آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ایران نے اسرائیل کی خفیہ ایجنسی سے مبینہ روابط کے الزام میں چار افراد کو پھانسی دے دی
ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق ایرانی حکومت نے چار افراد کو اسرائیل کی خفیہ ایجنسی کے لیے کام کرنے کے الزام میں پھانسی دے دی ہے۔
ایران کی میزان نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ چاروں افراد کو اسرائیل کے ساتھ ’خفیہ معلومات کے تبادلے‘ اور ’اغوا‘ کے الزام میں دی جانے والی سزاؤں پر اتوار کو عملدرآمد کیا گیا ہے۔
ایران کی سپریم کورٹ نے مئی میں ان افراد کی گرفتاری کے بعد سنائی جانے والی موت کی سزا کو بدھ کی سماعت میں برقرار رکھا تھا۔
چاروں افراد کو سزائے موت ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران میں گذشتہ دو ماہ سے جاری احتجاج اور مظاہروں کے باعث پہلے ہی کشیدگی ہے۔
عدلیہ کی ویب سائٹ کے مطابق گرفتار تین دیگر افراد کو ملک کی سلامتی کے خلاف جرائم، اغوا میں ملوث ہونے اور ہتھیار رکھنے کے جرم میں پانچ سے دس سال کے درمیان قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
ایران اور اسرائیل شدید علاقائی حریف ہیں، اور ایک دوسرے کے خلاف طویل عرصے سے پس پردہ جنگی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
’اغوا‘ کے الزام میں ایک ماہ قبل اسرائیلی میڈیا کی طرف سے رپورٹ کیے گئے ایک کیس کا حوالہ دیا گیا، جس میں ایک شخص اپنے آپ کو پاسداران انقلاب کے ایک رکن کے طور پر متعارف کراتے ہوئے متعدد یورپی مقامات پر اسرائیلی سفارت کاروں کو نشانہ بنانے کی مبینہ سازش کا ذکر کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔
ایرانی میڈیا نے اس کہانی کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ شخص محض ایک کسان تھا، جسے 2021 میں متعدد ’ٹھگوں‘ نے اغوا کر لیا تھا اور اسے یہ مخصوص جملے کہنے پر مجبور کیا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ بھی پڑھیے
اسرائیل ان ممالک میں شامل ہے جن پر ایران نے ملک میں جاری مظاہروں کی لہر کو بھڑکانے کا الزام لگایا ہے۔ یہ ملگ گیر مظاہرے ایران کی اخلاقی پولیس کی حراست میں ایک نوجوان خاتون کی ہلاکت کے بعد سے شروع ہوئے تھے جو ایرانی حکومت پر شدید عدم اطمینان کی عکاسی کرتے ہیں۔
ایرانی عدالتیں پہلے ہی ان مظاہروں میں ملوث چھ افراد کو موت کی سزائیں سنا چکی ہے جبکہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ سرکاری رپورٹوں کی بنیاد پر اس وقت کم از کم 21 افراد پر ایسے جرائم کا الزام ہے جس سے انھیں پھانسی کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ایران اس وقت چین کے علاوہ دنیا کے کسی بھی ملک کے مقابلے میں سالانہ زیادہ لوگوں کو پھانسی دیتا ہے۔