دس دلتوں کے قتل کا مقدمہ، 42 سال بعد انصاف: جیل کاٹنے کے لیے صرف ایک قاتل زندہ بچا

،تصویر کا ذریعہJITENDRA KISHORE
- مصنف, گیتا پانڈے
- عہدہ, بی بی سی نیوز، نئی دہلی
پاکستان اور انڈیا کی عدالتوں میں متعدد مقدمات کئی دہائیوں تک زیر سماعت یا زیر التوا رہتے ہیں۔ اس دوران یا درخواست گزار کی زندگی گزر جاتی ہے یا پھر ملزمان کی موت واقع ہوجاتی ہے۔ بہت سے پرانے مقدمات کو محض اس وجہ سے نمٹا دیا جاتا ہے کہ وہ غیرمتعلقہ ہوجاتے ہیں۔ مگر کچھ مقدمات وقت گزرنے کے باوجود اپنی اہمیت برقرار رکھتے ہیں۔
ان میں سے ہی ایک قتل عام کا مقدمہ انڈین ریاست اترپردیش کا ہے، جس میں انصاف کے دلانے کے لیے تین وزرائے اعظم نے یقین دہانیاں کرائیں مگر انصاف ملنے میں تقریباً نصف صدی لگی۔
گذشتہ ہفتے انڈیا میں ایک 90 برس کے شخص کو 42 سال قبل ہونے والے ذات پات کے جھگڑے میں دس افراد کے قتل کے جرم میں عمر قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔ باقی نو ملزمان کی پہلے ہی مقدمے کی سماعت کے دوران موت واقع ہو چکی ہے۔
متاثرین کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلہ ان کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا کیونکہ یہ بہت دیر سے آیا ہے اور قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ’انصاف میں تاخیر‘ کی بہترین مثال ہے، جس کا مطلب انصاف کا نہ ملنا ہے۔
انڈیا کی شمالی ریاست اترپردیش میں 30 ستمبر سنہ 1981 کی شام سادھو پور گاؤں والوں کے معمر افراد کے ذہن میں اب بھی نقش ہو گی۔
پریم وتی کہتی ہیں کہ ’شام ساڑھے چھ بجے کے قریب مردوں کا ایک گروپ میرے گھر کے احاطے میں داخل ہوا اور فائرنگ شروع کردی۔‘ انھیں اپنی عمر کے بارے میں ٹھیک سے پتا نہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ وہ تقریبا 75 سال کی ہیں۔
پریم وتی نے کہا: ’انھوں نے مجھ سے کچھ نہیں پوچھا، انھوں نے صرف ہم پر گولیاں برسانی شروع کر دیں۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ چند ہی منٹوں میں ان کے تین بچے، دس اور آٹھ سال کے دو بیٹے اور ایک 14 برس کی بیٹی کی لاشیں ان کے سامنے زمین پر پڑی تھیں۔
عدالت کے حکم پر جب فوٹوگرافر اور کیمرہ مین گاؤں پہنچے تو پریم وتی نے انھیں اپنی دائیں ٹانگ دکھائی جہاں انھیں گولی لگی تھی۔ زخم ٹھیک ہو گیا ہے لیکن نشان باقی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کے بچے دلت برادری (پہلے انھیں اچھوت کہا جاتا تھا) کے ان دس افراد میں شامل تھے جو اس شام مارے گئے تھے۔ زخمی ہونے والی دو خواتین میں پریم وتی بھی شامل تھیں۔
گذشتہ بدھ کو فیروز آباد قصبہ کی ضلعی عدالت کے جج ہرویر سنگھ نے اس واقعے کے ملزمان میں واحد زندہ بچ جانے والے ملزم گنگا دیال کو، جو یادو ذات سے تعلق رکھتے ہیں، عمر قید کی سزا سنائی۔ دیال کو 55,000 روپے کا جرمانہ بھی ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور اگر وہ ادا کرنے میں ناکام رہے تو انھیں مزید 13 ماہ جیل میں گزارنا ہوں گے۔

