دوسرا ٹیسٹ: فلیٹ وکٹ، کانوے کی سنچری اور آغا سلمان، نسیم شاہ کی عمدہ بولنگ

پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان کراچی میں ہونے والے دوسرے ٹیسٹ میں نیوزی لینڈ نے پہلے دن چھ وکٹوں کے نقصان پر 309 رنز بنائے، تاہم کرکٹ کے شائقین جس پر بات کرتے رہے وہ فلیٹ بیٹنگ وکٹ، آغا سلمان اور نسیم شاہ کی بولنگ اور سرفراز احمد کے عمدہ کیچز تھے، خصوصاً وہ جس میں انھوں نے خطرناک کین ولیمسن کو آؤٹ کیا۔

پہلے دن کا پہلا سیشن نیوزی لینڈ کے نام رہا، جس میں نیوزی لینڈ نے 30 اوورز میں بغیر کوئی وکٹ کھوئے 119 رنز بنائے۔

دوسرے سیشن میں 28 اوورز میں نیوزی لینڈ نے ایک وکٹ گنوا کر 107 رنز بنائے۔ یہ وکٹ ٹام لیتھم کی تھی جو 71 رنز بنا کر نیسم شاہ کے ہاتھوں ایل بی ڈبلیو آؤٹ ہوئے۔ اس کے بعد دوسری وکٹ ڈیون کانوے کی گری جو ایک خوبصورت اننگز کھیلنے کے بعد 122 رنز بنا کر آغا سلمان کی گیند پر سرفراز کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔

یہ ان کی مجموعی طور پر چوتھی لیکن ایشیا میں پہلی ٹیسٹ سنچری تھی۔ جب وہ آؤٹ ہوئے اس وقت نیوزی لینڈ کا سکور 234 تھا۔ ان کے فوراً بعد صرف چھ رنز کے اضافے کے بعد 240 کے سکور پر کین ولیمسن آؤٹ ہو گئے۔ انھوں نے انفرادی طور پر 36 رنز بنائے۔

کھیل کے تیسرے سیشن کے اختتام تک نیوزی لینڈ نے چار وکٹوں کے نقصان پر 260 رنز بنائے تھے۔

آغا سلمان نے چوتھے سیشن میں ڈیرل مچل اور ہینری نکلز کو بھی آؤٹ کیا۔

دوسرے ٹیسٹ میں ابھی تک پاکستان کے مسٹری سپنر ابرار احمد وکٹیں حاصل کرنے میں اس طرح کارگر ثابت نہیں ہوئے جس طرح وہ انگلینڈ کے خلاف اپنے ڈیبیو میں ہوئے تھے۔ ان کے برعکس آغا سلمان نے بہت نپی تلی بولنگ کی اور 20 اوورز میں 55 رنز کے عوض تین وکٹیں حاصل کیں۔ ان کا اکانومی ریٹ بھی دو اعشاریہ 75 رہا۔

حسن علی کراچی ٹیسٹ کے پہلے دن کوئی وکٹ نہ حاصل کر سکے۔

پہلے دن کے اختتام پر نیوزی لینڈ نے چھ وکٹوں کے نقصان پر 309 رنز بنائے تھے۔ اس میں آغا سلمان نے تین، نسیم شاہ نے دو جبکہ ابرار احمد نے ایک وکٹ حاصل کی تھی۔

پہلے دن کی سمری: پہلے سیشن میں نیوزی لینڈ کھیل پر حاوی رہا اور اس کے بعد زیادہ تر دن آغا سلمان کا تھا۔ انھوں نے نپی تلی مگر عمدہ بولنگ کر کے شائقین کو محظوظ کیا۔ نیوزی لینڈ نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

پاکستان اور نیوزی لینڈ کے مابین کراچی میں ہونے والا سیریز کا پہلا ٹیسٹ میچ ڈرا رہا تھا۔

نسیم شاہ کی عمدہ بولنگ، تو اسی پِچ پر حمزہ ’بدقسمت‘ کیسے

ہر میچ کے دوران اور اننگز کے اختتام پر پاکستان میں ٹوئٹر پر کسی نہ کسی کھلاڑی کا نام ٹرینڈ کرنے لگتا ہے اور آج دن کے اختتام پر جس کھلاڑی سے متعلق سب سے زیادہ ٹوئٹس سامنے آ رہی ہیں وہ میر حمزہ ہیں۔

فاسٹ بولر میر حمزہ نے اب تک تیرہ اوورز کیے ہیں اور پچاس رنز دے کر کوئی وکٹ حاصل نہیں کی ہے۔

میر حمزہ کراچی میں ہی کھیلے جانے والے سیریز کے پہلے ٹیسٹ میں بھی کوئی وکٹ حاصل نہیں کر پائے تھے۔

میر حمزہ نے اپنا پہلا ٹیسٹ اکتوبر 2018 میں آسٹریلیا کے خلاف ابو ظہبی میں کھیلا تھا جس میں انھوں نے ایک وکٹ حاصل کی تھی۔

جہاں بہت سے لوگ ان کی اس کارکردگی پر تنقید کرتے نظر آئے وہیں صارف راشد خان کا کہنا تھا کہ ہمیں اتنی جلدی اپنی رائے نہیں دینی چاہیے ’ہمیں انھیں کچھ وقت دینا چاہیے، انھوں نے اس وقت کا بہت انتظار کیا ہے اس لیے انھیں ایک پوری سیریز تو دیں۔‘

ایضا سید نامی صارف نے تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ میر حمزہ ’معمولی‘ کھلاڑی ہیں تو ان کی سمجھ سے باہر پہ کہ ان کی ’اتنی پی آر کیوں؟‘

اس کے جواب میں ’کوئی فرق نہیں پڑتا‘ نامی صارف نے لکھا ’وہ اچھے ہیں لیکن بدقسمت۔ لیکن یہ پاکستانی لوگوں کی عادت ہے کہ وہ اسے سپورٹ نہیں کرتے جو ٹیم میں ہو اور میر حمزہ کے لیے روتے رہے تو اب کیا بدل گیا ہے؟‘

 بعض صارفین نے کہا کہ اسی وکٹ پر نسیم شاہ نے وکٹیں لی ہیں تو میر حمزہ کیسے ’بدقسمت‘ ہوئے۔