’فائن واٹر‘: دنیا میں کروڑوں لوگ صاف پانی سے محروم مگر امیر ایک بوتل کے لیے 350 پاؤنڈ دینے کو تیار

،تصویر کا ذریعہMilin Patel
- مصنف, پریرا کا سونٹ
- عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس
آپ کھانے کے ساتھ پانی لیں گے؟
عموماً کسی بھی ریستوران میں ویٹر کی جانب سے اس سوال پر صارف کا جواب اثبات میں ہوتا ہے مگر اب دنیا کے بڑے ریستورانوں میں صارفین کو اس سوال پر ہاں کرنے سے پہلے ایک بار مینیو پر اس کی قیمت ضرور دیکھ لینی چاہیے کیونکہ پانی کی اس بوتل کی قیمت کئی سو ڈالر تک ہو سکتی ہے۔
یہ پانی فروخت کرنے والوں کا دعویٰ ہے کہ یہ عام پانی یا پھر بازار میں فروخت کیے جانے والے منرل واٹر سے کہیں مختلف اور بہتر ہے اور اسے کھانے کے ساتھ شراب کی طرح بطور مشروب پیش کیا جا سکتا ہے۔
یہ مہنگا پانی ’فائن واٹر‘ کے نام سے جانا جاتا ہے اور قدرتی ذرائع جیسے کہ آتش فشاں چٹانوں، گلیشیئرز سے پگھلتی برف، دھند کے قطروں یہاں تک کہ اسے براہ راست بادلوں سے بھی حاصل کیا جاتا ہے اور اس میں اس کے منبع یا ذریعے کی خصوصیات شامل ہوتی ہیں۔
اس وقت دنیا بھر میں اس ’فائن واٹر‘ کے سینکڑوں برانڈز ہیں اور ایسے ماہرین بھی ہیں جو آپ کو ان کے بارے میں مشورہ دے سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہMilin Patel
کیا اس پانی کا کوئی ذائقہ ہے؟
شراب چکھنے کی طرح، پانی چکھنے کے لیے بھی ایسے مخصوص افراد ہوتے ہیں جن کا کام مصنوعات کا جائزہ لینا اور انھیں معدنیات، ذائقے اور منہ کے احساس کے لحاظ سے الگ الگ کرنا ہے۔
لندن میں ایک پاپ اپ سٹور چلانے والے ملن پٹیل بھی ایسے ہی ایک فرد ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’پانی صرف پانی نہیں ہے۔ ہماری دنیا میں ہر ایک پانی مختلف ہے اور اس کا ذائقہ ہے‘۔
وہ پانی میں دلچسپی رکھنے والے لوگوں کے لیے پانی کے ’ٹیسٹنگ سیشن‘ منعقد کرتے ہیں جن میں انھیں عام نل کا پانی اور بوتل میں بند پانی پیش کیا جاتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ملن پٹیل نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ لوگوں خصوصاً نوجوان نسل کو پانی کی مختلف اقسام اور ان کے ذائقوں کے بارے میں آگاہی دینا چاہتے ہیں۔
’یاد رکھیں کہ سکول میں، ہم نے بخارات، کثافت اور بارش پر مشتمل قدرتی ہائیڈروولوجیکل سائیکل کے بارے میں سیکھا تاہم، ہم نے ایک نکتہ نظرانداز کر دیا جو کہ ریمنرلائزیشن ہے۔
’لہٰذا، ایک بار جب بارش کا پانی زمین پر گرتا ہے، تو یہ مختلف چٹانوں اور مٹی میں جذب ہو جاتا ہے اور پھر اس میں کیلشیم، میگنیشیم، پوٹاشیم اور سیلیکا جیسے معدنیات شامل ہو جاتے ہیں۔ یہی عمل پانی کو معدنیات کا ذائقہ دیتا ہے‘۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
قدرتی طور پر زمین سے نہ نکلنے والے پانی جیسے کہ برفانی تودوں یا بارش جیسے ذرائع سے حاصل ہونے والے پانی میں ٹوٹل ڈیزولوڈ سولڈز (ٹی ڈی ایس) کی شرح عام طور پر چشموں اور کنوؤں سے حاصل ہونے والے پانی کے مقابلے میں کم ہوتی ہے۔
پٹیل کے پاس دنیا بھر کے مختلف پانیوں کا ذخیرہ ہے، جس میں نلکے کے پانی سے لے کر وہ ’فائن واٹر‘ بھی شامل ہے جس کی ایک بوتل کی قیمت 250 پاؤنڈ یا 90 ہزار روپے کے قریب ہے۔ ان کے سیشنز میں لوگ ان پانیوں کو چکھ کر یہ بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہر پانی کا ذائقہ کس طرح منفرد ہے۔
ملن پٹیل کا کہنا تھا، ’ہم لوگوں کو یہ موقع فراہم کرتے ہیں کہ وہ جان لیں کہ پانی بےذائقہ چیز نہیں ہے۔ جب آپ اسے یہ سوچتے ہوئے پیتے ہیں کہ یہ آپ کو کیا احساس دلاتا ہے تو آپ کو اس سے جڑے الفاظ پر حیرت ہو سکتی ہے۔ ہمیں نرم، مخملی، کسیلا، کڑوا اور کبھی کبھی کھٹا جیسے الفاظ سننے کو ملتے ہیں۔ میں اسے ایکوا ٹیسٹولوجی کہتا ہوں۔‘
ان کے مطابق اس کے علاوہ ’بہت سے لوگ اکثر کہتے ہیں۔ یہ مجھے بچپن کی یاد دلاتا ہے یا پھر یہ مجھے تعطیلات کی یاد دلاتا ہے یا پھر یہ کہ مجھے اپنے دادا دادی کے گھر کی یاد دلاتا ہے‘۔
پانی چکھنے کا مقابلہ
فائن واٹر سوسائٹی ہر سال جمع ہوتی ہے اور تب بھوٹان سے لے کر ایکواڈور تک یعنی دنیا بھر سے پانی کے نمونے پیش کیے جاتے ہیں اور ان کے چکھنے کے عالمی مقابلے منعقد ہوتے ہیں۔
اس سالانہ اجلاس میں شرکت کرنے والوں میں سے زیادہ تر افراد کا تعلق کا پانی کا خاندانی کاروبار ہے جس کے لیے وہ دور دراز علاقوں سے پانی حاصل کرتے ہیں۔
فائن واٹر سوسائٹی اور فائن واٹر اکیڈمی کے شریک بانی ڈاکٹر مائیکل ماشا کا کہنا ہے کہ ’ابتدا میں پانی چکھنا ایک بہت ہی مضحکہ خیز خیال سمجھا جاتا تھا۔‘
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’میں نے یہ سب کچھ تقریباً 20 سال پہلے شروع کیا تھا جب مجھے شراب چھوڑنی پڑی۔ جب شراب اچانک میرے سامنے سے ہٹی تو میں نے میز کے اردگرد نظر دوڑائی تو وہاں ایک اور بوتل تھی جس پر میں نے پہلے کبھی توجہ نہیں دی تھی، یہ پانی تھا۔ میں نے سوچا کہ اپنے تجسس کو شراب کی بجائے پانی کی طرف موڑ دوں۔‘
مائیکل ماشا سمجھتے ہیں کہ فائن واٹر پیاس بجھانے سے کہیں زیادہ کچھ دیتا ہے۔ ’یہ لوگوں کے لیے ایک موقع ہے کہ وہ ایک مختلف چیز کو جانیں، اسے بانٹیں اور اس سے لطف اندوز ہوں‘۔
ڈاکٹر ماشا کا دعویٰ ہے کہ اب ’فائن واٹر‘ کی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس کی وجہ ان کے خیال میں صحت مند طرز زندگی میں زیادہ دلچسپی رکھنے والے افراد خصوصاً نوجوانوں میں شراب اور کاربونیٹڈ سافٹ ڈرنکس کے استعمال میں کمی کا رجحان بھی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پانی اور کھانا
سپین اور امریکہ جیسے ممالک میں کچھ ریستوران اب اپنے مینیو میں اس پانی کو مختلف کھانوں کے ساتھ ملا کر پیش کر رہے ہیں۔
ڈاکٹر ماشا کا کہنا ہے کہ ’میں آج کل امریکہ میں ایک تھری سٹار میچلن ریستوران کے لیے پانی کا مینیو بنا رہا ہوں۔ ہم اس میں 12 سے 15 چنندہ پانیوں کو پیش کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں جو کھانے اور ریستوران کے ماحول کے ساتھ چل سکتے ہیں۔
ان کے مطابق ’اگر آپ نے مچھلی کا آرڈر دیا ہے، تو آپ کو سٹیک کے مقابلے میں مختلف پانی پیش کیا جائے گا جس میں معدنیات کم مقدار میں ہوں گی۔ ڈاکٹر ماشا سپر لگژری ہاؤسنگ اور اپارٹمنٹ پراجیکٹس کے ساتھ بھی کام کرتی ہیں جن میں شراب کے لیے مخصوص کمروں کی بجائے 'واٹر ایکسپیرئنس روم' ہوں گے۔
ڈاکٹر ماشا کا کہنا ہے کہ فائن واٹر مذہبی وجوہات کی بنیاد پر شراب سے پرہیز کرنے والی ثقافتوں میں بھی مقبول ہے۔ ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اسے خاص طور پر شادیوں میں مہنگی شیمپین کے متبادل کے طور پر بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔
لیکن اس رجحان کے ناقدین بھی موجود ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’غیر اخلاقی کاروبار‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دنیا بھر میں کروڑوں لوگ ایسے ہیں جو صاف پانی تک رسائی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور بہت سے لوگ اس طرح اس بنیادی شے کو کمانے کے خیال سے خوش نہیں ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق، 2022 میں، دو ارب 20 کروڑ افراد پینے کے صاف پانی سے محروم تھے جن میں 70 کروڑ سے زیادہ ایسے لوگ بھی شامل ہیں جن کے پاس پانی کی بنیادی سہولت بھی نہیں ہے۔
دیگر ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ فیشن محض ایک دھوکہ ہے۔ پانی صرف پانی ہے اور پینے کے قابل نلکے کے پانی، بوتل کے پانی اور نام نہاد ’فائن واٹر‘ میں اس کی قیمت کے علاوہ کوئی فرق نہیں ہے۔
ادھر ماہرین ماحولیات کہتے ہیں کسی بھی طرح کا بوتل بند پانی ماحول کے لیے نقصان دہ ہے کیونکہ یہ بوتلیں کوڑے کے ڈھیروں کو جنم دیتی ہیں۔
گریشم کالج لندن میں ماحولیات کی اعزازی پروفیسر کیرولین رابرٹس کا خیال ہے کہ ایسے وقت میں جب کروڑوں افراد صاف پانی کے حصول میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہوں، پانی کی ایک بوتل کے لیے سینکڑوں ڈالر خرچ کرنا غیر اخلاقی ہے۔
ان کے مطابق یہ اپنی دولت کی نمائش کے مترادف ہے۔ ’اگر آپ کہتے ہیں، میں پانی کی اس شاندار بوتل کے لیے ادائیگی کر رہا ہوں جو انٹارکٹیکا یا ہوائی میں کہیں سے لائی گئی ہے تو لوگ اس کے بارے میں اچھا محسوس کر سکتے ہیں۔ تاہم حقیقت میں اس کا کسی کو کوئی فائدہ نہیں ہے، یہ سب پیسے کی بات ہے‘۔
وہ کہتی ہیں ’زیادہ اہم بات یہ ہے کہ یہ ماحول کے لیے بھی بہت نقصاندہ ہے۔ چاہے وہ پلاسٹک ہو جو مائیکرو پلاسٹک میں بدل جاتا ہے، جس کی پیداوار کے لیے فوسل فیول کی ضرورت ہوتی ہے، یا شیشہ جو بہت بھاری ہوتا ہے اور اسے دور دراز کے علاقوں سے ہزاروں میل تک لے جانے کی ضرورت ہوتی ہے، جس سے کاربن کے اخراج کے حوالے سے نقصان دہ اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ لہٰذا، یہ صرف پیسے کی بارے بھی نہیں، یہ ماحولیاتی نقصان کی بھی بات ہے جو ان ’فائن واٹرز‘ کی وجہ سے ہوتا ہے‘۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ڈاکٹر ماشا کا یہ استدلال بھی ہے کہ صرف امیروں کے لیے تیار کیا جانے والا پانی ہی عمدہ نہیں کیونکہ کچھ ایسے پانی بھی ہیں جو معیار کے لحاظ سے اس پانی جیسے ہی ہیں لیکن اس کی بوتل کی قیمت دو ڈالر کے لگا بھگ ہے۔ وہ قدرتی عمدہ معدنی پانی اور پراسیس کیے گئے پانی کے درمیان فرق کرتے ہیں اور ان کے مطابق موخرالذکر کے منفی ماحولیاتی اثرات ہو سکتے ہیں۔
’پائیداری کے نقطہ نظر سے، پلاسٹک کی بوتل میں نل کا پروسیس کیا گیا پانی ڈالنا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ آپ اپنی گاڑی میں سپر مارکیٹ میں جاتے ہیں، پلاسٹک کی بوتلیں گھر لے جاتے ہیں، پانی پیتے ہیں اور بوتل پھینک دیتے ہیں۔ یہ کوڑا پھیلانے کا ایک ناقابلِ یقین عمل ہے۔‘
پروسیس کیا گیا بوتل کا پانی استعمال کرنے کی بجائے، وہ پیاس بجھانے کے لیے نلکے کا پانی استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ ’ہم اکثر بھول جاتے ہیں کہ پینے کے قابل نل کا پانی واقعی ایک ایسی چیز ہے جو دنیا بھر میں بہت سے لوگوں کو میسر نہیں ہے۔‘










