آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ایئر انڈیا کی فلائٹ میں ’بزرگ خاتون پر پیشاب کرنے‘ والا شخص نوکری سے برخاست، ایف آئی آر درج
ایئر انڈیا کی فلائٹ میں ’بزرگ خاتون پر پیشاب کرنے‘ والا شخص نوکری سے برخاست، ایف آئی آر درج
ایئر انڈیا کی فلائٹ میں ایک بزرگ خاتون پر مبینہ طور پر پیشاب کرنے والے شخص کو اس کی کمپنی نے نوکری سے نکال دیا ہے۔
امریکی فائنینشل سروز کی کمپنی ’فارگو‘ نے جمعے کو بتایا کہ اس نے اس شخص کو نوکری سے برخاست کر دیا ہے۔
ویلز فارگو نے ایک بیان میں کہا ’فرد کو نکال دیا گیا ہے‘۔
خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق، کمپنی نے کہا ان کے خلاف ’الزامات پریشان کن ہیں۔‘
اس بزرگ خاتون نے ایئر انڈیا کو اس واقعے کی شکایت کی تھی۔ دہلی پولیس نے بدھ کو اس معاملے میں ایف آئی آر بھی درج کر لی ہے۔
اس سے پہلے ملزم نے اس واقعے پر معافی مانگی تھی اور خاتون سے شکایت درج نہ کرنے کی درخواست کی تھی۔
26 نومبر کو ملزم نے نیویارک سے دہلی جانے والی ایئر انڈیا کی فلائٹ میں ایک بزرگ خاتون پر مبینہ طور پر پیشاب کیا تھا۔
این ڈی ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق ملزم مبینہ طور پر شراب کے نشے میں تھا جب اس نے اپنی زِپ کھولی اور خاتون پر پیشاب کر دیا۔ اور وہ تب تک اسی برہنہ حالت میں وہاں کھڑے رہے جب تک کہ ایک دوسرے مسافر نے انھیں اپنی سیٹ پر واپس جانے کا نہیں کہا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خاتون کی جانب سے ایئر انڈیا کو لکھا گیا وہ خط ایف آئی آر کا حصہ ہے جس میں انھوں نے اپنا تجربہ بیان کیا ہے۔
خاتون کا کہنا ہے کہ انھوں نے طیارے کے عملے سے کہا کہ ان کی سیٹ، کپڑے، بیگ اور جوتے پیشاب میں بھیگ گئے ہیں لیکن عملے نے انھیں ’ہاتھ لگانے سے انکار‘ کر دیا، ان کے بیگ اور جوتوں کو ڈِس انفیکٹنٹ سے سپرے کیا اور انھیں پجامے اور جرابیں دیں۔
خاتون کے مطابق جب انھوں نے اپنی سیٹ بدلنے کی درخواست کی تو انھیں کہا گیا کہ کوئی سیٹ دستیاب نہیں ہے لیکن انھیں ایک دوسرے مسافر نے بتایا کہ سیٹیں ہیں۔
خاتون کے مطابق ’فلائٹ کے عملے نے مجھے بتایا کہ پائلٹ نے مجھے فرسٹ کلاس میں سیٹ دینے سے انکار کر دیا ہے۔‘
خاتون کا کہنا ہے کہ انھوں نے یہ مطالبہ کیا کہ جہاز لینڈ ہوتے ہی شنکر مشرا کو گرفتار کیا جائے تو عملہ یہ کہہ کر شنکر کو ان کے پاس لے آیا کہ وہ معافی مانگنا چاہتا ہے۔
خاتون کے مطابق ’میں نے انھیں واضح کر دیا کہ میں اس سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتی نہ ہی اس کی شکل دیکھنا چاہتی ہوں اور بس یہ چاہتی ہوں کہ پہنچتے ہی اسے گرفتار کر لیا جائے۔ تاہم میری خواہش کے برخلاف عملہ اسے میرے سامنے لے آیا اور ہمیں عملے کی نشتسوں پر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھایا گیا۔ میں اس وقت حیران رہ گئی جب اس نے رونا شروع کر دیا اور میری منت سماجت کرنے لگا کہ اس کے خلاف اس لیے شکایت نہ کروں کیوں کہ اس کی فیملی ہے اور وہ نہیں چاہتا کہ اس واقعے کا اثر اس کی بیوی اور بچے پر ہو۔‘
ان کے مطابق ان کے داماد نے 27 نومبر کو ایئر انڈیا کو شکایت بھیجی اور ایئر لائن نے ان کی ٹکٹ کے پیسے لوٹانے پر رضامندی ظاہر کی لیکن انھیں صرف آدھی رقم ہی واپس ملی ہے۔
ائیر انڈیا کے سی ای او نے کہا ہے کہ وہ مسافر کو جس پریشانی سے گزرنا پڑا اسے سمجھتے ہیں۔
انھوں نے اپنے عملے سے کہا ہے کہ فلائٹ کے دوران غلط برتاؤ سے متعلق معاملات بظاہر نمٹا بھی لیے گئے ہوں تب بھی ان کی فوری رپورٹ کی جائے۔