56 سال کا انتظار اور برف میں دبی لاشیں: ’میرے والدین اپنے گمشدہ بیٹے کا انتظار کرتے کرتے مر گئے‘

،تصویر کا ذریعہDefence PRO, Thiruvananthapuram
- مصنف, عمران قریشی
- عہدہ, بی بی سی ہندی
کچھ دن پہلے جب تھامس کو اطلاع ملی کہ ان کے بھائی کا جسم مل گیا ہے تو انھیں ایسا لگا کہ جیسے ’56 برس کی گھٹن‘ ایک دم ختم ہو گئی ہو۔ وہ کہتے ہیں ’ایسا لگا جیسے میں ایک بار پھر سانس لینے لگا ہوں۔‘
تھامس کے بڑے بھائی تھامس چیرین انڈین آرمی میں تھے۔ 1968 میں جب انڈین فضائیہ کا طیارہ آئی اے ایف AN-12 ہمالیہ کی پہاڑیوں میں گر کر تباہ ہوا تو چیرین بھی اس جہاز کے 102 مسافروں میں شامل تھے۔ حادثے کے وقت ان کی عمر محض 22 سال تھی۔ وہ ہمالیہ کے علاقے لیہہ میں اپنی پہلی فیلڈ پوسٹنگ پر جانے کے لیے اس ہوائی جہاز پر سوار ہوئے تھے۔
اس کے بعد کئی دہائیوں تک یہ جہاز لاپتہ رہا اور اس کے مسافروں کی قسمت ایک معمہ بنی رہی جو ان مسافروں کے گھر والوں کے لیے ایک اذیت سے کم نہ تھی۔
بالآخر حادثے کے 35 سال بعد کوہ پیماؤں کی ایک ٹیم ایک مسافر کی لاش تلاش کرنے میں کامیاب ہو گئی۔
مگر تھامس اور ان کے گھر والوں کو چیرین کے بارے میں کسی اطلاع کے لیے مزید 21 برس انتظار کرنا پڑا۔
پہلی لاش کی دریافت کے بعد انڈین آرمی نے کئی ٹیمیں بھیجیں اور مزید آٹھ افراد کی لاشیں تلاش کرنے میں کامیاب رہے۔ 2019 میں انھیں جہاز کا ملبہ بھی مل گیا۔
بالآخر رواں سال جنوبی انڈیا کی ریاست کیرالہ کے ضلع پٹھانم تھیٹا کے ایک پولیس سٹیشن سے تھامس کو ایک کال موصول ہوئی کہ ان کے بھائی کی لاش مل گئی ہے۔
فوج اور ریسکیو عملے کو چار لاشیں ملی تھیں جن میں سے ایک چیرین کی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تھامس کہتے ہیں کہ ان کے والد 1990 جبکہ ان کی والدہ 1998 میں وفات پا گئی تھیں۔ ’وہ دونوں اپنے گمشدہ بیٹے کے بارے میں کسی بھی خبر کا انتظار کرتے کرتے مر گئے۔‘
دور دراز پہاڑی علاقہ اور سخت موسم کے باعث اب تک صرف 13 مسافروں کی لاشیں ہی ڈھونڈی جا سکی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہDefence PRO, Thiruvananthapuram
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
چیرین، نارائن سنگھ، ملکن سنگھ اور منشی رام کی لاشیں سطح سمندر سے16 ہزار فٹ سے زیادہ بلندی پر ڈھاکہ گلیشیئر کے پاس سے ملی تھیں۔ اس آپریشن میں انڈین آرمی کی ڈوگرہ ریجمنٹ کے یونٹ ڈوگرا سکاؤٹ اور ترنگا ماؤنٹین ریسکیو نے حصہ لیا تھا۔
ڈوگرا سکاؤٹ کے کرنل للت پلاریا کے مطابق اس آپریشن کے لیے سٹیلائٹ امیجری، ریککو ریڈار اور ڈرونز کی مدد لی گئی۔
ریککو ریڈار برف میں 20 میٹر تک کی گہرائی میں دبی دھاتی اشیا کا پتہ لگا سکتا ہے۔ اس ریڈار کی مدد سے جہاز کے ملبے کے ٹکروں کو تلاش کیا گیا جس کے بعد ٹیم کو ملبے کے اندر سے ایک لاش ملی تھی۔ جب کہ تین لاشیں گلیشیئر میں دبی ملیں۔
چیرین کی یونیفارم پر لگے ان کے نام کے ٹیگ اور ان کی جیب میں موجود کاغذات کی مدد سے ان کی شناخت ممکن ہو سکی۔
ان کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ اس سے ان کا غم کم تو نہیں ہو سکتا لیکن چیرین کی لاش ملنے سے انھیں کچھ سکون محسوس ہوا ہے۔
تین اکتوبر کو چیرین کی لاش ان کے گھر والوں کے حوالے کر دی گئی اور اس کے اگلے ہی روز ان کے گاؤں کے گرجا گھر میں چیرین کی آخری رسومات ادا کر دی گئیں۔
تھامس کہتے ہیں کہ اتنے سالوں تک آرمی والے انھیں کہتے رہے کہ تلاش جاری ہے اور اگر کچھ پتہ چلا تو انھیں اطلاع کر دی جائے گی۔
وہ کہتے ہیں کہ ’ہم ان کے شکرگزار ہیں کہ اس دوران انھوں نے ہمیں مطلع رکھا۔‘ ان کے مطابق چیرین کے لاپتہ ہونے کے بعد بھی ان کے خاندان کے کئی افراد نے فوج میں شمولیت اختیار کی۔

،تصویر کا ذریعہAsif Ali
تھامس اور ان کے گھر والوں کی طرح کئی دوسرے فوجیوں کے گھر والے بھی اپنے پیاروں کے بارے میں کسی اطلاع کے منتظر ہیں۔ کئی لاپتہ فوجیوں کے والدین اور بیویاں ان کا انتظار کرتے کرتے وفات پا چکے ہیں۔
انڈین ریاست اتراکھنڈ کے رہائشی جے ویر سنگھ کو بھی اکتوبر کے اوائل میں ان کے چچا نارائن سنگھ کی لاش ملی ہے۔
نارائن سنگھ کے لاپتہ ہونے کے سالوں بعد ان کے گھر والوں نے ان کے ملنے کی امید ہی کھو دی تھی۔ بالآخر گھر والوں کی اجازت سے نارائن سنگھ کی اہلیہ بسنتی دیوی نے نارائن کے ایک کزن سے شادی کرلی۔ جے ویر ان دونوں کے بیٹے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ بہت سالوں تک ان کی والدہ نارائن سنگھ کی واپسی کی امیدیں لگائے بیٹھی رہیں۔ وہ 2011 میں وفات پا گئیں۔
’میرے پاس تو اپنے چچا کی یادداشت کے طور پر ان کی کوئی تصویر بھی نہیں ہے۔‘













