مودی کے لیے 200 ارب روپے کی لاگت سے بنائی جانے والی نئی رہائش گاہ اور دفتر میں کیا کُچھ ہو گا؟

وزیر اعظم کا مجوزہ ہاؤس کا منصوبہ

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

،تصویر کا کیپشنسینٹرل وسٹا پروجیکٹ پر ایک آر ٹی آئی کے جواب میں حکومت نے کہا کہ معلومات 'انڈیا کی خودمختاری، سالمیت اور سلامتی کو متاثر کرے گی‘
    • مصنف, جگل پروہت اور ارجن پرمار
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، انڈیا

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی جلد ہی نئی دہلی کے قلب میں واقع راشٹرپتی بھون (ایوان صدر) سے متصل ایک نئی عمارت میں واقع دفتر سے کام شروع کریں گے۔

اطلاعات کے مطابق اس کمپلیکس کو ’سیوا تیرتھ‘ کا نام دیا جائے گا۔

وزیر اعظم کی نئی رہائش گاہ بھی اس جگہ کے بالکل قریب تعمیر کی جائے گی۔ دونوں عمارتیں حکومت کے سینٹرل وسٹا پروجیکٹ کا حصہ ہیں جس پر ان دنوں تیزی سے کام جاری ہے۔

کہا جا رہا ہے کہ سنہ 2026 میں اس عمارت کا کام مکمل ہو جائے گا۔

اگرچہ حکومت کا کہنا ہے اس منصوبے پر تقریباً 200 ارب انڈین روپے (جو لگ بھگ دو ارب 23 کروڑ 27 لاکھ ڈالر بنتے ہیں) لاگت آئے گی تاہم رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ (آر ٹی آئی) 2005 کے تحت اس پر آنے والے اخراجات کی مکمل تفصیلات فراہم کرنے سے حکومت انکاری ہے۔

تاہم حکومت نے رواں سال اس منصوبے کی لاگت میں اضافے کے حوالے سے پارلیمنٹ میں بیان دیا تھا۔

انڈیا کی ہاؤسنگ اور شہری امور کی وزارت نے جی ایس ٹی کی بڑھتی شرح، سٹیل کی قیمت اور اضافی حفاظتی انتظامات سمیت کئی عوامل کا حوالہ دیتے ہوئے پارلیمنٹ کی نئی عمارت اور نائب صدر کی رہائش گاہ پر آنے والی لاگت میں اضافے کا حوالہ تو دیا لیکن وزیر اعظم کی نئی رہائش گاہ کے بارے میں بہت کم معلومات فراہم کی گئیں اور کل لاگت کے بارے میں واضح طور پر نہیں بتایا۔

اس حوالے سے تازہ ترین صورتحال جاننے کے لیے بی بی سی نے رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2005 کے تحت درخواست دائر کی تھی۔

بی بی سی کو کن معلومات تک رسائی درکار تھی؟

وزیر اعظم کا مجوزہ ہاؤس کا منصوبہ

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

،تصویر کا کیپشنسینٹرل وسٹا کے پورے پروجیکٹ پر ابتدائی طور پر 200 ارب روپے لاگت کا تخمینہ لگایا گیا تھا

بی بی سی کی جانب سے اٹھائے گئے سوال کے پہلے حصے میں سینٹرل وسٹا پروجیکٹ سے متعلق جامع معلومات سے متعلق پوچھا گیا تھا جس میں پروجیکٹ کا کل تخمینہ 30 ستمبر 2025 تک ہونے والے کل اخراجات، منظور شدہ ٹینڈرز کی فہرست، کاموں کے نام، ٹینڈر جیتنے والے ٹھیکیداروں/ایجنسیوں کے نام، اور ہر کام کی لاگت شامل تھی۔

بی بی سی نے منصوبے کی تکمیل کی اندازاً تاریخ بھی جاننے کی کوشش کی۔

دوسرے حصے میں وزیراعظم کی نئی رہائشگاہ، کام اور سہولیات کے بارے میں معلومات مانگی گئی تھیں۔ آخر میں نائب صدر کی رہائشگاہ کے متعلق بھی یہی معلومات مانگی گئی تھیں۔

درخواست میں بی بی سی نے کہا تھا کہ وزیراعظم اور نائب صدر کی سلامتی کو خطرے میں ڈالے بغیر معلومات فراہم کی جائیں۔

حکومت نے کیا معلومات فراہم کیں؟

نریندر مودی

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

سینٹرل پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ (سی پی ڈبلیو ڈی) نے تمام پبلک انفارمیشن آفیسرز کو بی بی سی کی درخواست کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے انھیں متعلقہ معلومات جمع کروانے کا حکم دیا۔

تام افسران کو یہ ہدایت بھی کی گئی کہ اگر ان کے پاس معلومات نہیں ہیں تو درخواست متعلقہ دفاتر کو منتقل کی جائے۔

سینٹرل وسٹا پروجیکٹس کی نگرانی پر مامور سی پی ڈبلیو ڈی نے کہا کہ ’پروجیکٹ کی لاگت، تکمیل کی تاریخ اور جاری کردہ ٹینڈرز سے متعلق سوالات اس دفتر سے متعلق نہیں۔‘

وزیر اعظم کی رہائش گاہ سے متعلق نکات پر سی پی ڈبلیو ڈی کا جواب تھا کہ ’جس کام کی تفصیلات مانگی گئی ہیں وہ ’خفیہ کیٹگری‘ زمرے میں آتا ہے اس لیے معلومات نہیں دی جا سکتیں۔‘

یہ جواب ملنے کے چند دن کے اندر بی بی سی نے آر ٹی آئی ایکٹ 2005 کے تحت ایک اپیل دائر کی اور اپنی ابتدائی درخواست کو دہرایا۔

اپیل کے جواب میں سی پی ڈبلیو ڈی کے سدھیر کمار تیواری نے دو دسمبر 2025 کو فیصلہ دیا کہ پورے پروجیکٹ سے متعلق معلومات کی درخواست ’مبہم‘ تھی۔

وزیر اعظم کے گھر سے متعلق انھوں نے متعلقہ قانون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’آپ کی آر ٹی آئی درخواست کی بنیاد پر معلومات کو عام نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ان معلومات کے سامنے آنے سے انڈیا کی خودمختاری، سالمیت اور سلامتی پر اثر پڑے گا جبکہ ریاست کے سٹریٹجک مفادات اور بین الاقوامی تعلقات بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔‘

جبکہ نائب صدر انکلیو سے متعلق کسی بھی معلومات پر کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

تو ہم اس منصوبے کے بارے میں کتنا جانتے ہیں؟

منصوبے کی ویب سائٹ پر دستیاب معلومات میں کہا گیا ہے کہ ’وزیر اعظم کی موجودہ رہائش گاہ لوک کلیان مرگ پر واقع ہے جو سینٹرل وسٹا کے باہر ہے۔ ساؤتھ بلاک کے پیچھے بلاکس اے اور بی میں موجودہ کچی آبادیوں کو ہٹا کر وزیر اعظم کے لیے ایک نئی رہائشگاہ تعمیر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔‘

’یہ نئی رہائش گاہ مکمل طور پر فعال اور تمام ضروری سہولیات سے آراستہ ہو گی۔ سپیشل پروٹیکشن گروپ (ایس پی جی) کے لیے ایک اضافی سہولت پلاٹ نمبر 30 پر تعمیر کرنے کی بھی تجویز ہے۔

وزیر اعظم کا مجوزہ ہاؤس کا منصوبہ

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

،تصویر کا کیپشنپرانے پارلیمنٹ ہاؤس سے ملحق پارلیمنٹ کی نئی عمارت کی تعمیر کا افتتاح مئی 2023 میں ہوا تھا

تمام وی آئی پیز کے دفاتر اور رہائش گاہیں ایک ہی جگہ پر ہونے سے غیر ضروری انفراسٹرکچر کی ضرورت میں کمی ہو گی اور شہر میں ٹریفک کا نظام بہتر ہو گا۔‘

اگرچہ حکومت کا کہنا ہے کہ نائب صدر انکلیو مکمل ہو گیا ہے تاہم ابھی تک وزیر اعظم کی رہائش گاہ کی حیثیت کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں دی گئی۔

وزیر اعظم کے دفتر کے بارے میں حکومت کا کہنا ہے کہ ’کابینہ سیکریٹریٹ، قومی سلامتی کونسل سیکریٹریٹ (این ایس سی ایس) اور وزارت خارجہ کے حیدرآباد ہاؤس جیسی کانفرنس کی سہولت بھی پی ایم او کے ساتھ اسی کمپلیکس میں واقع ہو گی۔ ان سب پر مشتمل ’ایگزیکٹیو انکلیو‘ بنایا جائے گا۔‘

یہ سرکاری ویب سائٹ پر ایک ’ایکٹو پروجیکٹ‘ (ایک ایسا پروجیکٹ جس پر کام جاری ہے) کے طور پر درج ہے۔ اس تمام منصوبے میں ترقیاتی اور تعمیر نو کے کام شامل ہیں۔

دیگر سٹرکچر کے ساتھ اراکین پارلیمنٹ کے لیے نئے پارلیمنٹ ہاؤس چیمبرز، سینٹرل وسٹا ایونیو اور کامن سینٹرل سیکریٹریٹ کی 10 عمارتیں بھی موجود ہیں۔

انڈین حکومت نے سینٹرل وسٹا پروجیکٹ کو ’نسلوں کے لیے بنیادی ڈھانچے کی سرمایہ کاری کا منصوبہ‘ قرار دیا ہے۔