انسانی اعضا کے عطیے جمع کرنے والے نرس: ’میں زندگی کو وہاں دیکھتا ہوں جہاں موت غالب ہوتی ہے‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
آندرے راموس کارنیرو اپنے نرسنگ کریئر کے پہلے سال میں تھے جب انھیں ایک ایسے کیس کا سامنا کرنا پڑا جس نے ان کی پیشہ ورانہ زندگی پر گہرا اثر ڈالا۔
’تقریباً 14 سال پہلے اس وقت مجھے ایک ایسی خاتون سے بات کرنی تھی جو اپنی زندگی کے سب سے المناک لمحات میں سے ایک سے گزر رہی تھیں۔‘
’اس روز قبل ڈاکوؤں کا ایک گروہ ساؤ پالو میں واقع ان کے گھر گھس گیا جہاں وہ اپنے خاندان کے ساتھ رہتی تھیں۔ ڈکیتی کے دوران غیرمتوقع ردعمل میں لٹیروں نے ان کے والد کو سینے میں اور ان کے بھائی کو سر میں گولی مار دی۔‘
کارنیرو کے مطابق ’اس خاتون کے والد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے کچھ دیر بعد ہی دم توڑ گئے جبکہ بھائی دو دن تک ہسپتال میں داخل رہا تھا۔ اس سے پہلے کہ اس کے دماغ کو مردہ (برین ڈیڈ) قرار دیا جاتا انھیں اعضا کا ممکنہ عطیہ کرنے کا اہل قرار دے دیا گیا۔‘
کارنیرو نے جب اس خاتون سے رابطہ کیا تو وہ قبرستان میں اپنی ماں کی تدفین کے عمل کی دیکھ بھال کر رہی تھیں۔ انھوں نے کانیرو کو وہیں بلا لیا۔
اس واقعے نے ان کی ماں کے دل پر گہرا اثر کیا تھا اور وہ دل کا دورہ پڑنے کے باعث وفات پا گئی تھیں۔
’مجھے وہ منظر آج بھی ایسے یاد ہے جیسے یہ کل کی ہی بات ہو۔ باہر بچے بھاگ رہے تھے اور تابوت پر بکھرے پھولوں کی مہک فضا میں موجود تھی۔ اس عورت نے ہمارے لیے دو کرسیوں کا بندوبست کیا تاکہ ہم بیٹھ کر بات کر سکیں اس طرح میں انھیں ساری صورت حال بتانے میں آخر کار کامیاب ہو گیا۔‘
میرے بتانے پر وہ بولیں: ’کل میں نے اپنے والد کو دفن کیا ہے۔ آج میں اپنی ماں کی تدفین کی دیکھ بھال کر رہی ہوں اور اب آپ مجھے بتانے آئے ہیں کہ میرا بھائی مر گیا ہے۔ لیکن اب وہ اس پورے سانحے کا واحد شکار ہے جو اپنے اعضا عطیہ کر کے کسی کی مدد کر سکتا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
41 سالہ کارنیرو تب سے ہی پیوند کاری کے لیے اعضا جمع کرنے کے نظام میں فرائض انجام دینے کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔
تھینوٹولوجی (موت کے بارے میں سائنسی مطالعہ) میں مہارت حاصل کرنے والے کارنیرو ہر روز ایک مشکل اور نازک کام انجام دیتے ہیں اور وہ کام ہے ان رشتہ داروں سے بات کرنا جنھوں نے ابھی ابھی اپنے کسی عزیز کو ہمیشہ کے لیے کھو دیا ہوتا ہے۔
ایسے میں کارنیرو ان سے یہ معلوم کرنے کے لیے ملاقات کرتے ہیں کہ آیا وہ ایسے اعضا کے عطیہ کی اجازت دیتے ہیں جو ٹرانسپلانٹ میں استعمال ہو سکتے ہوں۔
’بہت سے معاملات میں موت اچانک اور غیر متوقع طور پر واقع ہوتی ہے جیسے دماغی حادثہ (CVA)، ٹریفک حادثہ، سلیب سے گرنا، بندوق کی گولی۔‘
بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انھوں نے اس کیریئر میں جانے کے فیصلے کی وجوہات پر تفصیل سے بات کی۔
زندگی کا واحد یقین موت

،تصویر کا ذریعہPERSONAL FILE
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
کارنیرو سمجھتے ہیں کہ خود صحت کے شعبے سے منسلک پیشہ ور افراد کو بھی ان جیسے لوگوں کے کام کے بارے میں غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔
’عام طور پر ہم ہسپتالوں کو ایسی جگہ کے طور پر دیکھتے ہیں جہاں لوگوں کا علاج اور ان کی دیکھ بھال کی جاتی ہے اور بیمار افراد صحت یاب ہوتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایک ایسے تناظر میں جہاں موت کو ادارہ جاتی بنا دیا گیا ہو، ہسپتال وہ جگہ بن گئے جہاں کسی شخص کی موت ہوتی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’آج کل بہت کم ہوتا ہے کہ کسی کی موت گھر میں، خاندان اور پیاروں کے درمیان ہو۔ موت صحت کے پیشہ ور افراد کے ہاتھوں ہوتی ہے جنھیں اکثر اس بات کا احساس نہیں ہوتا کہ آپ اس لمحے کس کیفیت سے گزر رہے ہیں۔‘
