’پارٹی سِٹی‘ سے اسلامی جمہوریہ تک: ایران میں 45 برس قبل انقلاب برپا کرنے والے ’پرانے انقلابی‘ آج کیا سوچتے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہEPA
- مصنف, علی ہمدانی
- عہدہ, بی بی سی فارسی
لگ بھگ 45 سال قبل ایران کے شہریوں نے ایسی تبدیلی کے لیے جدوجہد کی جس نے ایران کو یکسر بدل کر رکھ دیا تھا، انھوں نے ایک ایسی تحریک میں شرکت کی جس نے سنہ 1979 میں ملک میں اسلامی انقلاب برپا کیا۔
اس جدوجہد میں شامل چند افراد آج کے دن جب اُس وقت پیش آنے والے واقعات پر نظر دوڑاتے ہیں اور اپنے اقدامات پر غور کرتے ہیں تو انھیں کسی حد تک شرمندگی محسوس ہوتی ہے جبکہ بیشتر اب بھی مانتے ہیں کہ انھوں نے اس ضمن میں جو کیا وہ بالکل درست تھا۔
تہران یونیورسٹی میں سیاسیات کے سابق پروفیسر صدیق زیبا کلام کہتے ہیں کہ ’45 سال پہلے انقلابیوں میں سے کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایسا دن بھی آئے گا جب لوگ انھیں مجرموں کی نظر سے دیکھیں گے۔‘
یہ ان لاکھوں ایرانیوں میں سے ایک تھے جو شاہ محمد رضا پہلوی کی حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکلے تھے۔ اس محمد رضا پہلوی کے خلاف جنھوں نے 37 سال سے زائد عرصے تک مکمل کنٹرول کے ساتھ ملک پر حکمرانی کی تھی۔
مگر پھر ملک گیر مظاہروں کے نتیجے میں خود ساختہ ’بادشاہوں کے بادشاہ‘ کی حکومت کا تختہ الٹ گیا۔ مگر اس تاریخی واقعے کے 45 سال بعد اب بہت سے نوجوان آج کے ایرانی رہنماؤں، انقلاب اور اس کے حمایتوں پر سوال اٹھاتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
آزادی اور جمہوریت
سنہ 2022 میں ایران کی نام نہاد اخلاقی پولیس کے ہاتھوں حراست میں لیے جانے کے بعد 22 سالہ ماہسا امینی کی موت نے ایران میں حکمران طبقے کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج کو جنم دیا۔
انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، سماجی آزادیوں پر پابندی اور ایرانی معیشت کی زبوں حالی نے بھی وقت کے ساتھ بے اطمینانی کو بڑھاوا دیا ہے۔ معیشت کی بات کی جائے تو ایران میں افراط زر کی شرح 43 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
اور دوسری جانب مغرب کی جانب سے ایران کی جوہری سرگرمیوں کی وجہ سے لگنے والی پابندیاں بھی صورتحال کو مشکل بنا رہی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
جس سمت میں ایران جا رہا ہے کچھ نوجوان اس کا ذمہ دار پرانے انقلابیوں کو ٹھہراتے ہیں۔ وہ سوال کرتے ہیں کہ کیا واقعی وہ اس چیز کے لیے لڑے تھے؟
زیبا کلام، جنھوں نے اپنی یونیورسٹی کے سال برطانیہ میں گزارے ہیں، کہتے ہیں، ’اگر مجھے 1979 میں واپس جانا پڑا تو میں دوبارہ وہی کروں گا اور انقلاب میں حصہ لوں گا۔‘ ان کا کہنا ہے کہ وہ یہ اپنی ضد یا نفرت یا غرور اور تعصب کی وجہ سے نہیں کہہ رہے۔
’ہم کیا چاہتے تھے؟ ہم چاہتے تھے کہ آزاد انتخابات ہوں اور کوئی سیاسی قیدی نہ ہو۔ لیکن، جو شخص ملک چلا رہا ہو وہ اپنی من مانی نہ کرے۔‘
وہ ایران کے موجودہ مسائل کی ذمہ داری ایرانی رہنماؤں پر ڈالتے ہیں نہ کہ انقلاب پر۔
وہ کہتے کہ ان کی اور ان جیسے دوسرے لوگوں کی غلطی یہ ہے کہ انھوں نے انقلاب کے اہداف جو کہ آزادی اور جمہوریت تھے کو حاصل کرنے کے بجائے ’مرگ بر امریکہ‘، ’مرگ بر اسرائیل‘ اور ’ہم اسرائیل کو تباہ کر دیں گے‘ جیسے سامراجی نعروں کے پیچھے بھاگنا شروع کر دیا۔
گذشتہ سال ’خواتین، زندگی، آزادی‘ تحریک کو وحشیانہ طریقے سے دبانے کے خلاف احتجاج کے نتیجے میں زیبا کو تہران یونیورسٹی میں اپنی ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑا۔ مگر وہ آج بھی انہی اصولوں پر یقین رکھتے ہیں جن کے لیے انھوں نے سنہ 1970 کی دہائی میں جدوجہد کی تھی۔
وہ کہتے ہیں کہ 45 سال پہلے آزادی وہی تھی جس کا اسلامی جمہوریہ کے بانی آیت اللہ روح اللہ خمینی نے ان سے اور ان کے ساتھی انقلابیوں سے بارہا وعدہ کیا تھا۔
خمینی نے سنہ 1978 میں فرانس میں اپنی جلاوطنی کے دوران کیے گئے ایک خطاب میں کہا تھا کہ ’آزادی لوگوں کا حق ہے۔ کسی ملک کی آزادی ہر ایک کا حق ہے۔ آپ کو کسی شخص کو قید نہیں کرنا چاہیے اور کسی کو آزادی سے بات کرنے سے نہیں روکنا چاہیے۔‘
یہ الفاظ بہت سے لوگوں کو، خصوصاً اس نسل کے لیے جنھوں نے خمینی کا دور نہیں دیکھا، مظاہرین اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ہونے والی موجودہ جدوجہد کے بارے میں سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انقلاب میں خمینی اور شاہ ایران کا کردار
محمد رضا پہلوی نے تقریباً 37 سال ایران پر بادشاہت کی۔
ان کے دورِ حکومت میں، ملک میں مغربی اقدار کو فروغ ملا اور معیشت نے ترقی کی اور ایران کے قدیم ورثے اور قبل از اسلام تاریخ میں قومی فخر کو ابھارنے کی ٹھوس کوششیں کی گئیں۔
1960 کی دہائی میں خواتین کو ووٹ ڈالنے کا حق اور مردوں کے نسبتاً مساوی حقوق حاصل ہوئے۔
اس زمانے میں نائٹ کلبوں اور کیبریٹس کے ساتھ تہران ایک ’پارٹی سٹی‘ کے طور پر جانا جاتا تھا جبکہ ایران پوری دنیا میں وائن برآمد کرتا تھا۔
مگر ان سب سماجی آزادیوں کے باوجود، شاہ کو اپنے آمرانہ انداز اور ملک میں جمہوریت نہ ہونے کی وجہ سے تنقید کا سامنا تھا۔
شیعہ مسلم علما کی جانب سے اُن پر اسلامی اقدار کو مجروح کرنے کا الزام لگایا گیا، جبکہ بائیں بازو کے گروہ، جو سابق سوویت یونین سے متاثر تھے، ملک میں زیادہ مساوات کا مطالبہ کرتے تھے۔
تاہم سنہ 1978 کے وسط تک بہت کم لوگ ایسے انقلاب کا تصور بھی کر سکتے تھے جو شاہ کا تختہ پلٹ کر ایران میں بڑی تبدیلی لا سکے۔
لیکن جب انقلاب آیا تو اس میں بائیں بازو، قوم پرست، سیکولر اور اسلام پسند دانشور سبھی شامل تھے۔
تاہم بعد میں شاہ مخالف مظاہرین نے مذہبی حوالے سے اپنے مطالبات کو تیزی سے آگے بڑھانا شروع کر دیا اور 1978 کے آخر تک اسلام پسند بیانیہ حاوی ہو چکا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
قابل احترام شخصیت
خمینی نے بڑی مہارت کے ساتھ خود کو ایک ایسی اکلوتی شخصیت کے طور پر پیش کیا جو اسلامی حکومت کے مختلف دھاروں کو یکجا کر سکے۔
لاکھوں افراد ایک ایسے مذہبی شخصیت کے طور پر ان کی تعظیم کرتے تھے جو ایران کو قرآنی تعلیمات کے عکاس اسلامی معاشرے میں تبدیل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔
خمینی کو ایران میں ’مسلم امہ کے رہبر‘ اور ’امام‘ کے طور پر دیکھا جانے لگا۔
