ٹرمپ کے حامی چارلی کرک کا قتل: پولیس 33 گھنٹوں میں ملزم تک کیسے پہنچی؟

ٹائلر

،تصویر کا ذریعہHandout

،تصویر کا کیپشنامریکی حکام کی جانب سے جاری کی گئی ٹائلر رابنسن کی تصویر

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے قدامت پسند تنظیم ’ٹرننگ پوائنٹ‘ کے شریک بانی چارلی کرک کے قتل کے معاملے میں ایک شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔

جمعے کو ایک نیوز بریفنگ کے دوران یوٹا کے گورنر سپینسر کوکس نے فیڈرل بیورو آف انویسٹیگیشن (ایف بی آئی) کے سربراہ کاش پٹیل اور دیگر سکیورٹی حکام کے ہمراہ اعلان کیا کہ ’ہم نے اسے پکڑ لیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ 22 سالہ ملزم ٹائلر رابنسن کے خاندان کے ایک شخص نے اپنے ایک دوست کو بتایا کہ ٹائلر نے اعترافِ جرم کر لیا ہے، جس کے بعد اس دوست نے شیرف کے دفتر سے رابطہ کیا۔

بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ملزم کی گرفتاری کی تصدیق کی۔

خیال رہے کہ بدھ کے روز کرک کو یوٹا میں ایک تقریب کے دوران گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔

ان کی ہلاکت کی تصدیق بھی خود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کی تھی۔ صدر ٹرمپ نے چارلی کرک کو ایک ’سچا محبِ وطن‘ کہا تھا اور ان کی ہلاکت کو امریکہ کے لیے ایک ’تاریک لمحہ‘ قرار دیا تھا۔

کرک کے قتل کی تحقیقات کی تفصیلات بتاتے ہوئے یوٹا کے گورنر سپینسر کوکس کا کہنا تھا کہ تفتیش کاروں نے ویڈیو فوٹیج کے ذریعے یہ معلوم کیا کہ ٹائلر 10 ستمبر کو مقامی وقت کے مطابق 8:29 پر ڈاج چیلنجر گاڑی میں جائے وقوعہ پر پہنچے تھے۔

چارلی کرک

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنچارلی کرک کی موت کی تصدیق خود امریکی صدر نے کی تھی

’ملزم گرفتاری دینے کے بجائے خودکشی کا سوچ رہے تھے‘

امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر نشریاتی ادارے ’سی بی ایس‘ کو دو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذرائع نے بتایا کہ ملزم کو اس کے والد نے ایف بی آئی کی جانب سے جاری کی گئی تصاویر سے پہچانا۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم نے اپنے والد کے سامنے اعتراف جرم کر لیا تھا جس کے بعد ان کے والد نے انھیں گرفتاری دینے پر قائل کرنے کی کوشش کی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم نے اپنے والد سے کہا کہ وہ گرفتاری دینے کے بجائے خود کشی کرنے کو ترجیح دیں گے جس پر والد نے اپنے ایک پادری دوست کو بلایا اور دونوں نے ملزم کو گرفتاری دینے کے لیے راضی کیا۔

پادری، جو کہ کورٹ سکیورٹی افسر بھی ہیں، نے پھر سکیورٹی اہلکاروں کو مطلع کیا جس کے بعد ٹائلر کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔

ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے صحافیوں کو بتایا کہ جائے وقوعہ سے تیزی سے شواہد جمع کیے گئے تھے۔اُنھوں نے کہا کہ کرک کو گولی لگنے کے 16 منٹ بعد وفاقی ایجنٹس جائے وقوعہ پر پہنچ گئے تھے۔

کاش پٹیل نے 33 گھنٹے تک ملزم کے تعاقب کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملزم کو مقامی وقت کے مطابق رات 10 بجے گرفتار کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ روز ایف بی آئی نے ملزم کی تصاویر جاری کیں اور اس کے سر کی قیمت ایک لاکھ ڈالر مقرر کی۔

اُن کا کہنا تھا کہ ایف بی آئی کے ایجنٹس اس واقعے سے متعلق 11 ہزار لیڈز پر کام کر رہے تھے۔

واشنگٹن سٹی پولیس کے کئی افسران اور واشنگٹن کاؤنٹی شیرفس کی بڑی تعداد اب بھی ملزم کی رہائش گاہ کے باہر موجود ہے۔

یوٹا ڈپارٹمنٹ آف پبلک سیفٹی کے کمشنر بیو میسن نے بی بی سی کو بتایا کہ ملزم کی گرفتاری کے باوجود تفتیش کا عمل اب بھی جاری ہے۔

یہ گرفتاری ایف بی آئی کی جانب سے مشتبہ شخص کی تصویر جاری کرنے کے بعد عمل میں لائی گئی تھی۔

حکام نے دھوپ کا چشمہ اور سیاہ قمیض پہنے ایک شخص کی تصویر جاری کی تھی جس پر امریکی پرچم اور عقاب بنا ہوا تھا۔

کرک کو چھت سے گولی مارنے کے بعد مشتبہ شخص عمارت کے کنارے سے گرا اور بھاگ گیا۔

چھت سے چھلانگ لگانے کے دوران ملزم نے ہتھیلی کے نشان چھوڑے جہاں سے فرانزک ماہرین نے ڈی این اے کے نمونے حاصل کر لیے۔

عمارت سے اترنے کے بعد، سی سی ٹی وی نے اس شخص کو ٹریفک میں داخل ہونے سے پہلے زرعی اراضی سے گزرتے ہوئے دکھایا۔وہ گلی کو پار کر کے ایک جنگل والے علاقے میں گیا، جہاں فائرنگ میں استعمال ہونے والا آتشیں اسلحہ بعد میں ملا۔

ایف بی آئی ڈائریکٹر کاش پٹیل کا کہنا تھا کہ ایک اور مشتبہ شخص کو پوچھ گچھ کے لیے کچھ دیر کے لیے حراست میں لیا گیا تھا۔

یوٹا کے گورنر سپینسر کوکس نے نیوز بریفنگ کے دوران ملزم ٹائلر کے خاندان کا شکریہ کیا جنھوں نے ان کی گرفتاری میں مدد کی۔

ان کا کہنا تھا ملزم کے خاندان نے ’درست قدم‘ اُٹھایا اور انھیں سکیورٹی حکام کے حوالے کر دیا۔ اس موقع پر انھوں نے ٹائلر کے خاندان سے ملنے والی معلومات بھی میڈیا کے ساتھ شیئر کی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ملزم چارلی کرک کو پسند نہیں کرتے تھا۔

یوٹا کے گورنر کا کہنا تھا کہ ملزم کے خاندان کے ایک فرد نے بتایا کہ ٹائلر حالیہ برسوں میں 'زیادہ سیاسی' ہوگئے تھے۔

یوٹا لے گورنر مزید کہتے ہیں کہ ملزم کے خاندان کے فرد نے بتایا کہ 10 ستمبر سے قبل ٹائلر نے ایک رات کھانے سے قبل کہا تھا کہ چارلی کرک یوٹا ویلی یونیورسٹی آ رہے ہیں اور یہ کہ وہ انھیں ’اور ان کے نظریات کو پسند نہیں کرتے۔‘

سپینسر کوکس کے مطابق ٹائلر نے اپنے خاندان کے فرد کو کہا تھا کہ ’چارلی کرک کے اندر نفرت بھری ہوئی ہے اور وہ نفرت پھیلا رہے ہیں۔‘

چارلی کرک کا قتل جس نے امریکہ کو ہِلا کر رکھ دیا

31 سالہ چارلی کرک کو بدھ کے روز اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ یوٹا ویلی یونیورسٹی میں ایک تقریب میں شرکت کے لیے موجود تھے۔ اس تقریب میں تقریباً تین ہزار افراد شریک تھے۔

حملے کے وقت وہ ایک سفید رنگ کے ٹینٹ کے نیچے بیٹھے تھے اور ان کی اہلیہ اور گھر والے بھی ان کے ساتھ موجود تھے تاہم وہ سب اس حملے میں محفوظ رہے۔

انھیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا لیکن چند گھنٹوں بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چارلی کرک کی ہلاکت کی تصدیق اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے کی۔

چارلی کرک ڈونلڈ ٹرمپ

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

،تصویر کا کیپشنصدر ٹرمپ نے چارلی کرک کو ایک ’سچا محبِ وطن‘ کہا اور ان کی ہلاکت کو امریکہ کا ایک ’تاریک لمحہ‘ قرار دیا

حکام کا کہنا ہے کہ چارلی کرک کو گردن میں ایک گولی لگی تھی جس سے ان کی موت واقع ہوئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ گولی قریبی عمارت کی چھت پر کھڑے ایک شخص نے چلائی تھی۔

بی بی سی کی نامہ نگار نَدا توفیق لکھتی ہیں کہ چارلی کرک تقریر کے بعد اپنے مخصوص انداز میں لوگوں کے ساتھ مباحثے کے لیے بیٹھے تھے جب قریبی عمارت کی چھت پر گہرے رنگ کے کپڑے پہنے ایک شخص نمودار ہوا اور اس نے ایک گولی چلائی جو کرک کی گردن میں لگی۔

سابق امریکی کانگریس رکن جیسن چافیٹز نے فاکس نیوز کو بتایا کہ وہ اپنی بیٹی کے ساتھ وہاں موجود تھے جب ’گولی سیدھی اس کی جانب آئی اور بھگڈر مچ گئی۔‘

ایڈم بارتھولومیو نے بتایا کہ ’لوگوں نے خارجی راستوں کی طرف دوڑنا شروع کر دیا۔ کچھ لوگ رو رہے تھے۔‘

ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جس مقام پر چارلی کرک بیٹھے ہوئے تھے اس سے تقریبا 130 میٹر فاصلے پر چھت پر کوئی موجود تھا۔

ایڈم کا کہنا تھا کہ انھیں اس بات پر حیرانی تھی کہ وہاں کوئی سکیورٹی موجود نہیں تھی۔ کسی نے میرا بیگ چیک نہیں کیا۔

چارلی کرک

،تصویر کا ذریعہGetty Images for The Cambridge Union

،تصویر کا کیپشنچارلی کرک اکثر اسرائیلی اقدامات کا دفاع کرتے نظر آتے تھے

ٹرمپ، کرک کی اہلیہ اور دیگر کے پیغامات

چارلی کرک کی اہلیہ ایریکا کرک کا کہنا ہے کہ وہ چارلی کے مشن کو جاری رکھتے ہوئے اُن کا پیغام آگے بڑھائیں گی۔

چارلی کرک کی ہلاکت کے بعد اپنے پہلے پیغام میں اُن کے اہلیہ نے کہا کہ افراتفری شکوک و شبہات اور غیر مستحکم دنیا میں اُن کے شوہر کی آواز ہمیشہ موجود رہے گی۔

ایریکا کرک نے اپنے پیغام میں کئی بار بائبل کا حوالہ دیتے ہوئے چارلی کے عزم کو آگے بڑھانے کا اعادہ کیا اور ملزم کی فوری گرفتاری پر صدر ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور کرک کے دفتر کے عملے کا شکریہ ادا کیا۔

امریکہ کے نوجوانوں کو اتنا نہیں سمجھتا تھا اور نہ ہی ان سے محبت کرتا تھا جتنا چارلی نے کیا۔‘

ادھر ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر ٹرمپ نے اسے امریکہ کے لیے ایک تاریک لمحہ قرار دیتے ہوئے کہا ’چارلی ایک سچا محب وطن تھا جس نے اپنی زندگی آزادی اظہار اور اپنے ملک ریاست متحدہ ہائی امریکہ کے لیے وقف کی ہوئی تھی جس سے اسے بے پناہ محب تھی۔‘

سابق امریکی صدر بارک اوبامہ، برطانوی وزیرِ اعظم سر کیئر سٹارمر اور اسرائیلی وزیرِ بنیامن نتن یاہو سمیت کئی عالمی رہنماؤں نے چارلی کرک کے قتل کی مذمت کی ہے۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو کا کہنا ہے کہ چارلی کرک کو سچ بولنے اور آزادی کا دفاع کرنے کی پاداش میں قتل کیا گیا ہے۔

’اسرائیل کا ایک شیر دل دوست، جس نے جھوٹ کا مقابلہ کیا اور یہودی-مسیحی تہذیب کے لئے کھڑا ہوا۔‘

نتن یاہو کا کہنا تھا کہ ان کی دو ہفتے قبل ہی چارلی کرک سے بات ہوئی تھی اور انھوں نے کرک کو اسرائیل آنے کی دعوت دی تھی۔ ’بد قسمتی سے اب یہ دورہ نہیں ہو گا۔‘

چارلی کرک غزہ اور اسرائیل کے بارے میں کافی سخت خیالات رکھتے تھے اور اکثر اسرائیلی اقدامات کا دفاع کرتے نظر آتے تھے۔

رواں سال جولائی کے دوران بھی انھوں نے اسرائیل پر غزہ میں لوگوں کو بھوکے مارنے کی الزام کی بھی تردید کی تھی۔

چارلی

،تصویر کا ذریعہBloomberg via Getty Images

،تصویر کا کیپشنکرک نے 18 سال کی عمر میں ’ٹرننگ پوائنٹ یو ایس اے‘ کی بنیاد رکھی تھی

چارلی کرک کون تھے؟

31 سالہ چارلی کرک امریکہ کے سب سے ہائی پروفائل قدامت پسند کارکنوں اور میڈیا شخصیات میں سے ایک تھے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قابل اعتماد اتحادی سمجھے جاتے تھے۔

چارلی کرک کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور پوڈ کاسٹ میں اکثر ان کے ایسے کلپس شیئر کیے جاتے ہیں جن میں وہ طلبا کے ساتھ ٹرانسجینڈرز کی شناخت، موسمیاتی کی تبدیلی، مذہبی عقائد اور خاندانی اقدار جیسے امور پر بحث کرتے دیکھائی دیتے ہیں۔ کرک شادی شدہ تھے اور اُن کے دو بچے ہیں۔

ان کے ہر پوڈ کاسٹ کے آغاز میں ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک کلپ چلایا جاتا ہے جس میں وہ کرک کا شکریہ ادا کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ’میں چارلی کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں، وہ ایک زبردست شخصیت ہیں، ان کا جذبہ، اس ملک سے ان کی محبت، آج تک کی نوجوانوں کی سب سے طاقتور تنظیموں میں سے ایک کی بنیاد رکھ کر تعمیر میں ایک حیرت انگیز کام کیا ہے۔‘

سنہ 2012 میں باراک اوبامہ کے دوسری مرتبہ صدر متخب ہونے کے بعد کرک نے 18 سال کی عمر میں ٹرننگ پوائنٹ یو ایس اے کی بنیاد رکھی جو ایک طالب علم تنظیم ہے۔ اس کا مقصد لبرل جھکاؤ رکھنے والے امریکی کالجز میں قدامت پسند نظریات کو پھیلانا ہے۔

اب اس تنظیم کی شاخیں امریکہ کے 850 سے زائد کالجز میں پائی جاتی ہیں۔