پاکستان میں 2022 کا سیلاب: کیا سوات میں دریا پر بنی تجاوزات تباہی کا سبب بنیں؟

سوات کی خوبصورتی سیاحوں کو یہاں کھینچ کر لاتی ہے۔ اس علاقے کی معیشت اسی سیاحت پر چلتی ہے۔ ہوٹل اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔
سیاحوں کو ’بہترین ویو‘ دینے کے لیے ہوٹل دریا کے قریب ترین بنایا جاتا ہے۔ وہ کمرہ جس کی کھڑکی کے بالکل نیچے دریا بہہ رہا ہو اس کا کرایہ سب سے زیادہ ہو گا۔
اس طرح ہوٹلوں سے جڑی دیگر صنعت بھی ان کے قریب ہی قیام کرتی ہے۔ نتیجتاً سڑکیں اور پلیں بھی نیچے بنتی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ بناتے وقت سیلاب کے امکانات کو سامنے نہیں رکھا جاتا اور یہی یہاں سیلاب سے تباہی کی بڑی وجہ نظر آتی ہے۔
چار قسطوں کی سیریز کی اس دوسری کہانی میں ہم آپ کو سوات لے کر جا رہے ہیں۔ یہاں سے آپ نے عمارتوں کی پانی میں بہہ جانے کی ویڈیوز دیکھی ہوں گی لیکن کیا یہ عمارتیں دریاؤں اور نالوں کے راستوں میں تو نہیں بنی تھیں؟ کیا 2010 کے سیلاب میں بھی ایسا ہوا تھا؟ ہم دیکھیں گے کہ اس تجربے سے پاکستان نے کتنا سبق سیکھا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام



