ڈرامہ سی آئی ڈی کے اے سی پی پردھیومن کی موت: ’ہمیں عمر بھر کا صدمہ نہ دیں‘

،تصویر کا ذریعہSONY TV
’کچھ تو گڑ بڑ ہے دیا‘۔۔۔ یہ وہ جملہ ہے جس سے پچھلے 27 سالوں میں انڈیا اور پاکستان میں بڑا ہونے والا کوئی بچہ یا سسپنس تھرلر دیکھنے والا کوئی بڑا واقف نہ ہو۔
ویسے تو ’سی آئی ڈی‘ نام کا پورا شو اور اس کے کردار بھی بچوں بڑوں میں یکساں مقبول ہیں لیکن اے سی پی پردھیومن، انسپکٹر دیا اور انسپکٹر ابھیجیت وہ کردار ہیں جو کھیل کھیل میں بچے سی آئی ڈی کھیلتے ہوئے خود ادا کرنا چاہتے ہیں۔
اس وقت انڈیا اور پاکستان میں سوشل میڈیا صارفین خصوصاً اس شو کے مداح صدمے، غیریقینی اور اضطراب کے عالم میں ہیں کیونکہ شو کے نیٹ فلکس پر جاری نئے ایڈیشن کے پرومو میں اے سی پی پردھیومن کی موت کا منظر دکھایا گیا ہے۔
اس منظر میں اے سی پی کا خون سے لت پت ہاتھ نظر آتا ہے جس میں ان کی پہچان بننے والی انگوٹھی بھی دکھائی دے رہی ہے۔ اس انگوٹھی کے مشہور ہونے کی وجہ اے سی پی پردھیومن کا مشکوک صورتحال پر ہمیشہ ہاتھ ہلاتے ہوئے یہ کہنا تھا کہ ’کچھ تو گڑ بڑ ہے‘۔
اسی منظر میں انسپیکٹر ابھیجیت کو صدمے سے پیچھے ہٹتے اور انسپیکٹر دیا کو روتے دکھایا گیا جو اے سی پی کی موت کی تصدیق معلوم ہوتی ہے۔
سی آئی ڈی نامی اس شو میں اے سی پی پردھیومن کے پسندیدہ ترین کردار ہونے کے لیے ان کے شائقین کے پاس بہت سے وجوہات ہیں۔ یہ کردار ایک ایسے باس کا ہے جو اپنی ٹیم کے لیے بہت مہربان اور دوستانہ رویّہ رکھتا ہے۔ جہاں کہیں ٹیم مشکل کا شکار ہوتی اس کا حل اے سی پی پردھیومن کے پاس ضرور ہوتا۔
شائقین کو یہ بات بھی دلچسپ لگتی ہے کہ چھوٹے سے چھوٹا کیس ہو اے سی پی پردھیومن ایک فون کال پر ہی بذاتِ خود جائے وقوعہ پر پہنچ جاتے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اب سی آئی ڈی ٹیم کی قیادت کون کرے گا؟
ویسے تو برسوں سے سب کو لگتا تھا کہ وقت آنے پر اگلے اے سی پی انسپیکٹر ابھیجیت ہوں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
کیونکہ اس سے پہلے بھی جب کئی بار اے سی پی پردھیومن کی موت دکھائی گئی تو ان کی غیر موجودگی میں انسپیکٹر ابھیجیت ہی ٹیم کی قیادت کرتے رہے تاہم تب کہانی میں ٹوئسٹ دے کر اے سی پی پردھیومن کو واپس لے آتے تھے اور اس ڈرامے کا مقصد اکثر مجرموں کو پکڑنا ہوتا تھا۔
لیکن اب جبکہ شو کی کہانی میں اے سی پی پردھیومن کو بم دھماکے میں مار دیا گیا ہے تو انسپیکٹر ابھیجیت کو یہ پرموشن نہیں ملی بلکہ ایک نیا نوجوان افسر اے سی پی بن کر آ گیا۔
اے سی پی پردھیومن کے قتل کا کیس حل کرنے کے لیے اے سی پی ایوشمان آئے ہیں اور یہ کردار اداکار پارتھ سمتھان ادا کر رہے ہیں۔
ٹیلی وژن ڈراموں میں رومانوی ہیرو کا کردار ادا کرنے والے پارتھ کہتے ہیں کہ وہ خود بھی اس شو کے بچپن سے مداح رہے ہیں۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’ہم بچپن سے یہ شو دیکھ کر بڑے ہوئے ہیں بلکہ اس کی نقل کرتے ہوئے اداکاری بھی کی ہے۔ ہم نے کالج کے دور میں مذاق مذاق میں بھی سی آئی ڈی بہت کھیلا ہے۔ یہ بہت مزاحیہ تھا، اس وقت بہت ہنستے رہے حتیٰ کے لاش بھی ہنسنے لگ گئی تھی۔‘
انھوں نے بتایا کہ ان کے سی آئی ڈی میں نیا اے سی پی بننے کی خبر پر ان کے گھر والوں تک نے یقین نہیں کیا تھا۔
انھوں نے بتایا ’خاندان والوں کو بتایا تو پہلے تو انھیں لگا کہ میں مذاق کر رہا ہوں۔ لیکن جب یقین دلایا تو وہ بہت خوش ہوئے۔‘