اگر سنہ 1979 کی ٹیلی ویژن رپورٹس دیکھیں تو اس میں جذبات کا سمندر دکھائی دیتا ہے جو تہران کی گلیوں میں اس وقت پھوٹ پڑا جب لاکھوں افراد 15 سال کی جلا وطنی کے بعد آیت اللہ خمینی کے استقبال کے لیے جمع ہوئے۔
ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جہاں سے ان کا جلوس گزر رہا ہوتا لوگ اس جگہ کھڑے ہو کر ان کی کار روک لیتے اور ان سے اپنے حق میں دعا کے طلبگار ہوتے۔
خمینی کی آمد سے پہلے ملک میں افواہ پھیل گئی تھی کہ اگر لوگوں نے کسی مخصوص دن 10:00 بجے رات آسمان کی طرف دیکھا تو انھیں چاند پر خمینی کا چہرہ نظر آئے گا جو ان کی اتھارٹی کی علامت ہے۔ بہت سے لوگوں نے اس ہدایت پر عمل بھی کیا۔
ایران کی سابق ملکہ فرح پہلوی جو آج بھی اب جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں کہتی ہیں کہ ’ہم حیران تھے کہ لوگ ایسی باتوں پر یقین کیوں کر رہے ہیں۔‘
اپنے شوہر اور اپنے تین بچوں کے ساتھ فرح پہلوی 1979 کے اوائل میں ’چھٹی‘ گزارنے کے لیے ایران سے چلی گئیں اور کبھی واپس وطن نہیں لوٹیں۔
انقلاب سے پہلے کے ہفتوں کو یاد کرتے ہوئے فرح کہتی ہیں کہ ’اپنے ملک کے لیے اتنا کچھ کرنے کے بعد ایسے واقعات دیکھنا اُن کے شوہر (رضا شاہ پہلوی) کے لیے بہت مایوس کُن تھا۔‘ رضا شاہ پہلوی 1980 میں جلاوطنی میں وفات پا گئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وہ کہتی ہیں کہ مظاہروں میں شرکت کرنے والے زیادہ تر یونیورسٹی کے طلبا اور دانشور تھے۔ ’ہم سوچتے رہے کہ یہ کس قسم کے منظم گروپ ہِیں جو لوگوں کے دماغوں کو اس طرح بھرنے اور انھیں سڑکوں پر لانے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔‘
ایران کی کمیونسٹ پارٹی، حزب توده ایران، اُن بائیں بازو اور مذہب مخالف گروہوں میں شامل تھی جنھوں نے خمینی کی حمایت کی تھی۔
شہران طبری، جو اب لندن میں رہتے ہیں، اس پارٹی کے رکن تھے اور ان کے چچا اس جماعت کے مرکزی رہنما تھے۔ شہران آج شاہ کو معزول کرنے کے فیصلے پر سوال اٹھاتے ہیں۔
وہ تسلیم کرتے ہیں کہ انھیں سمجھ نہیں تھی کہ جمہوریت کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کے کچھ ارکان جو کچھ ہو رہا تھا اس سے متفق نہیں تھے، لیکن وہ خاموش رہے۔
’ہر کوئی چاہتا تھا کہ شاہ کسی بھی قیمت پر چلے جائیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’یہ سمجھنا مشکل ہے کہ یہ سب کیسے ہوا۔ ایسا لگتا ہے جیسے ہم سب کو برین واش (ذہن سازی) کر دیا گیا تھا۔‘
انت بھلا تو سب بھلا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ہما ناطق، جن کی وفات سنہ 2016 میں ہوئی تھی، انقلاب کے دوران تہران یونیورسٹی میں پروفیسر تھیں۔ وہ بھی اس بات سے متفق تھیں اور خود کو ذاتی طور پر اس کا ذمہ دار بھی ٹھہراتی تھیں۔
انقلاب کے بائیں بازو کے دماغوں میں سے ایک کے طور پر جانی جانے والی ہما نے تحریک کی حمایت میں کتابیں اور مضامین لکھے اور چند کتابوں کا ترجمہ بھی کیا۔
انقلابی حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے چند ماہ بعد ہی ہما ناطق مذہبی حکام سے مایوس ہو گئیں اور فرانس فرار ہو گئیں۔
1990 کی دہائی میں ایک مضمون میں انھوں نے لکھا کہ ’میرا قصور دوسروں سے زیادہ ہو سکتا ہے، کیونکہ انقلاب کے دوران میں نے بطور معلم اور محقق خدمات انجام دی تھیں۔‘
’بدقسمتی سے، میں جوش میں بہہ گئی اور (انقلاب پر) اٹھائے گئے تحفظات اور سوالات کو نظر انداز کر کے سڑکوں پر نکلنے والی بھیڑ میں شامل ہو گئی۔ اور لاعلم لوگوں کی صف میں شامل ہو گئی۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تقریباً اسی دوران انھوں نے بی بی سی کو متعدد انٹرویوز بھی دیے، جن میں انھوں نے تسلیم کیا کہ اُن کے کام نے لوگوں کو شاہ کا تختہ الٹنے کے لیے اُکسایا تھا۔ لیکن بعد میں انھوں نے 1970 کی دہائی میں اپنی تحریروں سے اختلاف کیا۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم نے آزادی کے لیے کوششیں کیں، لیکن ہم نے اس کے حقیقی معنی کو شاید ہی سمجھا۔ میں اور نہ ہی آزادی کی بات کرنے والے کسی اور نے اس کی روح کو سمجھا، ہم نے اس کی اس طرح تشریح کی جو ہمارے مفادات سے مطابقت رکھتی تھی۔‘
لیکن صادق زیبا کلام اس خیال کی تردید کرتے ہیں کہ لوگوں کے ساتھ کوئی چلاکی کی گئی اور انھیں برین واش کیا گیا تھا۔
وہ کہتے ہیں کہ ’ایسا بالکل بھی نہیں تھا۔ ذرا تصاویر کو ہی دیکھ لیں، یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ سب بے خبر تھے۔ انقلابی کون تھے؟ وہ یونیورسٹی کے طالبعلم اور پروفیسر تھے۔ یہ کہنا ان کے ساتھ زیادتی ہے کہ انھوں نے اپنے آپ کو پروپیگنڈے سے متاثر ہونے دیا۔‘
اگرچہ انقلاب کے بعد بائیں بازو کے متعدد گروہوں پر پابندی عائد کر دی گئی تھی اور ان کے اراکین اور اسلامی جمہوریہ کے قیام میں خمینی کی مدد کرنے والی کچھ سرکردہ انقلابی شخصیات کو پھانسی دے دی گئی تھی، زیباکلام کا خیال ہے کہ اس تنقید کا ماخذ ’حکومت سے لوگوں کا عدم اطمینان تھا۔‘
ایرانی رہنماؤں کے لیے، انقلاب نے ایران کو غیر ملکی تسلط سے آزاد کر دیا تھا، خاص طور پر امریکہ اور مغربی طاقتوں کے تسلط سے۔
وہ اسلامی پاسداران انقلاب اور مقامی ہتھیاروں کی صنعت کی تشکیل کو خود کفیل دفاعی صلاحیت کا حامل ملک ہونے کے ثبوت کے طور پر دیکھتے ہیں۔
اور وہ ہیلتھ کیئر اور تعلیم کو بہتر بنانے کا کریڈٹ لیتے ہیں، خاص طور پر غریب ترین لوگوں کے لیے۔
’میں اپنے ساتھ تلخی نہیں لے جانا چاہتی‘
لیکن پہلوی حکومت کو ختم کرنے والے انقلاب کی چار دہائیوں سے زیادہ عرصے کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران کو ایک نئے مسئلے کا سامنا ہے، کچھ مظاہرین بادشاہت اور معزول بادشاہوں کے حق میں نعرے لگاتے ہیں۔
’شاہ تمہاری روح سلامت رہے‘ اور ’شاہ کے بغیر ایران ٹھیک نہیں‘ جیسے نعرے لگائے جاتے ہیں۔
مزید برآں سابقہ ملکہ فرح کہتی ہیں کہ کئی ایسے سابق انقلابی بھی ہیں جنھوں نے اُن سے ذاتی طور پر معافی مانگی ہے۔
فرح پہلوی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ بہت حوصلہ افزا ہے کہ لوگ اب برسوں کے پروپیگنڈے کے باوجود سمجھ رہے ہیں کہ بادشاہ نے ایران کے لیے کیا کچھ کیا تھا۔‘
’بہت سے لوگ مجھے یہ بتانے کے لیے ای میلز بھیجتے ہیں کہ انھوں نے انقلاب میں حصہ لیا تھا، لیکن اب انھیں پچھتاوا ہے۔ وہ مجھ سے معافی مانگتے ہیں۔‘
’کیا آپ یہ (معاف) کریں گی؟‘
’بالکل‘ انھوں نے جواب دیا، ’کیونکہ میں اپنے ساتھ تلخی نہیں لے جانا چاہتی۔‘











