آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’سوشل میڈیا سے جان چھڑوائی تو ویسا ہی سکون ملا جیسا شراب نوشی ترک کر کے ملا تھا‘
- مصنف, سوزین بیرن
- عہدہ, بی بی سی، بزنس رپورٹر
جب گیل میکڈونلڈ رواں برس کے آغاز میں سپین کے سیرا نیواڈا پہاڑی سلسلے میں واقع ایک چوٹی پر پہنچیں تو وہ وہاں رُکی نہیں۔
45 سالہ گیل میکڈونلڈ نے وہی کیا جو بہت سے لوگ ایسے پرفضا مقام پر پہنچ کر کرتے ہیں۔ انھوں نے اپنی سیلفی لینے کے لیے بہترین جگہ کی تلاش شروع کر دی تاکہ وہ ایک خوبصورت تصویر اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پوسٹ کر سکیں۔ گیل اعتراف کرتی ہیں کہ تصویر لینے کے چکر میں وہ خطرناک حد تک پہاڑی کے کنارے کے قریب تر چلی گئی تھیں۔
وہ اس حد تک خطرناک جگہ چلی گئی تھیں کہ ان نے شوہر نے اس پر غصے کا اظہار کیا اور یہی وہ موقع تھا جب انھوں نے سوشل میڈیا چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔
گیل یاد کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ ’میں نے سوچا کہ اب میرے اس شوق کا کوئی اختتام ہونا چاہیے۔ کیونکہ صورتحال یہ ہو چکی تھی کہ جب بھی میں اپنی گاڑی سے باہر نکلتی تھی تو پہلی چیز جو میرے دماغ میں ہوتی تھی وہ یہ کہ مجھے اپنی تصویر لینی ہے۔‘
گیل سپین کے شہر گراناڈا کے قریب رہتی ہیں۔
’اپنے سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے کے لیے کیا مواد بنانا ہے، یہ بات ہمیشہ میرے سر پر سوار رہتی تھی۔ دن کا بیشتر وقت یہ سوچتے گزر جاتا کہ تصویر کے ساتھ کیا عنوان لکھنا ہے اور یہ صورتحال مجھے پریشان رکھتی تھی۔‘
پہاڑی پر پیش آنے والے واقعے کے ایک ہفتے بعد انھوں نے اپنے فیس بک اور انسٹاگرام اکاؤنٹس پر اعلان کیا کہ وہ سوشل میڈیا کی دنیا کو خیرآباد کہہ رہی ہیں۔ ’میری اس پوسٹ کو بہت سے صارفین نے پسند کیا اور یہ میری ٹائم لائن پر سب سے زیادہ پسند کی جانے پوسٹ بن گئی۔ لوگ کہہ رہے تھے کہ ’کاش میں بھی ایسا کر سکتا/سکتی‘ اور یہ کہ آپ کا فیصلہ بہت بہادرانہ ہے۔‘
حقیقی زندگی میں گیل ایک لائف کوچ ہیں جو لوگوں کو شراب نوشی ترک کرنے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔ سوشل میڈیا کو چھوڑنے کے بعد انھوں نے اندازہ لگایا کہ وہ ایک ہفتے میں اوسطاً 11 گھنٹے سوشل میڈیا پر گزارتی تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وہ بتاتی ہیں کہ سوشل میڈیا ایپس سے جان چھڑانا اس سے کہیں آسان ثابت ہوا جتنی یہ خوفناک سوچ کہ مجھے سوشل میڈیا کو چھوڑنا ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’ایک بار جب میں نے سوشل میڈیا کا استعمال مکمل طور پر چھوڑ دیا تو اس کے بعد مجھے کبھی خواہش بھی نہیں ہوئی کہ میں اسے دوبارہ استعمال کروں۔‘
’یہ آزاد ہو جانے جیسا احساس تھا۔ مجھے اب سوشل میڈیا چھوڑے چھ ماہ سے زیادہ کا عرصہ ہو چکا ہے اور میں نے آزادی اور سکون کا وہ احساس دوبارہ حاصل کر لیا ہے جس کا تجربہ مجھے ماضی میں اس وقت ہوا تھا جب میں نے شراب نوشی چھوڑی تھی۔‘
ہم میں سے بہت سے لوگوں کے وقت کا ایک بڑا حصہ سوشل میڈیا پر گزرتا ہے۔ جولائی میں ہونے والی ایک عالمی تحقیق کے مطابق اوسطاً ایک شخص روزانہ دو گھنٹے 29 منٹ سوشل میڈیا ایپس اور ویب سائٹس پر گزارتا ہے۔
کچھ لوگ یہ سوچ سکتے ہیں کہ یہ ایک بری عادت ہے جسے انھیں ترک کر دینا چاہیے، مگر کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جن کے لیے یہ ایک حقیقی لت ہے جس پر قابو پانے کے لیے انھیں باقاعدہ مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔
یو کے ایڈکشن ٹریٹمنٹ (یو کے اے ٹی) ایک ایسی تنظیم جو سوشل میڈیا کی لت کے علاج کے لیے مراکز چلاتی ہے۔ اس تنظیم کا کہنا ہے کہ گذشتہ تین برسوں میں اس مسئلے کے لیے اُن سے مدد لینے والے لوگوں کی تعداد میں پانچ فیصد اضافہ ہوا ہے۔
یو کے ایڈکشن ٹریٹمنٹ سے منسلک اس کونسلر نونو البوکرک کہتی ہیں کہ ’معاشرے نے بلاشبہ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر اب زیادہ سے زیادہ انحصار کرنا شروع کر دیا ہے۔‘
اس حوالے سے بڑھتی آگاہی کے باعث گیل جیسے بہت سے افراد اب سوشل میڈیا چھوڑ رہے ہیں، یا کم از کم سوشل میڈیا پر اب کم وقت گزار رہے ہیں۔ اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے سوشل میڈیا سروسز چلانے والے بھی نوٹس کر رہے ہیں۔
اس سال کے شروع میں، فیس بک کی پیرنٹ کمپنی ’میٹا‘ نے اطلاع دی تھی کہ اس کے یومیہ صارفین کی تعداد میں تاریخ میں پہلی بار کمی ہوئی ہے۔ دریں اثنا گذشتہ مہینے ٹویٹر کی ایک اندرونی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اس کے سب سے زیادہ فعال صارفین اب کم ٹویٹس کر رہے ہیں۔
یہاں تک کہ ٹویٹر کے نئے مالک، ارب پتی تاجر ایلون مسک نے اس سال کے شروع میں قیاس کیا تھا کہ ’کیا ٹویٹر مر رہا ہے؟‘ حال ہی میں ہالی وڈ کی کچھ مشہور شخصیات نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ ٹویٹر چھوڑ دیں گے، کیونکہ وہ سروس کے منصوبوں کے بارے میں ایلون مسک کے خیالات سے ناخوش ہیں۔
لیکن حقیقی دنیا میں وہ کیا وجوہات ہیں کہ لوگ سوشل میڈیا چھوڑ رہے ہیں؟
کاروباری شخصیت اروشی اگروال نے پہلے 2014 میں انسٹاگرام چھوڑ دیا تھا، لیکن یہ صرف ایک سال تک چل سکا۔ اور رواں برس اگست میں انھوں نے دوسری بار اپنا ذاتی اکاؤنٹ ڈیلیٹ کر دیا ہے اور اس مرتبہ ان کا کہنا ہے کہ وہ دوبارہ اس پلیٹ فارم پر واپس نہیں آئیں گی۔
اروشی اگروال لندن میں رہتی ہیں اور وہ ٹی بیگ برانڈ ’جے پیز اوریجنل‘ کی مالک ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اب میں اسے مزید جاری نہیں رکھنا چاہتی۔‘
’میں سو فیصد اپنے فیصلے پر قائم ہوں۔ ناصرف یہ وقت کا ضیائع ہے بلکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دنیا میں پرائیویسی کم سے کم تر ہوتی چلی جا رہی ہے۔ آپ جو کچھ بھی کر رہے ہوتے ہیں دنیا کو اس کی خبر آپ خود ہی فراہم کر رہے ہوتے ہیں۔‘
اروشی اب ٹویٹر یا فیس بک کا استعمال بھی نہیں کرتی ہیں اور اب وہ خود کو آزاد محسوس کرتی ہیں۔ ’سوشل میڈیا کے استعمال کے بجائے اب میں ہر رات ایک کتاب کے 15 صفحات پڑھتی ہوں۔‘
’دی فون ایڈکشن ورک بک‘ کی مصنفہ ہلڈا برک کہتی ہیں کہ اب اس بارے میں وسیع پیمانے پر آگاہی پیدا ہو گئی ہے کہ لوگ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کتنا وقت ضائع کر رہے ہیں۔
وہ کہتی ہی ںکہ ’اب ایسا کرنا آسان بھی ہو گیا ہے کیونکہ زیادہ تر فونز آپ کو یہ بتاتے ہیں کہ آپ اپنا وقت آن لائن کیسے گزار رہے ہیں اور کتنا گزار رہے ہیں۔‘
’فون پر اپنے گزارے گئے وقت کی تفصیلات دیکھنا آپ کے لیے ایک طاقتور ویک اپ کال کا کام کر سکتا ہے۔ میرے بہت سے کلائنٹس نے سوشل میڈیا کے زیادہ استعمال، کم خوابی اور طبعیت میں بڑھتی ہوئی بے چینی کے درمیان تعلق کا اظہار کیا ہے۔‘
وہ مشورہ دیتی ہے کہ سوشل میڈیا چھوڑنے والے لوگوں کو اپنے تمام دوستوں کو بتانا چاہیے تاکہ وہ سوشل میڈیا سائٹس کے ذریعے آپ سے رابطہ کرنے کی کوشش نہ کریں۔ ’انھیں بتائیں کہ وہ کیسے دوسرے ذرائع استعمال کرتے ہوئے آپ سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ شاید ایک پرانے زمانے میں کی جانے والی فون کال تعلقات کو ویسا ہی رکھ سکتی ہے جیسا وہ اب ہیں۔‘
کشمیر روچیسٹر سے تعلق رکھنے والی 27 سالہ پبلک ریلیشنز (PR) ایگزیکٹیو ہیں۔ انھوں نے 10 ماہ قبل انسٹاگرام چھوڑ دیا تھا، اس سے قبل وہ سنیپ چیٹ کو بھی چھوڑ چکی تھیں۔
وہ کہتی ہیں ’سوشل میڈیا چھوڑنے کا بنیادی مقصد میری ذہنی صحت تھی۔ سوشل میڈیا کے دور میں آپ کو دوسرے لوگوں کی خواہشات کے مطابق رہنے کا دباؤ ہوتا ہے۔۔۔‘
’میں پوری پوری رات فون کی سکرین کو اوپر نیچے کرتی رہتی تھی جس سے میری رات کی نیند متاثر ہوتی اور سو کر جب میں اٹھتی تو اپنے آپ کو تر و تازہ محسوس نہیں کرتی تھی۔ اب میں اپنی روزمرہ کی زندگی کا دوسروں سے موازنہ نہیں کرتی ہوں اور واقعی میں میں نہیں جانتی کہ کون سی مشہور شخصیت کیا کر رہی ہے۔‘
’یہ احساس مجھے حقیقی زندگی کے قریب تر کرتا ہے اور ثابت قدم رکھتا ہے۔ اب میں خود فیصلے کرتی ہوں، وہ فیصلے جو کسی دوسرے کی رائے سے متاثر نہیں ہوتے۔‘
کشمیر نے مزید کہا کہ انسٹاگرام اور سنیپ چیٹ پر نہ ہونے سے ان کے کام پر کوئی فرق نہیں پڑا اور اب وہ نوکریوں کی تلاش کے لیے لنکڈ ان جیسی ایپس استعمال کرتی ہیں۔
یو کے ایڈکشن ٹریٹمنٹ سے منسلک اس کونسلر نونو البوکرک کا کہنا ہے کہ ایسی بہت سے وجوہات ہیں جن کے باعث سوشل میڈیا لت کی سی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا کو کئی لوگ حقیقی زندگی سے راہ فرار کے طور پر استعمال کرتے ہیں، خاص طور پر نوجوان نسل۔
’یہ بغیر کسی اصل کنکشن کے جڑنے کا ایک طریقہ ہے، اور یہ بہت سے لوگوں کے لیے کمپنی کا 24/7 آرام دہ طریقہ ہے۔ مگر حقیقت یہ کہ اس کی لت زندگی میں تنہائی کو اور بڑھاتی ہے اور حقیقی زندگی میں رہنے کے بجائے اگر کوئی بہت زیادہ وقت آن لائن گزارتا ہے، تو وہ قدرتی طور پر الگ تھلگ ہو جاتا ہے اور بعض اوقات یہ صورتحال مزید بدتر ہوتی چلی جاتی ہے۔‘
وہ اس حقیقت کا خیر مقدم کرتے ہیں کہ زیادہ لوگ سوشل میڈیا چھوڑ رہے ہیں۔ ’یہ امکان ہے کہ ہم آخرکار اس نقصان کا احساس کرنا شروع کر رہے ہیں جس سے ہمارے تعلقات، ذہنی صحت اور حقیقی دنیا کے لمحات کے ہمارے تجربے کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔‘