آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
شاہین آفریدی کا پہلا اوور میڈن لیکن پھر چار چھکے: پاکستان نیوزی لینڈ سے دوسرا ٹی 20 بھی ہار گیا
نیوزی لینڈ کے خلاف پانچ ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریز کے پہلے میچ میں پاکستانی بیٹسمینوں کی خراب کارکردگی کے بعد دوسرے میچ میں ان سے بہتر کارکردگی کی امید کی جا رہی تھی۔
اور پاکستانی ٹیم نے اپنی کارکردگی کو بہتر بھی کیا لیکن یہ نیوزی لینڈ کے سامنے کافی نہیں تھا اور نیوزی لینڈ نے دوسرا میچ بھی با آسانی جیت لیا۔ اس طرح اس نے سیریز میں دو صفر کی برتری حاصل کر لی ہے۔
نیوزی لینڈ نے ڈیونڈن میں کھیلے جانے والے اس میچ کو پانچ وکٹوں سے جیتا تو ابھی 11 گیندیں باقی تھیں۔
اگرچہ شاہین شاہ آفریدی نے پہلا اوور میڈن کروا کر پاکستانی ٹیم کے حامیوں کے حوصلے کو بلند کیا لیکن محمد علی کے اوور میں فن ایلن نے تین چھکے لگا کر مطلوبہ رن ریٹ حاصل کر لیا۔
پھر شاہین شاہ آفریدی جب دوسرا اوور کرنے آئے تو ٹم سیفرٹ نے چار چھکوں کی مدد سے ان کے اس اوور میں 26 رنز بنا ڈالے اور ایک طرح سے تیسرے اوور تک ہی میچ پاکستان کے ہاتھوں سے نکل چکا تھا۔
میچ کا احوال
میچ تاخیر سے شروع ہوا اور 20 کے بجائے 15 اوورز کا میچ ہوا۔ پاکستان کا ایک بار پھر خراب آغاز رہا اور ایک رن پر پہلی وکٹ گر چکی تھی۔ دوسری وکٹ 19 رنز پر جبکہ تیسری 50 رنز پر گری۔
پہلے میچ کے سکور بورڈ سے اگر موازنہ کیا جائے تو یہ بہتر کارکردگی تھی۔ وکٹ گرتے رہے لیکن آنے والے کھلاڑیوں نے ہاتھ نہ روکے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مقررہ 15 اوورز میں ٹیم نے نو وکٹوں کے نقصان پر 135 رنز بنائے جس میں کپتان سلمان آغا نے سب سے زیادہ 46 رنز سکور کیے۔ ان کی 28 گیندوں کی اس اننگز میں چار چوکے اور تین چھکے شامل تھے۔
ان کے بعد شاداب خان نے 26 اور شاہین شاہ آفریدی نے 22 رنز بنائے۔ نیوزی لینڈ کی جانب سے جیکب ڈفی، بین سیئرز، جیمز نیشم اور ایش سوڈھی نے دو دو وکٹیں لیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سوشل میڈیا پر نوجوان ٹیم کی ’سلاگنگ‘ کی تعریف بھی ہو رہی ہے جبکہ بہت سے لوگ ان کی کارکردگی پر مایوسی کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔
میچ پریزینٹیشن کے دوران کپتان سلمان آغا نے کہا: ’یہ منجمد کرنے والا تھا، لیکن یہ ایک اچھا گیم رہا۔ یہ آخری ميچ سے بہتر تھا، بہت ساری مثبت چیزیں رہیں، لیکن ظاہر ہے، کچھ کام کرنے باقی ہیں۔‘
