انڈیا کا ’مطلوب ترین‘ شخص جو 28 فلموں میں اداکاری اور کئی روپ بدل کر 30 سال تک چھپا رہا

اوم پرکاش
،تصویر کا کیپشناوم پرکاش اب حراست میں ہیں
    • مصنف, گیتا پانڈے
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، دلی
1px transparent line

اوم پرکاش جنھیں پاشا کے نام سے بھی پہچانا جاتا ہے انڈیا کی شمالی ریاست ہریانہ میں پولیس کو مطلوب ترین افراد کی فہرست میں شامل ہیں۔

30 سال تک یہ ہمسایہ ریاست اتر پردیش میں ڈکیتی اور قتل کی ایک واردات سے تعلق کے شبے میں مطلوب تھے۔ یہاں آنے کے بعد انھوں نے ایک نئی زندگی اپنا لی، نئی سرکاری دستاویزات بنوا لیں اور ایک مقامی خاتون سے شادی کر لی جن سے ان کے تین بچے بھی ہیں۔

لیکن اس ہفتے کے اوائل میں ان کی خوش قسمتی بالآخر انھیں دھوکہ دے گئی اور پولیس نے 65 سال کے اس شخص کو غازی آباد کی کچی آبادی میں ان کے گھر سے گرفتار کر لیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اوم پرکاش نے کئی روپ بدلے: انھوں نے ٹرک چلایا، ایک مقامی گروہ کے ساتھ قریبی دیہات میں بھجن گاتے رہے، حتیٰ کے 28 کم بجٹ والی فلموں میں کام بھی کیا۔

اوم پرکاش نے گرفتاری کے بعد خود پر لگائے گئے الزامات کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی لیکن انھیں گرفتار کرنے والی ہریانہ سپیشل ٹاسک فورس کے رکن سب انسپکٹر وویک کمار نے بی بی سی کو بتایا کہ ’انھوں (اوم پرکاش) نے سنہ 1992 میں ہونے والے قتل کے لیے اپنے ایک ساتھی کو موردِ الزام ٹھہرایا ہے۔‘

اوم پرکاش کی گرفتاری کی خبریں آنے کے دو دن بعد میں ان کے خاندان کی تلاش میں گئی اور ان کے دفاع میں بیان کی گئی کہانی جاننا چاہی۔

1px transparent line
اوم پرکاش
،تصویر کا کیپشناوم پرکاش نے 28 فلموں میں اداکاری کی ہے اور ایک میں تو پولیس اہلکار کا کردار بھی ادا کیا ہے
1px transparent line

ہربن نگر کی وسیع و عریض کچی آبادی کی تنگ گلیوں میں جہاں گھروں کے نمبر بھی نہیں ہوتے، وہاں مجھے ان کا گھر تلاش کرنے میں ساڑھے تین گھنٹے لگ گئے۔

میں راج کماری سے ملی جو 25 سال سے ان کی بیوی ہیں اور اُن کے تین میں سے دو بچوں سے بھی ملی، 21 سالہ بیٹا اور 14 برس کی بیٹی سے۔

کمرے میں بستر کے نیچے سے راج کماری نے ایک ہندی اخبار نکالا اور اپنے شوہر پر لگے الزامات کی تفصیلات بتائیں۔ اُنھوں نے کہا کہ وہ اب تک صدمے میں ہیں اور انھیں ان کے ’مجرمانہ ماضی‘ کے بارے میں کچھ علم نہیں تھا اور وہ اس انکشاف کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

لیکن اوم پرکاش کے دفاع میں کچھ کہلوانے کی کوشش بے کار ثابت ہوئی کیونکہ ان کے خاندان کے پاس ان کے لیے کوئی خوش آئند بات نہیں تھی۔

انھوں نے بھی ان پر دھوکہ دہی کا الزام عائد کیا۔ راج کماری نے الزام عائد کیا کہ ’میں نے 1997 میں ان سے شادی کی لیکن میں نہیں جانتی تھی کہ وہ پہلےسے شادی شدہ ہیں اور ان کا ایک خاندان ہے۔‘

