہنا تھا کہ انڈیا چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو آگے لے جانے کے لیے پُرعزم ہیں۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان بات چیت کے لیے امریکی ٹیرف کا مسئلہ سرفہرست ہے۔ روس سے تیل کی خریداری پر ٹرمپ نے امریکہ آنے والی انڈین اشیا پر 50 فیصد ٹیرف عائد کر رکھا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ ٹیرف انڈیا کی ایکسپورٹ سیکٹر اور پیداواری اہداف کو متاثر کرے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکی ٹیرف چینی صدر کے منصوبے کی تکمیل کی راہ میں بھی ایک رکاوٹ یا خطرہ بن رہا ہے۔
سرحدی تنازعات میں گھرے ماضی کے برعکس اب دونوں ممالک اپنے تعلقات کو از سر نو تشکیل دیں گے۔ چیتھم ہاؤس کے ڈاکٹر چیتیج باجپائی کے مطابق دونوں ممالک کے تعلقات کا انحصار ’اب دنیا میں رونما والی تبدیلیوں پر ہے۔‘
ان کی رائے میں مودی کا دورۂ چین ’ایک ممکنہ ٹرننگ پوائنٹ ہے۔‘
چین اور انڈیا بالترتیب دنیا کی دوسری اور پانچویں بڑی اقتصادی طاقتیں ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا اور چین ایک دوسرے سے کیا چاہتے ہیں؟
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے مطابق شرح پیداوار چھ فیصد سے زائد رہنے کے امکان کے ساتھ پانچ ٹریلن ڈالر کی سٹاک مارکیٹ والا انڈیا دنیا کی تیسری بڑی معاشی طاقت بننے کی راہ پر گامزن ہے۔
بیجنگ میں وسوا ایڈوائزری کے چیف ایگزیکٹو چی این لیو کا کہنا ہے کہ روایتی طور پر دنیا چین اور امریکہ کے دو طرفہ تعلقات کو بہت اہمیت دے رہی ہے۔ ان کے مطابق 'اب وقت آ گیا ہے کہ ہمیں اپنی توجہ زیادہ دوسرے اور تیسرے نمبر کی معاشی طاقت، چین اور انڈیا ایک دوسرے سے مل کر کیسے کام کر سکتے ہیں۔'
دونوں ممالک کے درمیان تعلقات ایک بہت بڑا چیلنج بھی ہے۔ نئی دہلی اور بیجنگ میں حل طلب دیرینہ علاقائی تنازع ہے، جو ان دونوں ممالک بڑی اور گہری دشمنی کاعکاس ہے۔
ریسرچ کمپنی ایشیا ڈی کوڈ کی بانی اور ماہر معاشی امور پرینکا کشور کہتی ہیں کہ ’اگر بی وائے ڈی فیکٹری انڈیا آ رہی ہے تو مجھے حیرت ہو گی، لیکن اس سے کچھ کامیابیاں ہو سکتی ہیں۔‘
ان کے مطابق دونوں ممالک میں براہ راست پروازیں دوبارہ شروع کرنے کا پہلے ہی اعلان ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ ویزوں میں مزید نرمی ہو سکتی ہے اور دیگر تجارتی معاہدات بھی ہو سکتے ہیں۔
انٹرنیشل انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل سٹڈیز (آئی آئی ایس ایس) میں جنوبی اور وسطی ایشیائی دفاع، حکمت عملی اور سفارت کاری کے سینیئر فیلو، اینٹون لیوسک کہتے ہیں کہ ’دوسری طاقتوں کی توقعات، جو انڈیا اور چین کو ایشا میں وسیع تر استحکام کے ایک اہم عنصر کے طور پر دیکھتے ہیں، پر پورا اترنے کے لیے دونوں ممالک کو بات چیت کی ضرورت ہوگی۔‘
اس وقت دونوں ممالک کے درمیان کچھ اور فالٹ لائنز بھی ہیں جیسے تبت کے دلائی لاما اور پانی پر تنازعات ہیں کیونکہ چین اس دریا پر دنیا کا سب سے بڑا ہائیڈروالیکٹر پاور پروجیکٹ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے جس پر دونوں ممالک کا انحصار ہے۔
