غزہ کے معاملے میں منقسم اسرائیل: ’جنگ مکمل طور پر سیاسی ہو چکی ہے جو نتن یاہو کی بقا کے سوا کچھ نہیں‘

- مصنف, جیریمی بوون
- عہدہ, انٹرنیشنل ایڈیٹر
بنیامن نتن یاہو جو سب سے زیادہ عرصے تک اسرائیل کے وزیراعظم کے عہدے پر رہنے کا اعزاز رکھتے ہیں اور اب تک ملک کی سیاست میں ایک سب سے نمایاں اور غالب طاقت ہیں غزہ جنگ کے بارے میں اپنے اس موقف سے پیچھے نہیں ہٹے جو ان کے خیال میں بنیادی سچائی ہے۔
تقریباً دو برس پہلے جب حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا تھا تب سے وہ اسرائیل کے اندر اور بیرونی دنیا کو مسلسل یہ پیغام دے رہے ہیں۔
انھوں نے واضح طور پر تب یہ بات کہی جب انھوں نے غزہ کی پٹی پر 28 اکتوبر 2023 کو زمینی حملے کا حکم دیا تھا۔ یہ اسرائیل پر حملے کے تین ہفتوں بعد کی بات ہے اور تب سے اب تک وہ مسلسل اپنے موقف کو کئی بار دوہرا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’ہم اپنے وطن کے دفاع کے لیے لڑیں گے۔ ہم لڑیں گے اور پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ہم زمین، سمندر اور فضا میں لڑیں گے۔ ہم زمین پر اور اس کے اندر موجود دشمنوں کو تباہ کر دیں گے۔ ہم لڑیں گے اور ہم جیتیں گے۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’یہ بدی پر اچھائی کی فتح ہو گی، اندھیرے پر روشنی کی، موت پر زندگی کی۔ اس جنگ میں ہم ثابت قدم رہیں گے، پہلے سے کہیں زیادہ متحد، اپنے مقصد کے حصول کے لیے یکسو ہیں۔‘
انھوں نے اپنی تقریر میں ونسٹن چرچل کے ’ہم ساحلوں پر لڑیں گے‘ کے نعرے کو اپنایا جو انھوں نے جون 1940 میں شمالی فرانس میں جرمنی کے ہاتھوں برطانیہ کی شکست اور ڈنکرک سے 338،000 سے زیادہ اتحادی فوجیوں کے انخلا کے بعد لگایا تھا۔

،تصویر کا ذریعہWalter Stonema n via Getty / ABIR SULTAN /AFP via Getty
اس سے پہلے چرچل نے اپنے مشہور خطاب میں برطانیہ سے کہا کہ ’ہم کبھی ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔‘
انھوں نے انھیں اس حقیقت سے نہیں بچایا تھا کہ انھیں ’ایک بڑی فوجی تباہی‘ کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
حماس نے 7 اکتوبر کو ایک ہی دن میں اسرائیل کو بدترین شکست دی اور یہ خوف کہ وہ سرحدیں توڑ سکتا ہے اور بہت سے لوگوں کو ہلاک اور یرغمال بنا سکتا ہے، اسرائیل میں اب بھی بہت موجود ہے۔
یہ جنگ کے بارے میں رویّے بنانے کے لیے ایک بڑی وجہ ہے کہ کس طرح سے یہ لڑی جا رہی ہے، اور یہ کس طرح ختم ہو سکتی ہے۔
بہت کم اسرائیلیوں اپنے مقصد کے منصفانہ ہونے پر کبھی شک کیا ہوا ہے لیکن نتن یاہو کا یہ بیان کہ وہ ’پہلے سے کہیں زیادہ متحد ہوں گے تقریباً دو سال بعد اسرائیل کی صورتحال سے مختلف نہیں ہے۔‘
غزہ کی صورتحال پر اسرائیلیوں کی رائے کیا ہے؟
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
تل ابیب میں ہزاروں اسرائیلی نتن یاہو کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، ان سب نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے ہیں جن پر اسرائیل کے ہاتھوں غزہ میں قتل ہونے والے بچوں کے نام درج ہیں۔
ان میں سے بہت سی تصاویر ایسی ہیں جن پر ان بچوں کی مسکراتی ہوئی تصویر ہے اس دن کی جب وہ پیدا ہوئے تھے اور اس دن کی بھی جب وہ مارے گئے۔ جن بچوں کی تصاویر نہیں تھی ان کی تصویر کی جگہ ڈرائنگ میں ایک پھول بنایا گیا تھا۔
یہ خاموش احتجاج جو غزہ میں ہونے والے قتل عام کو روکنے کے لیے کیے جا رہے ہیں دن بدن بڑھتے جا رہے یں۔ کچھ احتجاج ان ہوائی اڈوں کے باہر بھی ہو رہے ہیں جہاں وہ ان پائلٹس کی توجہ حاصل کرنا چاہتے ہیں جو غزہ میں بمباری کرنے کے لیے پہنچ رہے ہیں۔ لیکن یہ احتجاج اب بھی اکثریت کا موقف نہیں اقلیتی حیثیت رکھتے ہیں۔
تیمینہ پرٹز احتجاج کی منتظمین میں شامل ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ احتجاج کا آغاز 18 مارچ کے بعد ہوا تھا جب اسرائیل نے حماس کے ساتھ سیز فائر کو ختم کیا تھا اور پھر سے جنگ شروع کی تھی۔
وہ کہتی ہیں کہ ’ہمیں پتہ چلا کہ فقط اسی ایک ہی ہفتے کے دوران کتنے بچے ہلاک ہوئے، میں نے اس صورتحال میں جب لوگوں کی نسل کشی ہو رہی تھی لوگ بھوک کا شکار تھے خاموش رہنے سے انکار کیا۔‘

،تصویر کا ذریعہMOHAMMED SABER/EPA/Shutterstock
وہ کہتی ہیں کہ ’گلیوں میں ہمیں لوگوں کی جانب سے بہت اچھا ردعمل مل رہا ہے جیسے کہ لوگ کہہ رہے ہیں شکریہ اور بہت سے لوگ ہمیں لعن طعن کر رہے ہیں جو کہ ان تصاویر سے بہت زیادہ غصے میں ہیں اور یہ ان کے لیے پریشان کن ہے۔‘
میں نے ان سے پوچھا کہ ’کیا انھیں غدار کہا جاتا ہے تو ان کا کہنا تھا ’ہاں بالکل ، بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ اگر ہم جس انداز میں سوچتے ہیں یا جیسے ہم کرتے ہیں تو ہمیں غزہ چلے جانا چاہیے وہاں جا کر رہنا چاہیے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ وہ نہیں سمجھ سکتے کہ ریاست پر تنقید کرنے کا بنیادی خیال دراصل جمہوریت کی جڑا ہوا ہے۔
رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق اسرائیل کی دفاعی افواج غزہ میں جب آحری سیز فائر ختم کرنے کے بعد مارچ میں غزہ میں داخل ہوئیں تو اس وقت بہت سے اسرائیلیوں کو غزہ میں متاثرہ فلسطینوں کے بارے میں کوئی تشویش نہیں تھی۔
رواں برس جولائی کے آخری دنوں میں اسرائیلی ڈیموکریسی انسٹیٹیوٹ کی جانب کیے گئے ایک سروے میں پتہ چلا کہ 78 فیصد اسرائیلی یعنی کہ آبادی کا چوتھائی حصہ یہ سمجھتا ہے کہ جنگ میں اسرائیل مناسب حد تک یہ کوشش کر رہا ہے کہ غزہ میں موجود فلسطینیوں کو غیر ضروری تکالیف سے نہ گزرنا پڑے۔
رائے عامہ جاننے والوں نے ایک سوال یہ بھی پوچھا کہ اسرائیلی شہریوں کو غزہ کی آبادی میں قحط اور دیگر مسائل کے حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹس پر تشویش ہوتی ہے۔
سروے میں شامل افراد میں سے 79 فیصد نے کہا کہ انھیں کوئی پریشانی نہیں۔
تاہم اسرائیل میں رہنے والے فلسطینی عرب جو کہ اقلیت ہیں میں سے 86 فیصد سے جب یہی سوال پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ بہت زیادہ یا کسی حد تک پریشان ہیں۔

،تصویر کا ذریعہREUTERS/Ronen Zvulun/Pool
نتن یاہو اور ان کے وزرا اور ترجمان اس بات پر مصر ہیں کہ حماس، اقوام متحدہ ، عینی شاہدین، امدادی کارکنان اور غیر ملکی حکومتیں غزہ میں انسانی بحران کے بارے میں جھوٹ بول رہے ہیں۔
دس اگست کو بین الاقوامی میڈیا کے لیے کی جانے والی پریس کانفرنس میں نتن یاہو نے غزہ میں غدائی قلت کی رپورٹس کی مذمت کی اور کہا کہ ’وہ جھوٹ کا پول کھولنا چاہتے ہیں۔۔۔۔ غزہ میں اگر کوئی غذائی قلت کا شکار ہے تو وہ ہمارے یرغمالی ہیں۔
وہ کئی سالوں سے اسرائیل پر تنقید کو یہودیوں کی مخالفت سے تشبیہ دیتے رہے ہیں۔
بھوک اور آئی ڈی ایف کے فوجیوں کی جانب سے خوراک کی تلاش میں سرگرداں فلسطینیوں کی ہلاکت کے واقعات جنھیں برطانیہ، فرانس اور جرمنی سمیت اسرائیل کے اتحادیوں نے یقین اور مذمت کی ہے۔ اس پر اسرائیلی وزیراعظم کہتے ہیں کیا انہیں یورپ میں یہودیوں پر ظلم و ستم کی طویل تاریخ کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم سے کہا جاتا تھا کہ ہم مسیحی معاشرے میں کیڑے مکوڑے پھیلا رہے ہیں، کہا جاتا تھا کہ ہم کنوؤں میں زہر ڈال رہے ہیں، ہمیں کہا گیا تھا کہ ہم مسیحی بچوں کو ان کے خون کے لیے ذبح کر رہے ہیں۔‘
پھر جوں جوں یہ جھوٹ دنیا بھر میں پھیلے، ان کے بعد ہولناک قتل عام اور نقل مکانی شروع ہوئی، آخر کار ان سب کا بدترین قتل عام ہوا،ہولوکاسٹ۔
’آج یہودی ریاست کو بھی اسی طرح بدنام کیا جا رہا ہے۔‘
’ہم صدماتی دور میں ہیں، یرغمالی مر رہے ہیں‘
پرٹز کا الزام ہے کہ اسرائیلی میڈیا فلسطینیوں کی مشکلات اور اموات کو نہیں دکھاتا۔
یہ قومی سطح پر موضوع گفتگو بنا جب سنیچر کو شام کے ایک ٹاک شو میں ایا برکوک نامی میزبان جو کہ ایک سابق فٹ بالر ہیں نے اس پر بات کی۔