Short presentational grey line
1px transparent line
خاندانی البم میں موجود اوم پرکاش کی ایک تصویر
،تصویر کا کیپشنخاندانی البم میں موجود اوم پرکاش کی ایک تصویر
1px transparent line

اوم پرکاش کون ہیں اور ان پر کیا الزامات ہیں؟

سب انسپکٹر وویک کمار نے بتایا کہ ہریانہ کے پانی پت ضلع میں نارینا گاؤں میں ’اوم پرکاش نے انڈین آرمی میں ٹرک ڈرائیور کی حیثیت سے 12 سال کام کیا، جس کے بعد سنہ 1988 میں انھیں چار سال تک غیر حاضر رہنے کی وجہ سے برطرف کر دیا گیا۔‘

انھوں نے بتایا کہ اوم پرکاش نے مبینہ قتل کی واردات سے پہلے کئی جرائم کیے، انھوں نے مبینہ طور پر 1986 میں گاڑی چرائی چار سال بعد ایک موٹر سائیکل، ایک سلائی مشین اور ایک سکوٹر چرایا۔ یہ جرائم مختلف اضلاع میں کیے گئے ان میں سے کئی جرائم میں پولیس کے مطابق وہ گرفتار بھی ہوئے اور ضمانت پر رہا کیے گئے۔

وویک کمار کا کہنا ہے کہ جنوری 1992 میں اوم پرکاش اور ایک دوسرے شخص نے ایک موٹر سائیکل سوار کو لوٹنے کی کوشش کی۔

’جب اس شخص نے مزاحمت کی تو انھوں نے اسے چاقو مار دیا اور جب گاؤں کے لوگوں کو اپنی جانب آتے دیکھا تو یہ سکوٹر چھوٹر کر بھاگ گئے۔‘

سب انسپیکٹر کمار کے مطابق دوسرا شخص گرفتار ہو گیا اور اسے آٹھ سال قید ہوئی جس کے بعد وہ ضمانت پر رہا ہو گیا لیکن اوم پرکاش غائب ہو گئے اور جلد ہی یہ مقدمہ سرد پڑ گیا۔ پولیس نے انھیں ’اشتہاری مجرم‘ قرار دے دیا اور ان کی فائل پر گرد جمنے لگی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتاری کے بعد اوم پرکاش نے بتایا کہ اس مبینہ قتل کے بعد انھوں نے پانچ سال ہمسایہ ریاستوں تامل ناٹو اور آندھرا پردیش کے مندروں میں پناہ لیتے گزاری۔

ایک سال بعد وہ شمالی انڈیا لوٹ آئے لیکن گھر جانے کے بجائے 180 کلومیٹر دور غازی آباد کے علاقے میں آباد ہو گئے۔ وہاں انھیں ٹرک چلانے کا کام مل گیا۔

راج کماری کا کہنا ہے کہ اُنھیں مقامی طور پر بجرنگ بلی یا بجرنگی کہا جاتا تھا، وہ سنہ 1990 کی دہائی میں ویڈیو کیسٹس کرائے پر دیتے اور ویڈیو فلموں کی دکان چلاتے تھے۔ وہ فوج میں اپنی ملازمت کی وجہ سے ’فوجی تاؤ‘ کے نام سے بھی پہچانے جاتے تھے۔

سنہ 2007 کے بعد سے وہ ہندی فلموں میں چھوٹے موٹے کردار بھی ادا کرتے رہے ہیں جن میں وہ گاؤں کے بڑے، ولن یا پولیس اہلکار کا کردار ادا کرتے۔ ان میں سے ایک فلم ترکو کو یوٹیوب پر 76 لاکھ مرتبہ دیکھا گیا ہے۔

وویک کمار کے مطابق ’انھوں نے نئی دستاویزات بھی بنوا لی ہیں جن میں نیا ووٹر کارڈ اور آدھار کارڈ شامل ہیں۔‘

لیکن پولیس کے مطابق اوم پرکاش نے ایک بڑی غلطی کی کہ تمام دستاویزات میں ان کا اور ان کے والد کا نام اصلی تھا۔

Short presentational grey line
1px transparent line
اوم پرکاش کا گھر
،تصویر کا کیپشناوم پرکاش کا گھر
1px transparent line

راج کماری کی کہانی

پولیس اس بات سے اتفاق کرتی ہے کہ اوم پرکاش کا نیا خاندان اور ہمسائے ان کے مجرمانہ ماضی سے لاعلم تھے۔

راج کماری کا کہنا تھا کہ شادی کے بعد انھیں محسوس ہوا تھا کہ اوم پرکاش ان سے کچھ چھپا رہے ہیں۔

وہ انھیں اپنے ساتھ نارینا گاؤں لے کر گئے اور اپنے بھائی اور ان کے خاندان سے ملوایا اور ان سے کہا کہ یہ ان کے دوست ہیں۔

کچھ سال کے بعد انھیں اوم پرکاش کی پہلے شادی کے بارے میں پتا چلا جب ان کی پہلی بیوی نے ان کے گھر آ کر شور شرابہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’تب مجھے اور ہمسایوں کو پتا چلا کہ ان کی ایک اور زندگی بھی ہے، ایک بیوی اور ایک بیٹا ہے جسے یہ چھپاتے رہے۔ ہمیں دھوکہ دیا گیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ان کی شادی کے بعد وہ طویل عرصے تک غائب رہے جس کی وجہ وہ ان کے دور دارز ٹرک کے سفر کو قرار دیتی رہیں لیکن اب ان کا اصرار ہے کہ وہ اپنے دوسرے خاندان سے ملنے جاتے تھے۔

ان کے تعلقات خراب ہو گئے اور ایک دو جھگڑوں کے بعد سنہ 2007 میں وہ پھر سے غائب ہو گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں اتنی تنگ آ چکی تھی کہ میں نے ان سے قطع تعلق کر لیا، میں ایک مقامی سرکاری دفتر گئی اور وہاں حلف لکھ دیا کہ میرا اس شخص کے ساتھ آئندہ کوئی لینا دینا نہیں لیکن یہ سات سال بعد لوٹ آئے اور اس کے بعد آتے جاتے رہتے ہیں۔‘

ان کی 14 سالہ بیٹی کا کہنا ہے کہ ’وہ ہمیں برا بھلا کہتے ہیں مگر وہ جب بھی آتے ہیں تو ہم انھیں ترس کھا کر تھوڑا کھانا دے دیتے ہیں کیونکہ وہ ہمارے والد اور بوڑھے شخص ہیں۔‘

راجکماری کہتی ہیں کہ اس سے پہلے ایک مرتبہ ہریانہ پولیس انھیں چوری کے شبہے میں گرفتار کر کے لے جا چکی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’اُنھوں نے تب جیل میں چھ سے سات ماہ گزارے تھے مگر پھر وہ لوٹ آئے اور ہمیں بتایا کہ اُنھیں تمام الزامات سے بری کر دیا گیا ہے۔‘

گرفتاری کے باوجود وہ قتل کے مقدمے میں اشتہاری ہیں کیونکہ پولیس کے ریکارڈز اب بھی مکمل طور پر ڈیجیٹلائز نہیں ہوئے ہیں اور مختلف اضلاع کی پولیس کا ایک دوسرے سے بات کرنا اور معلومات کا تبادلہ کرنا اتنا عام نہیں۔

Short presentational grey line
1px transparent line
اوم پرکاش
،تصویر کا کیپشناوم پرکاش گرفتاری کے بعد پولیس کے ساتھ
1px transparent line

ان کا سراغ کیسے لگایا گیا؟

سنہ 2020 میں جب ہریانہ نے منظم جرائم، منشیات، دہشتگردی اور بین الریاستی جرائم کی روک تھام کے لیے خصوصی ٹاسک فورس بنائی تو اوم پرکاش کی فائل بھی دوبارہ کھل گئی۔

فورس نے اُنھیں ’انتہائی مطلوب‘ افراد کی اپنی فہرست میں ڈال کر اُن کی اطلاع کے بدلے 25 ہزار روپے انعام کا اعلان کیا۔

ماضی میں بھی ایسے مقدمات رہے ہیں جن میں مجرمان ایک طویل عرصے، کبھی کبھی تو دہائیوں تک کے لیے غائب رہے مگر پھر گرفتار ہوئے۔

غازی آباد میں سالہا سال سے جرائم پر رپورٹنگ کرنے والے انڈین ایکسپریس کے سینیئر صحافی امِل بھٹناگر کہتے ہیں کہ ’پولیس عام طور پر سرد خانے کی نذر ہو چکے مقدمات کی فائل صرف تب کھولتی ہے جب یہ دہشتگردی یا سلسلہ وار قتل کا معاملہ ہو یا پھر اُنھیں کہیں سے کوئی خفیہ اطلاع ملے۔‘

’مگر دو ماہ قبل پولیس نے نارینا گاؤں کا دورہ کیا اور ’50 اور 60 سال کے ان لوگوں سے بات کی جنھیں اوم پرکاش کے بارے میں کچھ یاد ہو گا۔‘

اُنھیں یہیں سے پہلا سراغ ملا کہ اوم پرکاش تقریباً دو دہائیوں قبل گاؤں آئے تھے اور شاید اب وہ اترپردیش میں کسی جگہ مقیم ہوں۔

دوسری بار پولیس یہاں آئی تو اوم پرکاش کے نام پر رجسٹرڈ ایک فون نمبر پانے میں کامیاب ہو گئی جس کے ذریعے اُنھیں بالآخر ان کا پتا مل گیا۔

پولیس نے دو ہفتوں تک اس جگہ کی نگرانی کی اور ان کا گھر شناخت کر لیا۔ پولیس کے مطابق اُنھیں ان کی شناخت میں بھی مشکل ہوئی کیونکہ ان کے پاس اوم پرکاش کی 30 برس پرانی تصویر تھی اور اب وہ بہت مختلف نظر آتے ہیں۔

وویک کمار کہتے ہیں کہ ’ہم یقین کرنا چاہتے تھے کہ ہم صحیح شخص تک پہنچے ہیں۔‘

اُنھوں نے مزید کہا کہ ’یہ پورا آپریشن انتہائی رازداری سے کیا گیا کیونکہ ہمیں فکر تھی کہ ایک غلطی اور وہ پھر 30 برس کے لیے غائب ہو جائیں گے۔‘

Short presentational grey line
1px transparent line
Om Prakash's son holds up a photo of his father from the family album
1px transparent line

اب کیا ہو گا؟

اتنے طویل عرصے تک غائب رہنے والے شخص کی گرفتاری سپیشل ٹاسک فورس کے لیے ایک کامیابی سمجھی جا رہی ہے مگر امل بھٹناگر کہتے ہیں کہ پولیس کا اصل کام اب شروع ہو گا۔

’اُنھیں عدالت میں ثابت کرنا ہو گا کہ اُنھوں نے درست شخص کو پکڑا ہے اور عدالتوں کو تفصیلی جائزہ لینا ہو گا کہ یہی وہ شخص ہیں اور انھوں نے ہی وہ جرائم کیے ہیں جن کے ان پر الزامات عائد کیے گئے ہیں۔‘

بھٹناگر کہتے ہیں کہ چونکہ یہ جرم کئی دہائیوں قبل ہوا تھا اس لیے ثبوتوں کا معیار بھی دیکھنا ہو گا۔

’فوجداری مقدمات میں ثبوتوں کے معیار میں گراؤٹ بہت معنی رکھتی ہے۔ پولیس اور استغاثہ کے لیے اس کیس کو ٹھوس بنانا بہت مشکل کام ہو گا۔‘

میں نے ان کے گھر سے نکلنے سے قبل راجکماری سے پوچھا کہ کیا اُنھوں نے گرفتاری سے اب تک اُن سے ملاقات کی کوشش کی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ’پولیس کہتی ہے کہ ہمیں ان سے ملنے کے لیے شناختی کارڈ جمع کروانے ہوں گے مگر میں ایسا نہیں کرنا چاہتی۔ اس سے کیا فائدہ حاصل ہو گا؟‘