،تصویر کا ذریعہJITENDRA KISHORE
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
فیصلے میں کہا گیا کہ دس ملزمان میں سے نو مقدمے کی سماعت کے دوران فوت ہو گئے تھے۔ عدالت میں حکومت کی نمائندگی کرنے والے وکیل راجیو اپادھیائے نے مجھے بتایا کہ استغاثہ اور دفاع کے کئی گواہوں کی بھی اس دوران موت ہو گئی۔
جرم اور سزا کے درمیان چار دہائیوں سے زیادہ کا عرصہ گزر جانے کے بعد کیس سرد خانے کی نظر ہو گیا۔
پریم وتی اور گاؤں کے دیگر دلت لوگوں کا اصرار ہے کہ ان کے خاندان کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھی۔ لیکن مسٹر اپادھیائے نے کہا کہ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ذات پات کے درمیان تعلقات اس وقت خراب ہو گئے تھے جب کچھ دلتوں نے یادو ذات سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی ملکیت والی راشن کی دکان کے بارے میں شکایت کی تھی اور اس کی وجہ سے تشدد ہوا تھا۔
دس لوگوں کا قتل اس وقت سرخیوں میں آیا تھا اور گاؤں والوں نے کہا کہ اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی اور ریاست کے وزیر اعلیٰ وشواناتھ پرتاپ سنگھ نے ان سے ملاقات کی تھی اور انھوں نے انصاف کا وعدہ کیا تھا۔
اپوزیشن بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینیئر رہنما اٹل بہاری واجپائی، جو بعد میں انڈیا کے وزیر اعظم بنے، نے قتل کے خلاف احتجاج کے لیے گاؤں تک مارچ کیا تھا۔
پریموتی کے مطابق ’انھوں نے کہا تھا کہ وہ مرنے والوں کو تو زندہ نہیں کر سکتے، لیکن انھوں نے ہمیں انصاف دلانے میں مدد کا وعدہ کیا تھا۔ پریم وتی نے مزید کہا کہ گاؤں والوں کو سزا کے بارے میں اس وقت پتہ چلا جب ان کے ہاں صحافی آئے اور انھوں نے عدالت کے فیصلے پر ان کا رد عمل جاننا چاہا۔
پریم وتی نے انھیں بتایا کہ ’صرف خدا ہی جانتا ہے اگر یہ انصاف ہے۔‘
پریم وتی کے پڑوس میں رہنے والے مہاراج سنگھ نے بھی اس واقعے میں اپنے خاندان کے افراد کو کھو دیا تھا۔ اس وقت وہ بہت چھوٹے تھے لیکن وہ ’اس شام کے قتل عام‘ کی کہانیاں سن کر بڑے ہوئے۔ انھوں نے کہا ’ہم اس بات کی تعریف کرتے ہیں کہ ہمیں آخرکار انصاف ملا، لیکن یہ صحیح وقت پر نہیں ملا۔ اگر ہمیں بروقت انصاف مل جاتا تو زیادہ خوشی ہوتی۔‘

،تصویر کا ذریعہJITENDRA KISHORE
انھوں نے مزید کہا کہ ’عدالتوں کو انصاف دینے میں 42 سال لگ گئے، اگر پانچ چھ سال میں سزا ملتی تو ہمارے بزرگ سکون سے مرتے۔‘
مسٹر اپادھیائے کا کہنا ہے کہ کیس کا نتیجہ آنے میں اتنا وقت اس لیے لگا کیونکہ قتل کے وقت جس گاؤں میں یہ جرم ہوا تھا وہ مین پوری نامی ضلع کا حصہ تھا۔ لیکن سنہ 1989 میں یہ نئے بنائے گئے ضلع فیروز آباد کا حصہ بن گیا۔