یہ موضوع قومی گفتگو کے مرکز کے قریب پہنچ گیا جب اسے ہفتہ کی شام ایک مقبول ٹیلی ویژن ٹاک شو میں اٹھایا گیا جس کی میزبانی ویسٹ ہیم یونائیٹڈ کے سابق فٹ بالر ایال برکووچ نے کی۔
اس پروگرام میں باقاعدگی سے شرکت کرنے والے ایک مہمان اسرائیلی صحافی ایمانئیول ایلباز فلپس تھے۔ وہ ہمیشہ کی طرح یرغمالیوں اور ان کے خاندانوں کی مشکلات پر بات کر رہے تھے اور ان کا موضوع گفتگو وہ اسرائیلی سپاہی تھے جو غزہ میں لڑتے ہوئے ہلاک ہو گئے۔
پھر انھوں نے مجھے بتایا کہ میں محسوس کرتی ہوں کہ یہ بطور صحافی میری ڈیوٹی تھی کہ میں وہ بات کروں جس پر اسرائیلی ٹی وی نے زیادہ بات نہیں کی۔

،تصویر کا ذریعہREUTERS/Ammar Awad
وہ کہتی ہیں کہ میں نے فقط یہ کہا کہ اس جنگ میں بہت سے فلسطینی بھی غزہ میں مارے جا رہے ہیں، وہ ایک سادہ سی بات تھی، کوئی سیاسی بیان نہیں تھا۔ لیکن اس کو سننے کے لیے برداشت نہیں تھی۔
اس بات پر آوازیں اٹھیں۔ ایال برکوک نے پیچھے نہ ہٹ کر اپنا نام بنایا۔
ایلبز فلپس جو کہ فرانسیسی ٹی وی کی بھی نامہ نگار ہیں نے ایال کے ردعمل کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ’اس نے کہا مجھے غزہ کے لوگوں کے بارے میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے وہ میرے دشمن ہیں، میں نے اس کے جواب میں کہا آپ مجھے یہ کہہ سکتے ہیں کہ آپ کو ان اندوہناک تصاویر کے بارے میں پریشان ہونا چاہیے جو کہ وہاں سے آ رہی ہیں۔‘
پھر ایال نے ایلبز سے کہا ضرور آپ اپنا موقف بیان کر سکتے ہیں۔ یہ اسرائیل میں عوامی رائے کی نمائندگی ہے۔
لیکن پھر ایلبز نے اسرائیلی صحافیوں کے کام کا دفاع کیا اور کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ 95 فیصد تک اسرائیلی حکومت کے فیصلوں کو دنیا جانتی ہے اسے اسرائیلی صحافی ہی پہنچا رہے ہوتے ہیں۔‘
لیکن میرے خیال میں اس میں بہت فرق ہوتا ہے جب آپ کسی چیز کے بارے میں بات کر رہے ہوتے ہیں اور کسی چیز کو دکھا رہے ہوتے ہیں۔ اور آپ غزہ کی تصویر اوپر سے دکھاتے ہیں تاکہ لوگوں کو بتا سکیں کہ آئی ڈی ایف زمینی لڑائی کیسے جیت رہی ہے۔
’آپ کے پاس انسانوں کی کہانیاں نہیں ہیں، آپ کے پاس دکھانے کو چہرے نہیں ہیں۔۔۔۔ کیونکہ اسرائیلی تکلیف میں ہیں اور کہانیاں بھی اسرائیل کے اندر ہی بن ہو رہی ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہLeon Neal/Getty Images
ایلبز فلپس کا ماننا ہے کہ اسرائیلی ابھی بھی سات نومبر کو پیش آنے والے سانحے سے نمٹ رہے ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ بیرونی دنیا غزہ کو کور کر رہی ہے اور غزہ کی آبادی کو جو تکالیف اٹھانی پڑ رہی ہیں ان پر بات کر رہی ہے، اور یہ درست بھی ہے لیکن وہاں یہ درست نہیں، میرا خیال ہے کہ اس چیز کو تسلیم کرنا ہے کہ اسرائیل کے لوگ کس قدر ٹراما میں ہیں۔
ان کا ماننا ہے کہ اسرائیلی ابھی ٹراما کے بعد میں دور میں نہیں بلکہ اب بی صدمے میں ہیں۔ یرغمالی سرنگوں کے اندر مر رہے ہیں۔ لوگ حکومت سے بھیک مانگ رہی ہے کہ وہ ایک ایسا طریقہ تلاش کریں جس سے یرغمالیوں کے لیے کوئی معاہدہ طے پا سکے۔
ایلبز کہتی ہیں کہ جب تک یرغمالی گھر نہیں آجاتے تب تک شاید کسی کے زخم نہ بھریں۔
اسرائیلی عوام کا دکھ اور وہ اب بھی سات اکتوبر سے کس قدر متاثر ہو رہے ہیں یہ ایک ایسی بات ہے جو بیرونی دنیا کے لیے مکمل طور پر سمجھنا مشکل ہے۔
اپنے اس دُکھ پر قابو پانا انتہائی مُشکل کام ہے
خیال یہ کیا جاتا ہے کہ اب بھی 20 کے قریب یرغمالی اب بھی غزہ میں ہیں۔
کسی بھی سیاسی نظریے کے حامی تمام اسرائیلی حال ہی میں غزہ میں موجود دو فاقہ زدہ نوجوان یرغمالیوں کی ویڈیوز دیکھ کر خوف زدہ ہیں۔

،تصویر کا ذریعہThe Hostages Families Forum Headquarters
میری ملاقات پولسٹر ڈھلیا سے ہوئی جنھوں نے اکثر نتن یاہو کی جانب سے جنگ کے فیصلے کو روزنامہ ہارٹز میں چھپنے والے اپنے کالمز میں اکثر تنقید کا نشانہ بنایا۔
اکتوبر 2023 سے اب تک تل ابیب کے فوجی ہیڈ کواٹر کے پاس ’یرغمالیوں کے سکوائر‘ پر متاثرہ خاندان اکھٹے ہوتے ہیں اور اپنے اہل خانہ کی واپسی کے لیے مطالبہ کرتے ہیں۔
وہ کہتی ہیں اسرائیلوں میں سے زیادہ تر جو کہ جنگ کے خاتمے کی حمایت کرتے ہیں اس کی وجہ یرغمالیوں کی واپسی کا مطالبہ ہے۔
غزہ کے لوگوں کے لیے اسرائیلوں میں کوئی پریشانی نہ ہونے کے بارے میں بات کرتے ہوئے پولسٹر ڈھلیا نے بتایا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ بہت سے اسرائیلی یہ سمجھتے ہیں کہ حماس کی جانب سے غزہ کی صورتحال کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا جاتا ہے یا خود سے گھڑا جا رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہABIR SULTAN/EPA/Shutterstock
وہ مزید کہتی ہیں کہ اسرائیلی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ مسئلہ پیغام رسانی کا ہے۔ ’اسرائیلی ایک طویل عرصے سے پی آر کے جنون میں مبتلا ہیں۔ وہ اسے ہسبارہ کہتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ انتہائی دائیں بازو کی جماعت اسے من گھڑت مہم قرار دیتی ہے۔
ان کا خیال ہے کہ جس طرح سے اسرائیلی میڈیا نے اس کی کوریج شروع کی ہے وہ حماس کے بیانیے کو بڑھا وا دے رہا ہے۔
لیکن میرے خیال میں مرکزی دھارے کے اسرائیلی اسے دبا رہے ہیں کیونکہ ان کے لیے اس سے نمٹنا بہت مشکل ہے۔
وہ غزہ میں یرغمالیوں یا ان کے اپنے اہل خانہ جو کہ غزہ جنگ میں شامل ہیں کے ساتھ بہت زیادہ مصروف ہیں اور وہ اس کا احساس نہیں کر سکتے ہیں کہ اسرائیل کچھ کر رہا ہے۔
’فیصلہ کرنا بہت آسان ہے۔۔۔‘
تل ابیب اور بحیرہ روم کے ساحل پر واقع شہروں کے سیکولر اسرائیلی مرکزی دھارے میں، مجھے اسرائیل کے جنگ کے طرز عمل کے انصاف کے بارے میں کچھ شکوک و شبہات نظر آئے۔
مقبوضہ مغربی کنارے کے اندر، ایک کچی سڑک کے نیچے، ایش کودیش نامی ایک یہودی بستی ہے، جو چھوٹی چھوٹی بستیوں کے ایک کمپلیکس کا حصہ ہے۔ صرف ایک نسل پہلے یہ پہاڑیوں کی چوٹیوں پر قافلوں کا مجموعہ تھے ، لیکن اب یہاں ترقی دکھائی دیتی ہے۔
لاس اینجلس سے تعلق رکھنے والے سات بچوں کے والد آرون کاٹزوف نے ’سیٹلرز‘ کے نام سے ایک وائنری اور ایک بار بنایا ہے جو مغربی امریکہ کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے کی طرح محسوس ہوتا ہے۔ وہ اپنی شراب کو ’مائع پیشن گوئی‘ کا لیبل لگاتے ہیں۔

جب میں وہاں گیا تو بہت سے گاہک مسلح تھے۔
ایک سپاہی یونیفارم میں تھا اوروہ برگر کے ساتھ ریڈ وائن پی رہا تھا اور اس کی گود میں ایم 16 پڑی تھی۔
دیگر نے بار کے پیچھے اپنے ہتھیار رکھے ہوئے تھے۔
ایک خاتون نے نائن ایم ایم کی پسٹل اپنے رنگ برنگے لباس کے ساتھ لٹکا رکھی تھی۔ وہاں کونے میں ایک نوجوان بیٹھا تھا جس کا نام ایرن تھا۔ وہ کہنے لگا ’غزہ میں ایک مدت کے بعد تناؤ میں کمی آئی ہے۔ ‘
ایرن اب بھی ریزرو فوجی افسر کی حیثیت سے کام کر سکتے ہیں وہ غزہ میں بطور آئی ڈی ایف افسر لڑتے رہے ہیں اور انھیں اسرائیل کے اقدامات کے جائز ہونے کے بعد میں کوئی شک نہیں ہے۔
وہ مجھے کہنے لگے کہ ’غزہ کی ٹنل میں آؤ۔ دیکھو کہ آکسیجن نہ ہونے کا مطلب کیا ہوتا ہے اور نمی اور گرمی کے اندر شدت پسندوں سے لڑنے کی کوشش کرنا جو کہ بچوں اور خواتین کے پیچھے چھپے ہیں اور تم پر گولی چلانا چاہتے ہیں۔ ‘
’اے سی والے کمرے میں بیٹھ کر جو لوگ یہ کر رہے ہیں ان پر بات کرنا آسان ہوتا ہے، جنگ آسان نہیں ہے۔ ‘

،تصویر کا ذریعہREUTERS/Ronen Zvulun
جب میں نے ان سے پوچھا کیا کہ بہت سے اسرائیلی جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں تو جنگ کب ختم ہو گی۔
اس نے کہا ’کبھی کبھی آپ ہمیشہ وہ حاصل نہیں کر سکتے، جیسے آپ چاہتے ہیں کہ سب کچھ ونڈر لینڈ ہو، لیکن دنیا ایسی نہیں ہے۔‘
’چیزوں میں وقت لگتا ہے اور یہ افسوسناک ہے، لیکن یہ ایک حقیقت ہے۔‘
سات اکتوبر سے پہلے حمایت کا خاتمہ
7 اکتوبر 2023 تک ہزاروں اسرائیلی عدالتی نظام کو تبدیل کرنے کے منصوبوں کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کر رہے تھے، اسے وہ جمہوریت پر حملے کے طور پر دیکھتے تھے۔