اسی طرح پہلگام حملے کے بعد بھی انڈیا اور پاکستان کے درمیان جو کشیدگی پائی جاتی ہے وہ بھی ان تعلقات کے لیے ایک چیلنج ہے۔
انڈیا کے اس کے بیشتر پڑوسی ممالک سے اچھے تعلقات نہیں ہیں جبکہ اس وقت چین پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا اور افغانستان کے لیے اہم تجارتی شراکت دار ہے۔

،تصویر کا ذریعہAPP
کیا نئی دہلی کی بیجنگ سے نزدیکی پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے؟
اس وقت ساری دنیا کی نگاہیں چین کے شہر تیانجِن پر ہیں کیونکہ ايس سی او کا اجلاس ہو رہا ہے اور روسی صدر ولادیمیر پوتن سمیت تقریباً ایک درجن رہنما موجود ہیں۔
لیکن ان سب سے قطع نظر انڈیا اور پاکستان میں سوشل میڈیا پر اس بات کا چرچا ہے کہ دونوں ممالک میں سے کس ملک کے سربراہ کو چین میں زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے اور ان کا استقبال کس طرح کیا گیا۔
وزیر اعظم مودی نے تیانجن ایئرپورٹ پر اترنے کے بعد کئی تصاویر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ وہ ’ایس سی او کے اجلاس کے دوران مختلف ممالک کے رہنماؤں سے ملاقات کے منتظر ہیں۔‘
جبکہ شہباز شریف کے ایکس ہینڈل سے ان کی ایک تصویر پوسٹ کی گئی اور نسبتاً طویل پیغام لکھا گيا کہ وہ ’چین کے تاریخی دورے پر روانہ ہوئے۔ وزیراعظم تیانجن میں ایس سی او کی سربراہی میٹنگ میں شرکت کریں گے اور بیجنگ میں دوسری جنگ عظیم میں فاشزم پر فتح کی 80ویں سالگرہ کی تقریب میں شرکت کریں گے۔‘
ساتھ یہ بھی لکھا تھا کہ وہ صدر شی جن پنگ اور دیگر عالمی رہنماؤں سے ملاقات کے منتظر ہیں۔
اتوار کو تیانجن یونیورسٹی میں فیکلٹی ممبران اور طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ’پاک چین دوستی باہمی اعتماد، احترام اور پُرخلوص محبت کی بنیاد پر قائم ہے، ہماری دوستی ہر آزمائش پر پوری اتری ہے، پاکستان اور چین نے ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے۔‘
شہباز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس وقت دنیا میں ’بہت سی تبدیلیاں بھی آتی رہی ہیں لیکن ہماری دوستی مضبوط سے مضبوط تر ہوئی ہے، ہماری منزل ایک ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’پاکستان مسلم دنیا کا پہلا ملک تھا جس نے عوامی جمہوریہ چین کو تسلیم کیا، 60 سال قبل بیجنگ جانے والی پہلی بین الاقوامی پرواز کراچی سے روانہ ہوئی۔‘
پاکستان کے سابق سیکریٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے بی بی سی سے کو بتایا کہ انڈیا کے چین کے قریب آنے سے پاکستان پر کوئی منفی اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔ ان کی رائے میں اسلام آباد کے بیجنگ کے ساتھ تعلقات بہت مضبوط اور سٹریٹجک نوعیت کے ہیں۔
چین پر گہری نظر رکھنے والے بین الاقوامی امور کے ماہر ڈاکٹر فضل الرحمان نے بی بی سی کو بتایا کہ چین اور پاکستان کی دوستی کسی بیرونی عوامل سے بالاتر ہے۔ ان کی رائے میں انڈیا کے چین کے ساتھ تعلقات بہتر ضرور ہوں گے مگر ان تعلقات میں زیادہ بہتری کے امکان نہیں ہیں۔
