وہ کیچ جو پاکستان کو سیمی فائنل تک لے گیا، سمیع چوہدری کا کالم

    • مصنف, سمیع چوہدری
    • عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار

تیرہ سال پہلے جب رولوف وین ڈر مروے جنوبی افریقہ کے ورلڈ کپ سکواڈ کا حصہ تھے تو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ایک روز وہی رولوف کسی ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ میچ میں جنوبی افریقہ کو ہی ایونٹ سے بے دخل کرنے کی کلید بن جائیں گے۔ 

جنوبی افریقہ کے ساتھ یہ سانحہ پہلی بار نہیں ہوا۔ سنہ 2015 کے ورلڈ کپ میں بھی جنوبی افریقی نژاد گرانٹ ایلیٹ نے بھی اپنے ہم وطنوں پر ایسا ہی قہر ڈھایا تھا۔ اگرچہ یہاں ایڈیلیڈ کے اس ناک آؤٹ مقابلے میں جنوبی افریقی اننگز تمام تر خلفشار کے باوجود اس پوزیشن میں تھی کہ ڈیوڈ مِلر جیسے کہنہ مشق کی جارحیت سے ہدف عبور کر جاتی۔ 

مگر جو کیچ رولوف وین ڈر مروے نے کیا، وہ میچ کا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا۔ جس وقت گیند ملر کے بلے کے کنارے سے ٹکرا کر ہوا میں بلند ہوئی، رولف فائن لیگ سے بھاگنا شروع ہوئے اور اپنی سبک رفتاری سے ایک لگ بھگ ناممکن چیز کو ممکن کر دکھایا۔ اس کیچ نے نہ صرف اُنھیں پہلی بار جنوبی افریقہ کے خلاف فتح سے نوازا بلکہ آئندہ ورلڈ کپ میں ڈچ ٹیم کی کوالیفکیشن بھی پکی کر دی۔

قدرت کے نظام سے سبھی امیدیں وابستہ کیے ہوئے پاکستان کے لیے وہ کیچ کسی غیبی تائید سے کم نہیں تھا۔

اس کیچ نے پاکستان کے لیے اگر مگر کی تمام شرائط توڑ دیں اور سیمی فائنل تک رسائی کے لیے اُنھیں محض شکیب الحسن کی ٹیم کو ہی مات دینی تھی۔ جب مقصدیت یوں واضح ہو گئی تو پھر پاکستانی بولنگ کا بھی عزم قابلِ دید تھا جو جنوبی افریقہ کے خلاف فتح کے بعد پہلے ہی بلند ترین مورال پر تھی۔

ایڈیلیڈ کی یہ استعمال شدہ پچ اپنی ساخت اور باؤنس کے اعتبار سے شاہین شاہ آفریدی کے لیے موزوں ترین سطح تھی۔ شاہین کو اس پچ پر کامیابی کے لیے زیادہ جوڑ توڑ نہیں کرنی پڑی اور بنیادی باتوں پر ہی توجہ مرکوز رکھتے ہوئے اُنھوں نے بنگلہ دیشی بلے بازوں کے طوطے اڑا دیے۔

محمد حارث نے جنوبی افریقہ کے خلاف جس طرح اپنی آمد کا نقارہ بجایا تھا، اس نے ایک افسردہ بیٹنگ لائن میں نئی روح پھونک دی تھی اور پاکستان نے ٹورنامنٹ میں عین درست وقت پر مومینٹم حاصل کیا جو نیدرلینڈز کی مدد شاملِ حال ہونے سے سوا ہو گیا۔

یہ بھی پڑھیے

بنگلہ دیش کی یہ ورلڈ کپ کیمپین ان کی تاریخ کے اعتبار سے کامیاب ترین رہی ہے اور اس میں کلیدی کردار شکیب الحسن کی فارم کا رہا ہے۔ مگر یہاں صرف پاکستانی بولنگ ہی نہیں، بیٹنگ بھی شکیب الحسن کے توڑ کے لیے پرعزم تھی اور اوائل میں شکیب الحسن کو پاکستانی بیٹنگ کی جو جارحیت جھیلنی پڑی، اس کے بعد ان کے بولنگ آپشنز بھی محدود ہوتے گئے۔