شینڈلن کہتی ہیں کہ یہ جنگ سے بہت پہلے سے ہی ایک غیر مقبول حکومت رہی ہے۔
’ایک بار جب جنگ شروع ہوئی، تو جیسا بہت سے دیگر ممالک میں ہوتا ہے کہ حکومت کی حمایت میں اضافہ ہوتا ہے یہاں حکومت اپنی حمایت مکمل طور پر کھو بیٹھی۔‘

،تصویر کا ذریعہABIR SULTAN/Pool via REUTERS
نتن یاہو کی سیاسی بنیاد اسرائیل کے دائیں بازو پر ہے۔ اور یہ ان کے اس اصرار کو تسلیم کرتی ہے کہ حماس پر مکمل فتح تک جنگ ختم نہیں ہو سکتی۔ لیکن وہ اب بھی حزب اختلاف کی جماعتوں سے پیچھے ہیں۔
انھوں نے ایسے شواہد کی طرف اشارہ کیا ہے جن کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنے عہدے پر رہنے کے لیے جنگ کو طول دے رہے ہیں۔
ایک نجی شہری کی حیثیت سے انہیں سلامتی کی ناکامیوں کی قومی تحقیقات کا سامنا کرنا پڑے گا جس نے حماس کو 7 اکتوبر 2023 کو اپنی کارروائیوں کے آغاز کا موقع دیا۔
بدعنوانی کے الزامات پر ان کا طویل عرصے سے چل رہا مقدمہ اتنا سنگین ہے کہ ممکنہ طور پر جیل کی سزا پانے کے امکانات بھی ہیں۔
ان کے اتحاد میں شامل انتہا پسند قوم پرستوں، وزیر خزانہ بیزایل سموٹریچ اور قومی سلامتی کے وزیر اتامر بن گویر نے دھمکی دی ہے کہ اگر انھوں نے حماس کے ساتھ کسی قسم کا معاہدہ کیا تو وہ ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیں گے۔

،تصویر کا ذریعہHostages and Missing Families Forum
وہ نہ صرف حماس کی شکست چاہتے ہیں بلکہ غزہ کا الحاق، فلسطینیوں کا انخلا اور ان کی جگہ یہودی آباد کاروں کو چاہتے ہیں۔
لیکن دوسری جانب یرغمالیوں کے اہل خانہ نے نتن یاہو سے اپیل کی ہے کہ یرغمالیوں کی موت سے پہلے حماس کے ساتھ معاہدہ کریں۔
لیکن وزیر اعظم نے مکمل فتح تک لڑائی کرنے اور ایک نئے حملے کا اعلان کیا جس نے بہت سے یرغمالی خاندانوں کو پریشان کر دیا ہے اور اسرائیل کے بہت سے اتحادیوں نے اس کی مذمت کی ہے۔
نتن یاہو کے منصوبوں کی آئی ڈی ایف کی موجودہ قیادت نے بھی مذمت کی۔
ان کے چیف آف سٹاف جنرل ایال ضمیر نے واضح کیا کہ وہ غزہ میں ایک نئی جنگ کے نتن یاہو کے منصوبے کی مخالفت کرتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق انھوں نے کابینہ کو بتایا کہ اس سے یرغمالیوں کو خطرہ ہوگا اور انسانی بحران مزید خراب ہوگا۔

،تصویر کا ذریعہIsrael Defense Forces (IDF)/Anadolu via Getty Images
جنرل ضمیر کی تعیناتی رواں برس مارچ میں ہوئی تھی جب ان کے پیش رو نے وزیراعظم کے ساتھ جنگ کے معاملے پر اختلاف کی وجہ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔
’یہ ایک معجزانہ دور کی طرح ہے‘
اس جنگ نے سیکولر آبادی اور مذہبی دائیں بازو کے درمیان اسرائیل کی سب سے تلخ تقسیم کو بھی وسیع کر دیا ہے۔ تل ابیب میں سیکولر اسرائیلیوں اور یروشلم میں ان کے مذہبی ہم وطنوں کے مظاہروں کے درمیان چپقلش دو مختلف ممالک کے درمیان سفر کرنے کی طرح محسوس ہوسکتی ہے۔
جنگ ہمیشہ تکلیف دہ ہوتی ہے۔ لیکن اسرائیل کے سخت گیر مذہبی قوم پرست دائیں بازو کے کچھ لوگوں کے لیے یہ ایک موقع بھی ہے، یہاں تک کہ معجزات کا بھی وقت ہے جو مسیحا کی آمد کا اعلان کرتا ہے۔
سموٹریچ کی مذہبی صہیونی پارٹی سے تعلق رکھنے والے ایک وزیر اورٹ سٹرک نے گزشتہ موسم گرما میں کہا تھا کہ جنگ نے واقعات کو اپنی سمت موڑ دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میرے نقطہ نظر سے یہ ایک معجزے کے دور کی طرح ہے۔‘
کچھ لوگ اسرائیل کو تورات کی حکمرانی والی ریاست میں تبدیل کرنے کے لیے خدا کی طرف سے دی گئی ایک کھلی جگہ کو دیکھتے ہیں، جو خدا کا قانون ہے جو موسیٰ پر نازل کیا گیا تھا اور عبرانی صحیفوں کی پانچ کتابوں میں بیان کیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہSAID KHATIB/AFP via Getty Images
جنگ بھی نقشے کو تبدیل کرنے کی ان کی خواہش کو تیز کر سکتی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ خدا نے بحیرہ روم اور دریائے اردن کے درمیان کی ساری زمین یہودیوں کو دے دی ہے۔
