آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
بے چینی کو اپنے فائدے کے لیے کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے؟
- مصنف, ٹریسی ڈینس تیواری
- عہدہ, بی بی سی فیوچر
میرا بیٹا دل کے عارضے کے ساتھ پیدا ہوا تھا۔ اس کو اوپن ہارٹ سرجری کی ضرورت تھی اور مجھے اس کے مستقبل کے بارے میں اندیشوں نے آ گھیرا تھا۔ میں جانتی تھی کہ اس کا نتیجہ شاید اچھا نہ ہو لیکن میں یہ بھی جانتی تھی کہ اگر میں نے بہترین انتخاب کیا تو مثبت نتیجہ بھی ممکن تھا۔
ایسے وقت میں مثبت نتائج کو ذہن میں لانا بہت مشکل تھا لیکن مجھے معلوم ہوا کہ میں اپنی پریشانی کو خود کو توانا رکھنے کے لیے بھی استعمال کر سکتی ہوں۔ غیر یقینی مستقبل کی تشویش کے باوجود یہ جانتے ہوئے کہ میرے اعمال ہی نتیجے پر اثر انداز ہوں گے، میری پریشانی نے مجھے ایک مایوس کن صورت حال میں فعال رکھا۔ میرا خیال ہے کہ ذہنی پریشانی ایک ایسا ہتھیار ہے جس کی مدد سے ہم زندگی میں درپیش مشکلات کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔
تاہم اکثر لوگوں کے لیے یہ گھٹن کی کیفیت پیدا کرتی ہے اور اسے برے احساسات سے جوڑا جاتا ہے۔ میں 1980 کی دہائی میں بڑی ہوئی جب جذباتی تکلیف کے لیے ’سٹریس‘ کا لفظ استعمال کیا جاتا تھا۔ تمھاری شادی کی تیاری کیسی جا رہی ہے؟ بہت اچھی لیکن میں سٹریس میں ہوں۔ تمہاری کیمیوتھراپی کیسی چل رہی ہے؟ کافی سٹریس فل لیکن ہو رہی ہے۔
آج ’اینزائٹی‘ کے لفظ کا دور ہے۔ گوگل ٹرینڈز سے پتا چلتا ہوتا ہے کہ 2004 کے بعد اس لفظ کی انٹرنیٹ پر تلاش میں 300 فیصد اضافہ ہوا۔ اور اس کی وجہ بھی ہے۔ امریکہ کی 31 فیصد آبادی اپنی زندگی کے کسی نہ کسی حصے میں اس کا شکار ہوتی ہے جو مختلف اشکال میں ظاہر ہو سکتی ہے۔
طبی تشخیص سے ہٹ کر اب یہ لفظ ہماری روز مرہ زندگی کا حصہ بن چکا ہے اور سٹریس کا متبادل بن چکا ہے۔ اکثر اس لفظ کا استعمال نہایت معمولی کاموں کو بھی منفی بنا دیتا ہے جیسا کہ نئی نوکری کی شروعات۔
لیکن دوسری طرف اس کی طبی شکل ہے جس میں ڈس آرڈرز یا ذہنی مسائل لاحق ہو جاتے ہیں جن میں ڈپریشن بھی شامل ہے۔ دنیا بھر میں لاکھوں افراد میں کسی نہ کسی ڈس آرڈر کی تشخیص ہوتی ہے۔ نوجوان افراد میں اس کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے باوجود اس کے کہ بہت سی کتابیں، علاج اور سائنسی تحقیقات موجود ہیں۔
سوال یہ ہے کہ اس مسئلے کو کم کرنے کے لیے سامنے آنے والے یہ حل ناکام کیوں ہوئے؟
جیسا کہ میں نے اپنی کتاب، ’فیوچر ٹینس‘، میں لکھا ہے کہ اس ناکامی کی ایک وجہ یہ ہے کہ مجھ جیسے ذہنی صحت کے ماہرین نے غیر ارادی طور پر لوگوں کو گمراہ کیا جس سے اس مسئلے کے بارے میں غلط فہمی عام ہوئی۔ میں نے نئی صدی میں جینے کے لیے ایک نئے طریقے کی تجویز دی ہے جسے آپ اپنے فائدے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اینزائٹی (بے چینی، گھبراہٹ یا پریشانی) جیسے منفی جذبات کو ہمیشہ بری نظر سے دیکھا گیا جو غیر فطری اور تباہ کن سمجھے جاتے ہیں۔ قدیم روم کے شاعر ہوریس نے دو ہزار سال قبل غصے کو قلیل مدتی پاگل پن قرار دیا تھا۔ لیکن گذشتہ ڈیڑھ سو سال کے دوران انسان اور حیوان میں جذبات کے اظہار کے بارے میں ڈارون کی کتاب کے بعد سے ہم نے غصے، خوف اور پریشانی جیسے جذبات کو بہتر طریقے سے سمجھنا شروع کیا اور یہ جانا کہ یہ خطرناک ہونے سے زیادہ فائدہ مند ہوتے ہیں۔
یہ زندہ رہنے کے ایسے ہتھیار ہوتے ہیں جو لاکھوں سال میں تبدیلی کے عمل سے گزرے اور ان کا مقصد صرف انسانی بقا ہے جس کے لیے یہ معلومات فراہم کرتے ہیں اور تیار رہنا سکھاتے ہیں۔ اینزائٹی یا پریشانی غیریقینی مستقبل سے متعلق علم ہے کہ کچھ برا ہونے والا ہے۔ لیکن کچھ اچھا بھی تو ہو سکتا ہے۔ کورونا ٹیسٹ مثبت آئے گا یا منفی، یہ انتظار۔۔۔ یا پھر باس سے تلخ گفتگو کی توقع کی پریشانی۔ تاہم یہ پریشانی موجودہ ایسے خطرات کے بارے میں علم نہیں ہے جو واضح ہیں۔ اسے خوف کہتے ہیں جو ہمیں لڑنا سکھاتا ہے، جو ہمیں بتاتا ہے کہ فرار ہونا ہے یا ڈٹ جانا ہے۔ اس کے برعکس اینزائٹی یا پریشانی ہمیں تیار رہنا سکھاتی ہے تاکہ ہم نہ صرف آنے والے وقتوں میں مصیبت سے بچ سکیں بلکہ مثبت ممکنات کو حقیقت کا روپ دے سکیں۔
جب ہم پریشان ہوتے ہیں تو ہمارا دماغ زیادہ بہتر کام کرتا ہے۔ یہ انعام اور معاشرتی رابطوں سے جڑے ہمارے احساسات کو بھی تیز تر کرتا ہے تاکہ ہم یہ جان سکیں کہ ہمیں کیا کرنا ہے، کس سے ملنا ہے۔ اس نظر سے دیکھا جائے، تو یہ جذبات جن کو منفی تصور کیا جاتا ہے تباہ کن نہیں بلکہ زندہ رہنے کی دلیل ہیں۔ تاہم اس سے متعلق سائنسی تحقیق ابھی تک عوامی سطح پر نہیں پہنچ سکی ہے اور نہ ہی زیادہ تر طبی ماہرین اس کے بارے میں جانتے ہیں۔ ہم اس سے دروازے پر کھڑے دشمن جیسا سلوک کرتے ہیں جبکہ دراصل یہ ہماری ساتھی ہے۔
اینزائٹی یا پریشانی غیریقینی مستقبل سے متعلق علم ہے کہ کچھ برا ہونے والا ہے لیکن کچھ اچھا بھی تو ہو سکتا ہے۔ کورونا ٹیسٹ مثبت آئے گا یا منفی، یہ انتظار۔۔۔ یا پھر باس سے تلخ گفتگو کی توقع کی پریشانی۔ تاہم یہ پریشانی موجودہ ایسے خطرات کے بارے میں علم نہیں ہے جو واضح ہیں۔ اسے خوف کہتے ہیں جو ہمیں لڑنا سکھاتا ہے، جو ہمیں بتاتا ہے کہ فرار ہونا ہے یا کھڑے ہو جانا ہے۔ اس کے برعکس اینزائٹی یا پریشانی ہمیں تیار رہنا سکھاتی ہے تاکہ ہم ناصرف آنے والے وقتوں میں مصیبت سے بچ سکیں بلکہ مثبت ممکنات کو حقیقت کا روپ دے سکیں۔
جب ہم پریشان ہوتے ہیں تو ہمارا دماغ زیادہ بہتر کام کرتا ہے۔ یہ انعام اور معاشرتی رابطوں سے جڑے ہمارے احساسات کو بھی تیز تر کرتا ہے تاکہ ہم یہ جان سکیں کہ ہمیں کیا کرنا ہے، کس سے ملنا ہے۔ اس نظر سے دیکھا جائے، تو یہ جذبات جن کو منفی تصور کیا جاتا ہے تباہ کن نہیں بلکہ زندہ رہنے کی دلیل ہیں۔
یہ زبدہ رہنے کے ایسے ہتھیار ہوتے ہیں جو لاکھوں سال میں تبدیلی کے عمل سے گزرے اور ان کا مقصد صرف انسانی بقا ہے جس کے لیے یہ معلومات فراہم کرتے ہیں اور تیار رہنا سکھاتے ہیں۔
اینزائٹی یا پریشانی غیریقینی مستقبل سے متعلق علم ہے کہ کچھ برا ہونے والا ہے لیکن کچھ اچھا بھی تو ہو سکتا ہے۔ کورونا ٹیسٹ مثبت آئے گا یا منفی، یہ انتظار۔۔۔ یا پھر باس سے تلخ گفتگو کی توقع کی پریشانی۔ تاہم یہ پریشانی موجودہ ایسے خطرات کے بارے میں علم نہیں ہے جو واضح ہیں۔ اسے خوف کہتے ہیں جو ہمیں لڑنا سکھاتا ہے، جو ہمیں بتاتا ہے کہ فرار ہونا ہے یا کھڑے ہو جانا ہے۔ اس کے برعکس اینزائٹی یا پریشانی ہمیں تیار رہنا سکھاتی ہے تاکہ ہم ناصرف آنے والے وقتوں میں مصیبت سے بچ سکیں بلکہ مثبت ممکنات کو حقیقت کا روپ دے سکیں۔
جب ہم پریشان ہوتے ہیں تو ہمارا دماغ زیادہ بہتر کام کرتا ہے۔ یہ انعام اور معاشرتی رابطوں سے جڑے ہمارے احساسات کو بھی تیز تر کرتا ہے تاکہ ہم یہ جان سکیں کہ ہمیں کیا کرنا ہے، کس سے ملنا ہے۔ اس نظر سے دیکھا جائے، تو یہ جذبات جن کو منفی تصور کیا جاتا ہے تباہ کن نہیں بلکہ زندہ رہنے کی دلیل ہیں۔
تاہم اس سے متعلق سائنسی تحقیق ابھی تک عوامی سطح پر نہیں پہنچ سکی اور نا ہی زیادہ تر طبی ماہرین اس کے بارے میں جانتے ہیں۔ ہم اس سے دروازے پر کھڑے دشمن جیسا سلوک کرتے ہیں جبکہ دراصل یہ ہماری ساتھی ہے۔
اگرچہ اضطراب یا اندیشے یا بے چینی کے عوارض مفلوج کرنے والے ہوسکتے ہیں، عام طور پر اضطراب کی اصطلاح کا خراب احساس کے معنی میں وسیع پیمانے پر استعمال ہونا پریشانی کا باعث ہے کیونکہ اس سے ہم دو طرح کی غلطیوں کے مرتکب ہوتے ہیں۔ (الف) بے چینی یا اضطراب کا ہونا خطرناک اور تباہ کن ہے۔ اور (ب) دوسرے یہ کہ اس کے درد کا حل اسے روکنا یا ختم کرنا ہے۔ یہ سوچنے کا ایک طریقہ ہے جس کی وجہ سے ہم روزمرہ کی تشویش کو ٹھیک کرنے والی خرابیوں کے طور پر سمجھتے ہیں۔ تاہم یہ اسی وقت اضطراب کی خرابی کے زمرے میں آتا ہے جب انتہائی اضطراب اور اس سے نمٹنے کی ہماری کوششیں ہماری روزمرہ کی زندگیوں میں مداخلت کرتی ہیں اور جنھیں ذہنی صحت کے حالات کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ جبکہ اس کے برعکس اضطراب کے جذبات کو صحت مند اور نارمل سمجھا جانا چاہیے۔ یہاں تک کہ مفید بھی۔
اس بیماری کے استعارے کی بے رحم منطق ہمیں اسے ایک قدم مزید آگے بڑھانے کا تقاضا کرتی ہے۔ متعدی امراض سے لے کر کینسر تک دیگر بیماریوں کی طرح جب تک ہم بے چینی کو دبا نہیں لیتے، ہم ذہنی طور پر صحت مند نہیں ہو سکتے، بالکل اسی طرح جیسے کینسر والے خلیے کی موجودگی کا مطلب یہ ہے کہ ہم بیمار ہیں۔
یہ بیماری کا استعارہ ہمیں حوصلہ دینے کے بجائے پھنساتا ہے کیونکہ اس کی وجہ سے ہم عام اضطراب کو بیماری سمجھ لیتے ہیں اور جیسے ہی ہمیں کوئی بے چینی یا تشویش ہوتی ہے تو ہم اسے دوسری بیماریوں کی طرح دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔
متعدی بیماری یا کینسر کے برعکس بے چینی سے بچنے کی کوشش اور اسے دبانے کی کوشش تقریباً یقینی طور پر اس کو بڑھا دے گی جبکہ اسی وقت ہم اس سے نمٹنے کے نتیجہ خیز مواقع تلاش کرنے اور جذباتی لچک کی مہارت پیدا کرنے سے رہ جاتے ہیں۔ یہ اضطراب کا شیطانی چکر ہے، اور یہ اسے قابو سے باہر کر دیتا ہے۔ اور ہم اضطراب کو خطرناک سمجھنے لگتے ہیں، اس سے خوفزدہ رہنے لگتے ہیں اور بالآخر دباؤ اور اجتناب کے ذریعے اس سے بھاگنے لگتے ہیں۔
اضطراب کے استعارے سے ہونے والا نقصان یہیں نہیں رکتا۔ یہ ہمیں یہ دیکھنے سے بھی روک دیتا ہے کہ اضطراب صرف پرسکون رہنے اور نظم و ضبط میں رکھنے کی چیز نہیں ہے۔ اضطراب ایک ایسی چیز ہے جس کے استعمال سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے کیونکہ یہ ہمیں برقرار رہنے، اختراع کرنے، سماجی طور پر جڑنے، اور غیر یقینی صورتحال کے دوران پرامید رہنے میں مدد کرنے کے لیے تیار کر سکتا ہے تاکہ ہم ایک بہتر مستقبل بنا سکیں۔
لیکن اگر اضطراب کے اتنے فوائد ہیں اس سے اتنا برا کیوں محسوس ہوتا ہے؟
اضطراب کو اپنا کام کرنے کے لیے برا محسوس کرنا چاہیے۔ یہاں تک کہ اس لفظ کی جہاں سے ابتداء ہوتی ہے یعنی یہ قدیم لاطینی اور یونانی الفاظ سے ماخوذ ہے اور اس کا مطلب گھٹن زدہ، دردناک حد تک محدود، اور بے چینی ہے اور ان سب سے ناخوشگوار احساس کی عکاسی ہوتی ہے۔
صرف اتنی ناخوشگوار چیز ہی ہمیں مستقل طور پر اٹھ بیٹھنے اور توجہ دینے پر مجبور کر سکتی ہے اور اس کے ساتھ مؤثر طریقے سے یہ مطالبہ کر سکتی ہے کہ ہم مستقبل کے خطرے سے بچنے کے لیے سخت محنت کریں اور ایک زیادہ مثبت راستہ طے کریں۔ پھر بھی ہم میں سے زیادہ تر لوگ اس مفید جذبات سے بچتے ہیں اور اسے نظر انداز کرتے ہیں جو کہ ہمارا ہی نقصان ہے۔ اضطراب کو دھوئیں کے انتباہ کی طرح سمجھیں کہ یہ گھر میں آگ لگنے کا انتباہ ہے اور اس کے لیے ہمیں مفید کارروائی کرنے ضرورت ہے۔ ذرا غور کریں کہ اگر ہم دھوئیں کو دیکھ کر گھر سے باہر بھاگنے اور فائر ڈپارٹمنٹ کو کال کرنے کے بجائے اسے نظر انداز کر دیں یا بیٹری کو ہٹا دیں، یا گھر میں ایسی جگہوں سے گریز کریں جہاں الارم زیادہ بلند تھا تو کیا ہوگا۔ لہٰذا ہم الارم سے فائدہ اٹھانے، آگ بجھانے اور مستقبل میں لگنے والی آگ کو روکنے کے بجائے، صرف یہ امید اور دعا کرتے ہیں کہ گھر جلنے سے بچ جائے۔
بہر حال ہم بے لگام تناؤ اور مشکلات کے کردار کو نظر انداز نہیں کر سکتے ہیں۔ کبھی کبھی زندگی ہمیں نہیں چھوڑتی اور ایسے حالات میں ہم میں سے کوئی بھی شدید اور زبردست بے چینی محسوس کر سکتا ہے۔ وجہ کچھ بھی ہو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اہم بات یہ ہے کہ ہم اپنی بے چینی کو سمجھیں اور یہ دیکھیں کہ یہ ہمیں کیا اشارہ کر رہا ہے اور اس میں جو حکمت پوشیدہ ہے ہم اسے اپنے فائدے کے لیے کس طرح استعمال کر سکتے ہیں۔ اور یہ صحیح طریقے سے فکر مند ہونا سیکھنے کی جانب پہلا قدم ہے۔
یہ بھی پڑھیے
ذہنیت کو اس سمت میں تبدیل کرنے سے ایک طاقتور مثبت اثر پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر ہارورڈ یونیورسٹی کے ایک مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ جب سماجی طور پر مضطرب لوگوں سے کہا گیا کہ وہ واقعی ایک دباؤ والا کام کریں جس میں ججوں کے پینل کے سامنے ایک تقریر کرنا شامل تھا اور اس کی تیاری کے لیے وقت بھی نہیں تھا لیکن انھیں ان کی تشویش کے ردعمل کے بارے میں سوچنا بھی سکھایا گیا تھا کہ وہ کسی چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں (دباؤ کے اشارے کے بجائے) تو انھوں نے دباؤ میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ وہ زیادہ پر اعتماد تھے، کم فکر مند تھے، اور جب ان کی توجہ مرکوز تھی اور وہ مصروف تھے تو ان کے دل کی دھڑکنیں مستحکم تھیں اور بلڈ پریشر کم تھا۔
بے چینی سے نبرد آزما ہونا اکثر شفایابی کی کلید ہے۔ جنگ میں شامل ہونے والے تجربہ کار فوجیوں کی تحقیق کی مثال لے جو اضطراب پیدا کرنے والی معلومات پر بجائے توجہ ہٹانے کے زیادہ توجہ دے کر پی ٹی ایس ڈی ہونے کے خطرے کو کم کرتے ہیں۔ یا پھر ہارٹ ٹرانسپلانٹ یعنی دل کی پیوندکاری والے مریضوں پر غور کریں جنھیں ہارٹ ٹرانسپلانٹ کے انتظار میں ہسپتال میں داخل ہونے کے لیے کم دن درکار ہوتے ہیں اور اس کی وجہ سے چونکہ وہ پریشان رہتے ہین اس لیے ان کے ٹرانسپلانٹ کا اہل ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔
صحیح طریقے سے فکر مند ہونا سیکھنے کا مطلب ہے کہ اس کے ارد گرد کام کرنے کی بجائے اس کے ذریعے کام کرنے کے طریقے تلاش کرنا، اہداف کو پورا کرنے کے لیے اضطراب کا فائدہ اٹھانا اور اسے سمت و رفتار دینا اور یہ جاننا کہ اضطراب کب مفید نہیں ہے اور اسے چھوڑنے کی مشق کرنا ہے۔ اضطراب کے اس نیک چکر کے پہلو پر غور کیجیے کہ اس کے تین حصے ہیں: سنیں، فائدہ اٹھائیں اور جانے دیں۔