اس بات کو سامنے رکھتے ہوئے نرس کارنیرو نے یہ جانا کہ موت کے اس سارے ماحول میں اعضا کا عطیہ ایک منفرد چیز ہے جس سے ٹرانسپلانٹ کے لیے قطار میں کھڑے لوگوں کی زندگیوں میں زبردست فرق پڑتا ہے۔
اسی تناظر میں انھوں نے ان لوگوں کی شناخت کرنے میں مہارت حاصل کرنے کا فیصلہ کیا جو حال ہی میں موت کا شکار ہوئے ہوں اور جو اعضا عطیہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
اس کام کے ایک حصے کے طور پر، کارنیرو کو متوفی کے قریبی رشتہ داروں سے بات کرنا ہوتی ہے جو قانونی طور پر ان بافتوں (ٹشوز) کو نکالنے کی اجازت دینے کے ذمہ دار ہیں جن کی پیوند کاری دوسرے ضرورت مند لوگوں میں ہو سکتی ہے۔
’اپنے کیریئر کے آغاز میں، میں نے اپنے لیے موت کا فرشتہ اور گدھ جیسے القاب بھی سنے تاہم اس نے مجھے متاثر کیا اور اس کے مقابلے میں اپنے لیے میں مضبوط جملہ لے کر آیا، جو اس بات کی نمائندگی کرتا ہے کہ میں کیا کرتا ہوں اور وہ ہے کہ میں زندگی کو وہاں دیکھتا ہوں جہاں موت غالب ہوتی ہے۔‘
اس طرح کے حساس اور مشکل موضوع پیشے کو اپنانے کے لیے کارنیرو نے تھینوٹولوجی (thanatology) میں مہارت حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔
’اس موضوع کو سمجھنا خود شناسی کا عمل ہے، تاہم موت کے بعد زندگی کودوبارہ آگے بڑھانے کا یہ عمل یقیناً بہت سے لوگوں کے عقائد اور کسی کے لیے ان کی روحانیت کے خلاف ہے تاہم یہ بھی درست ہے کہ کچھ کے لیے زندگی کا واحد یقین کسی کی موت ہوتی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اسی لیے لوگوں سے بات چیت اور مختلف کانفرنسوں کے دوران میں ہمیشہ یہ پوچھتا ہوں۔
’اگر آپ کے پاس زندہ رہنے کے لیے مزید چھ مہینے ہوں تو آپ کیا کریں گے؟ آپ کی ترجیحات کیا ہوں گی؟ عام طور پر ان کا جواب خاندان اور میراث ہوتا ہے جو ان کے نذدیک باقی رہے گی۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’عطیے کے لیے اعضا نکالنے سے میت کی شکل بگڑ نے کا خیال درست نہیں‘
لیکن ایسے لوگوں کے ساتھ اعضا کے عطیہ کے بارے میں بات کرنا کیسا ہے جو کسی عزیز کے ہمیشہ کے لیے کھو جانے کے تکلیف دہ لمحے سے گزر رہے ہوں؟
کارنیرو کہتے ہیں کہ ’اگرچہ اس کے لیے رسمی پروٹوکول اور رہنما خطوط موجود ہیں تاہم سب سے بنیادی اصول ہے کہ انسانی ہمدردی اور احترام کا سلوک ہمیشہ روا رکھا جائے۔‘
’موت کی خبر کے بعد پہلا اثر عام طور پر صدمے، غصے اور بغاوت کا ہوتا ہے تاہم جیسے ہی حقیقت کو قبول کرنے کے لمحات آتے ہیں اس وقت ہمارے پاس بات کرنے کا مناسب وقت ہوتا ہے۔‘
’میں ہمیشہ یہ سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں کہ وہ شخص زندگی میں کون تھا؟ آیا اس نے اپنے آپ کو اپنا ایک عضو کسی دوسرے زندہ انسان کوعطیہ کرنے والے کے طور پر دیکھا ہو گا یا نہیں۔‘
’اس عمل کے بعد جسم کو مکمل طور پر محفوظ کر کے آخری رسومات کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے، یہاں تک کہ جب قرنیہ کو ہٹا دیا جاتا ہے، آنکھ کے بالوں کی جگہ اسی تناسب کو برقرار رکھتی ہے، پلکیں ٹھیک سے بند کر دی جاتی ہیں۔‘
کووڈ 19 کی وبا کے دوران اعضا کو عطیہ کرنے کا کام انتہائی مشکل رہا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کارنیرو کے مطابق اعضا عطیات کرنے کا کام کووڈ 19 کی وبا کے دوران بہت مشکل ہو گیا تھا۔
’میں نے ایک خیمے میں کام کیا جو متاثرہ مریضوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے لگائے گئے تھے اور وہاں ہم نے ہر رات چار، پانچ، چھ اموات دیکھیں۔ تاہم اس سے بھی بدتر بات یہ ہے کہ ہم اعضا عطیہ کرنے کے حوالے سے کچھ نہیں کر سکے۔‘
’چاہے خاندان نے اس کی اجازت بھی دی ہولیکن ہمارے پاس اس بات کی ضمانت دینے کے لیے کوئی تحقیق نہیں تھی کہ متاثرہ مریضوں کے وہ اعضا پیوند کاری کے لیے محفوظ تھے یا نہیں۔‘
تھینوٹولوجی میں مہارت رکھنے کے پس منظر کے ساتھ کارنیرو کو اکثر بات کرنے اور موت کی خبر موصول ہونے والے خاندانوں کا خیرمقدم کرنے کے لیے کہا جاتا تھا۔
’صحت کے پیشہ ور افراد کے لیے نفسیاتی طور پر سب کچھ بہت بھاری تھا۔ کچھ اب کووِڈ یونٹس میں کام نہیں کرنا چاہتے تھے، کیونکہ وہاں ہر وقت موت کی آہٹ رہتی تھی۔‘
’اور بہت سے لوگوں نے یہ سمجھنا شروع کیا کہ موت کے خطرے نے نہ صرف مریضوں کو متاثر کیا بلکہ خود بھی، جو ہر وقت وائرس سے رابطے میں رہتے تھے۔‘
ماہرین کا خیال ہے کہ پہلے اس موضوع کا مطالعہ کرنے سے اسے اس طرح کی پیچیدہ صورتحال کا سامنا کرنے میں مدد ملی۔
’میرا ایمان ہے اور جب ایک شخص مرتا تھا تو مجھے یہ سعادت حاصل ہوئی تھی کہ میں آنکھیں بند کر کے کہتا ہوں: خدایا، اس شخص کو قبول فرما۔
’یہاں میں اس جسم کی بات نہیں کر رہا، جو صرف ایک برتن ہے جسے جلایا جائے گا یا جسےزمین نے کھایا۔‘
پیشن گوئی کے ساتھ ایک آسان عمل

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کارنیرو کہتے ہیں کہ ہر شخص کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس معاملے پر بات کرے اور اپنے اہل خانہ اور قریبی رشتہ داروں پر یہ بات بالکل واضح کرے کہ آیا وہ قبول کرتے ہیں (یا نہیں) کہ موت کے بعد جسم کے کچھ اعضا ضرورت مند افراد کی پیوند کاری میں استعمال کیے جائیں۔
’مجھے اعضا نکالنے کے لیے لواحقین یا رشتہ داروں کے دستخط درکار ہوتے ہیں۔ اگر میرے پاس یہ اجازت نہ ہو تو میں عطیہ نہیں لے سکتا، چاہے اس شخص نے زندہ رہتے ہوئے یہ کہہ کر ویڈیو بنائی ہو کہ وہ اعضا کا عطیہ دینے والے ڈونر بننا چاہتے ہیں۔
’خاندان کے افراد سے اجازت لینے کے فوراً بعد، صحت کے پیشہ ور افراد وقت کے خلاف حقیقی دوڑ شروع کر دیتے ہیں۔‘
کارنیرو کے مطابق اس سارے عمل کے بعد اس شخص کی صحت سے متعلق ہسٹری اور کچھ لیبارٹری ٹیسٹ کیے جاتے ہیںجس کے بعد ٹرانسپلانٹ کرنے والی سرجیکل ٹیمیں فعال ہو جاتی ہیں۔
کارنیرو کا کہنا ہے کہ ’موت کے بعد انسانی جسم کے ہر عضو کا ایک ایسا دورانیہ ہوتا ہے جس میں وہ کام کرنے کے قابل ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر دل کے معاملے میں اسے عطیہ کرنے والے کے جسم سے نکالے جانے کے وقت سے صرف چار گھنٹے ہوتے ہیں کہ اسے کسی دوسرے انسان کو ٹرانسپلانٹ کیا جا سکے۔‘
یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ یہ پورا عمل گمنامی میں کیا جاتا ہے یعنی نہ ہی عطیہ کرنے والے کے اہل خانہ اور نہ ہی وصول کنندہ کو معلوم ہوتا ہے کہ پیوند شدہ عضو کہاں سے آیا ہے۔
اس ڈیڑھ دہائی میں قومی ٹرانسپلانٹ سسٹم کے لیے انسانی بافتوں کے جمع کرنے والے کارکن کے طور پر کارنیرو نے سیکھا ہے کہ موت کا سامنا دشمن کے طور پر کرنا ضروری نہیں ہے۔
’ہمیں سمجھنا چاہیے کہ موت ایک عمل کا حصہ ہے اور یہی قبولیت اس ناگزیر لمحے کو ہر ایک کے لیے زیادہ پرامن بناتی ہے۔
’اس تناظر میں اعضاء عطیہ کرنے کا مطلب دوسروں کے لیے اچھا کرنا ہے اور یہ پرہیزگاری کا سب سے بڑا عمل ہے جو کوئی کر سکتا ہے۔‘











