امریکہ کے بدنام زمانہ رہنما چارلز مینسن کی پیروکار جو پانچ دہائیوں سے زائد جیل میں قید رہی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, برنڈ ڈیبسمین جونیئر
- عہدہ, بی بی سی نیوز، واشنگٹن
امریکہ کے بدنام زمانہ رہنما چارلز مینسن کی ایک سابق پیروکار، لیسلی وان ہوٹن کو دو وحشیانہ قتل کے جرم میں 50 سال کی عمر قید سے زیادہ کی سزا کاٹنے کے بعد پیرول پر رہا کر دیا گیا ہے۔
وان ہوٹن، جو اب 73 برس کی ہو چکی ہیں، امریکہ کے مسلکی ’مینسن خاندان‘ کی اُس وقت پیروکار تھیں جب ان کی عمر صرف 19 برس تھی۔ انھیں سنہ 1969 میں لاس اینجلس کے ایک دکاندار اور اس کی بیوی کو قتل کرنے کے جرم میں سزا سُنائی گئی تھی۔
کیلیفورنیا کے گورنرز نے ان کی پیرول پر رہائی کے لیے کی گئی پچھلی پانچ درخواستوں کو مسترد کیا تھا، لیکن اب وہ انھیں رہا کرنے پر مجبور ہوئی۔
اس فیصلے کو بعد میں کیلیفورنیا کی ریاستی اپیل کورٹ نے بھی تبدیل کر دیا تھا۔
وان ہوٹن اپنے زمانے میں ’ہوم کمنگ کیوئین‘ رہ چکی تھیں، اس لیے وہ مشہور بھی تھیں۔ ہوم کمنگ کیوئین سے مراد ایک ایسی نوجوان لڑکی ہوتی ہے جسے اس کے ساتھی اپنی علاقائی فٹ بال کھیل سے وابستہ روایتی سرگرمیوں کی تقریبات کی قیادت کرنے کے لیے چنتے ہیں۔
لیسلی وان ہوٹن ساٹھ کی دہائی میں کیلیفورنیا کے ایک دکاندار لینو لابیانکا اور ان کی اہلیہ روزمیری کے قتل میں ملوث تھیں، ان کے اِس کردار کی وجہ سے انھیں قتل کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔
ان ہلاکتوں کے دوران جو کہ اداکارہ شیرون ٹیٹ اور چار دیگر افراد کے قتل کے چند دنوں بعد ہوئی تھیں، وان ہوٹن نے روزمیری لابیانکا کو پشت سے پکڑ لیا تھا جب کہ کسی اور نے انھیں چھرا گھونپا تھا۔
بعد میں انھوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ انھوں نے روزمیری کی موت کے بعد بھی انھیں ایک چاقو مارا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وان ہوٹن کی وکیل نینسی ٹیٹریالٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ منگل کی صبح سویرے کیلیفورنیا میں خواتین کی جیل سے رہا ہوئیں اور امکان ہے کہ وہ تین سال کے لیے پیرول پر آزاد رہیں گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
نینسی ٹیٹریالٹ نے کہا کہ ’ان کے لیے آپ کو فرقے کے نظریات سے الگ کرنے اور اپنے جرائم کی ذمہ داری قبول کرنے کا سفر ایک طویل اور مشکل کام تھا۔ اس میں انھیں کافی وقت لگا۔ ان کا کئی برسوں تک ذہنی علاج ہوتا رہا اور اب وہ احساس جرم اور شدید پچھتاوا محسوس کرتی ہے۔‘
چارلس مینسن، جو امریکہ کے سب سے بدنام فرقے کے رہنماؤں میں سے ایک سمجھے جاتے ہیں نے اپنے پیروکاروں کو نو قتل کرنے کی ہدایت کی اور امید ظاہر کی کہ ان ہلاکتوں سے نسلی جنگ شروع ہو جائے گی، جسے بیٹلز بینڈ کے ایک مشہور گانے پر ’ہیلٹر سکیلٹر‘ کہا جاتا ہے۔ اس کی موت 2017 میں جیل میں ہوئی۔
چارلز مینسن کی سابق پیروکار لیسلی وان ہوٹن عمر قید کی سزا سے رہائی کے بعد اپنے گھر کے قریب منتقل ہو گئی ہے۔ وان ہوٹن نے جیل میں رہتے ہوئے بیچلرز اور ماسٹرز کی ڈگریاں حاصل کیں، جہاں اس نے دوسرے قیدیوں کے لیے بطور ٹیوٹر بھی کام کیا۔
اپنی قید کے دوران درجنوں بار پیرول سے انکار کیے جانے کے بعد، وان ہوٹن کو بالآخر 2016 میں پیرول پر رہائی کی سفارش کی گئی تھی۔ لیکن کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوزوم اور ان کے پیشرو جیری براؤن نے ان سفارشات کو مسترد کر دیا تھا۔
آخری بار یعنی سنہ 2020 میں جب اس کی پیرول سے رہائی کو روکا گیا تھا، تو بالآخر کیلیفورنیا کی ایک اپیل کورٹ نے اس فیصلے کو مسترد کر دیا تھا۔
تاہم آٹھ جولائی کو گورنر نیوزوم نے کہا کہ وہ اس بار اس کی پیرول پر رہائی کو روکنے کی کوشش نہیں کریں گے، جس کی وجہ سے منگل کو ان کی رہائی کی راہ ہموار ہوئی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
گذشتہ ہفتے ایک بیان میں کیلیفورنیا کے گورنر نے کہا کہ وہ ان کی رہائی پر مایوس ہیں، جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اگر قانونی جنگ جاری رہی تو کیلیفورنیا کی سپریم کورٹ کی طرف سے ان کی رہائی کی کوششوں کے مقدمے کی سماعت کا امکان ہی نہیں تھا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’مینسن مسلک کی جانب سے ان وحشیانہ قتل کے 50 سال بعد، متاثرین کے اہل خانہ اب بھی اس کا اثر محسوس کرتے ہیں۔‘
اب جیل سے باہر آنے کے بعد توقع ہے کہ وان ہوٹن اپنے گھر متنقل ہونے سے تقریباً ایک سال پہلے تک ایک ایسی جگہ رہیں گی جہاں رہ کر انھیں قید سے قبل سے لے کر آج کے دور کی حقیقت کو سیکھنے کی ضرورت ہو گی۔
مِس ٹیٹریالٹ نے خبر رساں ایجنسی، ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ’انھیں انٹرنیٹ استعمال کرنا سیکھنا ہے۔ انھیں بغیر کیش کے چیزیں خریدنا سیکھنا ہے۔ اتنے برس جیل میں رہنے کے دوران دنیا بدل چکی ہے، جب وہ اندر گئی تھیں اُس وقت کی نسبت آج یہ ایک بہت مختلف دنیا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پیرول کی بار بار سماعتوں میں وان ہوٹن نے قتل میں اپنے کردار اور مینسن کے ساتھ ملوث ہونے پر افسوس کا اظہار کیا، بعد میں یہ تسلیم کیا کہ انھوں نے چارلز مینسن کو اپنی ’انفرادی سوچ‘ پر حاوی ہونے دیا تھا۔
انھوں نے سنہ 2002 کی پیرول کی سماعت کے دوران اپنے عقائد کے بارے میں کہا تھا کہ ’میں اس کے نظریات کو لفظ بلفظ درست سمجھتی تھی اور میں نے اس کے کہنے پر تالا، ضروریات کا سامان اور ایک بیرل خریدا۔ میں نے اس کے الفاظ کو حقیقت سمجھا تھا۔‘