کیس کی فائلیں سنہ 2001 تک مین پوری میں گرد میں اٹی رہیں لیکن پھر الہٰ آباد ہائی کورٹ کے حکم پر انھیں فیروز آباد کورٹ میں منتقل کیا گیا۔
مسٹر اپادھیائے کا کہنا ہے کہ اس کیس پر سماعت صرف سنہ 2021 میں ہی شروع ہو سکی اور یہ حکومتی مہم کے ایک حصے کے نتیجے میں ممکن ہوا۔ اس مہم کا مقصد پرانے مقدمات کو فوری طور پر نمٹانا تھا۔
وہ کہتے ہیں کہ ’حکومت اور عدلیہ عوام کو یہ پیغام دینے کی کوشش کر رہی ہیں کہ اگر آپ جرم کریں گے تو قانون آپ کو پکڑے گا۔‘
تاہم وکیل اکشت باجپئی کا کہنا ہے کہ انصاف بروقت ہونا چاہیے۔
’یہ واقعی انصاف میں تاخیر کا معاملہ ہے جو انصاف نہ ملنے کے برابر ہے۔ لوگ دو تین سال کی تاخیر برداشت کر سکتے ہیں، لیکن 40 سال؟‘
اکشت باجپائی کا کہنا ہے کہ ’یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ بروقت انصاف فراہم کرے خاص طور پر پریم وتی جیسے لوگوں کو کیونکہ وہ دلت ہیں جو ملک کے سب سے پسماندہ لوگوں میں شامل ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ انڈیا کے فوجداری مقدمات نظام کی ناکامی ہے کہ متاثرین اور ان کے خاندانوں کو 42 سال تک اذیت میں رہنا پڑا۔‘
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہJITENDRA KISHORE
یہ واحد عدالتی مقدمہ نہیں ہے جس کا نتیجہ میں آنے میں اتنا وقت لگا ہے۔
انڈیا فوجداری انصاف میں سست روی کے لیے جانا جاتا ہے اور بہت سے شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ اس حقیقت سے ناراض ہیں کہ عدالتی مقدمات اکثر سالوں، یہاں تک کہ دہائیوں تک چلتے ہیں۔
اور اس کی وجہ سے التوا کے شکار کیسز کا ایک بہت بڑا بیک لاگ ہے۔ فروری میں حکومت نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ انڈیا کی عدالتوں میں تقریباً 50 ملین یعنی پانچ کروڑ مقدمات زیر التوا ہیں۔
انڈین فوجداری قانون کے ماہر اور لائیو لا ویب سائٹ کے بانی ایم اے راشد کہتے ہیں کہ تاخیر کی سب سے بڑی وجہ ججوں کی کم تعداد ہے۔
انھوں نے بتایا کہ ’انڈیا میں جج اور لوگوں کا تناسب بہت کم ہے اور فی جج مقدمات کا بوجھ بہت زیادہ ہے۔ اس لیے مقدمات کے نتائج آنے میں کافی وقت لگ جاتا ہے۔‘
ایم اے راشد نے عدالتوں میں رائج ’قدیم طریقہ کار‘ کو بھی مورد الزام ٹھہرایا، جو وقت طلب اور صبرطلب ہے اور گواہوں کی جانچ میں تاخیر کا سبب بنتا ہے۔ وہ مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں ٹیکنالوجی کے دور میں بھی ایک جج کو شہادتیں ہاتھ سے لکھنی پڑتی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ہائی کورٹ میں درخواستوں کو حتمی سماعت کے لیے درج ہونے میں عام طور پر کم از کم پانچ سے دس سال لگتے ہیں اور پھر سپریم کورٹ میں بھی اتنا ہی عرصہ لگ جاتا ہے۔
ان بنیادوں پر وہ کہتے ہیں کہ ’انڈیا میں ایسے مقدمات بھی عام ہیں، جن میں اپیل کے مرحلے کے بعد مجرم 20 یا 30 سال کے بعد بری ہو جاتے ہیں۔‘