نیوزی لینڈ کی اننگز کی ابتدا سے قبل پاکستان کا یہ مجموعہ قابل قدر لگ رہا تھا لیکن جس طرح سے اوپنرز ٹم سیفرٹ اور فن ایلن نے تیز شروعات کی یہ مجموعہ بہت کم نظر آنے لگا۔
انھوں نے ساڑھے چار اوورز میں ہی 66 رنز بنا ڈالے۔ ٹم سیفرٹ نے 22 گیندوں پر 45 رنز بنایا جس میں پانچ چھکے شامل تھے۔ ان میں سے ایک چھکا تو 119 میٹر کا بتایا جا رہا ہے جو انھوں نے شاہین شاہ آفریدی کی گیند پر لگایا۔
فن ایلن نے بھی پانچ چھکے لگائے اور انھوں نے 16 گیندوں میں 38 رنز بنائے۔ ایلن کے بعد یکے بعد دیگرے دو وکٹیں گریں لیکن تب تک مطلوبہ رن ریٹ فی گیند ایک رن ہو چکا تھا۔
جہانداد جب 14واں اوور لے کر آئے تو کپتان بریسویل نے چوکا لگا کر کھیل ختم کر دیا۔
سوشل میڈیا پر ملے جلے تاثرات
کچھ لوگ جہاں نئے کھلاڑیوں کے حوصلے کی تعریف کر رہے ہیں وہیں کچھ صارفین پرانے کھلاڑیوں کو یاد کر رہے ہیں۔
سید محمد حسن نامی ایک صارف نے پاکستانی کپتان کی تعریف کرتے ہوئے لکھا: ’کپتان ٹیم کا رول ماڈل ہوتا ہے۔ دوسرے نوجوانوں کو سلمان سے سیکھنا چاہیے کہ مثبت ارادے یا آنکھ بند کر کے بیٹ گھمانے میں کیا فرق ہے۔‘
جبکہ شرلاک اومز نامی ایک صارف نے بابر اعظم کا ایک کلپ شیئر کرتے ہوئے لکھا: ’اسی اوول گراؤنڈ میں شین بانڈ اور دیگر (بولروں) کی رفتار کے سامنے بابر اعظم نے سیریز جیتنے کے لیے ناقابل شکست 79 رنز بنائے۔ اور آج کی ٹیم مسخروں کا ایک گروپ لگتی ہے۔‘
روشبھ پٹوا نامی ایک صارف نے لکھا: ’بار بار سلوگنگ کے بعد شاداب خان 26 رنز بنا کر چلے گئے۔ اس ٹیم کے ساتھ کچھ مسئلہ ہے۔ وہ سب صرف سلوگ کر رہے ہیں۔‘
جبکہ حامد رسول نے لکھا کہ انھیں ’یہ نیا طریقہ پسند آ رہا ہے۔ وکٹیں بھی گر رہی ہیں اور سب چلتے چلے جا رہے رہیں۔ یہ فوری طور پر کام نہیں کرے گا لیکن کچھ عرصے بعد کام کرے گا یہاں تک کہ ذہنیت بدل جائے گی۔ آج کے دور میں ٹی 20 کرکٹ اسی طرح کی ہے۔‘
ایک صارف نے لکھا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ پاکستانی ہر گیند کو پارک کے باہر پہنچانا چاہتے ہیں، کیا یہ بہت جارحانہ نہیں ہے۔ لیکن دیکھ کر اچھا لگ رہا ہے۔‘
بہر حال کوئی شاداب کے آسان کيچ گرانے پر نالاں ہے تو کوئی 30 گز کا دائرہ پار نہ کر پانے پر بر ہم ہے۔ شاہین شاہ آفریدی خاص طور پر تنقید کا نشانہ ہیں۔
کوئی کہہ رہا ہے کہ کپتان بننے کے چکر میں وہ گیند ڈالنا بھی بھول گئے ہیں تو کوئی کہہ رہا ہے کہ اوور میں ایک ڈاٹ بال ڈالنے پر قوم ان کی مشکور ہے۔
ابھی سیریز کے تین میچز باقی ہیں اور جس طرح پاکستانی ٹیم نے پہلے میچ کے مقابلے میں بہتر کارکردگی دکھائی ہے اگر اسی طرح بہتری آتی رہے تو عین ممکن ہے جیت بھی ہاتھ آجائے۔