فلسطینیوں کی کم ہوتی ہوئی تعداد کے لیے کوئی جگہ نہیں دی جا سکتی جو اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ غزہ اور مغربی کنارے میں ایک آزاد ریاست کے قیام کے ذریعے اسرائیل کے ساتھ امن قائم کرنا ممکن ہے جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم میں ہوگا۔
سموٹریچ نے کہا ہے کہ یہودی ریاست دریائے اردن کے دونوں کناروں پر ہونی چاہیے، جو اردن پر قبضہ کرے اور شام کے دارالحکومت دمشق تک پھیل جائے۔
مذہبی قوانین میں توسیع حکومت کی پالیسی نہیں ہے اور نہ ہی دریائے اردن کے پار اسرائیل کی سرحدوں کو وسعت دینا ہے۔ لیکن فلسطینی ریاست کو روکنا نتن یاہو اتحاد کی بنیاد ہے۔
اور یہ اتحاد صرف اس وقت تک حکومت میں رہ سکتا ہے جب تک سموٹریچ اور بین گویر اس کی حمایت کرنے پر راضی ہوجائیں۔ اس سے انھیں وزیر اعظم پر غیر متناسب اثر و رسوخ حاصل ہوتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAmir Levy/Getty Images
6 مئی کو سموٹریچ نے غزہ اور مغربی کنارے کے بارے میں اپنا وژن پیش کیا جو فلسطینی ایک ریاست کے لیے چاہتے ہیں۔ برطانیہ سمیت زیادہ تر مغربی حکومتیں اسرائیل کے ساتھ مل کر فلسطینی ریاست کو اس تنازعے سے بچنے کا واحد راستہ سمجھتی ہیں جو عربوں اور یہودیوں دونوں کی خواہش کے مطابق ایک صدی سے زائد عرصے سے جاری ہے۔
اس کے بجائے سموٹریچ نے کہا کہ چھ ماہ کے اندر غزہ کی آبادی زمین کے ایک تنگ ٹکڑے تک محدود ہو جائے گی۔ باقی علاقہ ’مکمل طور پر تباہ‘ اور ’خالی‘ ہو جائے گا۔
غزہ میں فلسطینی ’مکمل طور پر مایوس ہوں گے، یہ سمجھتے ہوئے کہ غزہ میں کوئی امید نہیں ہے اور تلاش کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے اور وہ دوسری جگہوں پر ایک نئی زندگی شروع کرنے کے لیے نقل مکانی کی تلاش میں ہوں گے۔‘
پرانے شہر میں کشیدگی
پرانے اور تاریخی شہر یروشلم میں اتوار 3 اگست کو بہت سے فلسطینیوں نے دکانیں اور کاروبار بند کر دیے اور سڑکوں سے دور رہے کیونکہ اسرائیلی یہودیوں نے تیشا بی او کا جشن منایا تھا۔
یہ بابلیوں کی طرف سے یروشلم کے پہلے یہودی ہیکل اور رومیوں کے ذریعہ اس کے دوسرے ہیکل کی تباہی پر سوگ کا دن ہے۔ (بابلیوں کی تشریح: بابل سے تعلق رکھنے والا، موجودہ عراق کا ایک قدیم شہر بابل ہے جو سلطنت بابل اور کلدانی سلطنت کا درالحکومت تھا۔)
وہ علاقہ جہاں مندر قائم ہوئے وہ بعد میں مسلمانوں کے لیے تیسرا مقدس ترین مقام بن گیا جس میں اب مسجد اقصیٰ غالب ہے جہاں مسلمانوں کا خیال ہے کہ پیغمبرِ اسلام نے مکہ سے اپنا رات کا سفر ختم کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایک ایسے علاقے میں امن برقرار رکھنے کی کوشش کرنا جو اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے لیے ایک مذہبی اور قومی علامت ہے، قوانین اور رسم و رواج کا ایک مجموعہ، جسے سٹیٹس کو کہا جاتا ہے کا مشاہدہ کیا جانا چاہیے۔
ایک قاعدہ کے مطابق مسجد اقصیٰ کے احاطے میں یہودیوں کی نماز ادا کرنے پر پابندی ہے، جسے فلسطینی مقدس حرم کے نام سے جانتے ہیں۔ بین گویر کی حوصلہ افزائی سے حالیہ برسوں میں اس کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔
تیشہ بنو کے موقع پر وہ خود نماز کی امامت کے لیے وہاں گئے، ایک ایسی حرکت جسے نازک اور کشیدہ مقدس شہر میں کچھ لوگوں نے اشتعال انگیز سیاسی اقدام کے طور پر دیکھا۔
ان کے درجنوں پیروکار اور بھاری ہتھیاروں سے لیس پولیس اہلکار جنھیں وہ قومی سلامتی کے وزیر کے طور پر حکم دیتے ہیں پرانے شہر کی تنگ گلی سے گزرتے ہوئے اس جگہ کے دروازوں سے گزر رہے تھے جسے اسرائیلی ٹیمپل ماؤنٹ کہتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAmir Levy/Getty Images
دعا کے ساتھ ساتھ انھوں نے یروشلم میں اپنی موجودگی اور دعاؤں کو غزہ کی جنگ اور اسرائیل کو تبدیل کرنے کے طریقے سے جوڑنے والی تقریر کی۔
انھوں نے کہا کہ بھوکے دو اسرائیلی یرغمالیوں کی ویڈیوز ریاست اسرائیل کو دباؤ میں لانے کی کوشش ہے جس کی مزاحمت کی جانی چاہیے۔
انھوں نے کہا کہ ٹیمپل ماؤنٹ سے جہاں ہم نے ثابت کیا کہ خودمختاری اور حکمرانی کی جا سکتی ہے یہاں سے ہمیں ایک پیغام دینا چاہیے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ آج ہی ہم پورے غزہ کی پٹی کو فتح کریں، پوری غزہ پٹی کی خودمختاری کا اعلان کریں، حماس کے ہر شخص کو ہٹا دیں اور رضاکارانہ ہجرت کی حوصلہ افزائی کریں۔
صرف اسی طریقے سے ہم یرغمالیوں کو واپس کر سکیں گے اور جنگ جیت سکیں گے۔
’ہم اپنا گھر واپس چاہتے ہیں‘
بین گویر کے جانے کے بعد ان کے نوجوان مذہبی حامیوں کا ایک بڑا مجمع ایک لمبے ڈھکے ہوئے آرکیڈ میں نماز ادا کرنے کے لیے رکا ہوا تھا۔
ان کی دعاؤں کی آواز پتھر کی چھت سے گونج رہی تھی۔ دو نوجوان خواتین، اٹیریٹ اور تامر، جو مذہبی یادگار کے بارے میں غمگین تھیں لیکن مستقبل کے بارے میں بظاہر پرجوش تھیں، نے وضاحت کی کہ وہ کیوں مانتی ہیں کہ ٹیمپل ماؤنٹ یہودیت کا دل ہے۔
اٹیریٹ نے کہا کہ ’ہم صرف یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہم اپنے یرغمالیوں کو واپس چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ سب کو امن حاصل ہو۔ یہ صرف ہمارے دلوں کا نہیں بلکہ پوری دنیا کا دل ہے۔ جب خدا یہاں آئے گا تو دنیا کو امن ملے گا۔‘
انھوں نے وضاحت کی کہ وہ اس مقام پر تیسرے مندر کی تعمیر کے لیے ہر روز دعا کرتے ہیں۔ ’یہ ہزاروں سالوں سے ہمارا گھر ہے، اور اب ہم یہاں واپس آئے ہیں، ہمیں اپنا گھر چاہیے۔‘
جب میں نے پوچھا کہ مسلمانوں کے مقدس مقامات کا کیا ہوگا جو اب وہاں کھڑے ہیں تو انھوں نے کہا کہ وہ نہیں جانتے۔
اٹیریٹ اور تمر نرم روحیں لگ رہی تھیں جو مذہبی جوش و خروش سے بھری ہوئی تھیں۔
سینیئر سفارتی ذرائع کے مطابق اسرائیل اور اس کے عرب ہمسایہ ممالک میں سکیورٹی سروسز کے لیے ڈراؤنا خواب یہ ہے کہ ایک متشدد یہودی انتہا پسند مسجد اقصیٰ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر سکتا ہے تاکہ تیسرا مندر تعمیر کیا جا سکے۔
’ہم اندر سے تباہ ہو چُکے ہیں‘
سیاسی منظر نامے کے دوسرے سرے پر ایک مصنف اور نتن یاہو کے سخت ناقد ایورم برگ ہیں، جو اسرائیل کے سب سے نمایاں وسطی بائیں بازو کے سیاست دانوں میں سے ایک ہوا کرتے تھے۔ وہ 1999 سے 2003 تک پارلیمنٹ کنیسیٹ کے سپیکر رہے اور اس سے قبل وہ یہودی ایجنسی اور عالمی صہیونی تنظیم کی صدارت کر چکے ہیں۔
آج وہ ان لوگوں میں شامل ہیں جو جنگ کو ملک کو تبدیل کرنے کے معجزانہ موقع کے طور پر نہیں دیکھتے ہیں۔
برگ کا کہنا ہے کہ ’اسرائیلی مذہبی جوش و خروش اور نفسیاتی مایوسی کے درمیان الجھے ہوئے ہیں۔‘
وہ دلیل دیتے ہیں کہ کوئی درمیانی راستہ نہیں ہے۔ ’کچھ اسرائیلی، حکومت کی اکثریت کا خیال ہے کہ ہم ایک معجزاتی دور میں رہ رہے ہیں۔ یہ ایک موقع ہے۔ جو خدا نے دیا ہے۔ یہ تاریخ کے ساتھ کسی چیز کو دوبارہ ترتیب دینے، دوبارہ منظم کرنے کے لیے زندگی میں ایک بار یہ موقع دیا جاتا ہے۔‘
’اور بہت سے اسرائیلی محسوس کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کس لیے؟ اس کا کيا مطلب ہے؟ مجھے قیمت کیوں ادا کرنی پڑے گی؟ یہ ایک بے معنی جنگ ہے۔‘

اسرائیلی حکومت کے خلاف یہ نفسیاتی مایوسی اور غصہ نتن یاہو کے استعفے کا مطالبہ کرنے والے باقاعدگی سے ہونے والے مظاہروں میں پایا جا سکتا ہے۔
تل ابیب میں ایک گرم اور مرطوب رات کو حکومت کے سیکولر مخالفین نے نیلے اور سفید ستارے ڈیوڈ کا پرچم لہرایا، نعرے لگائے اور ڈھول بجاتے رہے یہاں تک کہ وہ قومی ترانے کے لیے خاموش کھڑے رہے۔
اس کے بعد انھوں نے فوج اور پولیس کے ریٹائرڈ تجربہ کار کمانڈروں کی تقریریں سنیں جن میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
نتن یاہو حکومت کے خلاف کئی عوامی ریلیوں کے منتظم نوا روزالیو نے بیک سٹیج پر اپنا موقف بیان کیا۔