وہ کہتے ہیں ’میں نے زندگی میں کبھی نہیں سوچا تھا۔ میں نے رومینس کے لیے پہچان بنائی ہے اور اب یہ سنجیدہ، تھرل اور سسپین سے بھرپور شو ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ یہ کردار ان کے لیے ’ایک بہت بڑی ذمہ دار ہے۔ ‘
’بریک لیں لیکن واپس آ جائیں‘
سوشل میڈیا صارفین خصوصاً سی آئی ڈی دیکھنے والے کئی لوگ پہلے تو چینل کی جانب سے اے سی پی کی موت سے متعلق پوسٹ پر برس پڑے اور کہا کہ یہ ٹی آر پی حاصل کرنے کا بھونڈا طریقہ ہے اور یہ کہ یہ کوئی مذاق نہیں۔
کئی لوگ سمجھتے ہیں کہ سی آئی ڈی کی مقبولیت اور پسندیدگی کی وجہ ہی اے سی پی تھے اور ان کے بغیر شو فلاپ ہو جائے گا۔
انامیکا سنگھ نامی صارف کا کہنا تھا ’اگر شیواجی صاحب (اے سی پی پردھیومن) کو وقفے کی ضرورت ہے تو مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن میں شیواجی سر کی جگہ کسی اور اے سی پی کو برداشت نہیں کر سکتی۔ براہ مہربانی شیواجی صاحب اپنے وقفے کے بعد واپس آئیں۔'
یووراج کھنہ یہ التجا کرتے نظر آئے کہ ’اے سی پی سر کی موت کا صدمہ مت دو۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
سریش نامی صارف تو خاصے خفا ہیں ۔ وہ کہتے ہیں ’اے سی پی صاحب کے بغیر کوئی سی آئی ڈی نہیں ہے۔ وہ سی آئی ڈی کی بنیاد ہیں۔ براہ مہربانی انھیں شو میں مستقل طور پر قتل نہ کریں۔ براہ مہربانی اسے ایک کھلی سازش بنا دیں۔ کوئی ان کی جگہ نہیں لے سکتا۔ کبھی نہیں۔‘
انھوں نے ایکس پر مزید لکھا ’جس نے بھی یہ احمقانہ فیصلہ کیا، یہ ایک تباہی ثابت ہوگا۔‘
رادھیکا نامی صارف کا کہنا تھا ’میں جانتی ہوں کہ میں اس کا تصور بھی نہیں کر سکتی، پھر بھی مثبت اور پرامید ہوں اور میرا دل اسے کبھی قبول نہیں کر سکتا۔ آپ تھے، آپ ہیں اور آپ آنے والے کسی بھی وقت میرے اے سی پی سر رہیں گے۔ آپ کے بغیر یہ ناممکن اور ناقابل تصور ہے ۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
جہاں ایک طرف لوگ اے سی پی پردھیومن کے موت کو لے کر صدمے کا شکار ہیں تو دوسری طرف کچھ صارفین کو یہ گلہ ہے کہ ابھیجیت اور دیا نے ساری عمر جان پر کھیل کر فرض نبھایا لیکن انھیں اے سی پی کے طور پر پروموشن نہیں ملی۔
شانوی نامی صارف کا کہنا تھا ’یار، اے سی پی پردھیومن صاحب کے لیے یہ اختتام کیا تھا؟! وہ شو سے ایک مثالی رخصتی کے حقدار تھے۔ یہ قسط انتہائی دلچسپ انداز میں شروع ہوئی لیکن اختتام؟ مکمل طور پر دل ٹوٹ گیا۔ بہت جلد بازی اور اداس۔‘
کچھ شائقین ابھی مایوس نہیں کیونکہ انھیں ماضی میں کئی بار اے سی پی کی جھوٹی موت کا منظر یاد ہے۔ انھیں لگتا ہے اس بار بھی ایسا ہی کچھ ہو گا۔
ایک صارف نے لکھا ’ہر بار کی طرح ہی کریں گے! کوئی ایسا ولن نہیں جو اے سی پی پردھیومن کا مقابلہ کر سکے، مجھے ان کے الفاظ پر بھروسہ ہے کہ 'اس کی موت میرے ہاتھوں سے لکھی گئی ہے۔‘
یاد رہے کہ اے سی پردھیومن کا کردار ادا کرنے والے شیواجی سَتم زندہ ہیں تاہم ان کے کردار کی ڈرامے میں موت دکھائی گئی ہے۔
اسی قسط کے پرومو میں قاتل کو یہ کہتے دکھایا گیا اے سی پی پردھیومن کی موت کی وجہ خود سی آئی ڈی میں موجود کوئی غدار ہے جسے ابھیجیت کو تلاش کرنا ہے۔
لیکن اسی پرومو کے آحر میں پردھیمون کی آواز سنی جا سکتی ہے کہ ’کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی ابھی تو شروعات ہے‘ اور شاید یہی چیز ان کے مداحوں کو امید دلا رہی ہے کہ وہ شو سے ہمیشہ کے لیے نہیں گئے۔










