’ہر صفحے سے بھارت کے ٹکڑے کرنے کی بو آ رہی ہے‘: مودی کو کانگریس کے منشور پر ’مسلم لیگ کی چھاپ‘ کیوں نظر آ رہی ہے؟

    • مصنف, مرزا اے بی بيگ
    • عہدہ, بی بی سی اردو

انڈیا میں عام انتخابات شروع ہونے میں اب محض 12 دن رہ گئے ہیں اور ابھی تک عوام اور ماہرین کی نظریں صرف اس بات پر تھی کہ کس پارٹی نے کس کے ساتھ اتحاد کیا ہے اور کس امیدوار کو ٹکٹ دیا گیا اور کون محروم رہ گیا ہے۔

ابھی تک حکمراں جماعت بی جے پی نے کس کو نوازا اور کس امیدوار سے کنارہ کشی اختیار کی اس کے بارے چہ مگوئیاں نظر آ رہی تھیں لیکن گذشتہ دنوں کانگریس نے اپنا انتخابی منشور کیا جاری کیا وزیر اعظم نریندر مودی سے لے کر بی جے پی کے اہم رہنما اس پر بات کرتے نظر آ رہے ہیں۔

یہاں تک کہ انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے سنیچر کو راجستھان کے معرف علاقے پشکر میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس کے 2024 انتخابات کے اعلامیے کو مسلم لیگ سے متاثر منشور قرار دیا۔

انھوں نے کہا کہ ’کل کانگریس پارٹی نے ایک جھوٹ کا پلندا جاری کیا ہے۔ اپنا گھوشنا پتر جاری کیا ہے۔ جھوٹ کا یہ پلندا کانگریس کو بے نقاب کرنے والا ہے۔۔۔ آپ دیکھیے ہر صفحے سے بھارت کے ٹکڑے کرنے کی بو آ رہی ہے۔

’کانگریس کے گھوشنا پتر میں وہی سوچ جھلکتی ہے جو سوچ آزادی کے وقت مسلم ليگ میں تھی۔ مسلم ليگ کے اس وقت کے نظریات کو کانگریس آج انڈیا پر تھوپنا چاہتی ہے۔

’مسلم لیگ کی چھاپ والے اس گھوشنا پتر میں جو بچا کھچا حصہ تھا اس میں بائيں بازو کے لیفٹسٹ حاوی ہو گئے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ 'دیھکیے کہ آج کی کانکریس کے پاس نہ نظریات بچے ہیں نہ اصول بچے ہیں۔ ایسا لگتا ہے پوری کانگریس پارٹی ٹھیکے پر دے دی گئی ہے۔ آپ مجھے بتائيے کہ کیا ایسی کانگریس دیس کے حق میں کوئی کام کر سکتی ہے؟

’بھائی اور بہنوں گھوشنا پتر دیکھو گے تو یہ بھارت کو پچھلی صدی میں دھکیلنے کا ایجنڈا لے کر آئے ہیں۔‘

’کانگریس کا منشور ناقابل عمل‘

وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے کہا کہ کانگریس کے انتخابی منشور میں تضادات ہیں ان کے پاس کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے کے لیے بجٹ ہی نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’ان کے منشور میں تین چار جگہ پر باہم متصادم بیانات ہیں اور اس پر عمل در آمد کرنے میں تو اتنا نقصان ہو گا کہ بجٹ میں پیسہ ہی نہیں۔‘

دوسری طرف کانگریس اپنے انتخابی منشور کو ’نیائے پتر‘ یعنی انصاف کا اعلامیہ کہتی ہے۔ اس بارے میں بات کرتے ہوئے کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے جنوبی ریاست تیلنگانہ میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لوک سبھا انتخابات 2024 کے لیے ان کی پارٹی کا منشور ’انڈیا کو بدل سکتا ہے۔‘

کانگریس کے منشور میں کسانوں، نوجوانوں، خواتین اور اقلیتوں کے لیے کیے گئے وعدوں کا وضاحت کے ساتھ ذکر ہے۔

انھوں نے کہ ’یہ ہمارا (کانگریس) کا منشور نہیں ہے، بلکہ انڈیا کی روح کا منشور ہے۔۔۔ ہم نے یہ منشور آپ کے دل کی بات سننے کے بعد بنایا ہے۔ اس منشور کو غور سے پڑھیں، اگر آپ اسے غور سے دیکھیں تو آپ سمجھیں گے کہ یہ منشور انڈیا کو بدل سکتا ہے۔‘

'ہم سب اس تاناشاہی کا جواب دیں گے'

دوسری طرف راجستھان کے جے پور شہر میں کانگریس رہنما سونیا گاندھی نے کہا کہ 'بدقسمتی سے ہمارے ملک میں آج ایسے رہنما حکومت میں براجمان ہیں، مودی خود کو مہان بن رہے ہیں اور دیش کے وقار کی عصمت دری کر رہے ہیں۔

'ہمارا ملک گذشتہ دس برسوں سے ایک ایسی حکومت کے حوالے ہے جس نے بے روزگاری، مہنگائی، معاشی بحران، عدم مساوات اور ظلم کو بڑھاوا دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔

انھوں نے مزید کہا: 'ہمارے آئین کو بدلنے کی شازش کی جا رہی ہے۔ پورے نظام میں خوف پھیلا جا رہا ہے۔ ہم سب اس تاناشاہی (آمریت) کا جواب دیں گے۔'

ایک جانب اگر سونیا گاندھی عوام سے مودی حکومت کو جواب دینے کا وعدہ لے رہی ہیں وہیں دوسری جانب وزیر اعظم نریندر مودی عوام سے پوچھ رہے ہیں کہ کیا وہ ایسی کانگریس کا انتخاب کریں گے جو ملک کو پچھلی صدی میں واپس لے جانا چاہتی ہے اور جس کا منشور مسلم لیگا کا پرتو ہے۔

ہم نے اس بابت علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں جدید اور معاصر تاریخ کے پروفیسر محمد سجاد سے بات کی تو انھوں نے کہا کہ انھوں نے کانگریس کے منشور کو دیکھا ہے اور وزیر اعظم مودی کی باتیں بھی اخبار میں پڑھی ہیں۔

مسلم ليگ کے ساتھ اتحاد پر تاریخ کیا کہتی ہے

انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی جی کے بیان سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ کہ انھوں نے کن بنیادوں پر کانگریس کے منشور کو مسلیم لیگ کی چھاپ والا منشور کہا ہے۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ ان کا ایک جملہ ہے جو انھوں نے ووٹروں کو لبھانے اور انھیں منقسم کرنے کے لیے کہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس کے برعکس تاریخ تو یہ بتاتی ہے کہ ان کی پارٹی کی ماں ہندو مہا سبھا نے سنہ 1940 کی دہائی میں سندھ، بنگال، این ڈبلیو ایف پی میں مسلم ليگ کے ساتھ حکومت سازی کی تھی اور اس سے قبل لکھنؤ میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں میئرشپ کے لیے مسلم لیگ اور ہندو مہا سبھا نے ہاتھ ملائے تھے۔

مورخ محمد سجاد نے کہا کہ 'اب چونکہ مودی جی نے اپنی بات کی وضاحت نہیں تو ہم صرف قیاس آرائی ہی کر سکتے ہیں۔

ان کے مطابق 'ایک وجہ تو یہ ہو سکتی ہے کہ کانگریس نے اپنے مینیفیسٹو (منشور یا نیائے پتر) میں واضح انداز میں بولڈلی اور بریولی دو تین باتوں کو رکھ دیا ہے جس پر عام طور پر گذشتہ انتخابات میں ہچکچاہٹ نظر آتی تھی۔ انھوں نے کہا ہے کہ وہ مساوات، سوشل جسٹس اور اقلیتی حقوق کی حفاظت کریں گے۔۔۔'

انھوں نے کہا کہ 'کافی دنوں سے یہ کہا اور سنا جا رہا تھا کہ مسلمانوں کو اچھوت کر دیا گيا اور یہ ایک حد تک سچ بھی تھا کہ بہار کی راشٹریہ جنتا دل اور اترپردیش کی سمواج وادی جیس پارٹیاں جو صرف اپنی ذات اور مسلم ووٹ پر منحصر رہی ہیں وہ بھی مسلمانوں کے مسائل پر خاموش خاموش سی رہنے لگی تھیں۔ اور ہندوتوا کے ایجنڈے کے سامنے پست ہو گئی تھیں اور کہیں نہ کہیں وہ اس میں شامل ہو گئی تیھں۔

لیکن کانگریس نے اپنے منشور میں دلتون اور قبائیلیوں اور اقلیتوں بلکہ سب کے لیے اہم سکیمیں اور ٹھوس پلان دیا ہے۔

انھوں وزیر خزانہ نرملا سیتارمن کے برخلاف کانگریس کے منشور کو بظاہر قابل عمل ہے اور حقیقت پر مبنی قرار دیا ہے۔

'قیاس آرائياں ہی کر سکتے ہیں'

پروفیسر سجادنے کہا: 'دوسری وجہ جو ہم قیاس لگا رہے ہیں وہ یہ ہے کہ اب تک کا بی جے پی کا دور کرونی کیپیٹلزم کا دور رہا ہے جس میں انھوں نے بہت بے باکی اور بے حیائی کے ساتھ چند سرمایہ داروں کو فائدہ پہنچایا ہے۔ جبکہ کانگریس کے منشور میں اس کرونی کیپٹلزم کو بے نقاب کیا گیا ہے۔‘

تاریخ پر نظر ڈالیں تو سنہ 1946 کی عبوری یا انٹیرم حکومت میں انگریزوں نے مسلم لیگ کو شامل کیا اور مسلم لیگ کے لیاقت علی خان نے فائنانس کا پورٹ فولیو لینے کے بعد جو بجٹ پیش کیا وہ ریڈیکل اور غریبوں کا حامی ہونے کے ساتھ سرمایہ داروں کو زک پہنچانے والا بجٹ تھا۔ یہاں یہ واضح رہے کہ اس کے ذریعے بڑے ہندو بزنس مین کو نشانے پر لینا چاہتے تھے اور کانگریس نے اس کی مخالفت کی تھی۔

'یہاں تک کہ مسلم لیگ کے بجٹ کو نہرو نے بھی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

چونکہ کانگریس کے اس منشور میں مودی جی کے مٹھی بھر سرمایہ داروں پر براہ راست حملہ ہے اس لیے بی جے پی اس تلملا اٹھی ہے کیونکہ بی جے پی پچھلے دس سالوں سے انھیں ہی فائدہ پہنچا رہی ہے۔

جب سے الیکٹرول بانڈز کی بات سامنے آئی اس نے یہ واضح کر دیا ہے۔ اس لیے وہ اس قسم کے بیان سے اسے کمیونلائز کر رہے ہیں کیونکہ انھیں کوئی اور راستہ نظر نہیں آ رہا ہے۔

پروفیسر سجاد نے کہا کہ حالانکہ انتخابی منشوروں کو عوام سنجیدگی سے نہیں لیتی ہے اور اس کے تئیں ان میں بیزاری دیکھی جاتی رہی ہے لیکن جس طرح بی جے پی نے اسے سنجیدگی سے لیا ہے وہ یہ بتاتا ہے کہ کہیں نہ کہیں وہ کمزور ہے۔

انھیں لگتا ہے کہ عوام میں اس کی اپیل ہوگی لیکن کانگریس کے پاس نہ تو ریسورسز اور نہ ہی اس پیمانے پر ورکرز جو انھیں عوام تک پہنچائے۔ یہاں تک کہ میڈیا بھی تو اب تک حزب اختلاف کے خلاف ہی نظر آئی ہے۔

ان انتخابات میں کانگریس کے پاس لیول پلیئنگ فیلڈ ہے ہی نہیں تو پھر ان کے منشور کو عوام تک کون پہنچائے گا اور پھر بھی بی جے پی اتنی پریشان کیوں ہے یہ بظاہر سمجھ سے باہر ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ شمالی ہند میں عوام اپنی ناراضگی ظاہر نہیں کر رہی ہے لیکن چار جون کو آنے والے نتائج کہیں چونکانے والے نہ ہوں۔

پاکستان کے ذکر کے بغیر انڈیا میں انتخبات کیوں نہیں ہوتے؟

جہاں وزیر اعظم مودی نے کانگریس کے منشور کو مسلم لیگی بتایا وہیں آسام کے وزیر اعلی اور بی جے پی رہنما ہمنتا بسوا سرما نے کہا کہ یہ منشور پاکستان کے لیے ہے۔ خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق انھوں نے کہا کہ ’آج کے انڈیا میں کون تین طلاق اور کم عمری کی شادی کی حمایت کرے گا۔'

ہم نے انڈین انتخابات میں پاکستان کے ذکر کے بارے میں پروفیسر سجاد سے پوچھا تو انھوں نے کہا کہ ’حال ہی میں پاکستان میں جو انتخابات ہوئے اس میں انڈیا کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ پاکستان میں تبدیلی آ رہی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’وہاں کے لوگوں میں یہ احساس بیدار ہو رہا ہے کہ مذہبی شدت پسندی کی وجہ سے پاکستان ہر طرح سے تباہ ہوا ہے اور پیچھے گیا ہے، چاہے وہ تعلیم کا شعبہ ہو یا معیشت ہو یا پھر کوئی دوسرا شعبہ۔ اس پر پاکستتانی معاشرے میں فکر ہے۔‘

پاکستانی اکیڈمیا میں بھی اس پر بات ہو رہی ہے۔ کولمبیا یونیورسٹی میں تاریخ کے پروفیسر منان احمد نے ’دی لاس آف ہندوستان‘ یا ’اے بک آف کنکویسٹ‘ مسلم حکمرانی سے قبل والے برصغیر پر فخر کرنے کی بات کہی ہے۔ اسے بھی اپنے ماضی کا حصہ کہا ہے اور صرف مسلم حکمرانوں کے دور پر اکتفا نہیں کیا ہے۔

یہاں تک کہ پاکستان کا ایک حصہ سے پچھتا رہا ہے کہ اس تقسیم سے انھیں نقصان ہی ہوا۔ اب انڈیا بھی اسی راستے پر جا رہا ہے۔ یہ ایک افسوسناک بات ہو گی اور یہاں بھی آر ایس ایس اور ہندوتوا کے مذہبی ایجنڈے پر جانے سے وہی نقصان ہو گا جو پاکستان کو ہوا ہے۔

پروفیسر سجاد نے کہا کہ ’انڈیا کو سبق سیکھنا چاہیے کہ کس طرح پاکستان مذہبی شدت پسندی کو چھوڑنے جا رہا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ کانگریس نے اور حزب اختلاف کے دوسرے رہنماؤں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ جس راستے پر انڈیا میں مذہبی شدت پسندی جا رہی ہے جس میں مظلوم اور محروم طبقے کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہوگی بلکہ آئین کو بھی خطرہ لاحق اور یہ کہ یہ ملک جمہوری نہیں رہے گا۔

اس کے شواہد ہندی بولنے والے علاقوں میں دیکھے جا سکتے ہیں۔

پروفیسر سجاد نے منشور کے بارے میں یہ بھی کہا کہ ’کانگریس کا منشور ایک جرات مندانہ اور بولڈ دستاویز ہے، سوائے ایک معنی میں کہ وہ مذہبی اقلیتوں کے ذاتی قوانین یا پرسنل لاز کے بارے میں خاموش ہے۔ پرسنل لاز میں بہت سی اصلاحات کی ضرورت ہے کیونکہ اس کی موجودہ غیر اصلاح شدہ شکل میں صنفی انصاف کے خلاف ورزی ہے۔ خاص طور پر مسلمانوں کے حوالے سے یہ بات اہم ہے کیونکہ بعض معاملات میں کچھ اصلاحات پاکستان، بنگلہ دیش، عرب اور افریقی ممالک سمیت بیشتر مسلم ممالک میں کی گئی ہیں۔

'اس طرح پرسنل لاز میں اصلاحات کا عہد نہ کرنے سے کانگریس کا منشور 2024 کے بجائے سنہ 1986 کے دنوں کا لگنے لگتا ہے۔ کانگریس کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ یہی وہ گوشہ تھا جس نے ہندوتوا کے دوبارہ وجود میں آنے کے لیے کافی چارہ فراہم کیا تھا۔‘