’ہم نتن یاہو کی حکومت کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں، لیکن خاص طور پر ایک معاہدے کے تحت تمام یرغمالیوں کو فوری طور پر واپس لانا چاہتے ہیں، جس سے غزہ میں نتن یاہو کی جنگ کا خاتمہ ہو جائے گا، جو اس وقت مکمل طور پر سیاسی ہو چکی ہے اور نتن یاہو اور ان کے شراکت داروں کی اپنی سیاسی بقا کے سوا کچھ نہیں ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہJACQUELYN MARTIN/POOL/AFP via Getty Images
میرا خیال ہے کہ کچھ لوگ شاید حماس کی پوزیشن بار بار بیان کرنے پر اس پر الزام لگائیں۔
ایک سال سے زیادہ عرصے تک حماس کے مذاکرات کاروں نے اس شرط پر تمام یرغمالیوں کو واپس کرنے کی پیشکش کی کہ اسرائیلی دفاعی افواج یرغمالیوں کی واپسی کے بعد دوبارہ جنگ کی جانب نہیں جائے گا۔
پھر بھی اسرائیل نے اصرار کیا کہ حماس کو مکمل طور پر غیر مسلح ہونا ہو گا اور مستقبل کے غزہ میں اس کا کوئی کردار نہیں ہو گا اور اسرائیل کے پاس غزہ کی سکیورٹی کا کنٹرول ہو گا اور یہ بھی طے کرنے کی آزادی ہو گی کہ آگے کیا کرنا ہے۔
لیکن مس روسیالیو ان تجاویز کو مسترد کرتی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سیز فائر کا معاہدہ حماس کے لیے فتح کی مانند ہوگا۔
’وہ پروپیگنڈا ہے اور ہمارے پاس ایک بڑی فوج ہے۔۔۔ جو کہ غزہ کی پٹی کے باہر رہ سکتی ہے اور صرف سرحدوں کی حفاظت کر سکتی ہے۔ ‘
ان کا مزید کہنا ہے کہ ’جب تک وہ غزہ کو فتح کرنے اور غزہ کے لوگوں کو منتقل کرنے کا تصور یا خواہش نہیں رکھتے تب تک وہاں رہنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’ہم اس بہانے پر یقین نہیں کرتے کہ ہم اسرائیل کے لوگوں کی حفاظت کر رہے ہیں۔ اگر آپ ہماری حفاظت کرنا چاہتے تو آپ اس جنگ کو ختم کر دیتے تاکہ اسرائیل کے لوگوں کی دوبارہ آباد کاری ہو سکے اور معاشرے کی بحالی ہو سکے۔‘
’ہم اندر سے ٹوٹ چکے ہیں۔‘
خدا کے ’ہاتھوں‘ میں
گذشتہ تین ہفتوں کے دوران میں نے اسرائیل میں دونوں جانب سفر کیا۔ ایک سابق سپیکر پارلیمینٹ ایورم برگ کا کہنا ہے کہ بائیں بازوں کے حامی فلسطینی بچوں کی ہلاکتوں کے خلاف تل ابیب میں خاموش احتجاج کر رہے ہیں اور نفسیاتی طور پر جس مایوسی کا شکار ہیں اس کا اظہار کر رہے ہیں۔
لیکن دوسری جانب اسرائیل میں میں نے یہ بھی احساس دیکھا ہے وہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اسرائیل کو خود پر آنے والے دباؤ اور اپنے اتحادیوں اور دشمنوں کی جانب سے کی جانے والی تنقید کو نظر انداز کرنا چاہیے۔ ان لوگوں کا خیال ہے کہ حماس نے جو کچھ سات اکتوبر 2024 سے جو کچھ کیا اور اسرائیلی فوجیوں کو جیسے قید میں رکھا گیا ہے اس کے جواب میں اسرائیل کے اقدامات جواز رکھتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہREUTERS/Mahmoud Issa
اسرائیل کے وزیر اعظم، جنھیں اب بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت حاصل ہے، ان افواہوں کے باوجود کہ نتن یاہو کی جانب سے یرغمالیوں کے ساتھ معاہدے کو ممکن بنانے سے انکار سے وہ پریشان ہو رہے ہیں ایک اور حملے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں اور اسرائیل کے اتحادیوں پر یہود دشمنی کا الزام لگا رہے ہیں۔
مسیحائی مذہبی صہیونی جو اس کی حمایت کرتے ہیں ان کا ماننا ہے کہ خدا ان کے ساتھ ہے اور معجزے دکھا رہا ہے۔
مغربی کنارے کی گہرائی میں وادی اردن کو دیکھتے ہوئے آرون کاٹزوف اور آباد کاروں کے شراب خانے میں ان کے دوستوں کا ماننا ہے کہ وہ صحیفوں کی پیشگوئیوں کو پورا کر رہے ہیں کیونکہ وہ انگوروں سے بنی شراب پیتے ہیں جن کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ وہ بائبل کے زمانے کے طریقوں کا استعمال کرتے ہوئے بڑے فخر سے اگائے گئے تھے۔
ان کے پرسکون اور خوش گاہکوں کا خیال ہے کہ تل ابیب میں نیتن یاہو کے خلاف احتجاج کرنے والے سیکولر لبرلز کل کے اسرائیلی ہیں۔ اب ان کی ریاست کا مستقبل ان کے ہاتھوں میں ہے اور خدا کے ہاتھ میں۔۔۔ تاہم انھیں یقین ہے کہ یہ سب اچھی طرح سے ختم ہو جائے گا۔