ان کے مطابق اس وقت دونوں ممالک کے درمیان سو بلین ڈالر سے زیادہ کی تجارت ہو رہی ہے اور انڈیا اسے مزید بڑھانے کے علاوہ چین سے ٹیکنالوجی ٹرانفسر کا بھی خواہاں ہے۔
ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر فضل الرحمان کے مطابق پاکستان اس ٹیکنالوجی کے استعمال کی اہلیت ہی نہیں رکھتا کیونکہ ’ابھی ہمارے پاس یہاں ایسا انفراسٹرکچر ہی نہیں ہے۔‘
ان کے مطابق ایس سی او کا اثر و رسوخ محدود ہے کیونکہ ’اس میں شامل ممالک کے آپس میں تعلقات زیادہ اچھے نہیں ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہPMO
پاکستان کے ایک اور سابق سیکریٹری خارجہ جوہر سلیم کا کہنا ہے کہ انڈین وزیر اعظم مودی کئی برسوں سے ایس سی او کے اجلاس میں شرکت نہیں کرتے تھے اور اپنے کسی اور وزیر کو اس اجلاس میں بھیج دیتے تھے۔
ان کی رائے میں جب امریکہ کے ساتھ تعلقات میں تناؤ آیا تو اب انڈیا یہ دکھانا چاہتا ہے کہ اس کے پاس مزید آپشنز بھی ہیں۔
جوہر سلیم کی رائے میں انڈیا اور امریکہ میں تناؤ کی وجہ امریکی کمپنیوں کا انڈیا میں کام کرنا جس کی وجہ سے ملازمتیں امریکہ سے باہر جا رہی تھیں۔ ’پھر ہر سال ایک لاکھ تک انڈین کا امریکہ آنا اور پاکستان کے ساتھ جنگ بندی کا کریڈٹ صدر ٹرمپ کو نہ دینا اور روسی تیل کی خریداری ایسے عوامل ہیں جس سے ٹرمپ ناراض ہوئے۔‘
ان کے مطابق اب انڈیا ’محض دکھاوے کے لیے یہ سب کر رہا ہے۔ اس میں زیادہ کوئی گہرائی نہیں ہے۔ تاہم دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات بہت گہرے ہیں۔‘
جوہر سلیم کے مطابق انڈیا اور چین کے درمیان سٹریٹجک نوعیت کا تنازع ہے۔ ’وہ دیرپا رہے گا۔‘
ان کی رائے میں انڈیا عالمی طاقت بننے کا خواہاں ہے جبکہ وہ اس دوڑ میں اپنا حریف اور رکاوٹ چین کو سمجھتا ہے۔
سابق سفارتکار کے مطابق نئی دہلی کے بیجنگ کے ساتھ سٹریٹجک پارٹنرشپ کے امکانات نہیں اور بالآخر انڈیا کو دوبارہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے مغربی کیمپ کی طرف ہی پرانی تنخواہ پر کام کرنا پڑے گا۔
جوہر سلیم کے مطابق پاکستان کے چین کے ساتھ مفادات ملتے ہیں اور دونوں میں دیرپا ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔
اعزاز احمد چوہدری کا کہنا ہے کہ دلی کی اپنی پالیسیاں ہیں کیونکہ انڈیا کبھی امریکہ کے بہت قریب چلا جاتا ہے اور کبھی وہ دور نکل جاتا ہے۔ ’اس نے خطے میں تمام ممالک کے ساتھ تعلقات کشیدہ کیے ہوئے ہیں۔‘
ان کے مطابق سات برس تک جہاں مودی چین نہیں گئے تو وہ ’محض ایک خاص تناظر میں وہاں جا کر زیادہ فرق نہیں ڈال سکتے۔‘
پاکستان کے سابق اعلی سفارتکار اس بات پر متفق ہیں کہ انڈیا کے چین کے قریب آنے سے پاکستان پر مثبت اثرات پڑنے کے امکانات ضرور موجود ہیں کیونکہ چین خطے میں استحکام اور امن چاہتا ہے۔ اس طرح وہ ’دوستی نہ بھی سہی مگر انڈیا اور پاکستان دونوں میں ورکنگ تعلقات بحال کروانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔‘













