آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
دہلی قتل: ’جب شردھا کے جسم کے ٹکڑےفریج میں رکھے تھے، آفتاب اور لڑکیوں کو بھی گھر لایا‘
دلی کے علاقے مہرولی قتل کیس میں ملزم آفتاب پونا والا سے پوچھ گچھ میں کئی نئی معلومات سامنے آئی ہیں۔ دہلی پولیس منگل کو آفتاب کو تحقیقات کے لیے مہرولی جنگل لے گئی تھی۔ آفتاب کی نشاندہی پر پولیس شردھا کی لاش کے ٹکڑوں کی تلاش کر رہی ہے۔ دہلی پولیس کے مطابق شردھا کو قتل کرنے کے بعد آفتاب نے اس کے جسم کےکئی ٹکڑے کر کے جنگل میں مختلف جگہوں پر پھینک دیے تاکہ وہ پکڑے نہ جائیں۔ آفتاب نے رواں سال 18 مئی کو اپنی گرل فرینڈ شردھا کو گلا دبا کر قتل کر دیا تھا۔ شردھا اور آفتاب لیو اِن ریلیشن شپ میں تھے اور ممبئی سے آ کر دہلی رہ رہے تھے۔ تحقیقات میں کیا انکشاف ہوا؟
دہلی پولیس نے بتایا ہے کہ قتل کے بعد آفتاب نے شردھا کا فون پھینک دیا تھا، اب پولیس اس فون کی تلاش کر رہی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ شردھا کو قتل کرنے کے بعد بھی آفتاب جون تک انکا انسٹاگرام اکاؤنٹ استعمال کرتا رہا تاکہ لوگوں کو یہ دکھایا جا سکے کہ شردھا زندہ ہے۔
تاہم اب تک پولیس کو وہ ہتھیار نہیں مل سکا جس کا استعمال آفتاب نے شردھا کے جسم کے ٹکڑے کرنے کے لیے کیا تھا۔ پولیس نے بتایا کہ آفتاب نے خون صاف کرنے کے لیے انٹرنیٹ کی مدد سے کیمیکل منگوایا۔ آفتاب نے لاش کے ٹکڑوں کو 18 دن تک فریج میں رکھا اور آہستہ آہستہ جنگل میں پھینک دیا۔
کچھ رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ آفتاب نے قتل سے قبل امریکی کرائم ڈرامہ سیریز ’ڈیکسٹر‘ دیکھی تھی۔ پولیس اب آفتاب اور شردھا کے دوستوں سے بھی پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ شردھا کے قتل کے بعد بھی آفتاب ڈیٹنگ ایپس پر سرگرم تھا۔ انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق جب شردھا کے جسم کے ٹکڑے فریج میں رکھے گئ تو آفتاب دیگر لڑکیوں کو بھی گھر لایا تھا۔ شردھا اور آفتاب کی ملاقات ایک ڈیٹنگ ایپ کے ذریعے ممبئی میں ہوئی تھی۔2018 میں شردھا ممبئی کے ایک کال سینٹر میں کام کرتی تھی۔شردھا اپنی ماں کے ساتھ رہتی تھی اور اس کے والد الگ رہتے تھے۔ 2019 میں شردھا نے اپنی ماں کو آفتاب کے بارے میں بتایا اور ساتھ رہنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ لیکن ماں نے مذہب الگ ہوانے کی وجہ سے انکار کر دیا تھا۔ شردھا غصے میں گھر چھوڑ کر آفتاب کے ساتھ رہنے لگی۔ایف آئی آر کے مطابق کچھ دنوں بعد شردھا نے اپنی ماں کو بتایا کہ آفتاب اسے مارتا تھا۔ کچھ دیر بعد شردھا کی ماں کا انتقال ہو گیا۔ پھر شردھا نے اپنے والد کو فون کیا اور اس کے بارے میں بات کی اور ان سے ملاقات کی اور آفتاب کے بارے میں بتایا۔
دو ماہ تک شردھا سے رابطہ نہ کرنے کے بعد اس کے دوست نے شردھا کے بھائی کو اس کی اطلاع دی۔ جس کے بعد والد نے ممبئی میں گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی۔مبئی پولیس کی تحقیقات میں شردھا کی آخری لوکیشن دہلی کے مہرولی علاقے میں ملی تھی۔ معاملہ دہلی پولیس تک پہنچا اور تفتیش میں شک کی سوئی آفتاب تک پہنچی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران آفتاب نے شردھا کو قتل کرنے اور لاش کے ٹکڑے کرکے جنگل میں پھینکنے کا اعتراف کیا ہے۔ پولیس تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ آفتاب اور شردھا میں اکثر شادی کے معاملے پر جھگڑا رہتا تھا اور 18 مئی کو آفتاب نے غصے میں آکر شردھا کو قتل کر دیا اور لاش کے ٹکڑوں کو چھپانے کے لیے ایک نیا بڑے سائز کا فریج بھی خریدا۔ پولیس نے آفتاب کے گھر سے ایک فریج برآمد کر لیا ہے۔
تاہم قتل میں استعمال ہونے والے ہتھیار کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ اس کی تلاش جاری ہے۔پولیس نے بتایا کہ آفتاب اور شردھا مئی میں ہی مہرولی علاقے میں رہنے آئے تھے۔