ایڈیلیڈ عموماً دھیمے باؤنس کی پچ رہی ہے مگر یہاں چونکہ پچ ایک میچ پہلے بھی استعمال ہو چکی تھی، سو باؤنس اتنا کم تھا کہ کسی بھی بلے باز کے لیے اونچے شاٹ کھیلنا دشوار تھا۔ محمد حارث کی اننگز لائقِ تحسین تھی کہ اُنھوں نے اپنی اننگز کو کنڈیشنز کی موافقت میں ڈھالا اور مطلوبہ رن ریٹ کے بوجھ کو سہل کر دیا۔

اگر بنگلہ دیشی بیٹنگ پاکستانی بولنگ کے سامنے ذرا اور مزاحمت دکھا پاتی تو یہ ہدف دشوار تر ہو سکتا تھا مگر جب یہ مختصر سا مجموعہ بھی پاکستانی ڈریسنگ روم کے اعصاب شل کرنے لگا تو شان مسعود کی نفاست اور دانش مندی نے کمال تجربے سے ناؤ پار لگائی۔

دوسری جانب زمبابوین پیسرز اپنی حالیہ شہرت سے انصاف نہ کر پائے اور سوریا کمار یادیو کے لیے تر نوالہ ٹھہرے۔ سوریا کمار کریز پر جس اعتماد اور روانی سے اپنی من مانی کرتے ہیں، وہ ماڈرن ٹی ٹونٹی بیٹنگ کے لیے ایک انقلاب کی نوید ہے۔ ان کی فارم یہاں بھی شرما کی ٹیم کے لیے کلیدی ثابت ہوئی اور مڈل اوورز کے منجدھار میں گِھری اپنی ٹیم کو کنارے لگایا۔ 

کریگ ایروِن کی کپتانی بہرطور بہت مایوس کن رہی۔ میلبرن کی اس پچ سے پیسرز کو قطعاً وہ مدد نہیں مل رہی تھی جس نے ٹورنامنٹ کے اوائل میں سبھی کو چونکا دیا تھا۔ یہ روایتی میلبرن پچ تھی جہاں سپنرز کے لیے ماحول سازگار تھا اور سپنرز ہی بیچ کے اوورز میں زمبابوے کو میچ میں واپس لائے۔

مگر ایروِن کی پڑھی لکھی کپتانی نے سبھی کو حیران کر ڈالا جب وہ سولہویں اوور میں دن کے مہنگے ترین بولر بلیسنگ مزربانی کو واپس لے آئے اور ڈیتھ اوورز میں سپن کو بالکل شجرِ ممنوعہ سمجھا۔ حالانکہ سپنرز زمبابوے کو میچ میں واپس لا کر کسی اپ سیٹ کی راہ بھی ہموار کر سکتے تھے۔

ایونٹ کے آغاز میں بہت سی نظریں پاکستان اور انڈیا پر جمی تھیں۔ جہاں پاکستان اپنے سنسنی خیز پیس اٹیک کی بدولت شہ سرخیوں میں تھا، وہیں روہت شرما کی ٹیم پچھلے ورلڈ کپ کی تباہ کن یادوں کے سبب کئی نظروں میں تھی۔ مگر دونوں ٹیموں کی ٹورنامنٹ میں پیش رفت متاثر کن رہی ہے۔ 

اس سنسنی خیز ورلڈ کپ کے آغاز سے تاحال یہ پہلا وقفہ ہے جہاں دو دن کے لیے شائقین کو بھی سانس لینے کا موقع ملے گا اور یہ ہضم کرنے کا وقت میسر ہو گا کہ کیسے پاکستان نے سبھی اندازوں کو تہہ و بالا کر کے سیمی فائنل میں اپنی جگہ بنائی۔