سنیں۔ اضطراب ہماری توجہ اور چاہت کو بڑھانے میں مدد کرتا ہے کہ ہم اس وقت کہاں ہیں اور ہمیں کہاں ہونا چاہیے تھا کے درمیان کے فرق کو کم کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اضطراب میں امید ہوتی ہے یعنی ہم مستقبل کے خطرات کو دیکھ سکتے ہیں، لیکن اپنی نظریں انعام پر بھی رکھ سکتے ہیں اور یہ یقین رکھتے ہیں کہ ہم اچھے نتائج کو حقیقت میں بدلنے کے لیے کام کر سکتے ہیں۔
لیکن اضطراب کے ان فوائد کو حاصل کرنے کے لیے اسے بے چینی کا سامنا کرنا پڑے گا تاکہ ہم اٹھ بیٹھیں، توجہ دیں، اور سنیں کہ یہ ہمیں کیا کہہ رہا ہے۔ خوفناک احساسات جنھیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، وہ بھی ہمیں منھ موڑنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ اسی لیے جب اضطراب کو سننے کی بات آتی ہے تو تجسس ہمارا بہترین ساتھی ہوتا ہے۔
فائدہ اٹھانا: اضطراب کے اندر مفید معلومات تلاش کرنا ہمیں اپنی توانائیوں کو اہداف کی طرف کام کرنے اور مقصد کے حصول کے لیے سمت دینے اور ہدایت کرنے کے لیے تیار کرتا ہے۔ مقصد کے بارے میں سوچنے کے لیے وقت نکالنے سے موڈ اچھا ہوتا ہے، توجہ کو مرکوز کرنے اور سیکھنے میں بہتری آتی ہے۔ یہ فوائد مہینوں یا سالوں تک برقرار رہ سکتے ہیں۔
جب ہم اپنے اضطراب کو مقصد کے حصول اور ترجیح دینے کی طرف موڑ دیتے ہیں، تب یہ ہمت بن جاتی ہے۔ پریشانی ہماری رفتار کو ایندھن فراہم کرتی ہے، ہماری طاقت کو اُجاگر کرتی ہے۔
جانے دو۔ لیکن ہر بار پریشانی مفید یا سیدھی نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی یہ اپنے پیغام کو ظاہر کرنے میں سست روی کا شکار بھی ہوتی ہے۔ کئی بار، یہ بے معنی ہوتی ہے کیونکہ زندگی واقعی چیلنجنگ ہے، اور جذبات کی افراط ہوتی جس میں عام طور پر کوئی مفید معلومات نہیں ہوتی ہے۔ یہ ہمیں مستقبل کے تناؤ میں گھماتی رہتی ہے اور متفکر رہنے اور مغلوب ہونے کے احساس میں ڈالے رہتی ہے۔
جانے دینے کا بہترین طریقہ کیا ہے؟ اس کے لیے ایسی سرگرمیاں تلاش کریں جو ہماری رفتار کو سست کر دے اور ہمیں حال میں غرق رکھے۔ کوئی پسندیدہ نظم پڑھیں یا موسیقی سے سکون حاصل کریں۔ کوئی نیا پوڈ کاسٹ تلاش کریں۔ ورزش کریں یا چہل قدمی کریں۔ اپنے معالج کو کال کریں، یا کسی ایسے دوست سے رابطہ کریں جو ہمیشہ مددگار نقطہ نگاہ پیش کرتا ہے۔ یہ ان لمحات میں شامل ہے کہ جب ہم خود کو جذباتی بیداری اور مہارتوں کے لیے بھی تیار کرتے ہیں، اپنے ارد گرد نہیں، بلکہ اپنے مشکل جذبات کو چینل کرنے اور ضرورت پڑنے پر مدد حاصل کرنے کے لیے بھی تیار کرتے ہیں۔
صحیح سمت میں فکر مند ہونا
وبائی امراض، سیاسی پولرائزیشن، اور موسمیاتی تبدیلی کے اس دور میں ہم میں سے بہت سے لوگ اپنے مستقبل کے لیے بے چینی کا شکار ہیں۔ اس سے نمٹنے کے لیے ہم نے اپنے جذبات کے بارے میں اسی طرح سوچنا سیکھا ہے جیسے ہم کسی بیماری کی صورت میں سوچتے ہیں یعنی ہم اس کا تدارک چاہتے ہیں، اس سے بچنا چاہتے ہیں اور اسے ہر قیمت پر ختم کرنا چاہتے ہیں۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم نے اس پیچھے کی طرف پایا ہے۔ مسئلہ بے چینی کا نہیں ہے۔ بے چینی تو پیغام رساں ہے جو ہمیں بتاتی ہے کہ ہمیں غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے اور ہمیں چیلنج کا سامنا کرنے کی ضرورت ہے۔ یا ہمیں ان طریقوں کی طرف اشارہ کرتی ہے جن کی ہماری زندگی میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے یا ہمیں مدد کی ضرورت ہے۔ اس کے بجائے، ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ اضطراب کے بارے میں ہمارے عقائد ہمیں اس بات پر یقین کرنے سے روکتے ہیں کہ ہم اس کا انتظام کر سکتے ہیں، اس سے نمٹنے کی حکمت عملیوں اور علاج جو موجود ہیں ان تک رسائی اور فائدہ اٹھانے سے، اور اسے اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنا سیکھیں۔ اور جب ہمارے نظریے اضطراب کو مزید بدتر بناتے ہیں، تو ہمارے کمزور کرنے والے اضطراب اور اضطراب کی خرابیوں کی طرف جانے کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔
کسی شخص میں اضطراب کی تشخیص کا مطلب یہ نہیں کہ وہ شدید اضطراب کا شکار ہے، بلکہ یہ ہے کہ ان احساسات پر قابو کرنے کے لیے ان کے پاس جو چیزیں ہیں وہ خرابی کا شکار ہیں یا ٹھیک سے کام نہیں کر رہی ہیں۔ یہ خود کی دیکھ بھال، کام کرنے، دوسروں کے ساتھ جڑنے، اور مکمل زندگی گزارنے کے راستے میں آ رہا ہے۔ اضطراب کے بارے میں اپنے نقطہ نظر کو تبدیل کرنے سے ہمیں فائدہ پہنچتا ہے اور اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہم اضطراب کے معاملے میں کہاں ہیں۔ کیونکہ ہم سب کہیں نہ کہیں اس میں مبتلا ہیں اور اس دائرے میں کہیں نہ کہیں کھڑے ہیں۔
180 سال پہلے ڈنمارک کے فلسفی سورین کیرکیگارڈ نے لکھا: 'جس نے صحیح طریقے سے فکر مند ہونا سیکھا اس نے حتمی چیز سیکھ لی۔' ہم سب بے چین یا تشویش کے مزاج کے ساتھ پیدا ہوئے ہیں۔ انسان ہونے کا کام یہ سیکھنا ہے کہ اگرچہ اضطراب مشکل بھی ہو، بعض اوقات خوفناک بھی ہو سکتا ہے، لیکن ہم اسے اپنا حلیف، فائدہ اور آسانی کا ذریعہ بنانا سیکھ سکتے ہیں۔ جب ہم اضطراب کو بچاتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ ہم خود کو بچاتے ہیں۔